سچ تو یہ ہے کہ آپ ہندوؤں کی حمایت میں بھی نہیں بول رہے ہیں۔ آپ صرف ایک سیاسی جماعت کے غیراعلانیہ ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ ہندومسلم کشیدگی پیدا کرکے آپ ان کے سیاسی مفاد کو پورا کر رہے ہیں۔
آپ کے ملک میں اکتوبر سے لےکر آدھی جنوری تک ایک فلم کو لےکر بحث ہوئی ہے۔ ساڑھے تین مہینے بحث چلی۔ نوکری پر اتنی لمبی بحث ہوئی؟ بہتر ہے آپ بھی تنخواہ کی نوکری چھوڑ کرہندومسلم ڈبیٹ کی نوکری کر لیجئے۔
سنجے لیلا بھنسالی کو لکھے ایک خط میں فلم ایکٹر سورا بھاسکر نے پدماوت فلم کو ستی اور جوہر کی روایتوں کی شان و شوکت بتاتے ہوئے سوال اٹھائے ہیں۔
میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں ارملیش کی کرنی سینا کی غنڈاگردی اور کاسگنج فرقہ وارانہ فساد پر اسمتا گپتا اور ونود اگنی ہوتری سے بات چیت
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے فلم پدماوت اور کرنی سینا کی غنڈاگردی پر ونود دوا کا تبصرہ
ورلڈ اکانومک فورم کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جو کچھ کہا وہ سب وہ تین سال سے بول رہے ہیں۔ آپ کو برا لگےگا لیکن آپ وزیر اعظم کی تقریر میں ہندوستان کی وضاحت دیکھیںگے تو وہ دسویں کلاس کے مضمون سے زیادہ کا نہیں ہے۔
ہندوستان میں غیر منطقی اور غیر سائنسی باتوں کو جس قسم کی شہہ مل رہی ہے اور عدم اتفاق کی آوازوں کو منصوبہ بند طریقے سے کچلا جا رہا ہے، اس کو روکنے کی ضرورت ہے تاکہ آئین کو بچایا جا سکے۔
ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم آرایس ایس کےلئے اسرائیل ہمیشہ سے ہی اہم ملک رہا ہے۔ہندو انتہا پسند طبقے کا خیال ہے کہ اسرائیل دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے اور انھیں ختم کرکے ہی دم لے گا ۔
مودی بھلے ہی Ease of doing businessکی ورلڈ بینک رینکنگ میں بہتری پر اترا لیں، لیکن اصلی حال سرمایہ کاری،جی ڈی پی تناسب سے ہی پتا لگتا ہے۔ اگر نجی سرمایہ کاری اپنے رکارڈکی نچلی سطح پر ہے اور بہتری کا کوئی اشارہ بھی نہیں ہے، تو رینکنگ میں بہتری کا کیا مطلب ہے۔
پچھلے کچھ وقتوں میں کئی سنگین جرائم میں بچوں کے شامل ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
حب الوطنی اور دیش پریم کے معنی بدل گئے ہیں۔جو کوئی حکمران پارٹی کے نظریات کے خلاف بولتا ہے وہ غدارِ وطن اور دیش دروہی کہلاتا ہے۔فسطائیت کے غندوں کو کُھلی چھوٹ دیدی گئی ہے کہ وہ جسے چاہیں ہلاک کر دیں۔
آپ کے اداروں کا تماشہ اڑ رہا ہے۔ آنکھیں کھولکر دیکھیے۔ ٹی وی چینلوں کے بھروسے ملک کو مت چھوڑئیے۔ پتا کرتے رہیے۔ دیکھتے رہیے۔ آپ کسی کی سائڈ لیں مگر حقیقت تو دیکھیں۔ یہ بھی تو دیکھیں کہ الیکشن کمیشن کسی کا ٹائپسٹ تو نہیں بن رہا ہے۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے فلم پدماوت اور آدھار کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ونود دوا کا تبصرہ
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے حج سبسڈی اور نیتاؤں کے آنسو پر ونود دوا کا تبصرہ
مسلمانوں کو لگ رہا ہے کہ احسان ختم ہوگیا ۔ ہندوؤں کولگ رہا ہے کہ حکومت نے مسلمانوں سےحق چھین لیا ہے اورانھیں ’مان سرووریاترا‘ وغیرہ پر دی جانے والی 1 لاکھ کی امدادی رقم جاری ہے، یہ سچ بھی اور دونوں طرف کی خوش فہمی بھی ۔ نہ مسلمانوں کے اوپر سے احسان اترا ہے نہ مسلمانوں کا حق چھینا گیا ہے،البتہ مودی حکومت نے ایک تیرسے کئی شکار کرکے اپنا الوضرورسیدھا کرلیا ہے۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے جج لویا اور عد لہ یہ میں بحران کے متعلق ونود دوا کا تبصرہ
پریس کانفرنس کے بعد پورے ملک میں ہلچل مچ گئی ہے ،آزادی اور جمہوریت کی بقا پر بحث چھڑی ہوئی ہے ،ملک کے بیشتر ماہرین قانون عدلیہ پر حکومت کے بڑھتے دباوٗکو بے نقاب کرنے والے چاروں ججز کے اس اقدام کی تعریف کررہے ہیں اور ان کو سلام کررہے ہیں۔
وجہ؟وہ تلافی کر رہے تھے کہ جب ججوں کو ہٹایا گیا تھا تو ان کو مخالفت کرنی چاہیے تھی اور اندرا گاندھی کو مبارکباد دینے کے لئے دلّی نہیں جانا چاہیے تھا۔ ساتھ ہی، ایمرجنسی کی مخالفت کرکے جیل جانا چاہیے تھا ان سے دو دو غلطیاں ہوئی ہیں۔
