ویڈیو: شہریت ترمیم قانون(سی اے اے)کی مخالفت میں گزشتہ ایک مہینے سے نئی دہلی کے شاہین باغ میں مظاہرہ کر رہے لوگوں نے کشمیری پنڈتوں کے ساتھ بھی مظاہرہ کیا۔ اس مدعے پر قلمکار بدری رینا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے بات کی۔
ویڈیو: دی وائر کے ذریعےدائر آر ٹی آئی کے تحت حاصل کیے گئے دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ وزارت قانون نے تین طلاق بل پر کسی بھی وزارت یا محکمہ سے صلاح مشورہ نہیں کیا تھا۔اس کے لیے وزارت نے دلیل دی تھی کہ تین طلاق کی غیر منصفانہ روایت کو جلد روکنے کی ضرورت ہے اس لیے متعلقہ وزارتوں سے مشورہ نہیں لیا گیا۔
خصوصی رپورٹ : آر ٹی آئی کے تحت حاصل دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ وزارت نے دلیل دی تھی کہ تین طلاق کی غیر منصفانہ روایت کو روکنے کی اشد ضرورت کو دھیان میں رکھتے ہوئے متعلقہ وزارتوں سے مشورہ نہیں لیا گیا۔
ویڈیو: قلمکارشبھا میمن سے ان کی تازہ ترین کتاب اور کارکن فریدہ خان سے مسلم خواتین کی جدوجہد اور مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے موضوع پر یاسمین رشیدی کی بات چیت
سرسید کا ماننا تھا کہ جب مرد لائق ہوجاتے ہیں تب عورتیں بھی لائق ہوجاتی ہیں ۔جب تک مرد لائق نہ ہوں ، عورتیں بھی لائق نہیں ہوسکتیں ۔یہی سبب ہےکہ ہم کچھ عورتوں کی تعلیم کا خیال نہیں کرتے ہیں۔
حال ہی میں پارلیا منٹ کی طرف سے تین طلاق بل کو منظوری ملی ہے ۔روہیل کھنڈ یونیورسٹی نے تین طلاق کو اپنے نصاب میں شامل کرنے کی بات کہی ہے ۔شمالی ہندوستان میں یہ پہلی بار ہے جب کسی یونیورسٹی میں تین طلاق کے بارے میں پڑھایاجائے گا۔
اتر پردیش میں تین طلاق کے سب سے زیادہ 26 کیس میرٹھ میں درج ہوئے ہیں۔ اس کے بعد سہارن پور میں 17 اور شاملی میں 10 کیس درج کئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیامانی حلقہ وارانسی میں تین طلاق کے 10 کیس سامنے آئے ہیں۔
عرضیوں میں تین طلاق قانون کو غیر آئینی قرار دینے کی گزارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے آئین میں ملے بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود تین طلاق ہو رہے تھے، اس لئے جب تک سماج اور غلط کام کر رہے مردوں کے ذہن میں قانون کا ڈر نہیں آئےگا، تب تک تین طلاق کے خلاف چل رہی مہم کا کوئی نتیجہ نہیں نکلےگا۔
اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کی کیرل اکائی نے مسجدوں میں خواتین کو داخلے کی اجازت دینے کی عرضی دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس کو سستی تشہیر پانے کا ذریعہ کہتے ہوئے خارج کر دیا اور کہا کہ مسلم خواتین کو ہی اس کو چیلنج کرنے دیجیے۔
فسادات نہ ہوئے ہوتے تو مودی اس ملک کے وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے۔ آخر فسادات کے دوران کچھ لوگوں نے ایک فرقے کے تئیں شدید بلکہ شدید ترین ’نفرت‘ کا اظہار کیوں کیا؟ اور کیا ’نفرت‘ میں اچانک ہی شدت آئی تھی یا بتدریج اور کیا اس میں کبھی کوئی کمی بھی آسکتی ہے؟ ریواتی لعل نے تین بنیادی کرداروں پر ساری توجہ مرکوز کرکے مذکورہ سوالوں کے جواب دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
فاطمہ انیس صاحبہ ماہِر تعلیم، کالم نِگار ، سابِق پِرنسپل انجمن خیرالاسلام گرلز ہائی اِسکول، مدن پورہ ،ممبئی اور سابق نائب مئیر شہر شولا پور ،جو بہ حُسنِ اِتفاق شہر شولاپور سے میٹرِک پاس کرنے والی پہلی خاتُون بنیں۔
