این آئی اے کے متاثر کن کنوکشن ریٹ یعنی سزا یابی کی اعلیٰ شرح کے تناظر میں ملزمین، ان کے وکیل اور ایجنسی سے وابستہ رہے ایک شخص نے دی وائر کو بتایا کہ آخر کیوں این آئی اے کے اتنے سارے معاملے ملزمین کے اقرار جرم کی درخواستوں کے بعد انہیں قصوروار تسلیم کرلینے کے ساتھ ہی انجام کو پہنچتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے شوہر کو کھوچکی خاتون کو سسر کی طرف سے دیے جانے والے گزارہ بھتہ سے متعلق ایک کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے منو اسمرتی کے اس اشلوک کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ماں، باپ، بیوی اور بیٹے کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اور جو بھی ایسا کرتاہے اسے سزا ملنی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے غیر سرکاری تنظیم لوک پرہری کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر غور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کو قانونی چارہ جوئی سے تاحیات استثنیٰ دینے والے قانون کے حوالے سے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ایسی چھوٹ، جو صدر یا گورنرز کو بھی حاصل نہیں ہے، انتخابی عہدیداروں کو نہیں دی جانی چاہیے۔
فروری 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ مبینہ ‘بڑی سازش’ کے معاملے میں پچھلے پانچ سالوں سے جیل میں بند گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان اور شفا الرحمان کو بدھ کی شام رہا کر دیا گیا۔
گزشتہ دنوں اناؤ ریپ کیس میں سپریم کورٹ نے سروائیور کو بڑی راحت دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت دینے کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ دریں اثنا، متاثرہ کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی کارروائی ہندی میں ہو، تو وہ اپنا مقدمہ خود لڑتے ہوئے دنیا کے سامنے ساری سچائی لا دیں گی۔
حالیہ برسوں میں عیسائیوں کے خلاف مہم میں تیزی آئی ہے۔ ہندوستان کی آبادی کے صرف 2.3 فیصد عیسائی ہیں۔ ہندوستان کی آبادی میں ان کا حصہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی رہا ہے۔ تو پھر تبدیلی مذہب کی وجہ سے عیسائیوں کی آبادی میں دھماکہ خیز اضافہ کا خطرہ اتنا حقیقی کیوں لگتا ہے؟
سپریم کورٹ کی جانب سے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد الیکٹورل ٹرسٹ کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو ملنے والا کارپوریٹ چندہ 2024-25 میں تین گنا بڑھ کر 3,811 کروڑ روپے پہنچ گیا ہے۔ نو الیکٹورل ٹرسٹوں نے مجموعی طور پر3,811.37 کروڑ کا چندہ دیا ہے، جس میں سے مرکز میں حکمراں بی جے پی کو3,112.50 کروڑ روپے ملے، جو کل چندے کا تقریباً 82 فیصد ہے۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی آے) کی جانب سے 100 فیصد سزایابی کی شرح کا دعویٰ کرنے کے ایک سال بعد دی وائر کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ طویل مدتی حراست، ضمانت سے انکار اور تفتیش کاروں کے دباؤ کی وجہ سے درجنوں ملزمین، جن میں بیشتر مسلمان ہیں، اپنا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی خود کو مجرم مان لینے کو مجبور ہو رہے ہیں۔
بی جے پی کو 2024-25 میں مختلف الیکٹورل ٹرسٹوں سے 959 کروڑ روپے کا سیاسی چندہ ملا، جن میں سے تقریباً 757 کروڑ روپے، جو اس پارٹی کو موصول ہوئے کل چندے کا 83 فیصد ہے، ٹاٹا گروپ کے زیر کنٹرول پروگریسو الیکٹورل ٹرسٹ سے آئے۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2025 کو بی جے پی آسام یونٹ نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کیا، جس میں یہ ‘گمراہ کن اور جھوٹا بیانیہ’ پیش کیا گیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں نہیں رہی تو مسلمان آسام پر قبضہ کر لیں گے۔ اس ویڈیو کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ کے مطابق، اس وقت سپریم کورٹ میں 69,553 دیوانی اور 18,864 فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔ اگست 2025 میں دائر کیے گئے نئے مقدمات کی تعداد (7,080) نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد – 5667 سے زیادہ رہی۔
سپریم کورٹ نے 22اگست کو دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن، کنسلٹنگ ایڈیٹر کرن تھاپر اور تمام ملازمین کو بی این ایس کی دفعہ 152 کے تحت گوہاٹی پولیس کی جانب سے درج کیس میں کسی بھی تعزیری کارروائی سے تحفظ فراہم کیا ہے۔ تین ماہ میں آسام پولیس کی طرف سے ادارے کے خلاف سیڈیشن کے قانون کے تحت درج کیا گیا یہ دوسرا معاملہ ہے۔
آسام پولیس کی طرف سے دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور کنسلٹنگ ایڈیٹر کرن تھاپر کو طلب کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ایف آئی آر کئی دنوں کی آن لائن اور آف لائن کوششوں کے بعد بالآخر بدھ (20 اگست) کو مل سکی، جس میں دی وائر سے وابستہ کئی صحافیوں اور کالم نگاروں کو نامزد کیا گیاہے۔
