بی جے پی کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، پارٹی نے 2024-25 میں انتخابی اور عام مہم پر 3,335.36 کروڑ روپے خرچ کیے، جو 20-2019 سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ اس مدت میں 2024 لوک سبھا اور آٹھ ریاستی اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ دوسری طرف کانگریس نے 2024-25 میں الیکشن لڑنے پر 896.22 کروڑ روپے خرچ کیے۔
اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری قتل کیس کے سلسلے میں پولیس نے ایک ٹی وی اداکارہ کو طلب کیا ہے۔ اداکارہ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا ایم پی دشینت کمار گوتم ہی اس معاملے کے ‘پراسرار وی آئی پی’ ہیں، جنہیں ‘سروس’ دینے کا دباؤ انکیتا پر تھا۔
فروری 2024 میں سپریم کورٹ کے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو ختم کرنے کے بعد پہلے مالی سال 2024-25 میں مرکز میں برسراقتدار بی جے پی نے اپنی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے اور اپنے اہم حریف کانگریس سے 12 گنا زیادہ چندہ اکٹھا کیا ہے۔
کم لوگوں کو علم ہے کہ منموہن سنگھ نے بڑی سریلی آواز پائی تھی، وہ ‘لگتا نہیں ہے جی میرا’ اور امریتا پریتم کی نظم ‘آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول’ بڑی پرسوز آواز میں گاتے تھے۔ اردو زبان پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ اردو ادب اور شاعری کا بھی ستھرا ذوق رکھتے تھے۔
پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی نے جمعہ کو بہار میں ایک خاتون ڈاکٹر کا ‘نقاب’ ہٹانے کے معاملے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس میں شکایت دی ہے۔ دریں اثنا، واقعہ کے مرکز میں رہیں آیوش ڈاکٹر نے اب تک ڈیوٹی جوائن نہیں کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 20 دسمبر ان کی جوائننگ کی آخری تاریخ تھی۔
نتیش کمار کی بدتمیزی اور بے حیائی کے دفاع میں دلائل پیش کیے جا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو خواتین مخالف یا مسلم مخالف نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہوں نے دونوں کے حق میں بہت کام کیے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے کسی طرح میری مدد کی ہے تو میں آپ کو اپنے ساتھ بدتمیزی کرنے کا حق دے دوں؟
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے حجاب کھینچنے کے واقعہ کے بعد آیوش ڈاکٹر نصرت پروین نے تقرری کا خط ملنے کے باوجود سرکاری ملازمت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ 22نومبر کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام ضلع حکام کو مبینہ ‘دراندازوں’ کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اب لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے ایک کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس میں سب سے پہلےآسام سے آنے والے اور چھوٹے موٹے کام کر کے روزی کمانے والے 50 سے زیادہ خاندان نشانےپر آ گئے ہیں۔
دہلی میں خواتین کے تحفظ کے خدشات کے درمیان دہلی خواتین کمیشن ڈیڑھ سال سے بند پڑا ہے۔کمیشن کی آخری چیئرپرسن سواتی مالیوال تھیں، جنہوں نے جنوری 2024 میں راجیہ سبھا میں جانے کے لیے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سال فروری میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے خواتین کے تحفظ کے بارے میں تمام طرح کے دعوے کیے تھے، لیکن آج تک کمیشن کے دفتر پر لگا تالہ کھل نہیں سکا ۔
نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی کی چارج شیٹ کے چھ ماہ بعد گاندھی فیملی کے خلاف نئی ایف آئی آر کیوں درج کی گئی؟ کیا ای ڈی کو منی لانڈرنگ کے ثبوت ملے ہیں؟ اس معاملے کو سیاسی طور پر اتنا حساس کیوں مانا جا رہا ہے؟ دی وائر کی یہ رپورٹ اس پورے معاملے کی پرتیں کھولتی ہے۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
کانگریس کی جانب سے بہار میں ایس آئی آر کے بعد ووٹروں کی تعداد میں 3 لاکھ اضافے کے بعد ‘ووٹ چوری’ کا الزام لگانے پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ اضافہ 10 اکتوبر تک موصول ہونے والے نئے ووٹر فارموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ کمیشن کے مطابق، قواعد کے تحت نئے ووٹروں کو نامزدگی کی آخری تاریخ سے 10 دن پہلے تک شامل کیا جا سکتا ہے۔
کانگریس کی ناکامی کو اس طرح دیکھیے کہ پارٹی نے اس سال دلت رہنما راجیش کمار کو بہار کا ریاستی صدر مقرر کیا تھا، پارٹی کے قومی صدر بھی دلت ہیں۔ یہ دونوں مل کر بہار کی دلت برادری کو اپنی طرف کر سکتے تھے، لیکن پارٹی کی انتخابی مہم پوری طرح راہل گاندھی کے اردگرد گھومتی رہی۔
