کیا حکومت فوج کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے؟
ویڈیو: فورس میگزین کے مدیر پروین ساہنی بتا رہے ہیں کہ کس طرح ہندوستانی فوج کو سیاست میں گھسیٹا جارہا ہےاورحکومت کس طرح فوج کوسیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
ویڈیو: فورس میگزین کے مدیر پروین ساہنی بتا رہے ہیں کہ کس طرح ہندوستانی فوج کو سیاست میں گھسیٹا جارہا ہےاورحکومت کس طرح فوج کوسیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
وزیر مملکت برائےامور داخلہ نتیانند رائے نے ایوان میں بتایا کہ اب تک سرکار نے این آرسی کوقومی سطح پر تیار کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہریت قانون اوراین آر سی کے تحت ڈٹینشن سینٹر کا کوئی اہتمام نہیں ہے۔
سال1977 بیچ کے آئی اے ایس افسر رہے پی کے سنہا کو ستمبر 2019 میں وزیر اعظم مودی کے پرنسپل ایڈوائزر کےعہدے پرمقرر کیا گیا تھا۔ وہ چار سالوں تک کابینہ سکریٹری کےطور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ آن آربٹریری ڈٹینشن نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اسٹوڈنٹ صفورہ زرگر کی میڈیکل کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے انتہائی سنگین الزمات میں بھی فوراً گرفتاری کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اقوام متحدہ نے ہندوستان سے ان کی حراستی حالات کی ایک آزادانہ تحقیق یقینی بنانے کو کہا ہے۔
کیا یہ صحیح وقت نہیں ہے کہ ملک میں پولیس سسٹم اور نظام عدل کو لےکر سوال اٹھائے جائیں؟
انتخابی اصلاحات کی سمت میں کام کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹکٹ ریفارمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سال 2016 سے 2020 کے دوران ہوئے انتخابات میں کانگریس کے 170ایم ایل اے دوسری پارٹیوں میں شامل ہوئے جبکہ بی جے پی کے صرف 18ایم ایل اے نے دوسری پارٹیوں کا دامن تھاما۔
سویڈن کے اس انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق سال 2014 میں بی جے پی اور نریندر مودی کی فتح کے بعد سے ملک کا جمہوری ڈھانچہ کافی کمزور ہوا ہے اور اب یہ‘آمریت ’ کی حالت میں ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں بتایا کہ ایک اگست 2019 کے بعد سے کئی علیحدگی پسندرہنماؤں، پتھراؤ کرنے والوں سمیت 627 لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے 454 لوگوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کوئی بھی نظربند نہیں ہے۔
کیا کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں میں بٹے عوام یکجا نہیں ہوسکتے؟کیا یہ خونی لکیرمٹ نہیں سکتی؟ کیا یہ فوجیوں کے جماؤ اور فائرنگ کے تبادلوں کے بدلے امن اور استحکام کی گزرگاہ نہیں بن سکتی؟ جب برطانیہ اور آئر لینڈسات سو سالہ دشمنی دفن کرسکتے ہیں، توہندوستان اور پاکستان بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کرکے ان کوعوام کی خواہشات کی بنا پر حل کرکے کیوں امن کی راہیں تلاش نہیں کرسکتے؟
ویڈیو: شہریت قانون (سی اے اے )کے خلاف ہوئے احتجاج میں شامل صفورہ زرگر کو یواے پی اےکے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری اس وقت ہوئی تھی جب وہ حاملہ تھیں۔ اس کو لے کر ان کی گرفتاری پر سوال کھڑے ہوئے۔ صفورہ زرگر سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
