کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے واضح کیا کہ ان کا مقصد آر ایس ایس پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کرنا نہیں، بلکہ اس کے کام کاج میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے سنگھ کے چیف کو خط لکھ کر تنظیم کی قانونی حیثیت، مالی وسائل اور تنظیم سے متعلق دیگر تفصیلات عوام کے سامنے لانے کی اپیل کی تھی۔
کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کو خط لکھ کر کہا کہ ہندوستان اور بیرون ملک 60,000 سے زائد شاکھاؤں اور کروڑوں سویم سیوکوں کا دعویٰ کرنے والی اتنی بڑی تنظیم کو شفافیت، جوابدہی اور آئینی تعمیل کے اعلیٰ ترین معیارات پر کھرا اترنا چاہیے۔
صحافی گوری لنکیش کو 5 ستمبر 2017 کو بنگلورو میں ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں سے وابستہ لوگوں کے خلاف شنوائی چل رہی ہے۔ اس کیس کی شنوائی کرنے والے جسٹس کے ایس بھرت کمار ساتویں جج ہیں۔ اس سے قبل سماعت کرنے والے چھ ججوں کو ہائی کورٹ میں عہدے کی ترقی دے دی گئی ہےاور ایک جج کا تبادلہ ہائی کورٹ کے سینئر انتظامی عہدے پر کر دیا گیا ہے۔
آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے دعویٰ کیا تھا کہ تنظیم کو باقاعدہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ موجودہ قانونی دفعات کے تحت اسے چھوٹ حاصل ہے۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے کہا کہ جس ملک میں ہر ٹھیلہ -پھیری لگانے والے کو بھی رجسٹریشن کرانا پڑتا ہے، وہاں آر ایس ایس جیسی تنظیم قانون سے اوپر کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ دکھائیں کہ انہیں آئین کی دفعات سے کس طرح استثنیٰ حاصل ہے۔
کرناٹک حکومت کے 13 مئی کو جاری نئے فیصلے میں طلبہ کو یونیفارم کے ساتھ ’محدود روایتی اور رسم و رواج سے متعلق علامتیں‘ پہننے کی اجازت دی گئی ہے- جن میں حجاب، جنیئو، رودراکش وغیرہ شامل ہیں۔ فروری 2022 میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے والے تعلیمی اداروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔
گاندھی اسمارک ندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بی جے پی کی کرناٹک اکائی نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئے گاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے دکھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ گاندھی کو پارٹی سیاست کے حساب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔
جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کے احوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارہ سازی، عصری تعلیم، ملکی معیشت میں شمولیت اور سماجی خدمت ہی وہ راستے ہیں جو اکیسویں صدی میں وقار اور برابری کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
کرناٹک کا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ کیا ہندو سماج نفرت میں اس قدر خودکش ہوچکا ہے کہ اپنے بچوں کی قربانی دینے کو تیار ہے اگر اس سے مسلمانوں کو اور ہراساں کرنے کا کوئی بہانہ ملتا ہو ؟
کرناٹک میں شری رام سینا کے ایک رکن نے مبینہ طور پر بیلگاوی ضلع میں سرکاری اسکول کی پانی ٹنکی میں زہر ملانے کی سازش رچی، تاکہ مسلم پرنسپل کا کاتبادلہ کروایا جاسکے۔
سنیچر کو کرناٹک کے بی جے پی لیڈرمنی کانت نریندر راٹھوڑکےفیس بک اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو میں وہ مسلم کمیونٹی کے خاتمے کی اپیل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ‘لو جہاد’ کے ملزموں کو بھی آٹھ دن کے اندر ختم کرنے کی اپیل کرتے نظر آ رہے ہیں۔
کرناٹک میں ایک احتجاج کے دوران بی جے پی لیڈر این روی کمار نے ڈپٹی کمشنر فوزیہ ترنم پر کانگریس کے اشارےپر کام کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ لگتا ہے کہ وہ پاکستان سےآئی ہیں۔ ان پرمسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے اور دیگر الزامات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
بنگلورو کی ایک عدالت نے گوری لنکیش قتل کیس میں حراست میں لیے گئے آخری ملزم شرد بھاؤ صاحب کلسکر کو ضمانت دے دی۔ اس معاملے میں 18 شریک ملزمان میں سے 16 پہلے ہی ضمانت پر باہر ہیں۔ ایک اور ملزم وکاس پاٹل مفرور ہے اور اسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
راج شیکھر کا کام نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے، جس کے دوران انہوں نے دلتوں کے جذبات اور مسائل کی انتھک نمائندگی کی ہے، اپنے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ ذات کی بالادستی کو چیلنج کیا۔ جرنل دلت وائس کو انہوں نے 1981 میں قائم تھا۔ ان کا جرنل ہندوستان کے انسانی حقوق سے محروم سبھی طبقات کے ترجمان کے طور پر کام کرتا تھا۔
