Karnataka

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا (تصویر بہ شکریہ: Twitter/@CMofKarnataka)

کرناٹک: سی ایم سدارمیا نے حجاب پر عائد پابندی ہٹائی، بی جے پی نے کہا — وزیر اعلیٰ مذہب کا زہر بو رہے ہیں

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ریاست میں 23 دسمبر سے حجاب پر پابندی کے فیصلے کو واپس لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لباس اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں اور سماج کو تقسیم کرنے کا کام کر رہی ہے۔ حجاب پر پابندی بسواراج بومئی کی قیادت والی پچھلی بی جے پی حکومت نے عائد کی تھی۔

کرناٹک کے ہائر ایجوکیشن کے وزیر ایم سی سدھاکر۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

کرناٹک: وزیر نے کہا – حجاب پہن کر بھرتی کے امتحانات میں شامل ہو سکتے ہیں امیدوار

کرناٹک میں ہائر ایجوکیشن کے وزیر ایم سی سدھاکر نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کے ساتھ میٹنگ کے بعد کہا کہ حجاب پہننے والے امیدواروں کو کرناٹک ایگزامینیشن اتھارٹی (کے ای اے) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے بھرتی امتحانات میں شرکت کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لباس پر کسی قسم کی پابندی لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

منگلورو، کرناٹک میں واقع منگلا دیوی مندر۔ (تصویر بہ شکریہ: وکی پیڈیا)

کرناٹک: وی ایچ پی لیڈر نے مسلم دکانداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی، معاملہ درج

کرناٹک کے منگلورو میں منگلا دیوی مندر میں مسلم دکانداروں کا بائیکاٹ کرنے اور ہندوؤں کی دکان پر بھگوا جھنڈے لگانے کے لیے پولیس نے جمعرات کووشو ہندو پریشد کے ریاستی جوائنٹ سکریٹری کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

(تصویر بہ شکریہ: Flickr/dontpanic CC BY NC ND 2.0)

کرناٹک کے بیدر میں مسجد پر بھگوا جھنڈا لہرایا، معاملہ درج

یہ واقعہ 21 ستمبر کی رات دیر گئے بیدر ضلع کے بسواکلیان تعلقہ کے دھنور میں پیش آیا اور جمعہ کی صبح یہ منظر عام پر آیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ نامعلوم لوگوں نے مسجد کے اوپر بھگوا جھنڈا لہرا کر امن و امان کو بگاڑنےکی کوشش کی تھی۔ پولیس نے جھنڈا ہٹا دیا اور ایف آئی آر درج کر کے ملزمین کی تلاش کر رہی ہے۔

maxresdefault (1)

کرناٹک حکومت صرف مسلمانوں کی خیر خواہ یا سدھیر چودھری نے بولا جھوٹ؟

ویڈیو: گزشتہ دنوں نیوز چینل آج تک کے نیوز اینکر سدھیر چودھری کے خلاف کرناٹک حکومت نے بدنیتی کے ساتھ غلط جانکاری دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ سدھیر چودھری نے چینل کے اپنے شو ‘بلیک اینڈ وہائٹ’ میں دعویٰ کیا تھا کہ کرناٹک حکومت کی سواولمبی سارتھی اسکیم کا فائدہ صرف مسلمانوں کو ملے گا۔ اس بارے میں مزیدجانکاری دے رہی ہیں دی ساؤتھ فرسٹ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انوشا روی سود۔

(علامتی تصویر،بہ شکریہ: پکسابے)

کرناٹک: سرکاری اسکول کی معلمہ نے مسلمان طالبعلموں سے ’پاکستان جانے‘ کو کہا

کرناٹک کے شیوموگا ضلع کا معاملہ۔محکمہ تعلیم نے ٹیچر کا تبادلہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ 31 اگست کو ٹیچرمنجولا دیوی جب 5 ویں کلاس میں پڑھا رہی تھیں، تب دو مسلم طالبعلم آپس میں جھگڑنے لگے۔ ٹیچر نے دونوں کو ڈانٹا اور مبینہ طور پر ان سےکہا کہ یہ ان کا ملک نہیں ہے

arfa-ji-thumb

کرناٹک انتخابی نتائج: کیا مودی سرکار ہار کی بوکھلاہٹ میں فیصلے لے رہی ہے؟

ویڈیو: کرناٹک انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے فوراً بعد کرن رجیجو کی وزارت کی تبدیلی، دہلی حکومت کے اہلکاروں کے تبادلے کے حقوق پر آرڈیننس اور پھر 2000 روپے کے نوٹ کو واپس لینا- ان فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید پارٹی اب سیاست میں بہت کچھ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