دہلی فسادات کے ایک ملزم کے بیان سےمتعلق دستاویز لیک ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر آپ کے افسر نے اس کو لیک کیا تو یہ اختیارات کا غلط استعمال ہے اور اگر اسے میڈیا نے کہیں سے لیا ہے تو یہ چوری ہے۔ اس لیے کسی بھی صورت میں یہ جرم ہے۔
دنیا میں جمہوریت پرنظر رکھنے والے ایک معتبر ادارےفریڈم ہاؤس کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی حقوق اورشہری آزادی میں تنزلی 2019 میں نریندر مودی کے دوبارہ چنے جانے کے بعد ہی شدید ہو گئی تھی اور عدلیہ کی آزادی بھی دباؤ میں آ گئی تھی۔ اس پر وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کو ‘پند ونصیحت ’ کی ضرورت نہیں ہے۔
ویڈیو:مغربی بنگال میں کس طرح کے انتخابی زاویے دیکھنے کو مل سکتے ہیں، کون کون سی پریشانیاں ہیں، کون کون سے مدعے ہیں، کیا یہ لڑائی صرف بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے بیچ ہی ہے؟ ان مدعوں پرسیاسی امور کےمحقق سجن کمار سے سیاسی امور کے لیےدی وائر کے ایڈیٹر اجئے آشیرواد کی بات چیت۔
ویڈیو: ایک سال پہلے فرقہ وارانہ فسادات میں شمال-مشرقی دہلی میں جان ومال کا کافی نقصان ہوا تھا۔ تب دی وائر نے شیو وہار کے متاثرین سے اس موضوع پر بات کی تھی۔ ایک سال بعد انہی لوگوں سے دوبارہ بات چیت۔
ویڈیو: دہلی فسادات کے ایک سال بعد بھی لوگ خوف میں جی رہے ہیں۔ فسادات میں ہوئے جان ومال کے نقصان کی بھرپائی ہو پانا ناممکن ہے۔ د ی وائر نے شیو وہار کے لوگوں سے بات کر کے ان کی پریشانی کو جاننے کی کوشش کی ۔
پچھلے مہینےبی جے پی صدر جےپی نڈا نے آئندہ تمل ناڈواسمبلی انتخاب کے لیےبی جے پی اور اےآئی اے ڈی ایم کےاتحاد کی تصدیق کی ہے۔اےآئی اےڈی ایم کےرہنما اور ریاست کے وزیر اعلیٰ کے پلانی سوامی نے ایک اجلاس میں اقلیتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اے آئی اےڈی ایم کے-بی جے پی اتحادسے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
نریندر مودی کواقتدارسنبھالے ساڑھے چھ سال ہو چکے ہیں اور اس دوران وہ لگ بھگ اتنی ہی بار رو چکے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کی سیاست ہی طے کرتی ہے کہ ان کے آنسوؤں کو کب بہنا ہے اور کب سوکھ جانا ہے۔
فیض کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے ہاں جسم کی موت اور زبان کی موت دو الگ الگ کیفیتیں تھیں جب کہ اس نئے عہد کے جملہ وارثان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے لیے زبان کی موت سرے سے کوئی حادثہ ہی نہیں ہے۔
دہلی کی ایک عدالت نے سماجی کارکن ہرش مندر کی جانب سے دائر اس شکایت پر دہلی پولیس کو کارروائی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے جس میں پچھلے سال فروری میں لوگوں کو دنگے کے لیےمبینہ طو رپر اکسانے کے الزام میں بی جے پی رہنما کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔
وزارت داخلہ نے بتایا کہ اصول وضوابط بنانے کے لیے لوک سبھا کمیٹی نے نو اپریل اور راجیہ سبھا کمیٹی نے نو جولائی تک کا وقت دیا ہے۔ دسمبر 2019 میں پاس ہوئےشہریت قانون کےتحت ضابطہ بنانے میں ایک سال سے زیادہ کی تاخیر ہو چکی ہے۔
