نیپال میں سوموار (8 ستمبر) کو پرتشدد مظاہروں کے بعد ہندوستان نے منگل کو کہا کہ ان مظاہروں میں ‘متعدد نوجوانوں کی ہلاکت’ کا ہمیں شدید غم ہے۔ نئی دہلی نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ اس بحران کو ‘پرامن طریقے اور بات چیت’ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اتر پردیش کے بستی ضلع میں پولیس نے مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے 18 پھیری والوں کو آدھار اور ووٹر آئی ڈی ہونے کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر قرار دے کر پانچ دنوں سے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ مہاجرین کے حقوق کے ایک فورم نے مغربی بنگال کے حکام سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
مغربی بنگال کے بانکڑا ضلع میں 6 ستمبر کو ایک 60 سالہ مسلمان پھیری والے پر تین افراد نے حملہ کیا۔ انہوں نے ان کی گردن اور پیٹ میں چاقو مارا اور مبینہ طور پر ان سے ‘جئے شری رام’ کا نعرہ لگوانے کی کوشش کی۔ تاہم، پولیس نے کہا کہ معاملے کو فرقہ وارانہ قرار دینا ‘حقائق کی رو سے غلط’ ہے۔
سنکرشن ٹھاکر کا جانا صرف ایک شخص کا جانا نہیں، بلکہ ان الفاظ کا خاموش ہو جانا ہے جو سماج کی بُو باس اور سچائی کو گرفت میں لینے کی قوت رکھتے تھے۔ پٹنہ کی سرزمین سے آنے والے اس صحافی نے کشمیر سے بہار تک کی کہانیوں کو دلجمعی سے قلمبند کیا۔ ان کے یہ نوشتہ جات صحافت کا لازوال ورثہ ہیں۔
سرکردہ صحافی اور مصنف سنکرشن ٹھاکر کاطویل علالت کے بعد 63 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ دی ٹیلی گراف کے ایڈیٹر ٹھاکر نے بہار اور کشمیر کے علاوہ کئی اہم موضوعات پر غیر معمولی رپورٹنگ کی۔ خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے رہنماؤں اور صحافیوں نے انہیں بے خوف، حساس اور جمہوری ہندوستان کا مضبوط وکیل بتایا ۔
کلکتہ کے حالیہ واقعے سے اردو کا بھی مقدمہ کمزور ہوتا ہے اور مسلمانوں کا بھی۔ مسلمانوں کے درمیان سول سوسائٹی کے استحکام کی ضرورت بطور خاص اس لیے بھی ہے کہ کوئی متبادل آواز ابھر سکے۔ مہذب دنیا مختلف خیالوں اور آوازوں سے ہی چل رہی ہے۔
مارچ 2020 میں دہلی کے نظام الدین مرکز میں تبلیغی جماعت کے پیروکاروں کے اجتماع کو ملک بھر میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اس اجتماع سے کووڈ 19 وائرس پھیلا تھا۔ اب پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات میں مرکز نظام الدین کے امیر محمد سعد کاندھلوی کی تقریروں میں ‘کچھ بھی قابل اعتراض’ نہیں ملا۔
مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے کچھ اسلامی تنظیموں کے احتجاج کے بعد ‘ہندی سنیما میں اردو کا کردار’ کے موضوع پر جاوید اختر کی تقریب کو ملتوی کر دیا تھا۔ اب ‘اردو کلچر لندن’ اور ‘انجمن ترقی اردو یو کے’ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردو اکیڈمی کی جانب سےاس طرح تقریب کوملتوی کرنا جمہوری معاشرے کے لیے نیک فال نہیں ہے۔
پنجاب میں موسلا دھار بارش جاری ہے۔ بھاکرا سمیت مختلف ڈیموں سے کنٹرول مقدار میں پانی چھوڑے جانے کے بعد ریاست میں سیلاب کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ سیلاب میں کم از کم 30 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ پانچ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کے لیے ہولڈنگ سینٹر یا حراستی کیمپ بنانے کی ہدایت دی ہے۔ اگر کوئی یہ ثابت نہیں کرپائے کہ وہ غیر ملکی نہیں ہے اور ضمانت نہیں دے پاتا ، تو اسے ان مراکز میں رکھا جائے گا۔
