دلی ہائی کورٹ نے ڈی پی ڈی پی ایکٹ، 2023 کا حوالہ دیتے ہوئے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے 2016 کے اس آرڈر کو خارج کر دیا، جس میں دلی یونیورسٹی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری عام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس قانون کو ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے حوالے سے راہل گاندھی کی جانب سے ووٹر لسٹ میں ہیر اپھیری کا الزام لگانے سے 146دن پہلے مہاراشٹر کے سابق ایم ایل سی بلرام پاٹل نے ریاست کے ایک انتخابی حلقے کے بارے میں الیکشن کمیشن سے ایسی ہی شکایت کی تھی۔ انہوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔
بہار میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل میں تضادات اور خامیوں کے دعووں کے درمیان یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈرافٹ لسٹ میں آرہ کی ایک 74 سالہ سابق ٹیچر کو مردہ قرار دے کر ان کا نام فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسی وارڈ میں ہونے کے باوجود ان کےتین بیٹوں کے نام کو’ٹرانسفر’ بتایا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر عائد کیے گئے تجارتی جرمانوں نے ہندوستانی وزرا اور اہلکاروں کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف دوڑنے پر مجبور کردیا ہے، مگر وہ اس کو ‘اسٹریٹجک چابک دستی’کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ماسکو اور بیجنگ اس چابک دستی کو ہندوستان کی مجبوری گر دانتے ہیں اور اس کی پوری وصولی کریں گے۔
اگر شہریوں کے پاس ڈیٹا کی ملکیت نہ ہو، اگر آپ سے متعلق معلومات پر آپ کا آئینی حق نہ ہوتو حکومت بغیر کسی رکاوٹ کے مداخلت کرتی رہے گی اور ہم ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جہاں آزادی صرف ڈیٹا بیس میں درج ہوگی۔ اور آپ کا وجود ایک کلک سے مٹ جائے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نائب صدر کے عہدے کے لیے اپوزیشن کے امیدوار جسٹس بی سدرشن ریڈی اور سپریم کورٹ پر سلوا جڈوم فیصلے کے ذریعے ‘نکسل ازم کی حمایت’ کا الزام لگایا ہے۔ شاہ کے بیان کو مذکورہ فیصلے کی غلط تشریح قرار دیتے ہوئے سابق ججوں نے کہا کہ یہ ‘بدقسمتی’ ہے۔
مذہب، رنگ ونسل اور خون کے سوداگر زندگی کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ اس نئے نظام میں اُن تہذیبی قدروں کے لیے جگہ نہیں ہے، جن کے سائے میں امن وعافیت کے خواب پلتے تھے، جن کی روشنی میں آرزو اور جستجو کے معرکے سَر ہوتے تھے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے ممتاز شاعرہ ملکہ نسیم کو۔
ہندوستان کا ریئل ٹائم شور مانیٹرنگ نیٹ ورک شہری آوازوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی سطح کو ریکارڈ کرتا ہے، لیکن شور میں زندگی بسرکرنے والے کروڑوں لوگوں کے لیے راحت کا وعدہ افسر شاہی کی بے حسی اور سیاسی خاموشی میں پھنسا ہوا ہے۔
سپریم کورٹ نے 22اگست کو دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن، کنسلٹنگ ایڈیٹر کرن تھاپر اور تمام ملازمین کو بی این ایس کی دفعہ 152 کے تحت گوہاٹی پولیس کی جانب سے درج کیس میں کسی بھی تعزیری کارروائی سے تحفظ فراہم کیا ہے۔ تین ماہ میں آسام پولیس کی طرف سے ادارے کے خلاف سیڈیشن کے قانون کے تحت درج کیا گیا یہ دوسرا معاملہ ہے۔
عدالت نے کہا کہ صرف کسی دوسرے ملک کے حق میں نعرہ لگانا یا تعریف کرنا، جب تک کہ اس میں اپنے ملک کی توہین شامل نہ ہو، سیڈیشن یعنی غداری کے زمرے میں نہیں آتا۔
الیکشن کمیشن نے 2002-03 کی مثال دیتے ہوئے بہار میں ایس آئی آرکے 97 دن کے عمل کا دفاع کیا ہے۔ لیکن ریکارڈ اور سابق عہدیداروں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت یہ عمل آٹھ ماہ تک جاری رہا تھااور شہریت اور ووٹر آئی ڈی کے بارے میں موقف بالکل مختلف تھا۔
