یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔
انٹرویو: یہودی عالم ربی ڈیوڈ فیلڈمین کے مطابق، فلسطینیوں کی تکلیف دو برس کی نہیں بلکہ 70 برس پر محیط ہے۔ اسرائیل کا وجود ہی خدا کے خلاف بغاوت کا تسلسل ہے، اور جب تک یہ بغاوت ختم نہیں ہوتی، نہ فلسطین کو سکون ملے گا اور نہ یہودیوں کو۔
نئی دہلی اب اسرائیل کے ساتھ فوجی، اقتصادی اور نظریاتی تعلقات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ یہ مضمون تاریخی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتا ہےکہ ہندوتوا کس طرح ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور گھریلو ردعمل کو نئی شکل دے رہا ہے۔
مؤخر روداد: غزہ ٹریبونل اپنی بنیاد میں ایک شہری عدالت ہے، جس کی بنیاد لندن میں 2024 کے آخر میں ڈالی گئی۔ جب ریاستیں خاموش رہیں، جب عالمی عدالتیں بے بس ہو گئیں، جب سلامتی کونسل کی میز پر بار بار ایک ہی ملک کا ویٹو ظلم کی سیاہی کو تحفظ دیتا رہا، تو انسانوں نے خود فیصلہ کیا کہ ضمیر کی عدالت قائم کی جائے۔
فلسطینی انتظار کررہے ہیں کہ کیا وہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح معمول کی زندگی بسر کرپائیں گے؟ جنگیں ملبہ چھوڑتی ہیں، اور گونج بھی۔جنگ بندیاں نہ ملبہ مٹاتی ہیں نہ گونج۔ ماہرین کہتے ہیں یہ امن نہیں، بلکہ ایک وقفہ ہے۔ مگر غزہ کے لیے وقفہ بھی زندگی ہے۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ پر جاری قتل عام نے جدید تاریخ میں انسانی تباہی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہزاروں بچوں کی شہادت، براہِ راست نشر ہونے والے قتل عام، دنیا بھر میں سب سے زیادہ معذور بچوں کی تعداد اور اتنے صحافیوں کی ہلاکت کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم سمیت تمام جنگوں کا مجموعہ بھی اس کے برابر نہیں آتا۔
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کرنے کو آئین کی توہین قرار دیا اور آر ایس ایس کا موازنہ اسرائیل کے صیہونیوں سے کیا۔ سنگھ کی تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں نے اسے تفرقہ انگیز، رجعت پسند اور تحریک آزادی کی مخالفت کرنے والی تنظیم قرار دیا ہے۔
رفح کراسنگ سے ایک رپورٹ: غزہ اب صرف جنگ کا نہیں بلکہ بھوک کو ہتھیار بنانے کا معاملہ ہے۔ رفح کے گیٹ پر کھڑی خوراک انسانیت کے مردہ ضمیر پر نوحہ پڑھ رہی ہے۔ دنیا بھر کی طاقتیں، اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور عالمی عدالتوں کے فیصلے اس بھوک کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
آج کا غزہ صرف بموں اور ناکہ بندیوں کی کہانی نہیں۔ یہ بھوک کی کہانی ہے۔ ایسی قحط سالی جو قحط یا آفت سے نہیں، بلکہ منصوبہ بند جبر سے پیدا کی گئی ہے۔ غزہ کے عوام کے پیٹ ہی خالی نہیں بلکہ دنیا کی روح بھی خالی ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کو پیش کی گئی ایک نئی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ اور ویسٹ بینک میں اسرائیل کے قبضے اور فوجی کارروائیوں کو آسان بنانے یا فائدہ پہنچانے میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ایران اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ نہ صرف مسلم دنیا کی قیادت کا رول نبھائے، بلکہ استعماریت کے خلاف تیسری دنیا کے لیے بھی ایک استعارہ بن جائے ۔
اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔
مسلم دنیا میں یہ سوچ پنپ رہی ہے کہ طاقت اب صرف سیاست اور احتجاج میں نہیں، بلکہ تعلیم، ابلاغ اور ادارہ جاتی صلاحیت میں بھی پنہاں ہے۔
دنیا جب اس بحران کو بڑھتے ہوئےدیکھ رہی ہے، تو بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک نئے عالمی تنازعہ کے آغاز کا مشاہدہ کر رہے ہیں؟ ایران، جو پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی تہذیب والا ملک ہے، اس طرح کی جارحیت کے سامنے خاموش رہنے والا نظر نہیں آتا۔
ایران کے امریکی ایئربیس پر حملے کے چند گھنٹے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اور اسرائیل جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔ ایران نے اس کی تصدیق کی ہے، لیکن اسرائیل کی خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔
