Communalism

مولانا کلیم صدیقی۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@KhanAmanatullah)

اتر پردیش: مبینہ تبدیلی مذہب کے معاملے میں گرفتار مولانا کلیم صدیقی کو 10دن کی حراست میں بھیجا گیا

مبینہ طور پر‘تبدیلی مذہب کا سب سے بڑاریکٹ’چلانے کےالزام میں یوپی اے ٹی ایس نے اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو گزشتہ 21ستمبر کو میرٹھ سے گرفتار کیا تھا۔ صدیقی کے وکیل نے کہا ہے کہ پولیس ثبوت کے طور پر ان کے یوٹیوب چینل کو پیش کر رہی ہے جو پہلے سے ہی عوامی ہے اور اس میں کچھ بھی مجرمانہ یاملک کے خلاف نہیں ہے۔

یتی نرسنہانند سرسوتی۔

یوپی: خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں یتی نرسنہانند پر تین ایف آئی آر درج

اس سے پہلے بھی غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری یتی نرسنہانند سرسوتی کے خلاف پیغمبر محمد پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔نرسنہانند تب سرخیوں میں آئے تھے، جب ڈاسنہ مندر میں پانی پینے کی وجہ سے ایک نابالغ مسلم لڑکے کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی تھی۔

یتی نرسنہانند اور سورج پال امو۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

نرسنہا نند اور سورج پال امو کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کرنے پر کورٹ نے دہلی پولیس سے رپورٹ طلب کی

گزشتہ4 اگست کو فیصل احمد خان نام کےقانون کے ایک استاذ نے رائٹ ونگ کے شدت پسند رہنماؤں یتی نرسنہانند اورسورج پال امو کے الگ الگ مواقع پرمسلم مخالف بیانات پر جامعہ نگر پولیس اسٹیشن میں شکایتیں کی تھیں۔ کوئی کارروائی نہ ہونے پر 7 اگست کو انہوں نے نے ساکیت ضلع کورٹ سے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کامطالبہ کیا۔

IMG-20210828-WA0003

راجستھان میں مسلمان بھکاری کو پیٹنے کے ملزم نے قبول کیا گناہ

ویڈیو: راجستھان کے اجمیرشہر میں کانپور کے رہنے والے عثمان علی کو ان کے نام اور مذہب کی وجہ سے ہی پیٹا گیا تھا۔ رائٹ ونگ کارکن للت شرما نے ان کی فیملی کے ساتھ بھی مارپیٹ کی تھی۔ اس کے باوجود پولیس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ دی وائر سے بات چیت میں للت شرما کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتے۔ چونکہ انہیں بجرنگ دل کے رہنماؤں اور مقامی پولیس کی بھی حمایت حاصل ہے۔

1706 YAQUT AAP OXYGEN.00_25_19_19.Still029

پھل بیچنے والوں کو ہندو اور مسلمان میں بانٹنے سے کس کا فائدہ؟

ویڈیو: دہلی کےاتم نگر علاقے میں لگ بھگ 500 ریہڑی پٹری کی دکانیں روز لگتی ہیں۔ ان میں سے اکثر مسلمان دکاندار ہیں۔ گزشتہ 18 جون کو ایک پھل بیچنے والے اور ایک دکاندار کے بیچ ہوئی کہا سنی کے بعد بجرنگ دل نے کچھ پوسٹر لگائے تھے جس میں لکھا تھا ‘سبھی ہندوؤں سے گزارش ہے کہ کسی بھی غیرسماجی فروٹ ریہڑی والے سے خریداری نہ کریں’۔ اس کے بعد پھل بیچنے والوں کو اپنی روزی کمانے کے لیے مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔

Muzaffarnagar

یوپی: تبدیلی مذہب کا الزام لگانے والی خاتون کا یوٹرن، کہا-ہندو تنظیموں  کے دباؤ میں لگائے تھے الزام

مظفرنگر کی ایک سکھ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے پڑوسی نے مذہب تبدیل کرنے کے لیے مجبور کرنے کے بعد ان سے شادی کی۔ اس شکایت کی بنیاد پر ملزم کے خلاف ریپ ، دھوکہ دھڑی اور تبدیلی مذہب سے متعلق قانون کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔

(السٹریشن:پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

اس ملک میں مسلمانوں کو کھلے عام گالی دی جا سکتی ہے، ان کا خون کرنے کی بات کی جاسکتی ہے …

یہ ہندوستان کی معاشرتی فطرت بنتی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو کھلے عام مارا جا سکتا ہے، ان کے خلاف پرتشدد پروپیگنڈہ کیا جا سکتا ہے اور پولیس انتظامیہ سے لےکر سیاسی پارٹیوں تک کوئی بھی اسے سنگین معاملہ ماننے کو تیار نہیں۔

Jawaharlal_Nehru_gives_his_-tryst_with_destiny-_speech_at_Parliament_House_in_New_Delhi_in_1947_02

پہلے عام انتخابات میں جواہر لعل نہرو نے ووٹ مانگتے ہوئے عوام سے کیا کہا تھا…

جواہر لعل نہر و نے کہا تھا کہ -اگر کوئی شخص مذہب کی بنیاد پر دوسروں کو نشانہ بنانے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو میں ملک کا سربراہ ہونے کے ناطے یا عام آدمی کی حیثیت سے اپنی آخری سانس تک اس سے لڑوں گا۔

ایودھیا مسجد کمپلیکس  کے مجوزہ پروجیکٹ  کا بلیوپرنٹ۔ (بہ شکریہ: اسپیشل ارینجمنٹ)

ایودھیا مسجد پروجیکٹ کے نقشے انتظامیہ کے سپرد کیے گئے

ایودھیا مسجدٹرسٹ- انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن نے دھنی پور میں مجوزہ پروجیکٹ کے نقشے ایودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سپرد کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ذریعےدی گئی اس زمین پر ایک مسجد، ریسرچ سینٹر اور کمیونٹی کچن بنانے کامنصوبہ ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو:اسپیشل ارینجمنٹ)

مسلمانوں کو  ہراساں کرنے کی وجہ اب پولرائزیشن نہیں

ملک کے رہنماگزشتہ کوئی بیس سالوں کی انتھک کوششوں سے سماج کا اتنا پولرائزیشن پہلے ہی کر چکے ہیں کہ آنے والے کئی سالوں تک ان کی انتخابی جیت یقینی ہے۔ پھر کچھ لوگ اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور انہیں ذلیل وخوارکرنے کے لیے جوش و خروش کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟

نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: فیس بک)

مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے معاملے میں نرسنہانند پر کارروائی کا مطالبہ

اس سے پہلےصدرجمہوریہ کو لکھے گئے میمورنڈم میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا نے ڈاسنہ مندر کے پجاری کی گرفتاری کا مطالبہ کیاتھا۔میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مختلف مذہبی گروپوں کے بیچ نفرت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کرنے والوں کو سزادینے کے لیے ایک خصوصی اور سخت قانون بنایا جانا چاہیے۔

نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: فیس بک)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا نے ڈاسنہ مندر کے پجاری کی گرفتاری کا مطالبہ کیا

اس سے پہلے مذہبی رہنما اور غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری نرسنہانند سرسوتی کے خلاف مسلم کمیونٹی کے جذبات کو مبینہ طور پر ٹھیس پہنچانے کے لیے راجدھانی دہلی میں عآپ ایم ایل اے اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کی جانب سے گزشتہ تین اپریل کو ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

Amanatullah Khan. Photo: PTI

مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے معاملے میں نرسنہا نند کے خلاف کیس کے بعد عآپ ایم ایل اے پر ایف آئی آر

عآپ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے ہندوتوادی رہنما اور غازی آباد واقع ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری نرسنہانند سرسوتی کے خلاف پیغمبرمحمد اور مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کے الزام میں شکایت درج کرائی ہے۔ نرسنہانند پچھلے مہینے تب چرچہ میں آئے تھے، جب ڈاسنہ مندر میں پانی پینے کی وجہ سے14 سالہ ایک مسلم لڑکے کی بے رحمی سےپٹائی کی گئی تھی۔