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ تعلق بناتے ہوئے دیکھتا تو اس کو اپنی بیوی کو جان سے مارنے کی ضرورت نہیں ہے اور وہ فوراً تین طلاق دے سکتاہے اور اس کی جان بچ سکتی ہے۔
حکومت نے اپوزیشن سے تین طلاق، او بی سی کمیشن کو آئینی درجہ، ریپ کے مجرموں کو سخت سزا کے اہتمام والے بل سمیت کئی اہم بلوں کو منظور کرانے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔
تھامسن رائٹرس فاؤنڈیشن کے سروے میں 193ملکوں کو شامل کیا گیا تھا، جن میں سے عورتوں کے لئے ٹاپ 10 بدترین ملکوں کا انتخاب کیا گیا۔اس فہرست میں افغانستان اور سیریا دوسرے اور تیسرے، صومالیہ چوتھے اور سعودی عرب پانچویں مقام پر ہے۔
انٹرویو:اسلام اور فیمنزم کا تو مطلب یہی ہے کہ اسلام سے زیادہ فیمنسٹ کوئی مذہب ہی نہیں ہے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ ؛ راہل گاندھی سیاسی مفاد کے لیے افطار پارٹی کر رہے ہیں جبکہ میں ضرورت مندلوگوں کے کر رہا ہوں ۔ہم ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کررہے ہیں ۔
اس معاملے پر کالج کے وکیل کا کہنا ہے کہ کالج نے حجاب پہننے سے منع نہیں کیا ہے بلکہ برقع پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ نئی دہلی :ممبئی میں ہومیو پیتھی کی ایک اسٹوڈنٹ نے کالج میں حجاب نہ پہننے اور کلاس اٹینڈ نہیں کرنے دینے […]
یہ ایکٹ گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور اس میں کہیں ایسا نہیں کہا گیا کہ وہ مسلم عورتوں کو اس کے دائرے میں نہیں رکھتا۔
مسلمان ‘ عقیدہ کو ٹھیس ‘ لگنے والی زبان سے دوری بناکر اب شہریت کے حقوق کی زبان بولنا سیکھ رہے ہیں، تو لازمی ہے کہ ان کو انصاف اور مساوت کے معیار کو ان مدعوں پر بھی نافذ کرنا ہوگا جن کو لمبے وقت سے قوم کا اندرونی معاملہ کہہکرخاموشی اختیار کر لی جاتی رہی ہے
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس احتجاجی مظاہرے کے لیے مسلم اکثریتی علاقوں مدن پورہ،محمد علی روڈ،ماہم ،باندرہ بھارت نگر،شیخ مصری انٹاپ ہل ،گوونڈی ،جوگیشوری ،اندھیری ،ڈونگری ،ناگپارہ اور دیگر علاقوں سے سینکڑوں بسیں اور کاریں روانہ ہوئیں ۔
تعلیمی سال کے آغاز کے پہلے دن ہی کالج کے ذمہ داران نے فاکہہ کویہ بتایا کہ اگر وہ یہاں پڑھنا چاہتی ہے تو حجاب چھوڑنا ہوگا۔
برقع اور ٹوپی کو مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بتانے والوں کو اپنے تعصبات کے پردے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
غزالہ جمیل کی کتابMuslim Women Speak Of Dreams and Shacklesمیں مسلمان عورتوں کو بولتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ۔کسی بھی کتاب میں اب تک عورتوں کو پڑھنا ہی ایک تجربہ رہا ہے ،اس لیے اس کتاب میں ان کو سننا ،ان کی زبان میں سننا ایک غیر معمولی بات ہے۔
’ہم سنتے ہیں، کہ زمین سے، غلامی کا نظام ختم ہو گیا ہے، لیکن کیا، ہماری غلامی، ختم، ہوئی ہے؟ نہیں نا ! ‘ ’میں جب کرشیانگ اور مدھو پور گھومنے گئی تو وہاں سے خوبصورت پتھر اکٹھے کرکے لائی۔ جب اڑیسہ اور مدراس کے سمندر کنارے پر […]
مسلم لڑکیاں آہستہ آہستہ سیدھے پولیس فورس میں بحال ہو رہی ہیں۔ ایسا ان لڑکیوں کے جذبے، مسلم سماج کے بدلتے نظریے کے ساتھ ساتھ بہار حکومت کی مدد سے ممکن ہو پا رہا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ پہلے دن سے ہی اس قانون کی مخالفت کر رہا ہے۔ اور ان دنوں پورے ملک میں اس کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ کل مالیگاؤں میں ہوامظاہرہ اسی مہم کا حصہ تھا۔