غیر امدادی یعنی نان-ایڈیڈ مدارس کی ابتر حالت اور اساتذہ کے مالی بحران کی وجہ سے تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔
سال 2014کے سیلاب کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے 80 ہزار کروڑ روپے کے ایک پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں کی ڈریجنگ اور پشتوں کی مضبوطی کا کام ہونا تھا۔ مگر ایک آرٹی آئی کے مطابق،ایک دہائی کے بعد بھی 31 میں سے صرف 16 منصوبے مکمل ہو پائے ہیں۔یعنی 2014 کے سیلاب سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات 2020 کے مبینہ ‘لارجر کانسپیریسی’ کیس میں عمر خالد، شرجیل امام اور سات دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ملزمین کو جنوری-ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مغربی بنگال اردو اکادمی نے ‘ہندی فلموں میں اردو کا کردار’ سے متعلق اپنے چار روزہ جشن کوملتوی کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ اسلامی تنظیموں نے نغمہ نگار جاوید اختر کو تقریب میں مدعو کرنے کی مخالفت کی تھی۔ اب ریاستی حکومت کے تحت کام کرنے والی اکادمی نے’نامساعدحالات’ کا حوالہ دیتے ہوئے پورے پروگرام کو ملتوی کر دیا ہے۔
سیدہ حمید کے پاس آسام کی بے حدخوبصورت یادیں ہیں۔لیکن آج اچانک انہیں یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ وہ عورت ہیں اور مسلمان ہیں۔ان کی تکلیف کون محسوس کرنا چاہتا ہے؟
وزیر اعظم نریندر مودی کے 22 – 23 اپریل 2025 کےسعودی عرب کے دورے پر 15.54 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ کل اخراجات میں سے 10.26 کروڑ روپے ہوٹل کے بل پر، 4.05 کروڑ روپے ٹرانسپورٹ پر۔ تاہم، یہ دورہ صرف 12 گھنٹے کا رہا۔ یہ ان کا 2025 کا دوسرا سب سےمہنگا غیر ملکی دورہ ثابت ہوا ۔
محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق، بہار سرکار کی کنٹریکٹ پر بھرتیوں پر ایک کمپنی کا قبضہ ہے۔ یہ کمپنی ریاست کے اعلیٰ افسران کو رشوت دیتی ہے اور مختلف محکموں میں امیدواروں سے پیسے لے کر بھرتی کرواتی ہے۔ اس انویسٹیگیشن کی پہلی قسط۔
الیکشن کمیشن نے حق اطلاعات قانون کے تحت پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں 2003 کے بہار ایس آئی آر کی کاپی فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے بجائے، اس نے انتخابی ریاست میں جاری موجودہ عمل کے لیے جون 2025 کے آرڈر کا لنک دے دیا ہے۔
دلی ہائی کورٹ نے ڈی پی ڈی پی ایکٹ، 2023 کا حوالہ دیتے ہوئے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے 2016 کے اس آرڈر کو خارج کر دیا، جس میں دلی یونیورسٹی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری عام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس قانون کو ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے حوالے سے راہل گاندھی کی جانب سے ووٹر لسٹ میں ہیر اپھیری کا الزام لگانے سے 146دن پہلے مہاراشٹر کے سابق ایم ایل سی بلرام پاٹل نے ریاست کے ایک انتخابی حلقے کے بارے میں الیکشن کمیشن سے ایسی ہی شکایت کی تھی۔ انہوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔
بہار میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل میں تضادات اور خامیوں کے دعووں کے درمیان یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈرافٹ لسٹ میں آرہ کی ایک 74 سالہ سابق ٹیچر کو مردہ قرار دے کر ان کا نام فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسی وارڈ میں ہونے کے باوجود ان کےتین بیٹوں کے نام کو’ٹرانسفر’ بتایا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر عائد کیے گئے تجارتی جرمانوں نے ہندوستانی وزرا اور اہلکاروں کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف دوڑنے پر مجبور کردیا ہے، مگر وہ اس کو ‘اسٹریٹجک چابک دستی’کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ماسکو اور بیجنگ اس چابک دستی کو ہندوستان کی مجبوری گر دانتے ہیں اور اس کی پوری وصولی کریں گے۔
اگر شہریوں کے پاس ڈیٹا کی ملکیت نہ ہو، اگر آپ سے متعلق معلومات پر آپ کا آئینی حق نہ ہوتو حکومت بغیر کسی رکاوٹ کے مداخلت کرتی رہے گی اور ہم ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جہاں آزادی صرف ڈیٹا بیس میں درج ہوگی۔ اور آپ کا وجود ایک کلک سے مٹ جائے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نائب صدر کے عہدے کے لیے اپوزیشن کے امیدوار جسٹس بی سدرشن ریڈی اور سپریم کورٹ پر سلوا جڈوم فیصلے کے ذریعے ‘نکسل ازم کی حمایت’ کا الزام لگایا ہے۔ شاہ کے بیان کو مذکورہ فیصلے کی غلط تشریح قرار دیتے ہوئے سابق ججوں نے کہا کہ یہ ‘بدقسمتی’ ہے۔
مذہب، رنگ ونسل اور خون کے سوداگر زندگی کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ اس نئے نظام میں اُن تہذیبی قدروں کے لیے جگہ نہیں ہے، جن کے سائے میں امن وعافیت کے خواب پلتے تھے، جن کی روشنی میں آرزو اور جستجو کے معرکے سَر ہوتے تھے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے ممتاز شاعرہ ملکہ نسیم کو۔
ہندوستان کا ریئل ٹائم شور مانیٹرنگ نیٹ ورک شہری آوازوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی سطح کو ریکارڈ کرتا ہے، لیکن شور میں زندگی بسرکرنے والے کروڑوں لوگوں کے لیے راحت کا وعدہ افسر شاہی کی بے حسی اور سیاسی خاموشی میں پھنسا ہوا ہے۔
سپریم کورٹ نے 22اگست کو دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن، کنسلٹنگ ایڈیٹر کرن تھاپر اور تمام ملازمین کو بی این ایس کی دفعہ 152 کے تحت گوہاٹی پولیس کی جانب سے درج کیس میں کسی بھی تعزیری کارروائی سے تحفظ فراہم کیا ہے۔ تین ماہ میں آسام پولیس کی طرف سے ادارے کے خلاف سیڈیشن کے قانون کے تحت درج کیا گیا یہ دوسرا معاملہ ہے۔
عدالت نے کہا کہ صرف کسی دوسرے ملک کے حق میں نعرہ لگانا یا تعریف کرنا، جب تک کہ اس میں اپنے ملک کی توہین شامل نہ ہو، سیڈیشن یعنی غداری کے زمرے میں نہیں آتا۔
الیکشن کمیشن نے 2002-03 کی مثال دیتے ہوئے بہار میں ایس آئی آرکے 97 دن کے عمل کا دفاع کیا ہے۔ لیکن ریکارڈ اور سابق عہدیداروں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت یہ عمل آٹھ ماہ تک جاری رہا تھااور شہریت اور ووٹر آئی ڈی کے بارے میں موقف بالکل مختلف تھا۔
آرٹی آئی سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق، اکتوبر 2024 میں گجرات حکومت نے نریندر مودی کے عوامی عہدے پر – گجرات کے وزیر اعلیٰ اور پھر وزیر اعظم کے طور پر-23 سال مکمل ہونے کا جشن منانے کے لیے اشتہارات پر 8.81 کروڑ روپے خرچ کیے۔
مرادآباد ضلع میں ہندو دیوی-دیوتاؤں کے نام سے بینڈ کا نام رکھنے پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک شکایت کے بعد تمام مسلم بینڈ آپریٹرز کو پولیس نے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے بینڈ کے نام ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام پر نہ رکھیں۔
