خصوصی رپورٹ: ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں موصولہ دستاویز بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ٹوئٹ کیے جانے کے بعد وزارت کھیل کو راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ کا نام بدل کر میجر دھیان چند کے نام پر رکھنا پڑا تھا۔وزیر اعظم نے […]
دہلی پولیس نے ماحولیاتی کارکن دشا روی کو کسانوں کے مظاہرہ کی حمایت کرنے والے ٹول کٹ کو شیئر کرنے میں مبینہ رول کی وجہ سے 14 فروری کو بنگلورو سے گرفتارکیا تھا۔ ان پر 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئےتشدد کے سلسلے میں سیڈیشن اور مجرمانہ سازش کی دفعات لگائی گئی تھیں۔
ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی کےپارلیامانی حلقہ وارانسی کے ملاح روزگار کو لےکر بےحد پریشان ہیں۔ کورونا وائرس مہاماری نے ان کی زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔گھر چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور کسی طرح کی کوئی سرکاری امداد نہ ملنے سے وہ بے حد مایوس ہیں۔
ٹاٹاانسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز(ٹس)کےپروفیسرآر رام کمار نےکووڈ19ٹیکےکی100کروڑ خوراکوں کےہدف کےحصول کو ‘ہندوستانی سائنس کی فتح’ بتاتے ہوئے وزیر اعظم کے ٹوئٹ کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں88 فیصدی ٹیکہ کووی شیلڈ کا لگایا گیا ہے، جو ایک برطانوی ویکسین ہے۔ٹیکہ کاری کی سست رفتار اور ٹیکے کی کمی کی وجہ سے اس سال کے آخر تک تمام بالغان کو دونوں ڈوز لگانے کاسرکارکاہدف بھی تقریباً پانچ چھ مہینے پیچھے رہ گیا ہے۔
فیس بک کےمحققین کی تیارکردہ ایک رپورٹ کے مطابق، دہلی فسادات کے دوران فیس بک اور وہاٹس ایپ پرتشدد کے لیےاکسانے اور افواہوں پرمبنی پیغامات کی باڑھ آئی گئی تھی اور فیس بک کو اس بات کی جانکاری تھی۔ فیس بک کے ترجمان نے بتایا کہ یہ رپورٹ حتمی نہیں ہے۔ اس میں پالیسی کی سفارشات نہیں ہیں۔
جس نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو شہریوں کےانسانی حقوق کےتحفظ کے ساتھ خلاف ورزیوں پرنظر رکھنے کے لیےبنایا گیا تھا، وہ اپنے یوم تاسیس پر بھی ان کی خلاف ورزیوں کےخلاف آواز اٹھانے والوں پر برسنے سے گریز نہ کر پائےتو اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ اب مویشیوں کے بجائے انہیں روکنے کے لیے لگائی گئی باڑ ہی کھیت کھانے لگی ہے؟
بڑا سوال اب ہندوستان میں یہ ہے کہ بی جے پی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کی صورت میں اگلا وزیر اعظم کون ہوگا؟ نئی دہلی میں مغربی ممالک کےسفارت خانےآج کل سیاسی تجزیہ کاروں، لیڈروں اور ہند و قوم پرستوں کی مربی آر ایس ایس کے لیڈران و کارکنان کی تواضع و خاطر مدارت میں لگے رہتے ہیں، تاکہ سن گن لی جاسکے کہ کیا آرایس ایس نریندر مودی کو تیسری بار وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے دے سکتی ہے؟
مودی سرکار نے کسانوں سے بات چیت کے کئی دور چلائے،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ‘پارلیامنٹ سے منظور شدہ’زرعی قوانین کو قطعی واپس نہیں لیا جائےگا۔ کیونکہ اس سے پارلیامنٹ کی بالادستی مجروح ہوگی۔گویا اب تک عوامی غم وغصے کی وجہ سےیاناقابل استعمال ہو جانےپرجن قوانین کو واپس لیایا منسوخ کیا جاتا رہا ہے، وہ پارلیامنٹ کے بجائے وزیر اعظم کے دفتر میں پاس کیے گئے تھے!
