پولٹزر ایوارڈیافتہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو نے منگل کے روز کہا کہ انہیں ویزا اور ٹکٹ ہونے کے باوجود دہلی ہوائی اڈے پر روک دیا گیا۔ وہ پولٹزر پرائز کی تقریب میں شرکت کے لیے نیویارک جا رہی تھیں۔ اس سے قبل جولائی میں انہیں پیرس جانے سے روکا گیا تھا۔
دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عمر خالد کیس کے دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات پہلی نظر میں درست ہیں ۔ دہلی پولیس کے ذریعےستمبر 2020 میں گرفتار خالد نے ضمانت کے لیے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ شمال–مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد میں ان کا کوئی مجرمانہ رول نہیں تھا۔
سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹ کے سابق ججوں پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی لاپرواہی، تشدد میں دہلی پولیس کی ملی بھگت، میڈیا کی تفرقہ انگیز رپورٹنگ اور سی اے اے مخالف مظاہرین کے خلاف بی جے پی کی نفرت انگیز مہم دہلی فسادات کے لیے مجموعی طور پرذمہ دار تھے۔
سابق مرکزی وزیر سوامی چنمیانند سرسوتی نے شاہجہاں پور کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت کا رخ کیا تھا، جس میں ان کے خلاف درج ریپ کے معاملےکو واپس لینے کی مانگ والی ریاستی حکومت کی عرضی کومنظور کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن کو دی گئی انتخابی اخراجات کی تفصیلات میں بی جے پی نے بتایا ہے کہ اس سال پانچ ریاستوں کے انتخابات میں اس نے 344.27 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ پارٹی نے پانچ سال پہلے انہی ریاستوں میں 218.26 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ تاہم، کانگریس نے بھی ان ریاستوں میں 2017 کے مقابلے 80 فیصد زیادہ 194.80 کروڑ روپے خرچ کیے۔
دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کی سازش کرنے کے الزام میں اسٹوڈنٹ لیڈعمر خالد ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔ قید کے دو سال پورے ہونے پر ایک پروگرام میں ان کی والدہ صبیحہ خانم نے کہا کہ عمر کو نہ صرف ضمانت ملنی چاہیے بلکہ ان کے خلاف تمام معاملے بھی بند ہونے چاہیے۔
خصوصی رپورٹ: دی رپورٹرز کلیکٹو کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ گوا کے دو گاؤں– امونا اور نویلیم میں ویدانتا کے کچا لوہا بنانے والے دو آئرن پلانٹس کو چلانے میں ماحولیاتی قوانین کی شدید خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘مفت کی ریوڑی’ والے بیان کے بعدجہاں ہر طرح کے ماہرین اقتصادیات سبسڈی کی خوبیوں اور خامیوں کی پیچیدہ باریکیوں کو سمجھنےکے لیےمجبور ہو گئے ہیں، وہیں مودی کے لیے اس ایشو کو کھڑا کر پانا ہی ان کی کامیابی ہے۔
پاکستان کے برعکس ہندوستان میں سویلین حکومتیں اور سیاستدان لاکھ اختلافات کے باوجود ملک کے وسیع تر مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔پاکستان کے لبرل مدبرین اس سوال پر بس یہ کہہ کر جان چھڑاتے ہیں کہ ان کے ملک میں ملٹری سویلین حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر جب سویلین حکمران بھی اقتدار میں آتے ہیں، تو کیا وہ توازن برقرار رکھ پاتے ہیں؟ جمہوی نظام کو چلانے کے لیے توازن برقرار رکھنا ایک لازمی امر ہے اورایک کامیاب جمہوریت کے لیے آئین کو چلانے کے لیے امبیڈ کر کی نصیحت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
عمر خالد دہلی فسادات سے متعلق معاملے میں ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔ اس کی مذمت کرتے ہوئے فلسفی، ممتاز دانشور اور ماہر لسانیات نوم چومسکی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ خالد کے خلاف جو ایک واحد ثبوت پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ بولنے اور احتجاج کرنے کے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے تھے، جو ایک آزاد معاشرے میں شہریوں کا بنیادی حق ہے۔
سال 2022 کے لیے ‘فیچر فوٹوگرافی کے زمرے’ میں پولٹزر ایوارڈجیت چکیں کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو ہندوستان سے فرانس کے لیے اڑان بھرنے والی تھیں۔ ان کے پاس یہاں کا ویزا بھی تھا، اس کے باوجود امیگریشن حکام نے کوئی وجہ بتائے بغیران سے کہا کہ وہ بین الاقوامی سفر نہیں کر سکتی ہیں۔
بی جے پی کے اس دور میں ہر کام مودی کے نام پر ہوتا ہے۔ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی اپنے معمول کے فیصلوں کے پیچھے عزت مآب وزیر اعظم کی مؤثر قیادت کو کریڈٹ دیتے ہیں۔ مہاراشٹر کے معاملے میں بی جے پی کیا کہنا چاہتی ہے۔وہ پہلے طے کر لیں کہ نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کو اعزاز بتا کر دیویندر فڈنویس کی توہین کرنی ہےیا جے پی نڈا کی ؟ کیا یہ نڈا کو تمسخر کا نشانہ بنا نا نہیں ہے کہ وہ کم از کم ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کا فیصلہ لینے لگے ہیں؟
