یوپی انتخاب: ’ہمارا وکاس نہیں ہوا تو ہمارا ساتھ بھی بھول جائے بی جے پی‘
ویڈیو: اسمبلی انتخاب سے پہلےاتر پردیش کے نوئیڈاکے گڑھی چوکھنڈی گاؤں کےلوگوں نے کھلے نالوں، کچی سڑکوں، پانی اور سیوریج سے متعلق پریشانیوں کے بارے میں بات کی۔
ویڈیو: اسمبلی انتخاب سے پہلےاتر پردیش کے نوئیڈاکے گڑھی چوکھنڈی گاؤں کےلوگوں نے کھلے نالوں، کچی سڑکوں، پانی اور سیوریج سے متعلق پریشانیوں کے بارے میں بات کی۔
پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں صدرجمہوریہ کے خطاب پر لوک سبھا میں شکریے کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے راہل گاندھی نے مودی حکومت کو سخت نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر بڑے خطرات کا سامنا ہے۔
یہ ملک کے لیےانتہائی افسوسناک ہے کہ اس کےسابق نائب صدر کو بھی مذہبی آئینے میں دیکھا جانے لگاہے۔ان کے بیانات سےسبق حاصل کرنے اور آئینے میں حقیقت کا چہرہ دیکھنے کے بجائے ان سے چاپلوسی کی امید کی جارہی ہے!
خصوصی رپورٹ: جنوری کے اوائل تک راجستھان، جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش میں کووڈ-19 سے ہوئی اضافی موت حکومت کی گنتی سے 12 گنا زیادہ تھی۔ قابل ذکر ہے کہ غیر مرتب ریکارڈ اور لال فیتہ شاہی کی وجہ سے ہزاروں خاندان معاوضے سے محروم ہو سکتے ہیں۔
ویڈیو: اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے حوالے سے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، ان کے سیاسی طرز عمل اور انتخابی وعدوں پر برٹن کی باتھ یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر اور ماہر اقتصادیات سنتوش مہروترا سے سینئر صحافی شرت پردھان کی بات چیت۔
مجاہد آزادی سبھاش چندر بوس کی بیٹی انیتا بوس فاف نے کہا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مجاہدین آزادی کی قدریں اب بھی لوگوں کو متاثر کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے والد کی یادوں اور وراثت کو فرقہ وارانہ دشمنی کے لیے استعمال کیے جانے کے امکان پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
کنگ لیئرتنقید کو بالکل برداشت نہیں کرتے تھے، مگر انہوں نے ایک درباری مسخرے کو کچھ بھی کہنے کی چھوٹ دے رکھی تھی۔ آج کے ہندوستان میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے جمہوری طور پر منتخب لیکن اتنے ہی مطلق العنان رہنما اپنے اردگرد سچ بولنے والے کسی بھی مسخرے کے مقابلےخوشامدی اور چاپلوس لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
سال 2021 میں اقلیتوں کے خلاف ہیٹ کرائم میں اضافہ ہوا، لیکن میڈیا خاموش رہا۔ اس سال کی ابتدا اور زیادہ نفرت سے ہوئی، لیکن اس کے خلاف ملک بھر میں آوازیں بلند ہوئی۔ اقلیتوں اور خواتین سے نفرت کی مہم کا نشانہ بننے کے بعد میں اپنے آپ کو سوچنے سے نہیں روک پاتی کہ کیا اب بھی کوئی امید باقی ہے؟
گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے کورونا متاثرین کے ذریعے معاوضے سےمتعلق 68370 دعووں کو منظوری دی ہے، حالانکہ اپنے سرکاری اعداد و شمار میں حکومت نے کووڈ 19 سے ہوئی موتوں کی تعداد 10094 ہی بتائی ہے۔
چار جنوری کو الہ آباد میں رہ کر پڑھائی کرنے والے اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طالبعلم اچانک سڑکوں پر نکل آئے اور تالی-تھالی پیٹتے ہوئےمؤخربھرتیوں کو پُرکرنے کامطالبہ کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھاکہ وہ روزگار جیسے اہم مدعے پر سوئی ہوئی حکومت کونیند سےجگانا چاہتے ہیں۔
