بی ایس پی ایم پی دانش علی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے خط میں کہا ہے کہ بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کو ان کے قابل مذمت طرزعمل کے لیے جلد از جلد جوابدہ بناکر مناسب سزا دی جانی چاہیے، تاکہ کوئی بھی ایوا ن میں اس طرح کی حرکت دوبارہ نہ کر سکے۔ انہوں نے پی ایم سےبدھوڑی کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے ایک عوامی بیان جاری کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
ویڈیو: حال ہی میں پارلیامنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران بی ایس پی ایم پی دانش علی کو فرقہ وارانہ طور پر گالی گلوچ کرنے والے بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کو پارٹی نے راجستھان اسمبلی کے لیے ٹونک ضلع کا الیکشن انچارج بنایا ہے۔ اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔
ویڈیو: 21 ستمبر کو بی جے پی لوک سبھا ایم پی رمیش بدھوڑی نے پارلیامنٹ میں بی ایس پی ایم پی دانش علی کو نشانہ بناتے ہوئے شرمناک اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ تقریباً ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس معاملے پر آر جے ڈی ایم پی منوج کمار جھا سے دی وائر کی شراوستی داس گپتا کی بات چیت۔
بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کی جانب سے بی ایس پی ایم پی دانش علی کے خلاف فرقہ وارانہ تبصرے کے حوالے سے جمعیۃ علماء ہند اور جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ عام مسلمانوں کی بات تو چھوڑیے، اب پارلیامنٹ میں منتخب نمائندہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اگر یہ نئے ہندوستان کی تصویر ہے تو یہ خطرناک ہے۔
بی جے پی کی تہذیب بد زبانی اور بدتمیزی کی تہذیب ہے۔ مخالفین اور مسلمانوں کی توہین کرکے انہیں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی لیڈر کہلانے کےاہل ہیں۔ بدھوڑی اس کی تازہ ترین مثال محض ہیں۔
ویڈیو: جمعرات کو لوک سبھا میں جنوبی دہلی سے بی جے پی کے ایم پی رمیش بدھوڑی نے بی ایس پی ایم پی دانش علی کے ساتھ فرقہ وارانہ طور پر دشنام طرازی کی۔ علی کہتے ہیں،’اگر مجھ جیسے رکن پارلیامنٹ کے ساتھ ملک کی پارلیامنٹ میں یہ سب ہو رہا ہے تو میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک عام مسلمان کے ساتھ سڑک پرکیا ہو رہا ہو گا۔’ ان سے بات چیت۔
بی ایس پی ایم پی دانش علی کے خلاف جنوبی دہلی کے لوک سبھا ایم پی رمیش بدھوڑی کی جانب سے ہیٹ اسپیچ کے باوجود ان پرکوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بدھوڑی کو خبردار کیا ہےکہ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو ‘سخت کارروائی’ کی جائے گی، لیکن اس معاملے پر کی گئی کارروائی کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔
اتر پردیش کی ایک لڑکی نے 2019 میں بی ایس پی ایم پی اتل رائے پر ریپ کا الزام لگاتے ہوئے کیس درج کرایا تھا۔ لڑکی اور ان کے ایک دوست نے گزشتہ 16 اگست کو سپریم کورٹ کے پاس خودسوزی کر لی تھی۔ دونوں کی موت ہو چکی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سابق آئی پی ایس افسر ٹھاکربی ایس پی ایم پی اتل رائے کے حمایتی ہیں۔گرفتاری سے کچھ گھنٹے پہلے ہی سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر نے نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا اور وزیر اعلیٰ کے خلاف اتر پردیش اسمبلی انتخاب لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