الیکشن کمیشن نے بہار میں متنازعہ ایس آئی آرکے بعد انتخابی فہرستوں میں شامل غیر ملکی افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں کرایا ہے، لیکن ان مبینہ ‘غیر قانونی تارکین وطن’ کی موجودگی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بہار انتخابی مہم میں ایک بڑا ایشو بن کر ابھری ہے۔
بہار ایس آئی آر کی فائنل لسٹ جاری کی جا چکی ہے۔ اپوزیشن اس عمل کو لے کر الیکشن کمیشن پر کافی عرصے سے حملہ آور تھا اور اس دوران کئی ایسے سوال بھی تھے جن کے جواب یا توکمیشن کے پاس نہیں تھے یا وہ ان سے بچ رہا تھا۔ اب حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد بھی کئی سوال باقی ہیں، جن پر دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں علی شان جعفری ۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں ‘اسپیشل انٹینسو ریویژن’ مکمل کرتے ہوئے حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی ہے۔ 47 لاکھ رائے دہندگان کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔کمیشن نے نام ہٹائے جانے کی واضح وجوہات کی جانکاری نہیں دی ہے۔ دستاویزوں کی کمی کی وجہ سے ہٹائے گئے نام، نئے ووٹروں کی تعداد اور غیر قانونی غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد جیسی اہم جانکاری بھی نہیں دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ریاستی انتخابی عہدیداروں کو 30 ستمبر تک ایس آئی آر کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ ایسے اشارے ہیں کہ کمیشن اکتوبر-نومبر کے شروع میں ملک گیر ایس آئی آر کا عمل شروع کر سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے 2002-03 کی مثال دیتے ہوئے بہار میں ایس آئی آرکے 97 دن کے عمل کا دفاع کیا ہے۔ لیکن ریکارڈ اور سابق عہدیداروں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت یہ عمل آٹھ ماہ تک جاری رہا تھااور شہریت اور ووٹر آئی ڈی کے بارے میں موقف بالکل مختلف تھا۔
مہاراشٹر کے پالگھر کےنالاسوپارہ اسمبلی حلقہ کی 39 سالہ سشما گپتا کا نام ووٹر لسٹ میں چھ بار درج ہے، اور ہر اندراج کا ایک الگ ای پی آئی سی نمبر ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ووٹر لسٹ میں کئی تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہارایس آئی آر کو لے کربھی کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔
بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے بعد الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ پہلی ڈرافٹ لسٹ میں 65 لاکھ ووٹروں کے نام نہیں آئے ہیں۔ اس عمل پر پہلے ہی کئی سوال تھے اور اب یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ مشق لوگوں کو جوڑنے کے لیے نہیں بلکہ ہٹانے کے لیے ہے۔ آزاد صحافی پونم اگروال اور دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری ۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے بہار میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے بغیر کسی شفافیت کے 65 لاکھ سے زیادہ نام ہٹائے جانے کے الزامات پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ اے ڈی آر کی عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن یہ بتانے میں ناکام رہا کہ حذف کیے گئے ووٹرز کون تھے – کیا وہ مر چکے ہیں یا نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ایس آئی آر کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جارہی اس مہم کے دوران اگر ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جاتے ہیں تو عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے گی۔ عدالت نے اس کیس کی حتمی سماعت کی تاریخ 12 اور 13 اگست طے کی ہے۔
بہار میں جو ہو رہا ہے وہ آج تک ہندوستانی جمہوریت میں کبھی نہیں ہوا۔ آپ نے بھلے ہی پچھلے بیس سالوں میں درجنوں انتخابات میں ووٹ دیا ہو، اب آپ کو نئے سرے سے ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ ہندوستان کے شہری ہیں۔ آپ کی شہریت کا فیصلہ ایک گمنام سرکاری ملازم کرے گا، ایک ایسےعمل کے ذریعے جس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس کے پاس شہریت کا ثبوت مانگنے کا اختیارہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل اپنے متنازعہ اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر)کے عمل میں آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کو قانونی دستاویز کے طور پر تسلیم کرنے کی عدالت کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