ہندوتواکو ایک قومی خطرہ نہیں بلکہ مقامی یا انتخابی سیاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔سادہ لفظوں میں ہمارے یہاں خطرے کا مطلب؛ ایٹم بم،دشمن کے جنگی طیارےاور لمبی لمبی داڑھیوں والے آدمی تھے۔ دوسروں کو پیٹ کر جبراً جئےشری رام بلوانے والے لوگ محض شر پسند نظر آتے […]
ویڈیو: سنیکت کسان مورچہ نے مرکز کے تین زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ 27 ستمبر کو ‘بھارت بند’ کا اہتمام کیا تھا۔دی وائر کے یاقوت علی اور سراج علی نے اسی دن ہریانہ کے بہادر گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ریلوے ٹریک پر بیٹھے کسانوں سے بات کی۔
دی کارواں کی رپورٹ میں مختلف صوبوں کے لوگوں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پرکئی لوگوں کو کووڈ ٹیکہ کاری کاسرٹیفکیٹ ملا، جبکہ انہیں ٹیکہ پہلے لگا تھا۔ کئی لوگوں کو ٹیکے کی دوسری خوراک لینے کاسرٹیفکیٹ ملا جبکہ انہوں نے دوسری ڈوز لی ہی نہیں تھی۔
ویڈیو: زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ 27 ستمبر کو بھارت بند کے دوران راجستھان ہریانہ بارڈر پرواقع شاہجہاں پور میں موجود کسانوں سے دی وائر کے اندر شیکھر سنگھ نےتحریک کے چیلنجز اور رکاوٹوں پر بات چیت کی۔
ویڈیو: مرکزی حکومت کے متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف جاری تحریک کے تحت کسانوں کی تنظیموں نے گزشتہ 27 ستمبر کوملک گیر بھارت بندکا اہتمام کیا تھا۔اس سلسلے میں زرعی پالیسی کے آزاد تجزیہ کار اندر شیکھر سنگھ سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب میں ابھی تقریباً پانچ مہینے باقی ہیں،لیکن سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ کابینہ میں تبدیلی سے لےکرسیاسی پارٹیوں کے گٹھ جوڑ تک دیکھنے کو مل رہے ہیں۔لیکن صوبے کی عوام کیا بدلاؤ چاہتی ہے یا موجودہ نظام میں ان کا بھروسہ بنا ہوا ہے؟
اسکرول ڈاٹ ان کی رپورٹ کے مطابق، 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے یوم پیدائش پر زیادہ کووڈ ٹیکہ کاری دکھانے کے لیے بہار سرکار نے 15 اور 16 ستمبر کے اعدادوشمار کو کو ون پورٹل پر اپ لوڈ نہیں کیا اور اسے 17 ستمبر والے اعدادوشمار میں جوڑا گیا۔
اسد الدین اویسی نے وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹ کیاکہ ، دنیا کو شدت پسندی سے لڑنے کا سبق پڑھانے والے وزیر اعظم بتائیں کہ میرے گھر کو نشانہ بنانے والوں کو کس نے شدت پسند بنایا؟
پچھلی دہائیوں میں گجرات بی جے پی کامحفوظ ترین گڑھ رہا ہےاور آج کی تاریخ میں وہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی آبائی ریاست ہے۔اگر وہاں بھی بی جے پی کو ہار کا ڈر ستا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنی ناقابل تسخیر امیج کا جو متھ پچھلے سالوں میں بڑی کوشش سے گڑھا تھا، وہ ٹوٹ رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق،انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے مودی سرکار کے ایجنڈے کےمدنظر کووڈ 19 کے خطرے کو کم دکھانے کے لیےسائنسدانوں پر دباؤ ڈالا۔ اخبار نے ایسے کئی شواہد پیش کیےہیں، جو دکھاتے ہیں کہ کونسل نے سائنس اور شواہد کےمقابلےحکومت کےسیاسی مقاصدکو ترجیح دی۔
وزیراعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد تو صحافت کی دنیا ہی بدل گئی۔حالات اس قدر بدل چکے ہیں کہ حکومت سے متعلق معمولی اسٹوری کا بھی ایڈیٹر حضرات ایک طرح کا آپریشن کر دیتے ہیں۔ ان کو خدشہ رہتا ہے کہ اگر یہ اسٹوری حکومت کو پریشان کرے گی تو ادارے کے اشتہارات بند ہوں گےیا مالکان یا ادارے کی کمپنی کو کسی نہ کسی کیس میں گھسیٹا جائے گا۔
پچھلے سال مارچ میں دہلی کا نظام الدین مرکز کو رونا ہاٹ اسپاٹ بن کر ابھرا تھا۔ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے کئی لوگوں کے کورونا وائرس سے متاثر پائے جانے کے بعد 31 مارچ 2020 سے ہی یہ بند ہے۔