جے این یو کے سابق اسٹوڈنٹ لیڈرعمر خالدنےالزام لگایا ہے کہ شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے دنگوں میں ان کے خلاف بدنیتی کے ساتھ میڈیا مہم چلائی گئی۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس میں ان کے ایک مبینہ بیان سے یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انہوں نے دنگوں میں اپنی شمولیت کی بات قبول کر لی ہے۔ یہ غیرجانبدارانہ شنوائی کے ان کے حق کے تئیں تعصب ہے۔
شمال-مشرقی دہلی فسادات معاملوں میں یو اے پی اےکے تحت مقدمے کا سامنا کر رہے کئی ملزمین نے دعویٰ کیا کہ آرڈر کے باوجود جیل میں انہیں چارج شیٹ تک رسائی نہیں دی گئی۔ کچھ ملزمین نے دعویٰ کیا کہ اسے پڑھنے کے لیے انہیں مناسب وقت نہیں دیا گیا۔
گزشتہ سال فروری میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئےتشددکے دوران گوکل پوری اوردیال پوری علاقوں میں آگ زنی اور توڑ پھوڑ کے معاملوں کے تین ملزمین کو ضمانت دیتے ہوئے مقامی عدالت نے کہا کہ ان کے نام نہ ایف آئی آر میں ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی خصوصی الزام ہیں۔
جس طرح ملک میں فرقہ وارانہ عداوتیں بڑھ رہی ہیں، اس سے مسلمانوں کے افسردہ اور اس سے کہیں زیادہ خوف زدہ ہونے کے متعدد اسباب ہیں۔سماج ایک‘بائنری سسٹم’سے چلایا جا رہا ہے۔ اگر آپ اکثریت سے متفق ہیں تو دیش بھکت ہیں، نہیں تو جہادی،اربن نکسل یاغدار، جس کی جگہ جیل میں ہے یا ملک سے باہر۔
ملزمین کو ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے ذریعے کی گئی شناخت کا بہ مشکل کوئی مطلب ہے، کیونکہ بھلے ہی وہ واقعہ کے وقت علاقے میں تعینات تھے، پر انہوں نے ملزمین کا نام لینے کے لیے اپریل تک کا انتظار کیا، جبکہ انہوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ انہوں نے ملزمین کو 25 فروری 2020 کو دنگے میں مبینہ طور پر شامل دیکھا تھا۔
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جب تک جموں وکشمیر کو آرٹیکل370 کے تحت ملے خصوصی درجے کو بحال نہیں کیا جاتا ہے، تب تک وہ انتخاب نہیں لڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار انہیں حراست میں لینا چاہتی ہے تو سیدھے ان کے پاس آئے، اورگھرکے ممبروں ، دوستوں اور پارٹی کے اتحادیوں کو پریشان کرنا بند کر دے۔
ویڈیو: سی اےاے، این آرسی اور لو جہاد کو لےکر مسلم مخالفت کی سیاست پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کی بات چیت۔
دہلی پولیس نے لکھا ہے کہ عمر خالد سیکولرازم کا نقاب اوڑھ کر شدت پسندی کو بڑھاوا دیتا ہے۔آپ کو بھی یہی لگتا ہے تو کم سے کم یہ مطالبہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ دہلی پولیس کے افسروں کو فلم ہدایت کار بن جانا چاہیے کیونکہ وہ لوگوں کے اندر چھپے اداکار کو پہچان لیتے ہیں۔
جے این یواسٹوڈنٹ یونین کے سابق رہنما عمر خالد کو شمال-مشرقی دہلی فسادات معاملے میں گزشتہ ستمبر میں گرفتار کیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے تین دن سے دانت درد کی شکایت کے بعد بھی تہاڑ جیل انتظامیہ نے کوئی علاج مہیا نہیں کرایا ہے۔
دہلی فسادات میں ملزم ایک شخص نے اپنے پڑوسیوں کے ذریعے ان کے گھر پر حملہ کرنے کاالزام لگایا تھا۔ پولیس نے ایسا کوئی جرم ہونے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ خود کو بچانے کے لیےملزم یہ الزام لگا رہا ہے۔
