اندرا گاندھی اگر نریندر مودی کی طرح ایمرجنسی کے بغیرہی ویسے حالات پیدا کر کے جمہوری اور آئینی اداروں کو تنزلی کی راہ پر گامزن کر سکتیں، توبھلا وہ ایمرجنسی کا اعلان کیوں کراتیں؟
’وال اسٹریٹ جرنل‘اخبار کی نامہ نگارسبرینا صدیقی نے امریکہ کے دورے پر گئے وزیراعظم نریندر مودی سے ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں سوال پوچھا تھا، جس کے بعد ان کے والدین کے پاکستانی ہونے کا دعویٰ کرکے ان کو’پاکستان کی بیٹی’ بتایا جا رہا ہے۔
ویڈیو: کیا نریندر مودی کا دورہ امریکہ اتنی ہی بڑی حصولیابی ہے جتنی ہندوستانی میڈیا بتا رہا ہے؟ اس بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن۔
ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی نے نو سالوں میں پہلی بار امریکہ دورے پر ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی، جہاں ان سےہندوستان میں مسلمانوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں سوال پوچھا گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے ملک میں کسی قسم کی تفریق اور امتیازی سلوک نہ ہونے کی بات کہی۔ لیکن کیا یہ سچ ہے؟
ایک ٹی وی انٹرویو میں سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ اگر وہ نریندر مودی سے بات چیت کرتے تو ملک میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا ذکر ہوتا۔ دوسری جانب امریکہ میں صدر جو بائیڈن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں پی ایم مودی نے کہا کہ ہندوستان میں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہے۔
اپنے امریکی دورے کے دوران کہیں کوئی ہندوستان کے اندر رونما ہونے والے ایشو نہ اٹھائے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ساتھ اربوں ڈالر کے دفاعی سودوں کی ایک طویل فہرست اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ اب اگر کوئی یہ ایشو اٹھانا بھی چاہے، تو ہندوستان سے پہلے ہتھیار بنانے والے کمپنیاں اس سے خود ہی نپٹ لیں گی۔
ویڈیو: ٹوئٹر کے شریک بانی اور سابق مالک جیک ڈورسی کاہندوستان میں کسانوں کے احتجاج کے دوران ٹوئٹر پر دباؤ ڈالنے کا دعویٰ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ مودی حکومت نے میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔
کسانوں کے احتجاج کے دوران ٹوئٹر کے شریک بانی اور سابق مالک جیک ڈورسی کے دعووں کو مرکزی حکومت نے جھوٹا قرار دیا ہے۔ اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سابق آئی ٹی وزیر کپل سبل نے کہا کہ ڈورسی کے پاس جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، لیکن بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے پاس ایسا کرنے کی ‘ہر وجہ’ تھی۔
ویڈیو: ٹوئٹر کے شریک بانی اور سابق سی ای او جیک ڈورسی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں ہندوستانی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر کو بند کرنے اور ملازمین کے گھروں پر چھاپے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں۔ کانگریس کے میڈیا اینڈ پبلسٹی سیل کے صدر پون کھیڑا نے اس پر کہا کہ مودی حکومت فری اسپیچ کے لیے خطرہ ہے۔
بڑا سوال یہ ہے کہ کیا بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایسی جمہوریت کے ساتھ اتحاد کرنا جائز ہے، جو ملکی سیاست اور خارجہ پالیسی میں چین کے آمرانہ نظام کی عکاسی کرتی ہو؟ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عفریت کی سرپرستی کرنا ماضی میں امریکہ کے لیے مہنگا ثابت ہوا ہے۔
ٹوئٹر کے شریک بانی اور سابق مالک جیک ڈورسی نے کہا ہے کہ اس سوشل پلیٹ فارم کو ہندوستانی حکومت کی جانب سے کسانوں کی تحریک کو کور کرنے اور حکومت پر تنقید کرنے والے اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کے لیے ‘متعدد درخواستیں’ موصول ہوئی تھیں۔
جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر اور بی جے پی ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف احتجاج کرنے والے پہلوانوں کی حمایت میں ہریانہ کے منڈلانا گاؤں میں منعقد ایک مہاپنچایت میں2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کی اپیل کی۔
دو ہزار روپے کے نوٹ رکھنے والوں کے لیے اب ایک واضح ترغیب ہے کہ وہ بینک میں رقم جمع کرنے کے بجائے صرف ایکسچینج کے لیے جائیں اور انکم ٹیکس کے مقاصد کے لیے جانچ پڑتال کی جائے۔ تاہم، نوٹوں کی تبدیلی کو بہت مشکل بنا دیا گیا ہے کیونکہ ایک وقت میں صرف 20000 روپے ہی بدلے جا سکتے ہیں۔
