گزشتہ20جولائی کو نوجوانوں کے ’سنسدچلو‘مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق تمام خبروں کے درمیان راہل گاندھی نے جمعہ کو ساحل نامی ایک نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 20 جولائی کو دہلی میں پرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے 19 سالہ ساحل کے چہرے پر پیلٹ گن سے حملہ کیا تھا۔
جمعہ کو مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کہا کہ اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اگلے ایک دو دن کے اندر استعفیٰ نہیں دیتے تو پارٹی ایک اور ملک گیر تحریک کا اعلان کرے گی۔ مرکزی حکومت نے سی جے پی کو سنیچر (25 جولائی) دوپہر 3:30 بجے پھر سے بات چیت کے لیے بلایا ہے۔
قومی دارالحکومت دہلی کے ایک وکیل نے جنوب-مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کو بھیجی گئی شکایت میں الزام لگایاہے کہ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب، جب وہ جنتر منتر جانے کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کی مدد کے لیے نظام الدین تھانے پہنچے، تو پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔ پولیس نے یہ کہتے ہوئے کہ انہیں حراست میں لینا غیر قانونی نہیں تھا، مار پیٹ کے الزام سے انکار کیا ہے۔
ملک بھر میں امتحانات میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ امتحانات منعقد کرنے والے ادارے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی منظور شدہ 39 اسامیوں میں سے 15 خالی ہیں۔ یہ ایجنسی اپنے زیادہ تر کاموں کے لیے آؤٹ سورسنگ کا سہارا لیتی ہے۔
مرکزی حکومت نے محکمہ مویشی پروری و ڈیری کے سکریٹری نریش پال گنگوار کو نیا ہائر ایجوکیشن سکریٹری مقرر کیا ہے۔ راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر کے خاندان کو ’کامرشیل فصلوں‘، خصوصی طور پر کھیرے کی کھیتی کوبڑھاوا دینے کے لیےنیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کی ایک سرکاری اسکیم کے تحت 1.16 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرکاری سبسڈی ملی تھی۔
پیپر لیک کے بعد 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ کے ری-اگزام میں شامل ہونے والے ایک درجن سے زیادہ امیدواروں نے امتحان سے چند دن پہلے ہی خودکشی کر لی تھی۔ 19 سالہ ثنا شیخ بھی انہی طلبہ میں ایک تھیں۔ ان کے والدین طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں دہلی کے جنتر منتر پہنچے اور انہوں نے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں طلبہ کی تحریک پر پارلیامنٹ میں جواب دینا چاہیے تھا، نہ کہ یکطرفہ ویڈیو پیغام جاری کرنا چاہیے تھا۔ کھڑگے نے وزیر اعظم سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانے اور طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ وہیں، راہل گاندھی نے پیپرلیک معاملے میں حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ سے تحریک سے دور رہنے کی اپیل کرنے پر دہلی یونیورسٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک بھر میں جاری نوجوانوں کی تحریک کے دباؤ کے درمیان وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعرات کی رات دیر گئے پہلی بار اس معاملے پر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ دو ماہ میں پیپر لیک کوروکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔اس پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پی ایم پر طلبہ کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔
سی بی آئی کا کہنا ہے کہ نیٹ-یو جی 2024 کے پیپر لیک معاملے کی جانچ کے دوران مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘سنجیو مکھیا کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ اس کی جانچ میں مذکورہ سوالیہ پرچہ چوری کی پوری سازش بے نقاب ہو چکی ہے اور اس میں شامل تمام لوگوں کو قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
طلبہ کے مسائل پر بحث اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر مسلسل چوتھے دن بھی پارلیامنٹ کی کارروائی بغیر کسی کام کاج کے بار بار ملتوی ہوتی رہی، اور آخرکار پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔پارلیامنٹ کے باہر جب صحافیوں نے کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا سے احتجاج اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا،’وزیراعظم ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، اور آپ اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ ایوان کیوں نہیں چل رہا؟ ‘
گزشتہ20 جولائی کو نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج میں شامل ایک چوتھا شخص بھی پیلٹ جیسی چوٹوں کا علاج کرا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق ڈاکٹروں نے زخمی ہوئے 19 سالہ اس شخص کے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی واپس آنے کا صرف ’ایک فیصد امکان‘ہے۔