اسرائیل نے ایران پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ یہ اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ ایک ملک جس کے پاس ایٹم بم ہے، ایک پڑوسی ملک پر یہ کہہ کر حملہ کرتا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کے قریب ہے۔
اگرچہ اسرائیل نے سخت رازداری قائم رکھی ہے، تاہم جوہری ماہرین کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اسرائیل ایک جوہری طاقت ہے۔ مگر شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں، حکمت عملیاں اور خطرے کی حدود اب بھی اندھیرے میں چھپی ہیں۔یہ ابہام ایک طرف دشمنوں کو باز رکھنے کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف کھلے اعتراف سے بچنے کا طریقہ ہے۔
سفارتی احسان فراموشی کی اس سے بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے، جب ایران نے نازک وقت میں ہندوستان کو عالمی رسوائی سے بچایا اور بدلے میں نئی دہلی نے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر مغربی طاقتوں اور اسرائیل کا دامن پکڑا۔
اسرائیل نے یہ کیسے معلوم کیا کہ اعلیٰ ایرانی حکام کے گھر کہاں ہیں اور وہ کہاں سو رہے تھے؟ اس کا سہرا مخبروں کے اس وسیع نیٹ ورک کو جاتا ہے، جو اسرائیل نے ایران کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر بنا رکھا ہے۔
کانفرنس کے دوران سب سے زیادہ جذباتی لمحہ ان صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا تھا جو غزہ پر اسرائیلی بمباری کو کور کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں 220 سے زائد میڈیا کے پیشہ ور افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگ بندی کا برقرار رہنا غیر یقینی ہے، کیونکہ عدم اعتماد اور غیر حل شدہ مسائل کسی بھی وقت کشیدگی کو دوبارہ ہوا دے سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے نصراللہ کی موت کی خبر ایک ایسے وقت میں بڑا مورال بوسٹر ہے جب ان کی قیادت پر سوالات کیے جا رہے تھے۔ اس نے اسرائیل میں فتح کا احساس دلایا ہے جو نیتن ہاہو کو ااقتدار میں برقرار رہنے کا موقع فراہم کرے گا۔
خفیہ ایجنسیوں نے پرائیویسی کے مجوزہ قانون سے ’مکمل استثنیٰ‘ طلب کیا تھا، جسے مودی حکومت نے تسلیم کر لیا اور شہریوں کو غیر قانونی سرولانس سے محفوظ رکھنے کے لیے قانون لانے کے اپنے ایک دہائی پرانے وعدے سے مکر گئی۔
اداکار نصیر الدین شاہ، رتنا پاٹھک شاہ، ڈائریکٹر آنند پٹوردھن اور دیگر نے ایک دستخطی مہم چلا کراین ایف ڈی سی سے اپیل کی تھی کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کی جا رہی نسل کشی کے پیش نظر فلم فیسٹیول کو رد کیا جائے۔
جھارکھنڈ کے آزاد صحافی روپیش کمار سنگھ کو 17 جولائی 2022 کو ماؤ نوازوں سے مبینہ تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دو سالوں میں انہوں نے اب تک چار جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ پڑھیے جدوجہد کی یہ کہانی …
سمردھ بھارت فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر پشپ راج دیش پانڈے اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے بتایا کہ انہیں اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی ایپل کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ ان کے فون کو پیگاسس جیسے کسی اسپائی ویئر کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی شہریوں کے اعلیٰ یورپین معیار زندگی کی ایک قیمت ہے۔ یہ قیمت کون ادا کرتا ہے؟ دراصل مالدار یورپی شہروں کی طرز پر عوامی خدمات بہم پہنچانے اور اعلیٰ معیار زندگی کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ یہ وسائل امریکی ٹیکس دہندگان کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ امریکی اداروں اور شہریوں میں اب اس پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ وہ کب تک اور کیوں اسرائیل کی ناز برداری کرتے رہیں گے؟
ویڈیو: میزائل اسرائیل پر فائر کیا گیا اور موت ایک ہندوستانی کی ہوئی۔ جنگ یوکرین اور روس کے درمیان ہے اور میدان جنگ میں مجبور ہو کر پہنچے دو ہندوستانی بھی اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ یہ لوگ جنگ زدہ علاقے میں کیسے پہنچے؟ کیا مودی حکومت کے دور میں معاشی بحران کے شکار ہندوستانی اتنے مجبور ہو چکے ہیں کہ انہیں روزی روٹی کے لیے جنگ زدہ علاقوں میں رہنے سے بھی گریز نہیں ہے؟