لوک جن شکتی پارٹی کے بانی اورمرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کےانتقال کے بعد یہ سیٹ خالی ہو گئی ہے۔ایل جے پی کے بہار این ڈی اے سے باہر آکر اپنے بل بوتے اسمبلی انتخاب لڑنے کے فیصلے کے ساتھ ہی بی جے پی نے اس سیٹ پر پھر سے اپنا دعویٰ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو اس نے اپنے کوٹے سے پاسوان کو دی تھی۔
بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اوربی جےپی رہنما سشیل مودی نے الزام لگایا ہے کہ چارہ گھوٹالے میں سزا کاٹ رہے لالو یادو نے اسمبلی اسپیکر کےانتخاب سے پہلے ان کے ایک ایم ایل اے کو اسمبلی میں غیرحاضر رہنے کے عوض میں وزیر کاعہدہ دینے کا لالچ دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک آڈیو کلپ بھی جاری کیا ہے۔ معاملے کی جانچ کے حکم دے دیے گئے ہیں۔
سیاست میں آنے سے پہلے میوہ لال چودھری بھاگلپور کے بہار اگریکلچر یونیورسٹی کے وی سی تھے۔ اسسٹنٹ پروفیسر کی بحالی میں بے ضابطگی کے الزامات اور ایف آئی آر درج کیے جانے کے مد نظر انہیں2017 میں نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو سے برخاست کر دیا گیا تھا۔
جے ڈی یو کو پھسلنے سے روکنے میں ناکام رہے نتیش کمار کیا اس بار اپنے ادھورے وعدے پورے کر پائیں گے یا پھر اس پاری میں وہ بی جے پی کے ایجنڈہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے کو مجبور ہوں گے؟
مودی کے رتھ کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ دارکانگریس ہے، جس کی من مانی اور زیادہ سے زیادہ سیٹیں لڑنے کی ضد نے سیکولر اتحاد کی کامیابی میں روڑے اٹکائے۔اب یہ اہم سوال مسلمانوں کے سامنے ہے کہ کیا وہ سیکولر پارٹیوں کا دامن تھامے رکھیں، جنہیں ان کی تعلیم و ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں اور جو ان کو صرف ووٹ بینک کی نظر سے دیکھتے ہیں یا جنوبی صوبہ کیرالا کا ماڈل اپنا لیں؟
بہاراسمبلی انتخاب میں125 سیٹیں حاصل کرکےاکثریت پانے والی این ڈی اے گٹھ بندھن نے 15سالوں تک نائب وزیر اعلیٰ رہےسشیل مودی کی جگہ بی جے پی کے دورہنماؤں تارکشور پرساد اور رینو دیوی کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا ہے۔ نتیش کمار کے ساتھ کل 14وزیروں نے حلف لیا ہے۔
سینئر کانگریسی رہنما کپل سبل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب لوگ کانگریس کو ایک مؤثر متبادل نہیں مان رہے ہیں۔ سبل کانگریس کے ان 23رہنماؤں میں سے ایک ہیں ،جنہوں نے صدرسونیا گاندھی کوخط لکھ کر پارٹی میں تبدیلی لانے، جوابدہی طے کرنے اور ہار کا صحیح تجزیہ کرنے کامطالبہ کیا تھا۔
بہاراسمبلی انتخاب میں کانگریس کے خراب مظاہرہ پر آر جے ڈی کے سینئررہنما شیوانند تیواری نے کہا کہ گٹھ بندھن کےلیے کانگریس رکاوٹ کی طرح رہی، اس نے انتخاب70 سیٹوں پر لڑا، لیکن70 ریلیاں بھی نہیں کیں۔انتخاب کے وقت راہل گاندھی پکنک منا رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ بایومیڈکل کچرا پولنگ افسران اور رائے دہندگان کے ذریعے استعمال کیے گئے دستانے، فیس ماسک اور سینٹائزر کی خالی بوتلوں سے اکٹھا ہوا ہے۔
کیا اویسی کی پارٹی نے بہار انتخاب میں ووٹ کاٹنے کا کام کیا جس سے مہاگٹھ بندھن کو شدید نقصان ہوا؟ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ مجلس نے جن پانچ سیٹوں پر جیت درج کی ہے وہاں اگریہ امیدوار ہی نہیں ہوتے تو مہا گٹھ بندھن کو کامیابی ملتی ؟