ویڈیو: 2000 روپے کا نوٹ کیوں جاری کیا گیا تھااور کیوں اس کو واپس لیا گیا؟ کیا کالا دھن ختم ہوگیا؟ کیا ہندوستان میں اس نوٹ کی ضرورت ہے؟
جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے سال 2019 میں پلوامہ حملے کو لے کر ایک بار پھر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کی جانچ ہوئی ہوتی تو اس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو استعفیٰ دینا پڑتا۔
ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے 2000 روپے کے نوٹ کو واپس لینے کے فیصلے کو صحیح ٹھہرانے کے لیے جو دلائل پیش کیے گئے ہیں، ان میں سے کوئی بھی قابل قبول نہیں ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح کرناٹک اسمبلی انتخابات کو اپنی شخصیت سے جوڑ کر پوری مہم میں اپنے عہدے کے وقارتک سےسمجھوتہ کیا اوررائے دہندگان نے جس طرح ان کی باتوں کو نظر انداز کیا، اس سے یہ پیغام واضح ہے کہ بی جے پی کے ‘مودی نام کیولم’ والے سنہرے دن بیت گئے ہیں۔
ویڈیو: فروری 2019 کے پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں حکومت کی غفلت کی بات کہہ کر مرکز کی نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد نریندر مودی نہیں، کوئی اور وزیراعظم ہوگا۔
جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے مرکز اور وزیر اعظم نریندر مودی پر لگائے گئے سنگین الزامات کے حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہےکہ ملک کا ضمیر گورنر کے طور پر ان کی میعاد ختم ہونے کے بعد ہی کیوں بیدار ہوا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، پنجاب کے کسان لیڈر بلبیر سنگھ راجیوال نے کہا کہ ستیہ پال ملک نے بہادری سے پلوامہ کاپردہ فاش کیا۔ کسان ان کے ساتھ ہیں۔ جموں و کشمیر کے گورنر رہے ملک نے دی وائر کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملہ حکومت کی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا۔
صحافی کرن تھاپر کے ساتھ بات چیت میں جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے گوتم اڈانی اور نریندر مودی کےقریبی تعلقات سےمتعلق الزامات پر کہا، ‘مجھے نہیں معلوم کہ مودی صاحب کو کوئی مشورہ دیتا ہےیا نہیں، میں دے رہا ہوں کہ مہربانی کرکے اڈانی سے ہاتھ چھڑا لیجیے۔ لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ اڈانی کے فنانشیل معاملات میں ان کی دلچسپی ہے۔
سینئر صحافی کرن تھاپر سے بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیریوں نے پیدا نہیں کیا ہے، 50 فیصدی دہلی نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ہند نے اس ریاست میں کبھی بھی منصفانہ انتخابات نہیں کروائے، ایک بار تو نتائج ہی بدل دیے تھے۔
ویڈیو: دی وائر کو دیے ایک انٹرویو میں جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے کام کرنے کے انداز پر کئی سوال اٹھائے۔
صحافی کرن تھاپر سے بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنےان کےایک وزیر اور گوا کے وزیر اعلیٰ کے خلاف بدعنوانی کے معاملات اٹھائے تھے، جن پر انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بجائے آناً فاناً میں ان کا تبادلہ کر کے میگھالیہ بھیج دیا۔
دی وائر کو دیےایک انٹرویو میں جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے کام کرنے کے طریقے پر کئی سنگین سوال اٹھائے۔
ہندوستان میں ایم پی اور ایم ایل اے بننے کے لیے کسی قسم کی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایم پی اور ایم ایل اے اپنے انتخابی حلف نامے میں فرضی ڈگری پیش کریں تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ نریندر مودی کی ڈگری سے متعلق گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ اسی طرح کے خدشات اور شکوک وشبہات کو جنم دیتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘جب کورٹ کوئی فیصلہ سناتا ہے تو کورٹ پر سوال اٹھایا جاتا ہے…(کیونکہ) کچھ پارٹیوں نے مل کر بھرشٹاچاری بچاؤ ابھیان (بدعنوانی کرنے والے کو بچانے کی مہم)چھیڑا ہوا ہے۔’ تاہم یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ جمہوریت کا کوئی بھی تصور ‘عدالت پر سوالوں’ سے منع نہیں کرتا۔
راہل گاندھی کی رکنیت ختم ہونے کے بعد سے بننے والے ماحول میں کانگریس اس نئی اور مثبت شبیہ کی مدد سے صرف اپنے آپ کو اور مضبوط کر سکتی ہے۔ ملک کی سب سے پرانی پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کے لیے جگہ بنائے اور کسی بھی اپوزیشن محاذ میں خود کو مرکزی رول دیے جانے کے مطالبے کو آڑے نہ آنے دے۔