ایسے پاکستانی شہریوں کی شہریت کی درخواستوں کو فاسٹ ٹریک کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے دو نوٹیفیکیشن اور شہریت قانون کے پاس ہونے کے باوجود اب تک اس معاملے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ شاہ فیصل نے اپنے تمام سابقہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیے ہیں، جو مرکزی حکومت کی تنقید میں لکھے گئے تھے۔ ساتھ ہی وہ سوشل میڈیا پر موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے زبردست حامی نظر آ رہے ہیں۔ ان دنوں وہ اکثر اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی تقاریر، بیانات اور اعلانات کو شیئر کر رہے ہیں۔
جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں چارہ گھوٹالہ کے تمام پانچوں معاملے میں اب آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کو ضمانت مل گئی ہے۔ اب ان کے خلاف پٹنہ میں ہی چارہ گھوٹالہ کے معاملے زیر سماعت رہ گئے ہیں۔
یہ طاہر حسین کی جانب سے نئے سال کی مبارکباد پیش کرنےکے لیے ایک ستون پر بورڈ لگا کر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا معاملہ تھا۔ چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے بالکل بھی ثبوت نہیں ہیں کہ حسین یا ان کی جانب سے کسی نے وہ ہورڈنگ لگائی تھی۔
ہندوستان میں واجپائی تیسرے اور آخری وزیراعظم تھے، جن کو پارلیامنٹ میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی وجہ سے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔
ویڈیو: حال ہی میں ختم ہوئے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ریاست میں دوبارہ حکومت بنا لی ہے۔ یوگی کابینہ کا اعلان کچھ دن پہلے ہی ہوا ہے۔ کابینہ میں صرف ایک مسلمان چہرے دانش آزاد انصاری کو شامل کیا گیا ہے۔
عمر خالد کی ضمانت عرضی مسترد کرنے کے اپنے فیصلے میں عدالت یہ تسلیم کر رہی ہے کہ وکیل دفاع کی جانب سے پولیس کے بیان میں جو تضادات یا خامیاں نشان زد کیے گئے وہ ٹھیک ہیں۔ لیکن پھر وہ کہتی ہے کہ بھلے ہی تضاد ہو، اس پروہ ابھی غور نہیں کرے گی۔ یعنی ملزم بغیر سزا کے سزا بھگتنے کے لیےملعون ہے!
جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد کو دہلی پولیس نے ستمبر 2020 میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورہ ہندوستان کے دوران دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کی منصوبہ بندی کے الزام میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔
بی جے پی کو یوپی میں اکثریت تو ضرور مل گئی، لیکن اس کی اتحادی پارٹیوں کے ووٹ فیصد کو شامل کرنے کے بعد بھی وہ صرف 45 فیصد کے قریب ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ کس طرح الیکشن میں فرقہ پرستی پر زور دیا گیا،یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ باقی 55 فیصد ووٹ بی جے پی مخالف تھے۔
اعجاز احمد نے جنوری 2008 میں بھوپال کی ایک ادبی تنظیم ’سروکار سہکارِتا‘کی دعوت پر فضل تابش کی یاد میں دو لیکچر بھوپال میں دیے تھے۔ لیکچرز کا موضوع ‘نو سامراجیت کے خلاف تہذیبی مزاحمت’ تھا۔
بی جے پی نے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے تین ترپ کے پتوں یعنی گائے، مسلمان اور پاکستان میں سے مسلمان کا جم کر استعمال کیا۔
کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں 26 فروری 2020 سے جیل میں تھیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے،جس سے ظاہر ہو کہ عشرت جہاں فروری 2020 میں دہلی فسادات کے دوران شمال-مشرقی دہلی کے علاقوں میں موجود تھیں یا ان فسادات کی مبینہ سازش میں ملوث کسی تنظیم یا وہاٹس ایپ گروپ کی ممبر تھیں۔
ہندوستان میں تاریخ کو از سر نو لکھا جا رہا ہے۔ تاریخ میں بس ان ہی لیڈروں کی پذیرائی کی جارہی ہے، جن کو ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی توثیق حاصل ہے۔
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی سیٹوں کے لحاظ سے بھلے ہی پیچھے رہ گئی ہو، لیکن ووٹ فیصد کے معاملے میں اس نےبڑی لمبی چھلانگ لگائی ہے۔ اپنی انتخابی تاریخ میں پہلی بار اس کو 30 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔
اسد الدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے زیادہ تر امیدوار 5000 ووٹوں کا ہندسہ بھی پار نہیں کر سکے۔ اس مینڈیٹ کو قبول کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ پارٹیاں ای وی ایم کو قصوروار ٹھہرا رہی ہیں۔ خرابی ای وی ایم میں نہیں، عوام کے ذہنوں میں جو چپ لگائی گئی ہے وہ بڑا رول ادا کر رہی ہے۔