سڑک سے لے کر پارلیامنٹ تک نیٹ پیپر لیک اور مختلف امتحانات میں گڑبڑی کو لے کر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے مطالبے کے درمیان پہلی بار وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ملک کے نوجوانوں کا مفاد اور ان کا مستقبل ہماری اولین ترجیح ہے۔ تاہم، اس کے جواب میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور سی جے پی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگا ہے۔
ملک کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد ان کا ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں کچھ وقت کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم، بدھ کی دوپہر کے بعد ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں بحال کر دیے گئے۔
سوموار کو ’سنسد مارچ‘ کے دوران زخمی ہونے والے 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری کی لیڈی ہارڈنگ اسپتال میں سرجری ہوئی ہے۔ ان کے دوست نے دعویٰ کیا کہ انہیں ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار کی جانب سے چلائے گئے پیلٹ گن جیسے ہتھیار سے چوٹ لگی۔ تاہم، دہلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
سنسد مارچ کے بعد سی جے پی کی تحریک جاری ہے۔ مرکز نے دہلی میں سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ حکومت نے نیٹ پیپر لیک پر پارلیامنٹ میں بحث کی بات کہی ہے، لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ اسی بیچ، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے اپناوہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اجیت سنگھ سندھو اور میجر اوتار سنگھ کی داستانیں یہ یاد دلاتی رہیں گیں کہ جب دنیا کی عدالتیں اور حکومتیں اپنے خونی کارندوں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قدرت خود مدعی بن کر میدان میں اترتی ہے۔
وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہرمنگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہٹا دیا۔ کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں، راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق جاری احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔
دارالحکومت دہلی میں جاری احتجاج کی طرز پر سوموار کو ملک کے کئی دوسرے شہروں میں بھی نوجوانوں کے شدید غصے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اروناچل پردیش کی راجدھانی ایٹہ نگر سے لے کر بہار کی راجدھانی پٹنہ تک طلبہ، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور دہلی میں نوجوان مظاہرین پر ہوئے پولیس کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔
جنتر منتر اور اس کے آس پاس نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور جنتر منتر کو خالی کرائے جانے کے بعد بھی وہاں احتجاج جاری ہے۔ وہیں، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے طلبہ پر ہوئی بربریت پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جس پر برلا نے کہا کہ اس کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔
دہلی 21 جولائی کو میں ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ’دیش بچاؤ مورچہ‘کے بینر تلے منعقد کسان مہاپنچایت میں شامل ہونے کے لیے آ رہے کسانوں کو روکنے کی غرض سے ہریانہ پولیس نے شمبھو بارڈر سیل کر دیا ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے سے ہندوستان میں سستے زرعی اجناس کی درآمد میں اضافہ ہوگا، جس سے ملک کے کسانوں کی آمدنی اور زرعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
سوموار کو سنسد مارچ کے دوران مظاہرین پر دہلی پولیس کی زیادتی سے متعلق خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ سے ایک درخواست کو شنوائی کے لیےلسٹ کرنے کی گزارش کی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا، ’عدالت کو ان سب میں مت گھسیٹو۔‘
حکومت نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے’سنسد چلو‘مارچ کی وجہ سے جزوی طور پر انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صبح 10 بجے ہی موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، حکومت نے اب تک ان احکامات کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، ٹیلی کام خدمات معطل کرنے سے متعلق ہر آرڈر شائع کیا جانا چاہیے۔
گراؤنڈ رپورٹ: دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے بیچ پارلیامنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کی حالیہ ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھلے ہی کوئی بہت بڑی تبدیلی نہ لائے، لیکن کم از کم جوابدہی تو طے ہوگی۔ ہم نوجوان یہی چاہتے ہیں۔
نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وہیں، سی جے پی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے سونم وانگچک کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سی جے پی کی جانب سے پارلیامنٹ مارچ کی اپیل کے درمیان جنتر منتر پر ہزاروں مظاہرین جمع ہو گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے ہیں، کئی میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے طلبہ اسٹوڈنٹ لیڈرنے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ وہیں، مانسون اجلاس کی شروعات کرتے ہوئےوزیر اعظم نریندر مودی نے اس احتجاجی مظاہرے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے دی وائر سے کہا، ’سونم نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے۔ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں اور وہاں سے جنتر منتر واپس جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سونم نے سی جے پی کو بتایا ہے کہ جیسے ہی انہیں اسپتال سے نکلنے دیا جاتا ہے، وہ سیدھے جنتر منتر پہنچیں گے۔‘
سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح پولیس کے ذریعے زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونم وانگچک، آئیسا کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار صرف ووٹر لسٹ تک محدود ہے۔ لیکن عدالت نے حکومتوں کو شہری حقوق میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دی۔
شرجیل امام نے 4 جولائی کو نچلی عدالت کی جانب سے ان کی دوسری باقاعدہ ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ امام پر 2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ بڑی سازش کا الزام لگایا گیاہے اور یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو ہڑتال کے 21ویں دن دہلی پولیس نے حراست میں لے کر زبردستی اسپتال میں بھرتی کر دیا ہے۔ تاہم، بھوک ہڑتال پر بیٹھےآئیسا کے تین ممبر اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ وہیں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے کھرولا گاؤں میں 13 سے 15 سال کی عمر کے تین مسلمان لڑکوں کو کچھ لوگوں نے ایک کھمبے سے باندھ کر بے رحمی سے پیٹا۔ پولیس کی مداخلت کے باوجود حکام نے پہلے متاثرین کے خلاف ہی معاملہ درج کر لیا۔ لوگوں کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے کچھ گھنٹوں کے بعد مراٹھا ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
انٹرویو:فلم ’ستلج‘ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار بات کرتے ہوئے فلمساز ہنی تریہن نے کہا کہ ’ستلج‘ پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، لیکن جسونت سنگھ کھالڑا کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تریہن کہتے ہیں کہ ’ستلج‘ پنجاب کے زخموں پر مرہم کی طرح ہے، لیکن اسے بین کیا گیا کیونکہ یہ پھوٹ ڈالو اورراج کرو کی سیاست کو بڑھاوا نہیں دیتی۔
میٹا نے دی وائر کی لارنس بشنوئی سے متعلق ویڈیو رپورٹ اور فلم ’چوہان‘ پر ایک ٹیکسٹ رپورٹ کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے انسٹاگرام اور فیس بک سے ہٹا دیا ہے۔ دونوں معاملوں میں کوئی صاف وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب دی وائر کی خبروں، ویڈیو اور طنزیہ مواد تک رسائی کومحدود کرنے کی کارروائی کی گئی ہے۔
گزشتہ ماہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا تھا کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت ثابت کرنے والے دستاویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اب وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے سابقہ رخ سے الگ اس بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے، جو ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے عمل کو منظم کرتا ہے۔
انقرہ کے بیش تپہ صدارتی محل میں منعقدہ یہ ناٹو سربراہی اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی معمول کی سالانہ بیٹھک یا رسمی مصافحوں کا مروجہ میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر القطبی دنیا کا ایک واضح اور مجسم عکاس تھا جہاں اب طاقت، اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجی کے روایتی مراکز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دوٹینکروں پر ایرانی کروز میزائل حملے میں ایک ہندوستانی ملاح کی موت ہوگئی اور کئی دوسرے لوگ زخمی ہو گئے۔ زخمی لوگوں میں چھ ہندوستانی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستان نے ایران کے ڈپٹی چیف آف مشن سمیت اعلیٰ سطحی ایرانی سفارت کاروں کو وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے۔
جموں و کشمیر میں ’قابل اعتراض‘ مواد پر مشتمل کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے معاملے میں کاؤنٹر انٹلی جنس یونٹ نے تین ناشروں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا، جب بی جے پی، کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے ان کتابوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ’سمگر شکشا ابھیان‘کے تحت تقسیم کی گئی ان کتابوں میں ’غیرمناسب مواد‘ شامل تھا۔
ایودھیا کے رام مندر کو ملے چڑھاوے کی چوری اور غبن کے الزامات کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ایس آئی ٹی کو اب تک کی جانچ سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