زی انٹرٹینمنٹ کے چیف کلسٹر افسر کو لکھے گئے خط میں بی جے پی کی تمل ناڈو اکائی کے آئی ٹی اور سوشل میڈیا سیل کے صدر سی ٹی آر نرمل کمار نے کہا ہے کہ 15 جنوری کو چینل کے پروگرام ‘جونیئر سپر اسٹارز سیزن 4’کے دوران وزیر اعظم مودی کے لباس، مختلف ممالک کے دوروں، سرمایہ کاری اور نوٹ بندی کے بارے میں کئی طرح کے سخت اور تلخ تبصرے کیے گئے تھے۔
ویڈیو: اتر پردیش میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے کئی وزراء کےاسمبلی انتخاب سے قبل استعفیٰ دینے کے معاملے پرسینئر صحافی برجیش شکلا، منوج سنگھ اور دی وائر کے اجئے آشیرواد کے ساتھ عارفہ خانم شیروانی نےکی بات چیت۔
ویڈیو: اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب سے قبل اچانک ایک بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا ہے۔ چیف سکریٹری آر کےتیواری کو ہٹانےکے بعد سینٹرل ڈیپوٹیشن پر ہاؤسنگ اور شہری ترقی کی وزارت میں سکریٹری کے طور پرتعینات درگاشنکرمشرا کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔کیایہ مانا جائے کہ نریندر مودی نے انتخاب کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔
ویڈیو: پنجاب میں اسمبلی انتخاب کےقریب آتے ہی کانگریس کے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس کے پرانے ‘پنجاب ماڈل’اروند کیجریوال اور وزیر اعظم مودی کی ریلی سمیت مختلف موضوعات پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی سے بات چیت کی۔
مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے پس پردہ ، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ اس قوم کو اس قدر ذلت دی جائے، ان کےعزت نفس کو اتنی ٹھیس پہنچائی جائے کہ تھک ہارکر وہ ایک ایسی’شکست خوردہ قوم’کے طور پر اپنے وجود کو قبول کر لیں، جوصرف اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو مجبور ہے۔
پنجاب میں مبینہ سکیورٹی کوتاہی کی ضرور جانچ ہونی چاہیے،لیکن یہ وزیراعظم کے حفاظتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایس پی جی کے سابق عہدیداروں کا کہنا ہےکہ حتمی فیصلہ صرف نریندر مودی ہی لیتے ہیں اور اکثر طے شدہ امورکو انگوٹھا دکھاتےدیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں گوا میں ایک بیان میں وزیر اعظم مودی نے پرتگالی راج سےمتعلق غلط تاریخی حقائق پیش کیے تھے۔ ان کے اس بیان کی صداقت پر سوال اٹھنا لازمی تھا، لیکن لگتا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وزیر اعظم کے منہ سے نکلی بات کی کوئی تحقیق نہیں کرتا۔
وزیر اعظم کی خوبی یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامناکرتے ہیں تو کسی نہ کسی طرح ان کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ جب سے وہ وزیر اعلیٰ ہوئےتب سے اب تک کچھ وقت کے بعد ان کے قتل کی سازش کی کہانی کہی جانے لگتی ہے۔ لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، لیکن کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ پھر ایک دن ایک نئے خطرے کی کہانی سامنے آجاتی ہے۔
جس طرح سے وزیر اعظم خود اور ان کی پارٹی سکیورٹی میں کوتاہی کو اسی لمحے سےسنسنی خیز بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے صاف ہے کہ وہ اس واقعہ کی سنگینی کے بارے میں کم اور ممکنہ انتخابی فائدے کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہیں۔
پنجاب میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سکیورٹی میں کوتاہی کےخلاف دھنباد میں احتجاج کر رہےبی جے پی کے کارکنوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم اور بی جے پی کے جھارکھنڈ ریاستی صدر کو نا زیبا کلمات کہنےکے الزام میں ذہنی طور پر معذور ایک مسلمان کی پٹائی کی تھی۔ وزیراعلیٰ نے اس معاملے میں قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