کانگریس پارٹی نے بہار میں ووٹر لسٹ کےاسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل نے جواب سے زیادہ سوال کھڑے کر دیےہیں۔ پارٹی نے کہا کہ حتمی ووٹر لسٹ کے ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 5 لاکھ نام ڈپلیکیٹ ہیں، جبکہ حذف کیے گئے67.3 لاکھ ناموں میں سے دسویں حصے سے زیادہ 15 اسمبلی حلقوں سے ہیں۔
بہار میں متعدد پسماندہ برادریاں ہیں،جن کی آبادی اچھی خاصی ہے۔لیکن ان میں مناسب سیاسی نمائندگی نہیں ہے۔ یہ برادریاں درج فہرست ذات کا درجہ اور ریزرویشن حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ کانگریس اس دلت مرکوز سیاست کا محور بننا چاہتی ہے۔ کانگریس نے روی داس برادری کے لیڈر کو ریاستی صدر بھی بنایا ہے۔ لیکن کیا یہ وہ ان بکھری ہوئی برادریوں کو متحد کر پائے گی؟
آسام کانگریس نے ریاستی بی جے پی کے خلاف پارٹی کے سوشل میڈیا ہینڈل پر پوسٹ کیے گئے ایک اے آئی ویڈیو پر شکایت درج کرائی ہے۔ کانگریس نے بی جے پی کے سوشل میڈیا سیل پر فرقہ وارانہ بدامنی کو بھڑکانے، مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور بوڈو لینڈ ٹیریٹورل کونسل (بی ٹی سی) کے انتخابات کے لیے نافذ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے سابق جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کی پہلی برسی کے موقع پر منعقد یادگاری خطبے میں تاریخ دان پروفیسر عرفان حبیب نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران کمیونسٹوں نے مسلم لیگ اور کانگریس کو ایک جیسا مان کر اسٹریٹجک غلطی کی اور کمیونزم کے مسئلے کو ڈھنگ سے حل نہیں کیا۔
دی وائر کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں اویسی نے حد بندی ایکٹ کے اطلاق، وقف بائی یوزر، املاک وقف کرنے کے لیےکم از کم پانچ برس تک ’پریکٹسنگ مسلمان‘ کی شرط پر ’مکمل روک‘ نہیں لگائے جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
سپریم کورٹ نے سوموار کو متنازعہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے اہم اہتماموں پر روک لگا دی ہے۔ اس میں وقف بنانے کے لیے کسی شخص کے 5 سال تک اسلام کا پیروکار ہونے ، کلکٹر یا ایگزیکٹو کو جائیداد کے حق کا فیصلہ کرنے کی اجازت اور غیر مسلموں کو وقف بورڈ کا ممبر بنانے سے متعلق اہتمام شامل ہیں۔
نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے ‘صحت کی وجوہات’ کا حوالہ دیتے ہوئے 21 جولائی کو فوری اثر سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 74 سالہ دھنکھڑ کی میعاد 2027 تک تھی۔ دریں اثنا، کانگریس نے کہا ہے کہ اس قدم کے پیچھے گہری وجوہات ہیں۔
آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے کی جانب سے آئین ہند کی تمہید سے ‘سیکولر’ اور ‘سوشلسٹ’ الفاظ کو ہٹانے کی بات کہے جانے کے بعد نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے ان الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں ‘ناسور’ قرار دیا۔ وہیں، کانگریس نے کہا ہے کہ اگر آئین کے کسی بھی لفظ کو چھونے کی کوشش کی گئی تو پارٹی آخری سانس تک اس کی مخالفت کرے گی۔
پچیس جون کو ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر ‘سمودھان ہتیا دِیوَس’ مناتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 1975 میں جمہوریت کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ تاہم، مودی حکومت کے گزشتہ گیارہ سال کے بارے میں بھی یہی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اس غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے حوالے سےسینئر صحافی ونود شرما اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ میناکشی تیواری کا تبادلہ خیال۔
ایمرجنسی پر ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے نے آئین کے دیباچے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ آر ایس ایس نے امبیڈکر کے آئین کو کبھی قبول نہیں کیا اور ان کا مطالبہ اسے تباہ کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔
کانگریس نے مودی حکومت پر یو اے پی اے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اختلاف رائے کو دبانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے طلبہ، صحافیوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پرتشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس نے ہی اس قانون کی بنیاد رکھی تھی اور اس میں سخت دفعات شامل کیےتھے۔
آپریشن سیندورکے بعد بیرون ملک بھیجے گئے کل جماعتی وفد میں شامل کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے کہا تھا کہ پہلی بار ہندوستان نے ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پار کرکے کارروائی کی۔ جب کانگریس نے اس پر تنقید کی تو مرکزی وزیر کرن رجیجو تھرور کا دفاع کرتے ہوئے نظر آئے۔