آرٹی آئی سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق، اکتوبر 2024 میں گجرات حکومت نے نریندر مودی کے عوامی عہدے پر – گجرات کے وزیر اعلیٰ اور پھر وزیر اعظم کے طور پر-23 سال مکمل ہونے کا جشن منانے کے لیے اشتہارات پر 8.81 کروڑ روپے خرچ کیے۔
مرادآباد ضلع میں ہندو دیوی-دیوتاؤں کے نام سے بینڈ کا نام رکھنے پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک شکایت کے بعد تمام مسلم بینڈ آپریٹرز کو پولیس نے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے بینڈ کے نام ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام پر نہ رکھیں۔
جسے پورا مہاراشٹردو بھائیوں کا ملن سمجھ رہا ہے، کیا یہ ادھو ٹھاکرے کے لیے ٹریپ ہے؟ راج ٹھاکرے بی جے پی کے قریب رہے ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ کیا بھائیوں کے ملن کی یہ کہانی بی جے پی نے لکھی ہے؟
امت شاہ کی جانب سے پیش کیے گئے 130 ویں آئینی ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ 30 دن کی حراست پر وزیر، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم تک کی کرسی جا سکتی ہے۔ یہ بل جانچ ایجنسیوں کا غلط استعمال کرکے اپوزیشن لیڈروں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا نیا ہتھیار بن سکتا ہے۔
آسام پولیس کی طرف سے دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور کنسلٹنگ ایڈیٹر کرن تھاپر کو طلب کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ایف آئی آر کئی دنوں کی آن لائن اور آف لائن کوششوں کے بعد بالآخر بدھ (20 اگست) کو مل سکی، جس میں دی وائر سے وابستہ کئی صحافیوں اور کالم نگاروں کو نامزد کیا گیاہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیامنٹ میں 130واں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے جا رہے ہیں۔ اس میں یہ شق ہے کہ اگر کوئی وزیر اعلیٰ، وزیر یا وزیر اعظم مسلسل 30 دن تک جیل میں رہتا ہے تو اسے برخاست کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس نے اسے اپوزیشن ریاستوں کو کمزور کرنے کا حربہ قرار دیا ہے۔
آج کا غزہ صرف بموں اور ناکہ بندیوں کی کہانی نہیں۔ یہ بھوک کی کہانی ہے۔ ایسی قحط سالی جو قحط یا آفت سے نہیں، بلکہ منصوبہ بند جبر سے پیدا کی گئی ہے۔ غزہ کے عوام کے پیٹ ہی خالی نہیں بلکہ دنیا کی روح بھی خالی ہو چکی ہے۔
گوہاٹی کرائم برانچ نے ریاستی پولیس کی جانب سے درج کیے گئے ایک نئے ‘سیڈیشن’ کیس میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور سینئر صحافی کرن تھاپر کو سمن جاری کیا ہے۔ تاہم ،ایف آئی آر کی تاریخ، مبینہ جرم کی جانکاری اور ایف آئی آر کی کوئی کاپی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
پریس کلب آف انڈیا اور انڈین ویمن پریس کور نے آسام پولیس کی طرف سے دی وائر اور اس کے صحافیوں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی بی این ایس کی سخت دفعہ 152 کو ‘پریس کو خاموش کرنے کا ہتھیار’ قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مذکورہ معاملے اسی دفعہ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔
وویک اگنی ہوتری کی فلم ’دی بنگال فائلز‘ میں گوپال مکھرجی عرف ’گوپال پاٹھا‘ کے کردار کے حوالے سے پاٹھا کے پوتے شانتنو مکھرجی نے ہدایت کار کو لیگل نوٹس بھیجا ہے۔ خاندان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کے دادا کومسلم مخالف قصائی کے طور پر دکھا کر بدنام کیا گیا ہے اور تاریخی حقائق سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے تنازعہ اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی وضاحت پیش کی، لیکن اہم سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ راہل گاندھی سے حلف نامہ طلب کیا گیا، جبکہ بی جے پی ایم پی انوراگ ٹھاکر پر خاموشی اختیار کی گئی۔ غیر ملکی تارکین وطن، دستاویزوں اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
سیاست کی پیدا کی گئی خلیج ایک بھیانک مستقبل کا اشارہ ہے۔ اس صورتحال کا سبب ہندوتوا کی سیاست ہے۔ افسوس ہے کہ مجھے آج کے ہندوستان میں جرمنی کا ماضی نظر آتا ہے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیےمعروف فکشن نویس رحمٰن عباس کو۔
یوم آزادی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن سیندورکی کامیابی،نئی سیکورٹی پالیسی، آتم نربھر بھارت، روزگار اسکیم، جی ایس ٹی اصلاحات اور سدرشن چکر مشن کا اعلان کیا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے، دراندازی، آبادیاتی تبدیلی اور ایمرجنسی پر کڑی تنقید کی۔
بہار کے ووٹر دیکھ رہے ہیں کہ کون ان کے حقوق کی حفاظت کر رہا ہے اور کون ان کی خاموشی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔آنے والے انتخابات نہ صرف حکومت بدلنے کی لڑائی ہوں گے بلکہ اس میں اس بات کا بھی امتحان ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جمہوریت کی کسوٹی پر میں کون کھرا اترتا ہے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ بہار ایس آئی آر کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ناموں کو اپنی ویب سائٹ پر ہٹانے کی وجوہات کے ساتھ شائع کرے۔ نیز، اس عمل کے لیے تسلیم شدہ دستاویزوں میں آدھار کو شامل کرے۔
سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں تقریباً تین سال پہلے ہوئے ہریانہ کے پانی پت کی ایک گرام پنچایت کے سرپنچ کے انتخاب کے نتائج کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ملک کا پہلا معاملہ بتایا جا رہا ہے، جہاں عدالت عظمیٰ نے الیکشن میں استعمال ہونے والی ای وی ایم اور دیگر ریکارڈ کو طلب کیا اور اپنے احاطے میں ہی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروائی، جس کے بعد نتائج پلٹ گئے۔
گیارہ اگست کو فتح پور میں مختلف ہندوتوا تنظیموں کے ہجوم نے آبو نگر واقع صدیوں پرانے مقبرے پر حملہ کیا، بھگوا جھنڈے لہرائے، ہندو رسومات ادا کیں اور قبروں میں توڑ پھوڑ کی۔ اب تک جہاں توڑ پھوڑ کرنے والوں کو گرفتار نہیں کیا گیا، وہیں پولیس نے ملزمین کے خلاف احتجاج کرنے پر کانگریس لیڈر کو حراست میں لیا ہے۔
ایک طرف جہاں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کے ٹیرف اور جنگ بندی کے ثالثی کے دعووں پر امریکہ کے خلاف براہ راست کچھ کہنے سے گریز کیا ہے، وہیں بی جے پی کی مربی تنظیم آر ایس ایس نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گردی اور آمریت کو فروغ دے رہا ہے۔
مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع کے ایک گاؤں میں 21 سالہ مسلم نوجوان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ جب ان کے اہل خانہ نے بچانے کی کوشش کی تو ان پر بھی حملہ کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین کو شبہ تھا کہ لڑکا ایک ہندو لڑکی سے قریبی تعلق رکھتا تھا۔ معاملے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کا یہ بیان کہ 1 لاکھ پولنگ بوتھ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے میں 273 سال لگیں گے، بیل گاڑی کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ کیا کمیشن نہیں جانتا کہ ڈیٹا اینالیٹکس میں ہندوستان نے کتنی ترقی کرلی ہے؟