وزیراعظم کی سکیورٹی میں کوتاہی ہوئی ہے۔اس سوال پر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں ہےکہ جلسے میں کتنے لوگ آئے، کتنے نہیں آئے۔ سکیورٹی انتظامات میں پنجاب حکومت کا رول ہوسکتا ہے لیکن یہ ایس پی جی کے ماتحت ہے۔ وزیر اعظم کہاں جائیں گے اور ان کے قریب کون بیٹھے گا یہ سب ایس پی جی طے کرتی ہے۔ اس لیےسب سے پہلے کارروائی مرکزی حکومت کی طرف سے ہونی چاہیے۔
پہلی جنوری کو سرکاری چینی میڈیا کے ایک صحافی نے اپنے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ گلوان میں چینی قومی پرچم لہرایا گیا ہے۔ لداخ میں واقع یہ وہی وادی ہے جہاں جون 2020 میں چین اور ہندوستان کے فوجیوں کے درمیان خونریز تصادم ہوا تھا۔شین شیوئی نام کےاس صحافی کوسوشل میڈیا پر اپنی تحریروں کے ذریعے چینی پروپیگنڈے کی قیادت کے لیے جانا جاتا ہے۔
ہریانہ کے دادری میں میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ جب وہ زرعی قوانین کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے تب ‘وہ بہت گھمنڈ میں تھے’۔ملک نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی اگر حکومت کسانوں کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گی تو وہ اس کی مخالفت کریں گے اور اپنا عہدہ چھوڑنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
چونکہ حکومت نے کوئی ایسااہلکار فراہم نہیں کیا ہے جو مرکز کے فیصلے پر پریس کے سوالوں کا جواب دے سکے، اس لیےیہاں وہ دس سوال ہیں جن کا جواب وزارت صحت اور وزیر اعظم نریندر مودی کو دینا چاہیے۔
دریں اثنااتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ملک کی مختلف ریاستوں میں کووڈ-19 کےمعاملات میں اضافے کے پیش نظر 25 دسمبر سے ریاست بھر میں نائٹ کرفیو نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے یہ کرفیو رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک مؤثر رہے گا۔
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ منیش تیواری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ستمبر 2020 سے اب تک لوک سبھا سکریٹریٹ نےقومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان اور چین کےسرحدی تنازعہ کے بارے میں سترہ سوالوں کاجواب دینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اور بھی کئی سوال ہیں، جن کا حکومت جواب نہیں دے رہی۔
موجودہ ہندوستانی سیاست میں ہر پارٹی اپنا کامیاب فارمولہ ایجاد کرنے کی کوشش میں دوسری پارٹی سے کچھ نہ کچھ مستعار لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ آج ہندوستانی جمہوریت کم ہوتےسیاسی متبادل اور ان متبادل کی عدم موجودگی میں اپنے آپ کو ہی متبادل خیال کرنے والوں سے بھری پڑی ہے ۔
ویڈیو: گزشتہ نومبرمیں اسکاٹ لینڈ کےشہر گلاسگو میں منعقد ہوئےاقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس، جس کو’سی او پی 26’بھی کہا جاتا ہےکے سلسلے میں دو ماہرین ماحولیات– وندنا شیوا اور شیام شرن (سابق خارجہ سکریٹری اور ہندوستانی سی او پی مذاکرہ کار)سے دی وائر کے اندر شیکھر سنگھ کی بات چیت۔
مرکز کی مودی حکومت نے گزشتہ ماہ جولائی میں پارلیامنٹ کو بتایا تھا کہ ریاستی حکومتوں اور یونین ٹریٹری نے بالخصوص آکسیجن کی کمی کی سے کسی بھی موت کی اطلاع نہیں دی ہے۔حالاں کہ ایک ماہ بعد اگست میں پہلی بار مرکز نے اعتراف کیا تھاکہ آکسیجن کی کمی کے باعث کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی موت ہوئی۔