بی جے پی ایم پی رام چندر جانگڑا نے کہا کہ پہلگام میں مارے گئے سیاحوں کو دہشت گردوں سے لڑنا چاہیے تھا اور اس حملے میں جن خواتین نے اپنے شوہروں کو کھو دیا ان میں بہادری کا جذبہ نہیں تھا۔ کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی قیادت کی خاموشی کو ان تبصروں کے لیے ‘منظوری’ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مرکزی حکومت نے ہندوپاک کشیدگی سے متعلق مسئلے پر 30 سے زائد ممالک میں سات وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے رہنما شامل ہیں، جن کے بارے میں حزب اختلاف کے ارکان پارلیامنٹ کا کہنا ہے کہ وہ ملک سے باہر مختلف اندرونی اختلافات کے باوجود متحد ہیں۔
گجرات میں ای ڈی نے ریاست کے ایک مؤقر اخبار گجرات سماچار کے مالک کو مالی دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ گجرات کانگریس کے صدر شکتی سنگھ گوہل نے کہا ہے کہ گرفتاری کی اصل وجہ وزیر اعظم اور حکومت کے خلاف اخبار کا تنقیدی موقف ہے۔
پہلگام میں دہشت گردانہ تشدد کے اشتعال کے درمیان ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیا گیا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پانچ سال تک کشمیر کو اپنے قبضے میں رکھنے کے بعد بھی بی جے پی حکومت سیاحوں کی حفاظت کیوں نہیں کر سکی؟ اس سوال سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومت نے اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو موضوع دیتے ہوئے ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کر دیا ہے۔
بہار انتخابات سے پہلے مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ 2024 کی انتخابی مہم میں بی جے پی کے اس موقف کے بالکل برعکس ہے، جب اس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ایسا قدم قرار دیا تھا جس سے سماج تقسیم ہو گا۔ تاہم، حکومت نے مردم شماری یا متعلقہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے مدنظرمنظور کی گئی ایک قرارداد میں پاکستان کو ‘جان بوجھ کر ہندوؤں کو نشانہ بناتے ہوئےمنصوبہ بند دہشت گردانہ کارروائی’ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ پارٹی نے بی جے پی پراس سانحہ کے بہانے پولرائزیشن اور تفرقہ کو بڑھاوا دینے کا الزام بھی لگایا۔
ایک تحقیق کے مطابق، اگست 2019 تک ترکیہ میں 52000 مضبوط وقف، 5268 نئے وقف، 256 مُلحق وقف، اور 167 اقلیتی وقف رجسٹرڈ تھے۔یہودیوں اور عیسائیوں کے بھی اس ملک میں اپنے وقف ہیں، جن کا وہ اپنی مرضی سے دیکھ بھال کرتے ہیں۔
بی جے پی نے کانگریس پرنیشنل ہیرالڈ اخبار کو دی گئی پبلک پراپرٹی کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس پر کانگریس نے سوال کیا کہ کیا آر ایس ایس کے ترجمان پانچ جنیہ اور آرگنائزرمفت میں کام کرتے ہیں۔
ایسی حکومت، جس کے پاس ایک بھی مسلم رکن پارلیامنٹ نہیں، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے راگ الاپتی ہے، جبکہ اس کا سیاسی ڈھانچہ نفرت انگیز تقاریر، حاشیے پر ڈالنے والی پالیسیوں اورمسلمانوں کو قانونی جال میں جکڑنے کی مہم چلا رہا ہے۔
وقف ترمیمی بل کو پارلیامنٹ کی منظوری مل گئی ہے، لیکن اپوزیشن جماعتوں اور مسلم کمیونٹی کے نمائندوں کے سوال اب بھی باقی ہیں۔ اس بل پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس اور سینئر صحافی عمر راشد کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی بل 2025 کو بحث کے بعد منظور کر لیا، اپوزیشن نے اسے مسلم مخالف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے شفافیت میں اضافہ کرنے والا بتایا۔ ڈی ایم کے نے بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں وقف بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل وقف بورڈ کو مضبوط بنانے کے ساتھ خواتین، بچوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ارادےسے بنایا گیا ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے تھے۔
وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی، جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
این ڈی اے حکومت میں اتحادی چندربابو نائیڈو نے وقف (ترمیمی) بل 2024 کو پیش کرنے کے اقدام کی وسیع تنقید کے درمیان وجئے واڑہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے منعقد افطار میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی پی حکومت نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کیا ہے اورآگے بھی کرتی رہے گی۔
کرناٹک حکومت کی جانب سے سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن دینے والے بل پر پارلیامنٹ میں ہنگامہ ہوا۔ بی جے پی نے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار پر مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کے لیے آئین کو تبدیل کرنے کا الزام لگایا، وہیں کانگریس نے کہا کہ وہ جھوٹے بیان سے ایوان کو گمراہ کر رہے ہیں۔