Bulletin 16 March 2021.00_11_53_18.Still004

کیا ہندوؤں کو تشدد پسند بنایا جا رہا ہے؟

ویڈیو: اتر پردیش کے غازی آبادواقع شیو شکتی دھام ڈاسنہ مندر میں ایک مسلمان لڑکے کو پانی پینے کے لیےبے رحمی سے پیٹا گیا۔ ڈاسنہ میں ہونے والا یہ واقعہ نفرت کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ذہنیت کیوں پیدا ہوتی ہے؟ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ ان باتوں کو سمجھنے کے لیےآزاد صحافی علی شان جعفری سے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔

ڈاسنہ کے مندر میں نابالغ مسلم لڑکے کی بے رحمی سےپٹائی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ (بہ شکریہ: ویڈیوگریب)

ظلم و بربریت بھلے ہی معمول بن جائے اس کو فطری نہ تسلیم کرنے سے ہی انسانیت بچی رہتی ہے

ڈاسنہ کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کوتشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، پولیس اس کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ جس نے تشدد کیاپولیس اس کو ڈھونڈ کر اس کے ساتھ انصاف کاعمل شروع کر سکتی ہے۔ انسانیت کی بقا کی امیدقانون یا آئین کی فہم کے زندہ رہنے پر ہی منحصر ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

غازی آباد: مندر کے اندر پانی پینے گئے لڑکے کی بے رحمی سے پٹائی، ملزم گرفتار

اتر پردیش کے غازی آباد شہر کے مندر سے پانی پینے کے لیے 14سالہ ایک مسلم لڑکے کو گالیاں دینے اور اس کی بے رحمی سے پٹائی کرنے کے ملزم کو اس کے ایک ساتھی کے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ مندر انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ ملزم کی قانونی مدد کریں گے۔

WhatsApp Image 2021-03-01 at 21.10.15 (1)

دہلی فسادات کے ایک سال: خوف میں جینے کو مجبور شیو وہار کے مسلمان

ویڈیو: دہلی فسادات کے ایک سال بعد بھی لوگ خوف میں جی رہے ہیں۔ فسادات میں ہوئے جان ومال کے نقصان کی بھرپائی ہو پانا ناممکن ہے۔ د ی وائر نے شیو وہار کے لوگوں سے بات کر کے ان کی پریشانی کو جاننے کی کوشش کی ۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہندوستان شدت پسندی کے معاملے میں پاکستان بننے کی راہ پر ہے؟

کئی سال پہلےپاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض نے لکھا تھا کہ ‘تم بالکل ہم جیسے نکلے،اب تک کہاں چھپے تھے بھائی۔ وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن ، جس میں ہم نے صدی گنوائی، آخر پہنچی دوار تمہارے…ملک کے آج کے حالات میں یہ مصرعے سچ کے کافی قریب نظر آتے ہیں۔

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ: ہو ئے اپنے ہی گھر میں بیگانے

جس طرح ملک میں فرقہ وارانہ عداوتیں بڑھ رہی ہیں، اس سے مسلمانوں کے افسردہ اور اس سے کہیں زیادہ خوف زدہ ہونے کے متعدد اسباب ہیں۔سماج ایک‘بائنری سسٹم’سے چلایا جا رہا ہے۔ اگر آپ اکثریت سے متفق ہیں تو دیش بھکت ہیں، نہیں تو جہادی،اربن نکسل یاغدار، جس کی جگہ جیل میں ہے یا ملک سے باہر۔

Firozabad-MAP

یوپی: لڑکی کامذہب تبدیل کر نے کےالزام سے انکار، ناراض بھیڑ نے ملزم مسلم نوجوان کے گھر والوں کا پیچھا کیا

اتر پردیش کے فیروزآباد ضلع کے ناگلا ملا گاؤں کا معاملہ۔ لڑکی گزشتہ سال دسمبر میں ملزم مسلم نوجوان کے ساتھ گھر چھوڑکر چلی گئی تھی۔ پولیس نے لڑکی کا پتہ لگا لیا، لیکن پولیس کو ابھی نوجوان کی تلاش ہے۔ فی الحال نوجوان اور لڑکی کے گاؤں میں کشیدگی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تبدیلی مذہب کے الزام میں کیس درج ہو نے کے ایک مہینے بعد یوپی سرکار نے کہا، نہیں ملے ثبوت