ملک کی سرکردہ دلت تنظیموں کی ایک آرگنائزیشن نیشنل کنفیڈریشن آف دلت اینڈ آدی واسی آرگنائزیشن کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست کے 71فیصد سے زیادہ دلت رائے دہندگان کواسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کی وجہ سے اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
بہار کی کل آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے۔ ان میں سے کوئی 8 کروڑ بالغ ہیں، جن کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا چاہیے۔ ان میں سے تقریباً 3 کروڑ لوگوں کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں تھا، باقی 5 کروڑ لوگوں کو اپنی شہریت کا ثبوت اکٹھا کرنا ہوگا۔ ان میں سے نصف یعنی ڈھائی کروڑ لوگوں کے پاس وہ سرٹیفکیٹ نہیں ہوں گے، جو الیکشن کمیشن مانگ رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ بہار میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران اب تک 36 لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنےپتے پر نہیں پائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے 14 جولائی کو کمیشن نے کہا تھا کہ بہار میں ووٹر لسٹ سے 35,69,435 ناموں کو ہٹایا جا سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بہار میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد 35.6 لاکھ سے زیادہ ووٹر ووٹر لسٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں ،جن کی یا تو موت ہوگئی ہے، یا بہار سے باہر چلے گئے ہیں یا پھر ان کے نام ایک سے زیادہ جگہوں پر درج ہیں۔
آسام کے حکام نے الیکشن کمیشن کو بتایا ہے کہ چونکہ یہ واحد ریاست ہے جس نے پہلے ہی این آر سی کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے، اس لیے جب بھی الیکشن کمیشن ریاست کی انتخابی فہرست کے ایس آئی آر کے لیے اہلیت کے دستاویز کی فہرست کو حتمی شکل دے تو اس کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹنگ فیصد کے حتمی اعداد و شمار ریلیز کرنے میں تاخیر پر سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران ایک حلف نامہ پیش کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ ڈیٹا کو پبلک کرنے سے اس کا غلط استعمال ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے انتخابی عمل کے حوالے سے عوام کے درمیان عدم اعتماد کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 15 مئی کو تکنیکی بنیادوں پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف وارانسی انتخابی حلقہ سے کامیڈین شیام رنگیلا کا پر چہ نامزدگی خارج کر دیا۔ رنگیلا نے کہا ہے کہ ‘جمہوریت میں صرف (الیکشن) کمیشن کے منتخب کردہ افراد کو ہی الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہے۔’
گزشتہ دنوں کانگریس، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم ایل) نے اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ راجستھان کے بانس واڑہ میں مودی کی تقریر، انتخابی ریلیوں میں ان کا بار بار رام مندر کا ذکر کرنا اور کانگریس کے منشور کو مسلم لیگ کا بتانا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے، جس پر الیکشن کمیشن نے بی جے پی صدر جے پی نڈا کو نوٹس جاری کیا تھا۔
راجستھان میں نریندر مودی کی نفرت انگیز تقریر کی بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد الیکشن کمیشن نے تقریباً ایک جیسے دو خط 25 اپریل کو بی جے پی اور کانگریس صدور – جے پی نڈا اور ملیکارجن کھڑگے کو بھیجے ہیں۔ کانگریس صدر کو ملا خط بی جے پی کی جانب سے راہل گاندھی کے خلاف درج کرائی گئی شکایت پر مبنی ہے۔
لوک سبھا انتخابات سے پہلے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی حمایت میں متحد ہو کر ‘انڈیا’ بلاک کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کی گرفتاری حکومت کی جانب سے مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال ہے، جس سے انتخابات کی غیر جانبداری اور آزادی متاثر ہوتی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ڈیٹا میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کمیشن کو بتایاہے کہ الیکٹورل بانڈ دینے والوں کے نام اور تفصیلات رکھنا ضروری نہیں تھے، اس لیے یہ جانکاری ان کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔
لداخ آٹونومس ہل ڈیولپمنٹ کونسل (کارگل) کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے کے بعد پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں تاخیر کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ عبداللہ نے کمیشن سے الیکشن نہ کرانے کی وجوہات بتانے کو کہا۔
