انقرہ کے بیش تپہ صدارتی محل میں منعقدہ یہ ناٹو سربراہی اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی معمول کی سالانہ بیٹھک یا رسمی مصافحوں کا مروجہ میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر القطبی دنیا کا ایک واضح اور مجسم عکاس تھا جہاں اب طاقت، اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجی کے روایتی مراکز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
’جموں و کشمیر: آگے کا راستہ‘کے موضوع پر منعقد ایک ویبینار میں شرکاء کے درمیان ترجیحات اور حکمتِ عملی پر اختلافات تھے، لیکن اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ تصادم کے بجائے صرف اور صرف مکالمہ ہی کشمیر اور مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کے محفوظ مستقبل کا واحد حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔
اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔
محمد بن سلمان نے یہ بھانپ لیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے ’اصول‘ نہیں بلکہ ’نتائج‘ اہم ہیں۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنا دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس مسلکی جنگ میں ایک ’ہٹ مین‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کی جڑیں سنی-شیعہ عصبیت میں پیوست ہیں۔ سلمان کی لابنگ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ’اخلاقیات‘ کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ جب ایک طاقتور اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملے کی وکالت کرے، تو ’او آئی سی‘ اور ’اسلامی بلاک‘ جیسے نعرے محض سیاسی فریب نظر آتے ہیں۔
اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔
نریندر مودی کا یوکرین دورہ اس لیے بھی تاریخی ہے کہ یہ تقریباً 30 سالوں میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے۔
ہندوستان کی سفارت کاری دو کشتیوں پر سوار ہے۔ ایک طرف اسرائیل سے دوستی، تو دوسری طرف ترقی پذیر ممالک یعنی گلوبل ساؤتھ کی لیڈرشپ کا دعویٰ۔
پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اس مہم جو مجلس ثلاثہ نے مودی حکومت کو ایک ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے پاس آپشن انتہائی محدود ہیں۔اس صورتحال میں بات چیت کی بحالی تقریباً ناممکن نظر آرہی ہے کیونکہ جہاں نئی دہلی کے لیے سخت گیر موقف سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں وہاں پاکستان کے لیے کشمیرکے حوالے سے اختیارکردہ موقف سے پیچھے ہٹنا سیاسی اور سفارتی خودکشی سے تعبیر ہوگا۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیشن نے ہندوستانی مصنوعات اور ہندوستانی فن کاروں والے اشتہارات پر پابندی لگانے کے ساتھ ہندوستانی فلموں کی فروخت پر روک لگادی ہے۔ کئی دکانوں میں چھاپے مار کر ہندوستانی فلموں کی سی ڈی ضبط کی گئی ہے۔
جئے شنکر کو خارجہ سکریٹری بنائے جانے کی کانگریسی لیڈران نے اس لئے مخالفت کی تھی کہ ان کے مطابق ایک امریکہ نواز آفیسر کی تعیناتی سے ہندوستان کی غیر جانبدارانہ شبیہ متاثر ہوگی۔ وکی لیکس فائلز نے جئے شنکر کی امریکہ کے ساتھ قربت کو طشت از بام کردیا تھا۔ بتایا گیا کہ جئےشنکر کی تعیناتی سے ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ، ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر غور کرے اور ہندوستان کو پھٹکار لگائے۔
چاہے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات ہوں یا سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کےمعاملات۔ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
انگریزی ترجمہ کے مقابلے اصل ہندی میں لکھے گئے جملے کہیں زیادہ کھلکر بھارتیہ جنتا پارٹی کی تعریف و توصیف اور حمد و ثنا کرتے نظر آتے ہیں۔ ‘بھارتیہ جنتا پارٹی ‘نےخود اپنی زبان سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملک کاواحد سیاسی متبادل قرار ددیاہے۔ راشٹریہ سویم […]