قانون کی ضرورت کو مسترد کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ٹرپل طلاق کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود ٹرپل طلاق ہو رہا ہے۔
لوک سبھا نے طلاق بد عت یا ایک مجلس کی تین طلاق سے متعلق بل کواکثریت سے پاس کر دیا ہے۔ اب اس بل کو راجیہ سبھا سے پاس ہونا ہے۔ عام طور پر قانون انسانی زندگی سے اٹھے سوالوں کا جواب دینے کے لئے ہوتے ہیں۔ انسانی […]
2017میں بھی عورتوں نےثابت کیا کہ انھیں نہ صرف مشکل حالات سے لڑنے کا ہنر معلوم ہے بلکہ وہ اپنی قابلیت اور فتح کے پرچم بلند کر سکتی ہیں ۔ آئیےکچھ ایسی ہی ہستیوں کے بارے میں جانتے ہیں جنھوں نے سال 2017میں سماج کی پدریت کو تہ و بالا کرتے ہوئےمختلف میدانوں میں دنیا کے سامنے اپنی پہچان کا پرچم لہرایا ۔
امت شاہ نے کہا کہ 28 دسمبر کا دن ہندوستانی تاریخی میں سنہری حرفوں میں لکھا جائے گا۔ سماج پارٹی کے رما شنکر راج بھر نے کہامسلم خواتین کی فکر کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندو عورتوں کے لئے اپنا منصوبہ بتانا چاہیے۔
اس وقت تو سب سے بڑا سوال بھروسے کا ہی ہے۔ ویسے، ڈاکٹر ایماندار ہو اور اس پر بھروسا ہو تو کڑوی سے کڑوی دوا آسانی سے پی جا سکتی ہے۔
حکومت نے لوک سبھا نے اس قانون کی منظوری کو ہندوستان کی تاریخ کا تاریخی لمحہ قرار دیا ہے ۔
’حکومت اس سلسلہ میں قانون سازی کو ضروری خیال کرتی ہے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ان مسلم خواتین تنظیموں سے جو مسلم عورتوں کی حقیقی نمائندہ ہیں ،لازمی طور پر مشورہ کیا جائے۔‘ نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وزیر اعظم کے […]
دی وائر اردو کے ہفتہ وار ویڈیو شو’ان دنوں‘کے ایپی سوڈ8- میں دیکھیے ’طلاق ثلاثہ کو جرم قرار دیے جانے کی حکومت کی قواعد اورمسلمان عورتیں‘ کے موضوع پرپلاننگ کمیشن کی سابق ممبر اور حقوق انسانی کی نامور کارکن سعیدہ سیدین حمیدکے ساتھ مہتاب عالم کی بات چیت […]
مسلم خاتون کارکنوں نے کہا، مجوزہ قانون میں طلاق ثلاثہ کے ساتھ نکاح، حلالہ اور ایک سے زیادہ شادی کا مسئلہ بھی شامل ہو۔ تمام سیاسی جماعتیں ملکر مسلم خواتین کے مدعوں کو حل کریں۔ نئی دہلی : ایک بار میں تین طلاق (طلاق بدعت) کے خلاف بل […]
انہوں نے کہاکہ اردو ذریعہ تعلیم پر بحرانی دورآیا ہواہے، اس لیے ضروری ہے کہ اردوداں طبقہ اردو کے فروغ وترقی کے لیے جامع وٹھوس منصوبہ بندی بنائی جائے۔ ممبئی: انجمن اسلام کریمی لائبریری میں معروف شاعرہ اورسماجی کارکن ڈاکٹر ممتاز پیر بھائی کے مجموعہ کلام ’انداز بیاں‘کے […]
عورتوں کے معاملات میں قدم قدم پرمذہب اورروایت کا حوالہ دینے والی یہ ذہنیت اس بات کوآسانی کے ساتھ بھول جاتی ہے کہ اس ملک میں خواتین کوان کے حقوق کی ضمانت خودآئین دیتا ہےاورجنس کی بنیاد پرکسی قسم کی تفریق قانونی اوراصولی طورپرممکن نہیں۔ پچھلے چند مہینوں […]
مسلم خواتین کے حقوق کے لئے لڑنے والی تحریک بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی کہانی ماریہ سلیم کی زبانی
تین طلاق، حلالہ اور یونیفارم سول کوڈ کے مسئلہ پر مولانا محمد اطہر حسین دہلوی کے ساتھ سدھارتھ وردراجن کی بات چیت