گزشتہ دنوں سابق مرکزی وزیر ایم جےاکبر زی میڈیا کے انگریزی چینل‘وی آن’سےجڑے ہیں۔ اب ان کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے صحافیوں کے ایک گروپ نے اس ادارے سے کہا ہے کہ کام کرنے کی جگہ پر جنسی ہراسانی اور جنسی ہراساں کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
کسانوں کی تحریک کےغیرسیاسی ہونے کواس کی اضافی قوت کی صورت میں دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ہندو مسلم بھائی چارے کی یہ مہم سیاسی نفع نقصان سے وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ قابل اعتماد ہے اور زیادہ امیدیں جگاتی ہے۔
پولیس کی جانب سےیہ کارروائی سخت یو اے پی اے قانون کے تحت پچھلے سال درج ایک معاملے کو لےکر کی گئی ہے، جو کشمیر کے صحافیوں اور کارکنوں کو جان سے مارنے کی دھمکی سے متعلق ہے۔
ویڈیو: سنیکت کسان مورچہ نےمظفر نگر کی کسان مہاپنچایت سے ایک بار پھر اپنی تحریک کورفتار دینے کی کوشش کی۔اس مہاپنچایت میں کسانوں کا بڑا ہجوم دیکھ دیکھا گیا۔مغرب اور شمال کے کسان بڑی تعداد میں یہاں پہنچے۔ دی وائر نے مہا پنچایت میں شامل کسانوں سے بات کی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ 28 اگست کو امرتسر واقع یادگارجلیانوالہ باغ کمپلیکس کا افتتاح کیا تھا۔ تزئین اور جدیدکاری کے تحت 1919 کی اس خونچکاں یادگارکو دکھانے کے لیے ساؤنڈ اینڈ لائٹ شو کانظم کیا گیا ہے۔ 13 اپریل1919 کو جلیانوالہ باغ میں نہتے لوگوں پر جنرل ڈائر نے گولیاں چلوائی تھیں، جس میں تقریباً 1000 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔
ترنگے میں لپٹے ایک سابق وزیر اعلیٰ او رگورنر کےجسدخاکی کےنصف حصے پر اپنا جھنڈا ڈال کربی جے پی نے کلی طور پر واضح کر دیا کہ قومی علامتوں کےاحترام کےمعاملے میں وہ اب بھی‘اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت’ کی اپنی پالیسی سے پیچھا نہیں چھڑا پائی ہے۔
جب قومی پرچم کو اکثریتی جرائم کو جائز ٹھہرانے کےآلے کےطورپر کام میں لایا جانے لگےگا تووہ اپنی علامتی اہمیت سےمحروم ہوجائےگا۔ پھر ایک ترنگے پر دوسرا دو رنگا پڑا ہو، اس سے کس کو فرق پڑتا ہے؟
بی جے پی کےسینئررہنما اوراتر پردیش کےسابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کا 20 اگست کوطویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ اتوار کو ان کےتعزیتی اجلاس میں وزیر اعظم کی موجودگی میں بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے ان کےجسد خاکی پرقومی پرچم کے اوپر پارٹی کا جھنڈا رکھے جانے پراپوزیشن نےاعتراض کیا ہے۔
خصوصی رپورٹ: گزشتہ دنوں راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ کا نام بدل کر میجر دھیان چند کے نام پر رکھنے کااعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ملک کے کئی لوگوں نے ان سے ایسا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب پی ایم او نے یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ انہیں ایوارڈ کا نام بدلنے کے لیے کتنے درخواست ملے تھے۔
نیلیش گجانن مراٹھے نام کے ایک شخص نے آر ٹی آئی درخواست دائر کرکے پوچھا تھا کہ کیا ان کے دو موبائل فون کی کوئی غیر قانونی فون ٹیپنگ کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں وزارت داخلہ نے کہا کہ ٹیلی گراف قانون کے تحت اصول کے مطابق فون ٹیپنگ کا اہتمام ہے، لیکن اس کی جانکاری نہیں دے سکتے کیونکہ یہ قانون کے مقصد کو ہی بے معنی کر دےگا۔
دی وائرکی خصوصی رپورٹ: آرٹی آئی کے تحت حاصل کیے گئے خفیہ دستاویز بتاتے ہیں کہ ریزرو بینک نے اپنی رسک اسسمنٹ رپورٹ میں پنجاب نیشنل بینک کی کئی سنگین خامیوں کو اجاگر کیا تھا، لیکن اس میں ان محکمہ جاتی کمیوں کو ٹھیک کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیرا کاروباریوں میہل چوکسی اور نیرو مودی نے 13000 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا۔