الہ آباد ہائی کورٹ میں معاملے کی شنوائی کے دوران ایک حلف نامہ داخل کرکےیوپی سرکار کی جانب سے عدالت کو یہ جانکاری دی گئی۔ اتر پردیش میں تبدیلی مذہب سے متعلق قانون نافذ ہونے کے ایک دن بعد گزشتہ سال 29 نومبر کو مظفرنگر میں دو مسلمان مزدوروں کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: بریلی پولیس نے کہا جبراً تبدیلی مذہب کےمعاملے میں مسلم نوجوانوں کو پھنسایا گیا

معاملہ بریلی ضلع کا ہے، جہاں پہلی جنوری کوایک24 سالہ خاتو ن پر جبراًتبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالنے کے الزام میں تین مسلم نوجوانوں پر معاملہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ میں تینوں نوجوانوں پر لگائے گئے الزام غلط پائے گئے ہیں۔

علامتی تصویر،فوٹو: رائٹرس

مدھیہ پردیش: اجین تشدد کے بعد پولیس نے مسلمان کا گھر گرایا، پڑوسی نے 19 لوگوں کو سہارا دیا

الزام ہے کہ اجین کے بیگم باغ علاقے میں بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کی ریلی میں مبینہ طور پر فرقہ وارانہ نعرے لگانے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے پتھربازی کر دی تھی۔ مدھیہ پردیش میں شدت پسند ہندوگروپس کی جانب سے ایسی ریلیوں کے دوران کئی جگہوں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ ریلیاں رام مندر تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے کے مقصد سے نکالی جا رہی ہیں۔

کلکتہ ہائی کورٹ(فوٹو بہ شکریہ: Twitter/@LexisNexisIndia)

بالغ خاتون اپنی مرضی سے شادی اور مذہب تبدیل کرے تو دخل اندازی کی ضرورت نہیں :  کلکتہ ہائی کورٹ

کلکتہ ہائی کورٹ نےایک 19سالہ لڑکی کے والد کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ پولیس کے مطابق، لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرکے شادی کی تھی اوروہ اپنے والد کے گھر نہیں لوٹنا چاہتی۔

یوپی پولیس( فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش: بین مذہبی شادی کرانے والے وکیل نے پولیس پر ہراساں کر نے کے الزام  لگائے

دہلی کے ایک وکیل نے بتایا کہ اتر پردیش کے ایٹہ ضلع واقع جلیسر کی خاتون کو ان کی مرضی سے مذہب تبدیل کرواکر شادی کروانے میں مدد کی تھی۔ ڈر کی وجہ سےجوڑا لاپتہ ہو گیاہے۔الزام ہے کہ ان کی تلاش میں اتر پردیش پولیس نے وکیل کی فیملی کے لگ بھگ دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

’لو جہاد‘ کے نام پر ہراسانی کے ڈر سے لڑکے-لڑکی نے کہا-لوٹ کر یوپی نہیں جا ئیں گے

اتر پردیش کے ایک مسلم نوجوان اور ہندولڑکی نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے نہ صرف ان کی فیملی بلکہ یوپی پولیس سے بھی تحفظ کی مانگ کی ہے۔ دہلی سرکار کی جانب سے تحفظ کا بھروسہ دلائے جانے کے بعد دونوں نے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

یوپی پولیس نے لو جہاد کی افواہ پر مسلمان لڑکے-لڑکی کی شادی رکوائی

اتر پردیش کے کشی نگر ضلع کا معاملہ۔لڑکے نے پولیس پر پٹائی کا الزام لگایا ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ پولیس نے لڑکے-لڑکی کو تب تک حراست میں رکھا جب تک کہ لڑکی کے بھائی نےثبوت دیتے ہوئے یہ نہیں بتایا دیا کہ دونوں پیدائش سے مسلمان ہیں اور مذہب تبدیل نہیں ہوا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