اتر پردیش میں 2017 کے اسمبلی انتخابات نے ای وی ایم کو شکوک شبہات کے گھیرے میں مزید دھکیل دیا۔ چونکہ انتخابات وزیر اعظم نریندر مودی کے نوٹ بندی کے اعلان کے بعد منعقد کیے گئے تھے اور ہر جگہ عوام اس پر خار کھائے ہوئے تھے، اس لیے ان انتخابات میں بی جے پی کی بھاری جیت کسی کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ گراؤنڈ پر کوئی ایسے اشارے نہیں مل رہے تھےکہ بی جے پی کو اس قدر پذیرائی حاصل ہوگی۔
مغربی بنگال کے باگھمنڈی اسمبلی حلقہ کا معاملہ۔ کانگریس امیدوار نیپال چندر مہتو کا الزام ہے کہ ای وی ایم اسٹرانگ روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے والی اسکرین تین اپریل کو صبح دس بجے سے صبح 11:05 بجے تک اور چار اپریل کو صبح 9:40 بجے سے صبح 10:30 بجے تک بند تھی۔
ہریانہ کے وزیراعلیٰ اور بی جے پی رہنما منوہر لال کھٹر نے ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ مودی حکومت نے دنیا بھر میں ہندوستان کا قد بڑھایا ہے، کیونکہ اس کے لئے ملک ہمیشہ سب سے اوپر ہے، جبکہ کانگریس نہرو-گاندھی فیملی سے آگے نہیں سوچ سکتی ہے۔
گجرات کا وکاس ماڈل ایک فریب تھا۔ گجرات فسادات کے بعد مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کا جو تجربہ شروع ہوا، مودی-شاہ اسی کے سہارے مرکز میں اقتدار میں آئے۔ آج یہی گجرات ماڈل سارے ملک میں اپنایا جا رہا ہے۔ 370 کا مدعا اسی تجربے کی اگلی کڑی ہے، جس کو مودی شاہ مہاراشٹر اور ہریانہ انتخاب میں بھنانے جا رہے ہیں۔
پنجاب الیکشن کمیشن کے ایک اشتہار میں نربھیا ریپ کے ایک مجرم کو مثالی ووٹر بتایا گیا ہے، جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا ہے۔ نربھیا کی ماں کی شکایت پر دہلی کمیشن فار وومین کی چیف سواتی مالیوال نے بھی ریاستی الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔
لوک سبھا انتخاب کے دوران پیڈ نیوز کی 703 شکایتں ملی تھیں، جن میں سے 647 شکایتں صحیح پائی گئیں، جبکہ 2014 کے انتخاب میں پیڈ نیوز کے 1297 معاملوں کی تصدیق ہوئی تھی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 1 اپریل کو مہاراشٹر کے وردھا میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا تھا کہ حزب مخالف جماعت لوک سبھا کی ان سیٹوں سے اپنے رہنماؤں کو کھڑا کرنے سے ڈرتا ہے جہاں اکثریت کا تسلط ہے۔
الیکشن کمیشن کے فل کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ اور الیکشن کمشنر اشوک لواسا اور سشیل چندرا ہیں۔ ایک انتخابی ریلی میں مودی کے خطاب کو لےکر کانگریس کی پہلی شکایت الیکشن کمیشن کو پانچ اپریل کو ملی تھی۔
سوموار کو مغربی بنگال کی ایک انتخابی ریلی میں بی جے پی صدر امت شاہ کا یہ بیان یوگی آدتیہ ناتھ کے ہندوستانی فوج کو’مودی جی کی سینا‘بتانے کے کچھ ہفتوں بعد آیا ہے ۔ یوگی کے بیان پر الیکشن کمیشن نے ان کو نوٹس دیتے ہوئے مستقبل میں ایسے بیانات سے بچنے کی وارننگ دی تھی ۔
سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم صرف نوٹس جاری کرکے جواب مانگ سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس کسی پارٹی کی پہچان کو رد کرنے یا امیدوار کونااہل قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن نے بی ایس پی چیف مایاوتی کو بھی دیوبند میں ایک ریلی کے دوران مسلم رائےدہندگان کو کانگریس کے بجائے ایس پی –بی ایس پی اور راشٹریہ لوک دل اتحاد کو ووٹ دینے کی اپیل کی شکایت پر نوٹس جاری کیا ہے۔
خط لکھنے والوں میں تینوں فوج کے آٹھ سابق چیف سمیت 150 سے زیادہ سابق فوجی افسر شامل ہیں۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ فوج کا سیکولر اورغیر سیاسی کردار محفوظ رہے۔
ساتھ ہی کانگریس کی مجوزہ نیائے اسکیم کی تنقید کو لےکر الیکشن کمیشن نے نیتی آیوگ کے نائب صدر راجیو کمار کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مجرم ٹھہرایا۔
سابق فوجی سربراہ ور بی جے پی ایم پی جنرل وی کے سنگھ کے لئے انتخابی تشہیر کرتے ہوئے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہندوستانی فوج کو ‘مودی جی کی سینا’کہا تھا۔ اس تبصرہ کے لئے ان کو الیکشن کمیشن سے نوٹس بھی مل چکی ہے جس پر ان کو جمعہ تک جواب دینا ہے۔
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کو غازی آباد میں سابق آرمی چیف اور مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے حق میں انتخابی جلسہ کے دوران یہ تبصرہ کیا تھا۔
کانگریس کو حکومت بنانے کی فکر سے زیادہ اپنے وجود کو بچانے کی طرف توجہ دینی چاہئے تھی۔ پرینکا گاندھی کے میدان میں آنے سے پارٹی کو واحد فائدہ یہ ہوگیا ہے کہ زرخرید اور گودی میڈیا اس کی مہم اور جلسوں کو نظر انداز نہیں کر سکے گا ۔
الیکشن کمیشن نے بامبے ہائی کورٹ سے کہا کہ سوشل میڈیا پر اشتہاروں کے لیے واضح اصولوں کی ضرورت ہے اور ہم سبھی طریقوں کا استعمال کر کے یہ یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ ملک میں غیر جانبدارانہ اور آزاد انتخابات ہوں۔