ویڈیو: 13 دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اتر پردیش کے وارانسی شہر میں کاشی وشوناتھ مندر راہداری کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔اس معاملے پر پروفیسر اپوروانند، پروفیسر آدتیہ مکھرجی اور سینئر صحافی شرت پردھان کے ساتھ دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی چیت۔
معاملہ مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع کا ہے، جہاں کے رہنے والے اکشے بھٹناگر نے بتایا کہ مئی میں کوروناانفیکشن کی وجہ سے ان کے بھائی گزر گئے تھے، لیکن وزارت صحت کی جانب سے دسمبر میں آئے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ان کے بھائی کو ٹیکے کی دوسری خوارک لگ گئی ہے۔
ویڈیو: نریندر مودی حکومت نے ڈیجیٹل انڈیا کی شروعات کی تھی، لیکن کورونا وائرس کے دوران اتر پردیش کے اناؤ ضلع کے اجگین گاؤں کے ایک اسکول میں آن لائن ایجوکیشن کی سہولت کا فائدہ بچے نہیں اٹھا سکے۔ یہ اسکول صوبے کی راجدھانی لکھنؤ سے محض 47 کیلو میٹر دور ہے، جہاں کسی بھی بچے کے پاس موبائل فون اور انٹرنیٹ نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں مڈ ڈے میل بنانے والی خاتون کو پچھلے سال جون سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔
کچھ عرصہ سے ہندو انتہاپسندوں کی مربی تنظیم آر ایس ایس کو یہ خیال ستا رہا ہے دلیپ کمار عرف یوسف خان سے شروع ہو کر شاہ رخ خان تک اداکاروں کی ایک بڑی کھیپ، سوسائٹی کے لیے رول ماڈل کا کام کرتے ہیں۔ اسی لیے پچھلے کئی برسوں سے بالی ووڈ ان کے نشانے پر ہے۔
مرادآباد کےعیدگاہ علاقے کےرہائشی ہر رات اپنے مسائل پر گفت و شنیدکے لیے اکٹھا ہوتے ہیں۔اس دوران سیاسی اور اقتصادی مسائل پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔
ویڈیو: ایشیا کی سب سے بڑی مسجدوں میں سے ایک دہلی کی جامع مسجد خستہ حال ہے۔تاریخ داں سہیل ہاشمی کےمطابق،مسجد کےشاہی امام ہرممکن طریقے سے اس کی مرمت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بارے میں دی وائر نےآرکیالوجیکل سروے آف انڈیاسے بات کی،جو ملک میں ثقافتی اور تاریخی یادگاروں کے تحفظ کے لیے ذمہ دار سرکاری ایجنسی ہے۔
جنوبی افریقی میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدرانجلیک کوٹزی نے کہا کہ کورونا وائرس کے اس نئے ویرینٹ کے مریضوں میں ہلکی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ حالانکہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس کے سنگین معاملے آ سکتے ہیں۔
ویڈیو: ایک سال سے جاری کسانوں کی تحریک میں کسانوں نے بہت کچھ کھویا ہے۔اس دوران تقریباً700سے زیادہ کسانوں کی موت ہوئی، کسی نے خودکشی کی تو کسی کی بیماری کی وجہ سے جان گئی ۔ تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کے پسماندگان سے بات چیت۔
ویڈیو: دی وائر نے زرعی قوانین کو واپس لینے کے بعد مین اسٹریم میڈیا کے یو ٹرن پر دہلی کی ٹکری بارڈر پر مظاہرہ کر رہے کسانوں سے بات کی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جس میڈیا نے انہیں دہشت گرد، خالصتانی، غدار کہا، انہیں ان کا سامنا کرنا پڑےگا۔
ویڈیو: اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں گزشتہ دنوں ہوئے سنیکت کسان مورچہ کی مہاپنچایت میں بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے تحریک کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی کئی مدعے ہیں، جن کے حل کے بعد ہی تحریک کا خاتمہ ہوگا۔
ویڈیو: اتر پردیش کی یوگی حکومت کو وہاں کی خاتون کسانوں کی مانگوں پر دھیان دینا چاہیے۔لکھنؤ کی کسان مہاپنچایت میں شامل یہ خاتون کسان اپنی مانگوں اور تحریک میں اپنی خدمات کی جانکاری دے رہی ہیں۔