Ram-Chandra-Guha-Karnataka-Elections

’کرناٹک نے امت شاہ کاگھمنڈ توڑ دیا‘، مودی سرکار کی الٹی گنتی شروع؟

ویڈیو: کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کے بعد کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو حکومت مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟ کیا ہندوتوا کی سیاست ہارتی ہوئی نظر آ رہی ہے؟ بعض ایسے ہی سوالات پر مؤرخ اور سیاسی مبصر رام چندر گہا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

Karnataka-Congress

کرناٹک کی جیت سے ملا حوصلہ؛ 2024 میں مودی کو شکست دینے کے لیے تیار اپوزیشن

ویڈیو: کرناٹک انتخابات میں بی جے پی کے خلاف کانگریس کو ملی جیت پر سینئر صحافی صبا نقوی، سیاسی تجزیہ کار منیشا پریم اور لندن یونیورسٹی کے پروفیسر سُبیرسنہا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

انتخابی ریلیوں میں نریندر مودی اور امت شاہ، جیت کے بعد کانگریس لیڈر۔ (مرکز میں) (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/بی جے پی-کانگریس کرناٹک)

کرناٹک میں کانگریس کی جیت اور بی جے پی کی شکست کے درمیان یہ دس باتیں یاد رکھنی چاہیے

کرناٹک میں کانگریس کی جیت نے 2015 کے دلی اور 2020 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی یاد تازہ کر دی ہے، جہاں کسی ایک پارٹی نے مودی-شاہ کے طنطنے اور رتبے کوانتخابی میدان میں شکست دی تھی۔ اس کے باوجود، ایسا نہیں ہے کہ اس جیت کے ساتھ ہندوستان کی جمہوریت میں اچانک سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہو۔

(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/بی جے پی کرناٹک)

کرناٹک انتخابات: ریزرویشن میں اضافے کے باوجود بی جے پی نے ایس سی/ ایس ٹی کی 51 میں سے 39 سیٹیں گنوائیں

اسمبلی انتخابات سے تین ماہ قبل کرناٹک کی پچھلی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے شیڈولڈ کاسٹس کے لیے ریزرویشن کو 15 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد اورشیڈولڈ ٹرائبس کے لیے3 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایس سی میں انٹرنل ریزرویشن کا بھی اعلان کیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی انتخابی مہم کے دوران۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/نریندر مودی)

کرناٹک انتخابات: بی جے پی کے ہندوتوا کی گدگداہٹ اب ہنسانے کے بجائے رلانے لگی ہے

وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح کرناٹک اسمبلی انتخابات کو اپنی شخصیت سے جوڑ کر پوری مہم میں اپنے عہدے کے وقارتک سےسمجھوتہ کیا اوررائے دہندگان نے جس طرح ان کی باتوں کو نظر انداز کیا، اس سے یہ پیغام واضح ہے کہ بی جے پی کے ‘مودی نام کیولم’ والے سنہرے دن بیت گئے ہیں۔

Karnataka-Elections-ABB

کانگریس لیڈر– کارکن نے کہا – کرناٹک میں لڑائی بدعنوانی کے خلاف تھی، جو ہم نے جیت لی

ویڈیو: کرناٹک اسمبلی میں کانگریس کی جیت کے بعد دہلی واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں جشن کا ماحول نظر آیا۔ دی وائر کی ٹیم نے یہاں موجود پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے اس سلسلے میں بات چیت کی۔

راہل گاندھی

کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوا ہے، محبت کی دکانیں کھلی ہیں: راہل گاندھی

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم نے نفرت سےاور غلط لفظوں سے یہ لڑائی نہیں لڑی۔ ہم نے محبت سے، پیار سے، دل کھول کر یہ لڑائی لڑی اور کرناٹک کے لوگوں نے ہمیں دکھایا کہ اس ملک کو محبت اچھی لگتی ہے۔

(تصویر بہ شکریہ: Facebook/@INCKarnataka)

کرناٹک میں کانگریس کی جیت لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کی بنیاد رکھ سکتی ہے