غزہ کے گنجان آباد شہری علاقوں میں اسرائیلی دفاعی افواج کی طرف سے حملوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہرمیس 900 ڈرون کی فراہمی میں ایک ہندوستانی گروپ کا کردار مودی حکومت کے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے سرکاری موقف کے برعکس نظر آتا ہے۔
جنگ سے متاثرہ ملک اسرائیل میں پرکشش تنخواہ پر کنسٹرکشن انڈسٹری سے متعلق ملازمتوں کے لیے 10000 ہندوستانی کارکنوں کو بھیجنے کے لیے لکھنؤ میں ہوئے بھرتی کے عمل میں شامل لوگوں نے بتایا کہ وہ اسرائیل جانا چاہتے ہیں کیونکہ ہندوستان میں انہیں روزگار نہیں مل رہا ہے۔
ویڈیو: غزہ پر اسرائیل کے حملے کے درمیان جنوبی افریقہ نے اس پر نسل کشی کا الزام لگاتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا، جس نے اپنے فیصلے میں اسرائیل سے جینوسائیڈ کنونشن پر عمل کرنے کو کہا ہے۔ تاہم، اس نے جنگ بندی کی ہدایات نہیں دیں۔ فیصلے کی پیچیدگیوں پر دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ بات چیت۔
خصوصی انٹرویو: یہودی عالم ربی یسروئیل ڈووڈ ویس نے کہا کہ، میرا دل غزہ کے لیے خون کے آنسو رو رہا ہے۔
گزشتہ دسمبر میں اتر پردیش اور ہریانہ کی سرکارنے اسرائیل میں ملازمت کے لیے تعمیراتی کارکنوں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔ حکومت کا منصوبہ تنازعات سے متاثرہ ملک میں کم از کم 10000 مزدوروں کو بھیجنے کا ہے۔ ٹریڈ یونینوں کی دلیل ہے کہ ہندوستانی حکومت بیرون ملک تنازعات والے علاقوں میں کام کرنے جانے والے ہندوستانی مزدوروں کے لیے طے شدہ عمومی حفاظتی معیارات کو نظر انداز کر رہی ہے۔
سماجی کارکن سندیپ پانڈے کو سال 2002 میں باوقار میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہریوں کے خلاف موجودہ حملوں میں اسرائیل کی کھل کر حمایت کرنے میں امریکہ کے رول کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے اپنے پاس یہ ایوارڈ رکھنا ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔
فلسطین میں جاری تنازع کو پچاس سے زیادہ دن ہو چکے ہیں، اور اب تک 12000 سے زائد فلسطینی عوام شہید ہوچکے ہیں،لیکن ابھی تک چند ممالک نے ہی فلسطینیوں کی حالت زار پر لب کشائی کی ہے اور ان میں سے بھی صرف ایک ملک یعنی جنوبی افریقہ نے واضح طور پر اسرائیل کے خلاف سفارتی اقدامات کیے ہیں، اور اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاتیہ: ویوین سلور 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد غائب تھی، اور گمان تھا کہ شاید حماس کے عسکری اس کو اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں اور غازہ میں فلسطینوں میں ان کی مقبولیت اور گڈ ول کی وجہ سے وہ شاید محفوظ ہوں گی۔ ان کا موازنہ ہندوستان میں امن مساعی کے کسی داعی سے کیا جائے، تو وہ آنجہانی نرملا دیش پانڈے تھی۔ وہ ان ہی کی طرح معتدل مزاج کی مالک تھی اور انتہائی اشتعال انگیز لمحات میں بھی اپنے نرم لہجے کو برقرار رکھتی تھی اور شاید ہی ان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوتی تھی۔
ویڈیو: اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کیسے وجود میں آئے، دونوں ممالک کی 2000 سالہ تاریخ کیا ہے، یہودیوں کو پناہ دینے والے فلسطین کو یہودی قوم اسرائیل نے ہی کیسے تباہ کر دیا، بتا رہے ہیں دی وائر کے اجے کمار۔
مصر نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور غزہ میں جاری انسانی بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں قاہرہ امن سربراہی اجلاس کی میزبانی کی، لیکن اس کا نتیجہ جیسا کہ امید کی جارہی تھی کچھ زیادہ خوش آئند نہیں رہا اور نہ ہی اس میں کوئی حکمت عملی وضع کی گئی۔
اسرائیلی سفیر ناؤر گیلون نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہندوستان ہماری بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ حماس کو ہندوستان میں دہشت گرد تنظیم قرار دے۔ انہوں نے حماس کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں اسرائیل کی حمایت کرنے پر ہندوستان کا شکریہ ادا کیا۔
ہندوستان کی سفارت کاری دو کشتیوں پر سوار ہے۔ ایک طرف اسرائیل سے دوستی، تو دوسری طرف ترقی پذیر ممالک یعنی گلوبل ساؤتھ کی لیڈرشپ کا دعویٰ۔