گوہاٹی کرائم برانچ نے ریاستی پولیس کی جانب سے درج کیے گئے ایک نئے ‘سیڈیشن’ کیس میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور سینئر صحافی کرن تھاپر کو سمن جاری کیا ہے۔ تاہم ،ایف آئی آر کی تاریخ، مبینہ جرم کی جانکاری اور ایف آئی آر کی کوئی کاپی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
پریس کلب آف انڈیا اور انڈین ویمن پریس کور نے آسام پولیس کی طرف سے دی وائر اور اس کے صحافیوں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی بی این ایس کی سخت دفعہ 152 کو ‘پریس کو خاموش کرنے کا ہتھیار’ قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مذکورہ معاملے اسی دفعہ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے تنازعہ اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی وضاحت پیش کی، لیکن اہم سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ راہل گاندھی سے حلف نامہ طلب کیا گیا، جبکہ بی جے پی ایم پی انوراگ ٹھاکر پر خاموشی اختیار کی گئی۔ غیر ملکی تارکین وطن، دستاویزوں اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
بہار کے ووٹر دیکھ رہے ہیں کہ کون ان کے حقوق کی حفاظت کر رہا ہے اور کون ان کی خاموشی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔آنے والے انتخابات نہ صرف حکومت بدلنے کی لڑائی ہوں گے بلکہ اس میں اس بات کا بھی امتحان ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جمہوریت کی کسوٹی پر میں کون کھرا اترتا ہے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ بہار ایس آئی آر کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ناموں کو اپنی ویب سائٹ پر ہٹانے کی وجوہات کے ساتھ شائع کرے۔ نیز، اس عمل کے لیے تسلیم شدہ دستاویزوں میں آدھار کو شامل کرے۔
سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں تقریباً تین سال پہلے ہوئے ہریانہ کے پانی پت کی ایک گرام پنچایت کے سرپنچ کے انتخاب کے نتائج کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ملک کا پہلا معاملہ بتایا جا رہا ہے، جہاں عدالت عظمیٰ نے الیکشن میں استعمال ہونے والی ای وی ایم اور دیگر ریکارڈ کو طلب کیا اور اپنے احاطے میں ہی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروائی، جس کے بعد نتائج پلٹ گئے۔
الیکشن کمیشن کا یہ بیان کہ 1 لاکھ پولنگ بوتھ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے میں 273 سال لگیں گے، بیل گاڑی کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ کیا کمیشن نہیں جانتا کہ ڈیٹا اینالیٹکس میں ہندوستان نے کتنی ترقی کرلی ہے؟
بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کو لے کر سپریم کورٹ میں بحث شہریت ثابت کرنے کے معاملے پر مرکوز ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، اس کوشہریت کا ثبوت مانگنے کا اختیارہے۔ لیکن وزارت داخلہ ایسے دستاویزوں کی فہرست نہیں دے پا رہا ہے جو شہریت کو ثابت کرتے ہوں۔
بہار کے بھوجپور ضلع کے آرہ اسمبلی حلقہ کے 41 سالہ منٹو پاسوان کو الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر مہم کے تحت جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں مردہ قرار دے دیا تھا۔ 12 اگست کو پاسوان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
سپریم کورٹ نے منگل کو ‘دی وائر’ کے مالکانہ حق والے ٹرسٹ ‘فاؤنڈیشن فار انڈیپنڈنٹ جرنلزم’ کے ارکان اور بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کو بی این ایس کی دفعہ 152 کے تحت آسام پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے سلسلے میں کسی بھی تعزیری کارروائی سے تحفظ فراہم کیا ہے۔
بہار میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) پر تنازعہ جاری ہے۔ 1 اگست کو جاری کی گئی مسودہ فہرست سے 65 لاکھ نام ہٹائے گئے ہیں۔ اپوزیشن اس پورے عمل کے خلاف سڑکوں پر ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس عمل کے شفاف نہ ہونے اور بعض طبقات کو نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔ ڈرافٹ لسٹ کئی طرح کی بے ضابطگیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے پی ایم ایل اے کے تحت ای ڈی کی گرفتاری، تلاشی اور ضبطی کے اختیارات کو برقرار رکھنے کے اپنے فیصلے پر دائر نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی ایجنسی کو پھٹکار لگائی اور ایسے معاملات میں سزا کی کم شرح پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