چارا گھوٹالہ میں کئی بار جیل جانے والے لالو جیسےقدآور کا یہ طلسم ہی ہے کہ ایک بڑی جماعت ان کو زمینی لیڈرماننے سے گریز نہیں کرتی۔ تبھی جیل میں ان سے ملنے والوں کا تانتا لگا ہے۔
رجنی کانت کی روحانی سیاست والی بات دراصل بی جے پی کی سیاست کو ہی دکھاتی ہے۔ تمل ناڈو کے سیاسی مبصرین یہ بھی ماننا ہے کہ رجنی کے سیاست میں شامل ہونے کے تار بی جے پی سے جڑے ہوئے ہیں۔
اردو والا چشمہ کے اس ایپی سوڈ میں سنیے صفائی ملازموں کی بدتر زندگی پر نوپور شرما کا تبصرہ
آزادی کے بعد دلی میں خون خرابے کا سلسلہ جاری تھا ۔اس کی مخالفت میں گاندھی جی نے 12جنوری 1948کو اعلان کیا کہ وہ اگلے دن یا 13جنوری کو اپواس شروع کریں گے
گزشتہ سال سپریم کورٹ نے کئی سارے اہم فیصلے دیے،ان میں سے کچھ فیصلوں کو سنگ میل کہا جاسکتا ہے۔یہاں پڑھیے 2017میں سپریم کورٹ کے 25یادگار فیصلوں کا خلاصہ۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ججوں کی پریس کانفرنس اور عدلیہ کو درپیش چیلنجز کے متعلق ونود دوا کا تبصرہ
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے اسمارٹ سٹی اور کرپٹ صحافیوں پر ونود دوا کا تبصرہ
ڈبیٹ اینکر بھی اپنی موت مر رہا ہے۔ وہ حکومت کا روبوٹ بنکر رہ گیا ہے۔
کسی سرمایہ کاری کے بھلےبرے پر ظاہر کی گئی رائے کو اڈانی گروپ کے ذریعے ہتک عزت کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے معیشت اور آئندہ بجٹ پر ونود دوا کا تبصرہ
اونا کی دلت تحریک سے مشہور ہوئے جگنیش میوانی گجرات کی وڈگام سیٹ سے آزاد ایم ایل اے ہیں۔
بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد یہ کہہ رہی ہے کہ امبیڈکر اس کے لئے یاد گار ہیں لیکن انہی کی تنظیم اور پارٹی کےلوگ منواسمرتی کے ساتھ آئین کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔
جاسوسی شاید دنیا کے قدیم تر پیشوں میں سے ایک ہوگا۔ سرد جنگ کے دوران امریکی اور سوویت یونین کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے کارناموں پر تو کئی فلمیں بن چکیں ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے نوجوان دلت لیڈر اور گجرات کے ایم ایل اے جگنیش میوانی کی قیادت والی یووا ہنکاریلی پر ونود دوا کا تبصرہ
عآپ کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جس لیڈرنے بھی اروند کیجریوال کے خلاف آواز اٹھائی یا ان سے عدم اتفاق کیا، اس کو خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دور کو پورا ہونے میں تقریباً16 مہینے کا وقت باقی رہ گیا ہے۔ لیکن انہیں خود کو اور اپنی حکومت کو آزاد پریس کےتئیں جواب دہ بنانے کی ضرورت آج تک محسوس نہیں ہوئی ہے۔
اتر پردیش میں ایم ایل اے سرکاری خزانے سے غریبوں کو کمبل کے ساتھ سرکاری اسکولوں کے طلبا کو جوتے-موزے اور سویٹر بھی بانٹ رہے ہیں۔ مگر اس ادا سے جیسے ان کی بڑی مہربانی کہ جنوری میں بانٹ دے رہے ہیں ورنہ مارچ-اپریل میں بانٹتے تو کوئی کیا کر لیتا؟
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈمیں سنیے مختلف مدعوں پر وزیر اعظم نریندر مودی کی چپی پر ونود دوا کا تبصرہ
کبھی حاشیے پر رہی ہندو توا کی سیاست آج مین اسٹریم کی سیاست بن چکی ہے۔ سنگھ کے لئے اس سے بڑی کامیابی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ملک کی اہم سیاسی پارٹیاں نرم / گرم ہندو مذہب کے نام پر مسابقت کرنے لگیں۔
یہیں کا نوجوان ایسا ہے جس کو نوکری نہیں چاہیے، روز رات کو ٹی وی میں ہندو مسلم ٹاپک چاہیے۔
تقریباً سارے اداریوں اور کالموں کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ ایرانی حکومت ایک ملائی اوراستبدادی حکومت ہے، اور عوام کی بنیادی ضروریات سے نظر چرارہی ہے۔
1993کے بم دھماکو ں کے لیے روبینہ میمن کو صرف اس بنیاد پر سزا ہوتی ہے کہ دھماکوں کے لیے استعمال کی گئی ایک کار اس کے نام پر تھی توسادھوی کو کیوں نہیں سزا مل سکتی؟ مالیگاؤں غصے میں ہے اورغمزدہ بھیمگر مایوس نہیں ہے۔غم اورغصہ اس […]