ویڈیو: انڈیا ٹو ڈے میگزین کی جانب سے کیے گئے ‘موڈ آف دی نیشن’ سروے میں پایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جو پچھلے سال تک ملک کے 66 فیصد لوگوں کے لیے اگلے وزیر اعظم کے طور پر پہلی پسند تھے۔ حالانکہ اس مقبولیت میں 24 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
مسلسل اقتصادی ترقی کےکسی بھی دور کے ساتھ ساتھ غربت میں کمی آتی ہے اور لیبرفورس زراعت سے انڈسٹری اورسروس سیکٹر کی طرف گامزن ہوتا ہے۔حالیہ اعدادوشمار دکھاتے ہیں کہ ملک میں ایک سال میں تقریباً1.3کروڑ مزدور ایسےسیکٹر سے نکل کر کھیتی سے جڑے ہیں۔ عالمی وبا ایک وجہ ہو سکتی ہے،لیکن مودی سرکار کی اقتصادی پالیسیوں نے اس کی زمین پہلے ہی تیارکردی تھی۔
صوبے کی170بلدیات میں سے 68 کے ڈیٹا کےتجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ 2020 اور اپریل2021 کے بیچ16892‘اضافی موتیں’ ہوئیں۔اگر پورے صوبے کے لیےاسی ڈیٹاکی توسیع کریں تو اس کا مطلب ہوگا کہ گجرات میں کووڈ سے ہوئی اصل موتوں کا ڈیٹا کم از کم 2.81 لاکھ ہے۔
ویڈیو: پوروانچل کے بنارس واقع واحدہنومان پرساد پودار اندھ ودیالیہ ایک سال پہلے نویں جماعت سے اوپر کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اب طلباسلسلہ وارمظاہروں کے ذریعےیہ معاملہ اٹھا رہے ہیں۔ اسے سرکار اور ٹرسٹ مل کر چلاتے ہیں۔ پچھلے سال ہی ٹرسٹ کے ممبروں نے اسے بند کرنے کی بات کہی تھی۔صرف250اسٹوڈنٹ والے اس ادارے کو چلانے میں جو ٹرسٹی تعاون کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے سرکار اب اتنی مدد نہیں کر رہی کہ اس کو چلایا جا سکے۔
بنا درخواست دیے ہی سابق صحافی ادے مہر کر کی سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں تقرری ہوئی تھی۔ انہوں نے مودی ماڈل پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی تقرری کو لےکربھی تنازعہ ہوا تھا۔ حال کے دنوں میں مہر کر نے اپنے کچھ ٹوئٹس میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی پالیسیوں کو لے کر اپنی حمایت کا اظہار کیاہے۔
مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ آندھر اپردیش کو چھوڑکر کسی بھی صوبے نے بالخصوص آکسیجن کی دستیابی کی کمی کی وجہ سےکووڈ 19مریضوں کی موت کی اطلاع نہیں دی ہے۔اس سے پہلے مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ کووڈ 19 مہاماری کی دوسری لہر کے دوران کسی بھی صوبے یا یونین ٹریٹری سے آکسیجن کے فقدان میں کسی بھی مریض کی موت کی خبر نہیں ملی ہے۔
جس دن اخباراور ٹی وی چینل جیولن تھرو میں نیرج چوپڑا کے اس کارنامے کی تفصیلات چھاپ رہے تھے،جس دن نیرج کے پہلے کوچ نسیم احمد کشور انہیں یاد کر رہے تھے، اسی دن دہلی میں سینکڑوں لوگ ہندوستان کے نسیم احمد جیسے نام والوں کو کاٹ ڈالنے کے نعرے لگا رہے تھےاورہندوؤں کو ان کا قتل عام کرنے کا اکساوا دے رہے تھے۔ یہ لوگ بھی، نسیم احمدجیسے نام ایک طرح سے ہندوستان کے کشمیر ہیں، پورے ہندوستان میں بکھرے ہوئے!
مرکزی وزیرمملکت برائےداخلہ نتیانند رائےنے لوک سبھا میں بتایا کہ ابھی تک سرکار نے قومی سطح پر ہندوستانی شہریوں کا قومی رجسٹر تیارکرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ حالانکہ مردم شماری 2021 کے پہلے مرحلے کے ساتھ شہریت ایکٹ 1955 کے تحت این پی آر کو اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ ضرور لیا ہے۔
ویڈیو: دہلی کےجنتر منتر پرگزشتہ نو اگست کو خواتین کسانوں نے کسان سنسد کا اانعقاد کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے مرکزی حکومت کےخلاف عدم اعتماد کی تحریک کو پاس کیا۔ مہیلا کسان سنسد میں شریک ہونے کے لیے دہلی اور آس پاس کے علاقوں کی خواتین جنتر منتر پہنچیں اور اپنی بات رکھی۔