بی جے پی کی اینٹی کرپشن والی امیج دھیرے دھیرے ٹوٹ رہی ہے اور 2024 تک حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ دوسر لفظوں میں کہیں تو، اگر کانگریس کرناٹک میں اچھی جیت درج کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو 2024 کے انتخابی موسم کی شروعات سے پہلےکرناٹک قومی اپوزیشن کے لیےامکانات کی راہیں کھول سکتا ہے۔

راہل گاندھی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

راہل گاندھی نے کہا – بی جے پی کی نفرت اور تشدد کی سیاست سے جل رہا ہے منی پور

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کرناٹک میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ بی جے پی کی تشدد کی سیاست کا نتیجہ آج منی پور میں نظر آرہا ہے۔ منی پور جل رہا ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کرناٹک میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کرناٹک میں ایک انتخابی ریلی کے دوران۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/بی جے پی کرناٹک)

کرناٹک انتخابی مہم میں مصروف مودی منی پور تشدد اور جموں و کشمیر میں جوانوں کی موت پر خاموش ہیں

منی پور میں پچھلے کچھ دنوں سے تشدد جاری ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے میں پانچ جوان شہید ہوگئے ہیں، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کرناٹک میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ان دونوں واقعات پر اب تک نہ تو کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کےبارے میں کسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Ajoy-Blank

کرناٹک کے اولڈ میسور حلقے کی 61 سیٹیں طے کریں گی کانگریس اور بی جے پی کا مستقبل

ویڈیو: کرناٹک کے اولڈ میسور علاقے میں کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہیں، جے ڈی (ایس) پھر سے ہینگ مینڈیٹ کی صورت میں ‘کنگ میکر’ کا رول ادا کرنے کے لیے اس خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہے گی۔

Karnataka-Elections

کیا کرناٹک میں بی جے پی کے گڑھ کتور میں کانگریس سیندھ لگا پائے گی

ویڈیو: کتور کرناٹک حلقے کو پہلے ممبئی-کرناٹک حلقے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ حلقہ کرناٹک اسمبلی میں 50 ایم ایل اےبھیجتا ہے۔ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں حلقے کی کل 50 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 30 اور کانگریس نے 17 پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ جے ڈی (ایس) کو صرف 2 سیٹوں پر ہی کامیابی ملی تھی۔

کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لیے منشور جاری کرتے ہوئے کانگریس لیڈر۔ (تصویر بہ شکریہ: Facebook/@INCKarnataka)

کرناٹک انتخابات: اگر کانگریس نمایاں فرق سے نہیں جیتی تو اس کے لیے بی جے پی کے منی پاور کے سامنے کھڑا ہونا آسان نہیں ہوگا

اگرچہ کانگریس زیادہ تر پری پول سروے میں آگے ہے، لیکن اگر ہم ماضی کی انتخابی کارکردگی کا جائزہ لیں تو وہ ووٹ شیئر کے لحاظ سے پیچھے ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس لیڈروں کو یہ خوف بھی ہے کہ اگر پارٹی بڑے فرق سے نہیں جیتی تو اس کے لیے بی جے پی کے منی پاور کے سامنے کھڑا ہونا آسان نہیں ہوگا۔

maxresdefault-3-1

کرناٹک الیکشن سروے: بی جے پی کو کیوں جتانا نہیں چاہتی عوام؟

ویڈیو: کرناٹک اسمبلی انتخابات سے پہلے کچھ سروے میں بی جے پی کو نقصان ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ سیاسی مبصرین اور صحافیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی جے پی کو حکومت مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی مبصر اور سماجی کارکن یوگیندر یادو سے بات چیت۔

کرناٹک کے بی جے پی ایم ایل اے اور وزیر منی رتن۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

کرناٹک: ہیٹ اسپیچ معاملے میں بی جے پی ایم ایل اے اور وزیر منی رتن کے خلاف ایف آئی آر درج

کرناٹک کے بی جے پی ایم ایل اے اور باغبانی کے وزیر منی رتن نے انتخابی مہم کے ایک پروگرام میں عیسائی برادری پر مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگاتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ الیکشن افسران کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملزم پنیت کیریہلی (بائیں) بی جے پی لیڈر کپل مشرا کے ساتھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

کرناٹک: مسلمان گائے تاجر کے قتل کا ملزم فرقہ وارانہ تنازعات کا جانا پہچانا نام ہے