مہاراشٹر کے پالگھر کےنالاسوپارہ اسمبلی حلقہ کی 39 سالہ سشما گپتا کا نام ووٹر لسٹ میں چھ بار درج ہے، اور ہر اندراج کا ایک الگ ای پی آئی سی نمبر ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ووٹر لسٹ میں کئی تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہارایس آئی آر کو لے کربھی کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔
بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کو لے کر سپریم کورٹ میں بحث شہریت ثابت کرنے کے معاملے پر مرکوز ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، اس کوشہریت کا ثبوت مانگنے کا اختیارہے۔ لیکن وزارت داخلہ ایسے دستاویزوں کی فہرست نہیں دے پا رہا ہے جو شہریت کو ثابت کرتے ہوں۔
بہار کے بھوجپور ضلع کے آرہ اسمبلی حلقہ کے 41 سالہ منٹو پاسوان کو الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر مہم کے تحت جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں مردہ قرار دے دیا تھا۔ 12 اگست کو پاسوان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
سپریم کورٹ نے منگل کو ‘دی وائر’ کے مالکانہ حق والے ٹرسٹ ‘فاؤنڈیشن فار انڈیپنڈنٹ جرنلزم’ کے ارکان اور بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کو بی این ایس کی دفعہ 152 کے تحت آسام پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے سلسلے میں کسی بھی تعزیری کارروائی سے تحفظ فراہم کیا ہے۔
اس پابندی کو ایک بڑے بیانیہ کا حصہ سمجھنا چاہیے۔یہ یاداشتوں کو کھرچنے کا عمل ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری ہے، اگرچہ 2019 کے بعد یہ بے حد بڑھ گیا ہے۔کشمیر کے اخبارات کے آرکائیوز بند کر دیے گئے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں اس خطے پر کیا قیامت برپا ہوگئی، اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
بہار میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) پر تنازعہ جاری ہے۔ 1 اگست کو جاری کی گئی مسودہ فہرست سے 65 لاکھ نام ہٹائے گئے ہیں۔ اپوزیشن اس پورے عمل کے خلاف سڑکوں پر ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس عمل کے شفاف نہ ہونے اور بعض طبقات کو نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔ ڈرافٹ لسٹ کئی طرح کی بے ضابطگیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔
سوموار کو اپوزیشن لیڈروں نے بہار ایس آئی آر کے خلاف پارلیامنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالا تھا۔ اس دوران راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں قائدحزب اختلاف ملیکارجن کھڑگےاور راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا۔
بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے بعد الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ پہلی ڈرافٹ لسٹ میں 65 لاکھ ووٹروں کے نام نہیں آئے ہیں۔ اس عمل پر پہلے ہی کئی سوال تھے اور اب یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ مشق لوگوں کو جوڑنے کے لیے نہیں بلکہ ہٹانے کے لیے ہے۔ آزاد صحافی پونم اگروال اور دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری ۔
میں اپنے عہد کے مسائل سے آنکھیں ملاکر بات کرتا ہوں۔ ان مسائل میں محبت بھی ہے اور نفرت بھی۔ مجھے یقین ہے کہ نفرت کا انجام محبت ہوگا۔ ہاں، موجودہ سیاست میں سچ بولنے والوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر مثبت سروکاروں کو رسوا کیا جارہا ہے۔ بھیڑ کسی کو بھی اپنا نوالہ بنالیتی ہے۔ اقلیت ہونا جیسے گالی ہو۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے نئی نسل کے شاعر اور تخلیق کار معید رشیدی کو۔