اتر پردیش: گھر والوں کی رضامندی کے باوجود لکھنؤ پولیس نے بین مذہبی شادی رکوائی

پولیس کے مطابق، ہندو یووا واہنی کے کچھ ممبروں نے شادی کو لےکر اعتراض کیا تھا۔ نئے قانون کے تحت بین مذہبی شادی کے لیے ضلع مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری کر دیا گیا ہے۔ اس کی جانکاری لڑکے اور لڑکی کے اہل خانہ کو دے دی گئی ہے، انہوں نے منظوری ملنے کے بعد شادی کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

آسامی زبان کے سیریل  بیگم جان کا پوسٹر۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

آسام: لو جہاد کے الزام میں بند سیریل سے ہائی کورٹ نے پابندی ہٹائی

آسام کے رینگونی چینل پرنشر ہونے والے سیریل‘بیگم جان’پر لو جہاد کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاکر دو مہینے کی پابندی لگا دی گئی تھی۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ دوسرے فریق کو سنے بنا یک طرفہ طور پر یہ پابندی لگائی گئی تھی۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/MYogiAdityanath)

اتر پردیش: یوگی آدتیہ ناتھ نے ’لو جہاد‘ روکنے کے لیے افسروں کو ہدایت دی

اتر پردیش محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اونیش کمار اوستھی نے کہا کہ یہ ایک سماجی مدعا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے اس کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ملزمین کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمیں سخت ہونا ہوگا۔

آسامی زبان کے سیریل  بیگم جان کا پوسٹر۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

آسام: ہندو جاگرن منچ کا سیریل پر لو جہاد کو بڑھاوا دینے کا الزام، دو مہینے کی پابندی

آسام کے رینگونی چینل پر نشر ہونے والے سیریل‘بیگم جان’پر لو جہاد کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا ہے۔ چینل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیریل کا لو جہاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس میں ایسا کچھ نہیں دکھایا جا رہا، جو کسی مذہب کے لیے توہین آمیز ہو۔

اسپتال میں بھرتی محمد اجرائیل۔

بہار: مسلم نوجوان کا الزام، جئے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر بےرحمی سے پیٹا گیا

مشرقی چمپارن ضلع کے مہسی تھانہ حلقہ کے ایک نوجوان محمد اجرائیل کا الزام ہے کہ دو جون کو پڑوس کے ایک گاؤں میں اپنے دوست سے ملنے جانے کے دوران ایک گروپ نے انہیں روک کر جئے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا۔ ایسا نہ کرنے پر گا لی گلوچ کرتے ہوئے بری طرح مارپیٹ کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور بجرنگ دل کے لوگ ہیں۔

روہت جیسوال۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

بہار: کیا مسجد میں ہندو لڑکے کی قربانی دی گئی؟

خصوصی رپورٹ: بہار کے گوپال گنج ضلع کے ایک گاؤں میں گزشتہ مارچ مہینے میں ایک لڑکے کی لاش پاس کی ندی سے برآمد ہوئی تھی۔ اہل خانہ نے قتل کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ کچھ نیوز ویب سائٹس کے ذریعے مسجد میں لڑکےکی قربانی دیے جانے کی بھرم پیدا کرنےوالی خبریں شائع کرنے کے بعد اس معاملے نے فرقہ وارانہ رنگ لے لیا۔پولیس نے اس بارے میں ‘آپ انڈیا’ اور ‘خبر تک’ نام کی ویب سائٹ کے خلاف کیس درج کیا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران ہاوڑہ کے ایک شیلٹر ہوم میں بےگھر لوگ(فوٹو: رائٹرس)

ارندھتی رائے کی خصوصی تحریر: کورونا وائرس کی وبا نے معاشرے کی بیماریوں کو بے نقاب کردیا ہے

جس طرح کورونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے اور وہاں موجود بیماریوں کے اثرات کو تیز کر دیتا ہے ، ٹھیک اسی طرح اس نے مختلف ممالک اور معاشرےمیں رسائی حاصل کر کےان کی کمزوریوں کو بے نقاب کردیا ہے۔

Don`t copy text!