مظفرنگر فسادات کے ملزم رہے سنگیت سوم، وزیر سریش رانا، امیش ملک اور سابق ایم پی حکم سنگھ کی بیٹی مرگانکا سنگھ اپنی سیٹ نہیں بچا سکے۔ انتخابی مہم کے دوران مسلم مخالف بیان بازی کرنے والے ڈومریا گنج کے ایم ایل اے اور ہندو یوا واہنی کے ریاستی انچارج راگھویندر سنگھ بھی ہار گئے۔ اس کے ساتھ ہی یوگی حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ سمیت 11 وزیروں کو عوام نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
یوپی میں 403 سیٹوں پر اتری ی بی ایس پی کے کھاتے میں محض ایک سیٹ آئی ہے اور اسے کسی بھی اسمبلی میں سب سے کم 12.88 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ 1989 میں پارٹی کے قیام کے بعد سے اب تک کایہ بدترین مظاہرہ ہے۔ اس سے پہلے 1993 میں اسے کل 425 سیٹوں پر 11.1 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اگرچہ اس نے 164 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا اور 67 سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی ،اس لحاظ سے اسے 28.7 فیصد ووٹ ملے تھے۔
پانچ میں سے چار ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کو یقینی بنانے کے بعد بی جے پی ہیڈ کوارٹر پہنچے وزیر اعظم نریندر مودی نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش نے ملک کو کئی وزرائے اعظم دیے ہیں، لیکن پانچ سال کی مدت کار مکمل کرنے والے کسی وزیر اعلیٰ کےدوبارہ منتخب ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
اترپردیش اسمبلی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی کو لے کر گزشتہ دو تین دنوں سے چلائی جانے والی گمراہ کن مہم کو ریاست کی عوام نےدرکنار کرتے ہوئے بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو زبردست جیت دلائی ہے۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخاب میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی اور اتراکھنڈ کے ان کے ہم منصب پشکر سنگھ دھامی اپنی اپنی سیٹوں سے ہار گئے ہیں۔ پنجاب میں تین سابق وزرائے اعلیٰ – پرکاش سنگھ بادل، امریندر سنگھ اور راجندر کول بھٹل ،اتراکھنڈ میں ہریش سنگھ راوت اور گوا میں چرچل الیماؤکو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اتر پردیش میں نئی حکومت کی تصویراب تقریباًصاف ہوچکی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ اقتدار میں واپسی کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ اگرچہ اس کی نشستوں کی تعداد گزشتہ انتخابات کے مقابلے کم ہوئی ہے، لیکن اس نے زبردست اکثریت حاصل کی ہے۔ وہیں سماج وادی پارٹی کی کارکردگی میں بہتری نظر آرہی ہے، لیکن بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس تقریباًمیدان چھوڑ چکے ہیں۔
رویش کا بلاگ: وہ کون ہے جس کے دباؤ میں ہم اس سسٹم کو اپنائے ہوئے ہیں جو امریکہ، فرانس، جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک تک نہیں اپناتے؟ کس کا پریشر ہے ؟؟؟ اتنا ہی بتا دو کہ دباؤ اندرون ملک سے ہی کسی کا ہے یا کوئی بیرون ملک بیٹھا ہوا سب کچھ سنبھال رہا ہے؟
ایگزٹ پول کی شکل میں جو قیاس آرائیاں مشتہر کی جارہی ہیں ان کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی اپنے طریقہ کار کی سائنس اور معروضیت پر اتنا یقین نہیں ہے کہ اسے قیاس آرائیوں سے زیادہ کچھ سمجھا جائے۔
ویڈیو: اتر پردیش اسمبلی انتخاب کے حوالے سے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کو نشانہ بنانے والی بی جے پی اور یوگی حکومت کی انتخابی مہم پر بات چیت کر رہے ہیں سینئر صحافی شرت پردھان۔
ویڈیو: اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ‘بلڈوزر برانڈنگ’، ان کی انتخابی مہم اور سیاست پرسینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔
ویڈیو: اتر پردیش کے مرزا پور ضلع کے ایک گاؤں کے لوگ پچھلے کئی سالوں سے زندگی اور موت سے جوجھ رہے ہیں۔ اس گاؤں کا نام سون پور ہے۔ یہ گاؤں کئی پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے اور ان پہاڑیوں سے گلابی پتھر نکلتا ہے۔ پچھلی تین دہائیوں سے یہاں جاری کان کنی کی وجہ سے گاؤں کے لوگ دمہ، پھیپھڑوں اور سانس کی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
ویڈیو: اتر پردیش کے مئو کےچکی مسدوہی گاؤں کے رہنے والے لوگوں کی شکایت ہے کہ ہر سال سیلاب کی وجہ سے یہ گاؤں پوری طرح ڈوب جاتا ہے اور گاؤں کے لوگوں کو کشتی کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے۔
ویڈیو: اتر پردیش کے مئو میں کم از کم اجرت حاصل کرنے کے لیےبنکرجدوجہد کر رہے ہیں، کیوں کہ یوگی حکومت نے بجلی کی سبسڈی رد کردی ہے۔ دی وائر نے ان بنکروں سے ان کے مسائل اور ایشوز پر بات چیت کی۔