گزشتہ دنوں رام نگر ضلع میں ‘گئو رکشکوں’ کے ایک گروپ نے ٹرک میں مویشی لے جا رہے تین لوگوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا، جن میں ایک کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے میں ایک ملزم پنیت کیریہلی ہیں، جو ریاست میں مسلم دکانداروں کومندروں کے باہر کاروبار کرنے سے روکنے کی مہم چلا نے والی ایک ہندوتوا تنظیم کے صدر ہیں۔

امت شاہ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک میں 4 فیصدمسلم ریزرویشن ختم کیا گیا، کیونکہ یہ غیر آئینی تھا: امت شاہ

بی جے پی مقتدرہ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات سے بہ مشکل ایک ماہ قبل 24 مارچ کو حکومت نے ایک فیصلے میں او بی سی کوٹہ کے تحت مسلمانوں کو دیے گئے 4 فیصد ریزرویشن کو ختم کردیا ہے اور اسے وہاں کی بااثرکمیونٹی ووکلیگا اور لنگایت کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کردیا ہے۔

چیتن کمار۔ (فوٹو بہ شکریہ: Facebook/@OfficialChetanAhimsaActor)

کرناٹک: ٹوئٹر پر ’ہندوتوا جھوٹ پر مبنی ہے‘ لکھنے پر کنڑ ایکٹر گرفتار

کنڑ ایکٹر چیتن کمار نے سوموار کو ایک ٹوئٹ میں’ہندوتوا جھوٹ پر بنا ہے’ لکھتے ہوئے کہا تھاکہ اسے سچائی سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ اس ٹوئٹ کے خلاف بجرنگ دل کے ایک رکن کی شکایت پر چیتن کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

کرناٹک کے ہاویری ضلع میں ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے نکالی گئی بائیک ریلی کا ویڈیو گریب۔

کرناٹک: ہاویری ضلع کی مسجد پر پتھراؤ کے بعد 15 لوگو ں کو حراست میں لیا گیا

منگل کوکچھ ہندو تنظیموں نے کرناٹک کے ہاویری ضلع میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف لڑنے والے 19ویں صدی کے فوجی رہنما سنگولی رائینا کے مجسمے کے ساتھ ایک بائیک ریلی نکالی تھی۔ جب یہ ریلی ایک مسلم علاقے سے گزری تو کچھ شرپسندوں نے مسلمانوں کے گھروں اور ایک مسجد پر پتھراؤ کیا۔

نلن کمار کتیل۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

جو لوگ ٹیپو سلطان کے کٹر پیروکار ہیں انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے: کرناٹک بی جے پی صدر

ایک پروگرام کے دوران کرناٹک بی جے پی کے صدر نلن کمار کتیل نے کہا کہ ہم بھگوان رام، بھگوان ہنومان کے بھکت ہیں۔ ہم بھگوان ہنومان کی پرارتھنا اور پوجا کرتے ہیں۔ ہم ٹیپو کی اولاد نہیں ہیں۔ آئیے ٹیپو کی اولادوں کو گھر واپس بھیج دیں۔

کرناٹک بی جے پی کے ریاستی صدر نلن کمار کتیل۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

اسمبلی انتخابات میں سڑک–نالے جیسے چھوٹے مسائل نہیں، ’لو جہاد‘ کو اپنی ترجیحات میں رکھنا چاہیے: کرناٹک بی جے پی صدر

کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر نلن کمار کتیل نے ایک تقریب میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں لوگوں کو سڑکوں، نالوں اور دیگر چھوٹے مسائل پر بات نہیں کرنی چاہیے، ‘لو جہاد’ کو روکنے کے لیے لیے بی جے پی کی ضرورت ہے۔

منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں طالبعلم اور استاد کے درمیان بات چیت کے وائرل ویڈیو کا اسکرین گریب۔

کرناٹک: پروفیسر نے مسلم طالبعلم کو دہشت گرد کے نام سے پکارا، سسپنڈ

کرناٹک کی نجی یونیورسٹی منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کا معاملہ۔ واقعہ سے متعلق مبینہ ویڈیو میں طالبعلم ملزم پروفیسر سے کہتا ہے کہ اس ملک میں مسلمان ہونا اور یہ سب ہر روزجھیلنا مذاق نہیں ہے سر۔ آپ میرے مذہب کا مذاق نہیں اڑا سکتے، وہ بھی توہین آمیز طریقے سے۔