بہار میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں غریب، مسلم اکثریتی اور روزی روٹی کے لیے دوسری ریاستوں میں جانے والے اضلاع سے بڑی تعداد میں ناموں کو حذف کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت، ہجرت اور ناموں کے ہٹائے جانے کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر یادو نے وشو ہندو پریشد کے ایک پروگرام میں مسلمانوں کے خلاف متنازعہ بیان دیا تھا، جس کے بارے میں سپریم کورٹ اندرونی تحقیقات شروع کرنا چاہتی تھی، لیکن راجیہ سبھا سکریٹریٹ نے واضح کیا کہ یہ اختیار صرف پارلیامنٹ اور صدرجمہوریہ کے پاس ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو تمل ناڈو اسٹیٹ مارکیٹنگ کارپوریشن (ٹی اے ایس ایم اے سی) کے خلاف تحقیقات پر روک لگا دی اور ای ڈی کو حدیں پار کرنے پر سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر سکتے ہیں، لیکن کارپوریشن کے خلاف فوجداری مقدمہ درج نہیں کر سکتے؟
بی جے پی رکن پارلیامنٹ نشی کانت دوبے کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کے بعد سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہا کہ کچھ لوگوں کے لیے مذہبی پہچان نفرت کی سیاست کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ میں اس ہندوستان میں یقین رکھتا ہوں، جہاں کسی کو اس کی صلاحیت اور خدمات سے پہچانا جاتا ہے، نہ کہ مذہب سے۔’
سپریم کورٹ کے خلاف ریمارکس کے لیے بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے وکیل انس تنویر نے کہا کہ دوبے نے فرقہ وارانہ طور پرپولرائزیشن کرنے والے بیان دیےتھے، جو براہ راست سپریم کورٹ کی غیر جانبداری پر شک وشبہات کوجنم دیتا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے صدر جمہوریہ کو ریاستوں کے گورنروں کی طرف سے بھیجے گئے بلوں پر فیصلہ لینے کے لیے ٹائم لائن دینے کے چند دنوں بعد نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے آرٹیکل 142- جو سپریم کورٹ کو اختیارات دیتا ہے – کو ‘جمہوری قوتوں کے خلاف جوہری میزائل’ قرار دیا۔
وقف (ترمیمی) ایکٹ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوسرے دن مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ اگلی سماعت تک کسی بھی وقف جائیداد کو ڈی- نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی غیر مسلم کو کسی وقف بورڈ یا کونسل میں تقرری دی جائے گی۔
وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا مرکزی حکومت مسلمانوں کو ہندو بندوبستی بورڈ میں شامل کرنے کے لیے تیار ہے، جس طرح سے وہ وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کا مطالبہ کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں میونسپل کے سائن بورڈ پر اردو کے استعمال کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ ‘قانون کی کسی بھی شق کے تحت اردو کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ مراٹھی اور اردو کو آئین ہند کے شیڈول آٹھ کے تحت یکساں مقام حاصل ہے۔’
کنال کامرا کے ویڈیو پر پیدا ہوئے سیاسی تنازعہ اور سیاست دانوں کی جانب سے اظہار رائے کی ازادی پر ‘حدود’ طے کرنے کے بارے میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ میناکشی تیواری کی بات چیت۔
‘نیا بھارت’ ویڈیو کے بعد درج معاملے میں اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا کو مدراس ہائی کورٹ نے پیشگی ضمانت دی ہے۔ دریں اثنا، پونے میں مبینہ طور پر شیو سینا (یو بی ٹی) کی جانب سے لگائے گئے ایکناتھ شندے کے کارٹون والے پوسٹر پربھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ الٰہ آباد کے وکیل ذوالفقار حیدر، پروفیسر علی احمد اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جن کے گھروں کو2021 میں منہدم کر دیا گیا تھا۔ بنچ نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ نوٹس جاری کرنے کے 24 گھنٹے کے اندر اپیل کا وقت دیے بغیر بلڈوزر سے مکانات گرا دیے گئے۔
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے کے خلاف طنزیہ تبصرے پر سیاسی تنازعہ کے درمیان اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے کہا کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے۔ دریں اثنا، سی ایم دیویندر فڈنویس نے کامرا پر آئینی حقوق کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے اور انہیں ‘اربن نکسل’ بتایا ہے۔
مودی حکومت پر تلخ تبصروں کے لیےمعروف اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے اپنے نئے شو ‘نیا بھارت’ میں ‘دل تو پاگل ہے’ گانے کی پیروڈی میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد شیوسینکوں نے اس کامیڈی کلب میں توڑ پھوڑ کی جہاں یہ شو ریکارڈ کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ضمانت کی ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو مبینہ ریپ کیس میں تبدیلی مذہب ایکٹ کے تحت جرم عائد کرنے پر پھٹکار لگائی اور کہا کہ ریاست اس میں غیر جانبدارنہیں ہے۔