کرناٹک میں گزشتہ سال ستمبر میں دو لوگوں نے مقامی مسجد کے اندر’جئے شری رام’ کا نعرہ لگایا تھا۔ اس سے متعلق عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی پی سی کی دفعہ 295 اے کے تحت اسے اس وقت تک جرم نہیں مانا جاسکتا، جب تک کہ اس سے امن و امان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔
گزشتہ ہفتے بنگلورو پولیس نے ایک خصوصی عدالت کی ہدایت پر این جی او جنادھیکارسنگھرش پریشد کی جانب سے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے خلاف الیکٹورل بانڈ کے ذریعے وصولی میں ملوث ہونے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ اب ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ شکایت کنندہ متاثرہ فریق نہیں ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ایک جج نے بنگلورو کے مسلم اکثریتی علاقے کو ‘پاکستان’ کہا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالت کو اس طرح کا تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، جن کوخواتین کی تضحیک یا سماج کے کسی بھی طبقے کے لیے متعصب خیال کیا جا سکتا ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس سریش نے ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے بنگلورو کے ایک مسلم اکثریتی علاقے کو ‘پاکستان’ کہا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل سے رپورٹ طلب کی ہے۔
حراست میں لیے گئے دونوں انجینئر رشتے میں بھائی ہیں۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 41 اے کے تحت لازمی گرفتاری کا نوٹس دیے بغیر انہیں حراست میں لیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے جمعہ کو کہا کہ مبینہ رشوت خوری اور ووٹروں پر بے جا اثر و رسوخ ڈالنے کے الزام میں بی جے پی امیدوار کے سدھاکر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور 4.8 کروڑ روپے کی نقدی بھی ضبط کی گئی۔ سدھاکر چکبلا پورہ سے بی جے پی کے موجودہ امیدوار ہیں، جہاں جمعہ کو ووٹنگ ہورہی ہے۔
لوک سبھا انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 26 اپریل کو آسام، بہار، چھتیس گڑھ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، منی پور، راجستھان، تریپورہ، اتر پردیش، مغربی بنگال اور جموں و کشمیر کی کل 89 سیٹوں پر ووٹنگ ہونی ہے۔ اس مرحلے میں نریندر مودی کابینہ کے تین وزراء، دو سابق وزرائے اعلیٰ، دو سابق وزرائے اعلیٰ کے بیٹوں سمیت کئی بڑے لیڈروں کی عزت داؤ پر ہے۔
جنوبی ہندوستان کو فتح کرنے کے لیے ان دنوں مودی مسلسل ان صوبوں کے دورے کر رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہ صرف شمالی ہندوستان کا لیڈر ہونے کا دھبہ مٹا کر ملک گیر لیڈر کے بطور اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جنوبی ہندوستان کو فتح کیے بغیر وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی وراثت کو تاریخ کے صفحات سے مٹا نہیں سکتے ہیں یا اپنے آپ کو نہرو ثانی کے بطور پیش نہیں کرسکتے ہیں۔
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ریاست میں 23 دسمبر سے حجاب پر پابندی کے فیصلے کو واپس لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لباس اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں اور سماج کو تقسیم کرنے کا کام کر رہی ہے۔ حجاب پر پابندی بسواراج بومئی کی قیادت والی پچھلی بی جے پی حکومت نے عائد کی تھی۔
کرناٹک میں ہائر ایجوکیشن کے وزیر ایم سی سدھاکر نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کے ساتھ میٹنگ کے بعد کہا کہ حجاب پہننے والے امیدواروں کو کرناٹک ایگزامینیشن اتھارٹی (کے ای اے) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے بھرتی امتحانات میں شرکت کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لباس پر کسی قسم کی پابندی لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
کرناٹک کے منگلورو میں منگلا دیوی مندر میں مسلم دکانداروں کا بائیکاٹ کرنے اور ہندوؤں کی دکان پر بھگوا جھنڈے لگانے کے لیے پولیس نے جمعرات کووشو ہندو پریشد کے ریاستی جوائنٹ سکریٹری کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
یہ واقعہ 21 ستمبر کی رات دیر گئے بیدر ضلع کے بسواکلیان تعلقہ کے دھنور میں پیش آیا اور جمعہ کی صبح یہ منظر عام پر آیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ نامعلوم لوگوں نے مسجد کے اوپر بھگوا جھنڈا لہرا کر امن و امان کو بگاڑنےکی کوشش کی تھی۔ پولیس نے جھنڈا ہٹا دیا اور ایف آئی آر درج کر کے ملزمین کی تلاش کر رہی ہے۔
