دی وائر کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں اویسی نے حد بندی ایکٹ کے اطلاق، وقف بائی یوزر، املاک وقف کرنے کے لیےکم از کم پانچ برس تک ’پریکٹسنگ مسلمان‘ کی شرط پر ’مکمل روک‘ نہیں لگائے جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
سپریم کورٹ نے سوموار کو متنازعہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے اہم اہتماموں پر روک لگا دی ہے۔ اس میں وقف بنانے کے لیے کسی شخص کے 5 سال تک اسلام کا پیروکار ہونے ، کلکٹر یا ایگزیکٹو کو جائیداد کے حق کا فیصلہ کرنے کی اجازت اور غیر مسلموں کو وقف بورڈ کا ممبر بنانے سے متعلق اہتمام شامل ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق، اگست 2019 تک ترکیہ میں 52000 مضبوط وقف، 5268 نئے وقف، 256 مُلحق وقف، اور 167 اقلیتی وقف رجسٹرڈ تھے۔یہودیوں اور عیسائیوں کے بھی اس ملک میں اپنے وقف ہیں، جن کا وہ اپنی مرضی سے دیکھ بھال کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے صدر جمہوریہ کو ریاستوں کے گورنروں کی طرف سے بھیجے گئے بلوں پر فیصلہ لینے کے لیے ٹائم لائن دینے کے چند دنوں بعد نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے آرٹیکل 142- جو سپریم کورٹ کو اختیارات دیتا ہے – کو ‘جمہوری قوتوں کے خلاف جوہری میزائل’ قرار دیا۔
وقف (ترمیمی) ایکٹ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوسرے دن مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ اگلی سماعت تک کسی بھی وقف جائیداد کو ڈی- نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی غیر مسلم کو کسی وقف بورڈ یا کونسل میں تقرری دی جائے گی۔
وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا مرکزی حکومت مسلمانوں کو ہندو بندوبستی بورڈ میں شامل کرنے کے لیے تیار ہے، جس طرح سے وہ وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کا مطالبہ کر رہی ہے۔
نریندر مودی نے اپوزیشن کو ایک خطرناک جال میں الجھائے رکھنے اور انہیں بی جے پی کے خلاف متحدہ محاذ کے راستے سے دور رہنے کومجبور کر دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کب تک لوگوں کو حقیقی مسائل سے دور رکھنے میں کامیاب رہیں گے؟
ایسی حکومت، جس کے پاس ایک بھی مسلم رکن پارلیامنٹ نہیں، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے راگ الاپتی ہے، جبکہ اس کا سیاسی ڈھانچہ نفرت انگیز تقاریر، حاشیے پر ڈالنے والی پالیسیوں اورمسلمانوں کو قانونی جال میں جکڑنے کی مہم چلا رہا ہے۔
وقف ترمیمی بل کو پارلیامنٹ کی منظوری مل گئی ہے، لیکن اپوزیشن جماعتوں اور مسلم کمیونٹی کے نمائندوں کے سوال اب بھی باقی ہیں۔ اس بل پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس اور سینئر صحافی عمر راشد کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی بل 2025 کو بحث کے بعد منظور کر لیا، اپوزیشن نے اسے مسلم مخالف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے شفافیت میں اضافہ کرنے والا بتایا۔ ڈی ایم کے نے بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔
جے ڈی یو سپریمو اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھے خط میں پارٹی کے سینئر لیڈر محمد قاسم انصاری نے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف بل پر پارٹی کے موقف نے لاکھوں مسلمانوں کے بھروسے کو توڑا ہے، جن کا ماننا تھا کہ پارٹی سیکولر اقدار پر قائم رہے گی۔ اس بل پر پارٹی لیڈر محمد اشرف انصاری نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں وقف بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل وقف بورڈ کو مضبوط بنانے کے ساتھ خواتین، بچوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ارادےسے بنایا گیا ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے تھے۔
وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی، جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
این ڈی اے حکومت میں اتحادی چندربابو نائیڈو نے وقف (ترمیمی) بل 2024 کو پیش کرنے کے اقدام کی وسیع تنقید کے درمیان وجئے واڑہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے منعقد افطار میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی پی حکومت نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کیا ہے اورآگے بھی کرتی رہے گی۔
وقف بل کے خلاف دہلی میں ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے احتجاجی مظاہرہ میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی، کانگریس ایم پی گورو گگوئی اور ٹی ایم سی کی مہوا موئترا سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے شرکت کی۔ اویسی نے کہا کہ بل کا مقصد مسلمانوں سے مسجد، قبرستان اور مدارس کو چھیننا ہے۔
اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ جب حکومت وقف (ترمیمی) بل پر جے پی سی کی رپورٹ پارلیامنٹ میں پیش کر رہی تھی، تو جئے شری رام کے نعرے لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ غریب مسلمانوں کے لیے یہ ترمیم کر رہی ہے، کیا ایسا کرنے کا یہی طریقہ ہے؟
اپوزیشن کے تمام 11 ارکان نے وقف (ترمیمی) بل پر اپنے اختلاف کا اظہار کیا اور اسے غیر آئینی قرار دیا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اس سے نئے تنازعات کھلیں گے اور وقف کی جائیدادیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ اپوزیشن ارکان نے جے پی سی کے کام کاج کے طریقے میں خامیوں کی بھی نشاندہی کی۔
وقف (ترمیمی) بل، 2024 کی جانچ کر رہی جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی نے اپوزیشن کی تجویز کردہ 44 ترامیم کو مسترد کر دیا ہے اور این ڈی اے خیمہ کی 14 تجاویز کو منظور کر لیا ہے۔ جے پی سی میں دونوں ایوانوں سے 31 ارکان ہیں، جن میں این ڈی اے کے 16 (بی جے پی سے 12)، اپوزیشن جماعتوں کے 13، وائی ایس آر کانگریس سے ایک اور ایک نامزد رکن ہیں۔
وقف (ترمیمی) بل 2024 پر بنی جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی میں شامل اپوزیشن پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ کئی ریاستی حکومتوں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے ابھی تک کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش نہیں کیا ہے، اس لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔ کمیٹی کو سرمائی اجلاس میں ہی اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی۔
نتیش کمار کے جنتا دل (یونائیٹڈ) کی قومی جمہوری اتحاد میں واپسی کے بعد بھی کے سی تیاگی کھل کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ مانا جارہا ہے کہ ‘حساس معاملوں’ پر تیاگی کے بیانات نے پارٹی کو اتحاد کے اندر مشکل صورتحال میں ڈال دیا تھا۔
مرکز میں حکمراں این ڈی اے کی اتحادی پارٹی جنتا دل (متحدہ) نے شروع میں وقف ترمیمی بل کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی جے ڈی یو کے اندر عدم اطمینان کی بات کہی جا رہی ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کی دیگر اتحادی جماعتوں، چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی نے بھی بل پر سوال اٹھائے تھے۔
وقف ترمیمی بل کے توسط سے اس حکومت کا مسلم دشمن چہرہ ایک بار پھر سے بے نقاب ہو گیا ہے۔
جمعرات کو اپوزیشن کی جانب سے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل کے خلاف شدید احتجاج دیکھنے کو ملا، جس کے بعد اسے جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کی تجویز پیش کی گئی۔