ویڈیو: بھوپال گیس سانحہ کے بعد کے سالوں میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ اور گیس کے سنگین مضر اثرات کو دیکھ کر سال 2010 میں اس وقت کی مرکزی حکومت نے اضافی معاوضے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ حال ہی میں، سپریم کورٹ نے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا۔بھوپال کے گیس متاثرین کی تنظیمیں بھی اس معاملے میں فریق تھیں، اس فیصلے کے حوالے سے ان کے نمائندوں سے بات چیت۔
دستور ساز اسمبلی میں آئین کا پہلا مسودہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ،’ایک نوزائیدہ جمہوریت کے لیےعین ممکن ہے کہ وہ جمہوریت کا ملمع بنائے رکھے، لیکن درحقیقت آمریت میں تبدیل ہوجائے۔’جب مودی کی انتخابی جیت کو جمہوریت،ان سے سوال یا اختلاف کرنے والوں کو ملک کا دشمن کا بتایا جاتا ہے ، تب ڈاکٹر امبیڈکر کی تنبیہ درست ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔
ویڈیو: احمد آباد میں ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان بارڈر-گاوسکر ٹرافی کے چوتھے میچ سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے آسٹریلوی ہم منصب کے ساتھ اپنے نام سے منسوب اسٹیڈیم پہنچے تھے۔ مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق بی جے پی نے 130000 کی گنجائش والے اسٹیڈیم میں میچ کے پہلے دن کے لیے 80000 ٹکٹ خریدے تھے۔
احمد آباد میں ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان چوتھے بارڈر-گواسکر ٹرافی میچ سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے آسٹریلیائی ہم منصب کے ساتھ اپنے ہی نام والے اسٹیڈیم کا چکر کاٹا، جہاں بی سی سی آئی کے سکریٹری جے شاہ نے مودی کو انہی کی تصویر پیش کی۔ مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 130000کی گنجائش والے اسٹیڈیم میں میچ کے پہلے دن کے 80000 ٹکٹ بی جے پی نے خریدے تھے۔
مغربی دنیا بشمول امریکہ کو احساس ہے کہ ہندوستان میں جمہوری قدروں کو پامال کیا جا رہا ہے، مگر یہ اس وقت چین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اہم مہرا ہے، اس لیے اس کو پریشانی سے بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری نے بڑی حد تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
سخن ہائے گفتنی: ایک مسلمان وہ نہیں کہہ سکتا جو ایک ہندو کہہ سکتا ہے؟ ایک کشمیری وہ نہیں کہہ سکتاہے جو دوسرے لوگ کہہ سکتے ہیں۔آج یکجہتی، بھائی چارہ اور دوسروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے ،لیکن ایسا کرنا نہایت خطرناک اور جان جوکھم میں ڈالنے کی طرح ہے ۔
ویڈیو: گزشتہ دنوں بی بی سی ڈاکیومنٹری کی نشریات کے بعد ادارے کے دفتر پہنچے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور صنعتکار گوتم اڈانی کے کاروبارکے سلسلے میں سوال اٹھانے والی ہنڈن برگ رپورٹ سے متعلق تنازعہ پردہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کی بات چیت۔
مودی حکومت کی جانب سے پریس کی آزادی اور جمہوریت پر جاری حملوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے، لیکن تازہ ترین حملے سے پتہ چلتا ہے کہ پریس کی آزادی ‘مودی سینا’ کی مرضی کی غلام بن ہو چکی ہے۔
بی بی سی ہنڈن برگ معاملے کو ہندوستانی میڈیا اس طرح پیش کر رہا ہے کہ یہ ہندوستان کےٹوین ٹاورز پر کسی حملے سے کم نہیں ہے۔ یہ ٹوین ٹاور ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی اور ہندوستان کے سب سے بڑے صنعت کار گوتم اڈانی۔ ان دونوں پر لگائے گئے الزامات ہلکے نہیں ہیں۔
بی بی سی کے دہلی اور ممبئی کے دفاتر میں محکمہ انکم ٹیکس کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کئی میڈیا اداروں نے اسے صحافتی اداروں کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔
بی بی سی کے دہلی اورممبئی واقع دفاتر میں یہ کارروائی 2002 کے گجرات فسادات میں نریندر مودی کے کردار اور ہندوستان میں اقلیتوں کی صورتحال پر دو حصوں پر مشتمل ڈاکیومنٹری ‘انڈیا: دی مودی کویسچن’ کے نشر ہونے کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے۔ اس ڈاکیومنٹری پر حکومت ہند نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ویڈیو: آر جے ڈی ایم پی منوج جھا نے بجٹ اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کی تقریر۔