ٹیپو سلطان

کرناٹک: عدالت نے ٹیپو سلطان پر مبنی کتاب پر روک لگائی

کنڑزبان میں ٹیپو سلطان پر مبنی کتاب ‘ٹیپو نجا کنسوگالو’ کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کا مواد مسلم کمیونٹی کے خلاف ہے اور اس کی اشاعت سے بڑے پیمانے پر بدامنی پھیلنے اور فرقہ وارانہ تشدد کا خدشہ ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

کرناٹک: دلت خاتون کے ٹنکی سے پانی پینے کے بعد اس کومبینہ طور پر گائے کے پیشاب سے صاف کیا گیا

کرناٹک کے چامراج نگر کا معاملہ۔ ریاست کے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے وزیر وی سومنا نے ڈپٹی کمشنر کو معاملے کی آگے کی تحقیقات کرنے اور قصورواروں کو پکڑنے کی ہدایت دی ہے۔

میسور- اوٹی روڈ پربنا بس اسٹینڈ۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

کرناٹک: بی جے پی ایم پی نے بس اسٹینڈ کو ’مسجد‘ بتاتے ہوئے بلڈوزر سے گرانے کی دھمکی دی

کرناٹک میں میسور-کوڈاگو لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی ایم پی پرتاپ سمہا نے میسور- اوٹی روڈ پر بنے ایک بس اسٹینڈ کو مسجد سے مشابہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یا تو انتظامیہ اسے تین چار دن کے اندر منہدم کر دے، ورنہ وہ خود جے سی بی لاکر اس کو گرا دیں گے۔

بسواراج بومئی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

کرناٹک: کلاس رومز کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے منصوبے پر تنازعہ، سی ایم نے فیصلے کا دفاع کیا

کرناٹک کے اسکولی تعلیم کے وزیر بی سی ناگیش نے اعلان کیا ہے کہ ‘ویویکا’ اسکیم کے تحت بنائے جانے والے نئے کلاس روم ایک جیسے ہوں گے اور ان کوبھگوا رنگ سے پینٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ بھگوا رنگ کا مشورہ آرکیٹیکٹس نے دیا ہے اور یہ کسی نظریے کی پیروی نہیں ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

کرناٹک: پلوامہ حملے کا جشن منانے کے الزام میں طالبعلم کو یو اے پی اے کے تحت 5 سال کی قید

الزام ہے کہ انجینئرنگ کے 21 سالہ طالبعلم فیض رشید نے دہشت گردانہ حملے کا جشن مناتے ہوئے فوج کا مذاق اڑایا تھا اور مختلف میڈیا اداروں کی پوسٹ پر 23 تبصرے کیے تھے۔ عدالت نے رشید کو آئی پی سی کی دفعہ 153 اے کے تحت بھی قصوروار پایا۔

گزشتہ 12 اکتوبر کو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک دلت کے یہاں  ناشتہ  کرنے کی تصویر شیئر کی گئی تھی۔

ویڈیو میں افسر دلتوں کو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے لیے برانڈیڈ چائے کی ہدایت دیتے نظر آئے

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی اور بی جے پی لیڈر بی ایس یدیورپانے وزیر سیاحت آنند سنگھ، آبی وسائل کے وزیر گووند کرجول اور دیگر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ 12 اکتوبر کو وجئے نگر ضلع کے کملا پورہ میں ایک دلت کے گھر پر ناشتہ کیا تھا۔ الزام ہے کہ حکام نے دلت پریوار سے صرف برانڈیڈ سامان استعمال کرنے کو کہا تھا۔

کرناٹک کے پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

سپریم کورٹ کے فیصلے تک کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی جاری رہے گی: وزیر تعلیم

کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ کے اختلاف رائے کے بعد ریاست کے پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش نے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ ایسے میں ریاست کے تمام اسکولوں اور کالجوں میں کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ اور ضابطے میں کسی بھی مذہبی علامت کی گنجائش نہیں ہوگی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک حجاب معاملہ: سپریم کورٹ کے ججوں کی رائے مختلف، معاملہ سی جے آئی کو بھیجا گیا

سپریم کورٹ کی بنچ میں شامل جسٹس ہیمنت گپتا نے حجاب پر پابندی کے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضیوں کو خارج کر دیا، جبکہ جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا کہ ہائی کورٹ نے غلط راستہ اختیار کیا اور حجاب پہننا بالآخر اپنی پسند کا معاملہ ہے، اس سےکم یا زیادہ کچھ اور نہیں۔