جسے پورا مہاراشٹردو بھائیوں کا ملن سمجھ رہا ہے، کیا یہ ادھو ٹھاکرے کے لیے ٹریپ ہے؟ راج ٹھاکرے بی جے پی کے قریب رہے ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ کیا بھائیوں کے ملن کی یہ کہانی بی جے پی نے لکھی ہے؟
امت شاہ کی جانب سے پیش کیے گئے 130 ویں آئینی ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ 30 دن کی حراست پر وزیر، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم تک کی کرسی جا سکتی ہے۔ یہ بل جانچ ایجنسیوں کا غلط استعمال کرکے اپوزیشن لیڈروں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا نیا ہتھیار بن سکتا ہے۔
آسام پولیس کی طرف سے دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور کنسلٹنگ ایڈیٹر کرن تھاپر کو طلب کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ایف آئی آر کئی دنوں کی آن لائن اور آف لائن کوششوں کے بعد بالآخر بدھ (20 اگست) کو مل سکی، جس میں دی وائر سے وابستہ کئی صحافیوں اور کالم نگاروں کو نامزد کیا گیاہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیامنٹ میں 130واں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے جا رہے ہیں۔ اس میں یہ شق ہے کہ اگر کوئی وزیر اعلیٰ، وزیر یا وزیر اعظم مسلسل 30 دن تک جیل میں رہتا ہے تو اسے برخاست کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس نے اسے اپوزیشن ریاستوں کو کمزور کرنے کا حربہ قرار دیا ہے۔
آج کا غزہ صرف بموں اور ناکہ بندیوں کی کہانی نہیں۔ یہ بھوک کی کہانی ہے۔ ایسی قحط سالی جو قحط یا آفت سے نہیں، بلکہ منصوبہ بند جبر سے پیدا کی گئی ہے۔ غزہ کے عوام کے پیٹ ہی خالی نہیں بلکہ دنیا کی روح بھی خالی ہو چکی ہے۔
گوہاٹی کرائم برانچ نے ریاستی پولیس کی جانب سے درج کیے گئے ایک نئے ‘سیڈیشن’ کیس میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور سینئر صحافی کرن تھاپر کو سمن جاری کیا ہے۔ تاہم ،ایف آئی آر کی تاریخ، مبینہ جرم کی جانکاری اور ایف آئی آر کی کوئی کاپی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
پریس کلب آف انڈیا اور انڈین ویمن پریس کور نے آسام پولیس کی طرف سے دی وائر اور اس کے صحافیوں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی بی این ایس کی سخت دفعہ 152 کو ‘پریس کو خاموش کرنے کا ہتھیار’ قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مذکورہ معاملے اسی دفعہ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔
وویک اگنی ہوتری کی فلم ’دی بنگال فائلز‘ میں گوپال مکھرجی عرف ’گوپال پاٹھا‘ کے کردار کے حوالے سے پاٹھا کے پوتے شانتنو مکھرجی نے ہدایت کار کو لیگل نوٹس بھیجا ہے۔ خاندان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کے دادا کومسلم مخالف قصائی کے طور پر دکھا کر بدنام کیا گیا ہے اور تاریخی حقائق سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے تنازعہ اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی وضاحت پیش کی، لیکن اہم سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ راہل گاندھی سے حلف نامہ طلب کیا گیا، جبکہ بی جے پی ایم پی انوراگ ٹھاکر پر خاموشی اختیار کی گئی۔ غیر ملکی تارکین وطن، دستاویزوں اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