ویڈیو: گزشتہ دنوں نیوز چینل آج تک کے نیوز اینکر سدھیر چودھری کے خلاف کرناٹک حکومت نے بدنیتی کے ساتھ غلط جانکاری دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ سدھیر چودھری نے چینل کے اپنے شو ‘بلیک اینڈ وہائٹ’ میں دعویٰ کیا تھا کہ کرناٹک حکومت کی سواولمبی سارتھی اسکیم کا فائدہ صرف مسلمانوں کو ملے گا۔ اس بارے میں مزیدجانکاری دے رہی ہیں دی ساؤتھ فرسٹ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انوشا روی سود۔
کرناٹک کے شیوموگا ضلع کا معاملہ۔محکمہ تعلیم نے ٹیچر کا تبادلہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ 31 اگست کو ٹیچرمنجولا دیوی جب 5 ویں کلاس میں پڑھا رہی تھیں، تب دو مسلم طالبعلم آپس میں جھگڑنے لگے۔ ٹیچر نے دونوں کو ڈانٹا اور مبینہ طور پر ان سےکہا کہ یہ ان کا ملک نہیں ہے
ویڈیو: کرناٹک انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے فوراً بعد کرن رجیجو کی وزارت کی تبدیلی، دہلی حکومت کے اہلکاروں کے تبادلے کے حقوق پر آرڈیننس اور پھر 2000 روپے کے نوٹ کو واپس لینا- ان فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید پارٹی اب سیاست میں بہت کچھ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔
ویڈیو: کرناٹک میں بی جے پی کے خلاف کانگریس کی جیت کے موضوع پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر لکشمن یادو کے ساتھ یاقوت علی کی بات چیت۔
ویڈیو: کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کے بعد کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو حکومت مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟ کیا ہندوتوا کی سیاست ہارتی ہوئی نظر آ رہی ہے؟ بعض ایسے ہی سوالات پر مؤرخ اور سیاسی مبصر رام چندر گہا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
ویڈیو: کرناٹک انتخابات میں بی جے پی کے خلاف کانگریس کو ملی جیت پر سینئر صحافی صبا نقوی، سیاسی تجزیہ کار منیشا پریم اور لندن یونیورسٹی کے پروفیسر سُبیرسنہا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور کرناٹک کے انچارج رندیپ سرجے والا نے جمعرات کو سدارمیا کو وزیراعلیٰ اور شیوکمار کو نائب وزیراعلیٰ بنائے جانے کے فیصلے کا اعلان کیا۔
کرناٹک میں کانگریس کی جیت نے 2015 کے دلی اور 2020 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی یاد تازہ کر دی ہے، جہاں کسی ایک پارٹی نے مودی-شاہ کے طنطنے اور رتبے کوانتخابی میدان میں شکست دی تھی۔ اس کے باوجود، ایسا نہیں ہے کہ اس جیت کے ساتھ ہندوستان کی جمہوریت میں اچانک سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہو۔
اسمبلی انتخابات سے تین ماہ قبل کرناٹک کی پچھلی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے شیڈولڈ کاسٹس کے لیے ریزرویشن کو 15 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد اورشیڈولڈ ٹرائبس کے لیے3 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایس سی میں انٹرنل ریزرویشن کا بھی اعلان کیا تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح کرناٹک اسمبلی انتخابات کو اپنی شخصیت سے جوڑ کر پوری مہم میں اپنے عہدے کے وقارتک سےسمجھوتہ کیا اوررائے دہندگان نے جس طرح ان کی باتوں کو نظر انداز کیا، اس سے یہ پیغام واضح ہے کہ بی جے پی کے ‘مودی نام کیولم’ والے سنہرے دن بیت گئے ہیں۔
ویڈیو: کرناٹک اسمبلی میں کانگریس کی جیت کے بعد دہلی واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں جشن کا ماحول نظر آیا۔ دی وائر کی ٹیم نے یہاں موجود پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے اس سلسلے میں بات چیت کی۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم نے نفرت سےاور غلط لفظوں سے یہ لڑائی نہیں لڑی۔ ہم نے محبت سے، پیار سے، دل کھول کر یہ لڑائی لڑی اور کرناٹک کے لوگوں نے ہمیں دکھایا کہ اس ملک کو محبت اچھی لگتی ہے۔
کرناٹک اسمبلی کی 224 سیٹوں پر 10 مئی کوپولنگ ہوئی تھی، جس میں73.19 فیصد ووٹنگ درج کی گئی تھی۔مقابلہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان ہے، جبکہ جنتا دل (سیکولر) ہنگ اسمبلی کی امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔
بی جے پی کی اینٹی کرپشن والی امیج دھیرے دھیرے ٹوٹ رہی ہے اور 2024 تک حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ دوسر لفظوں میں کہیں تو، اگر کانگریس کرناٹک میں اچھی جیت درج کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو 2024 کے انتخابی موسم کی شروعات سے پہلےکرناٹک قومی اپوزیشن کے لیےامکانات کی راہیں کھول سکتا ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کرناٹک میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ بی جے پی کی تشدد کی سیاست کا نتیجہ آج منی پور میں نظر آرہا ہے۔ منی پور جل رہا ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کرناٹک میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