خبریں

سال 2019 کے انتخابات میں ممکنہ ’ہیرا پھیری‘ سے متعلق تحقیقی مقالے کے محقق کا اشوکا یونیورسٹی سے استعفیٰ

ہریانہ کے سونی پت میں واقع اشوکا یونیورسٹی میں معاشیات کے اسسٹنٹ پروفیسر سبیہ ساچی داس  نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ ایک تحقیقی مقالے کے لیے سرخیوں میں ہیں، جس میں انہوں  نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ‘دھاندلی’ کے امکان کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد بی جے پی 2014 کے مقابلے میں زیادہ فرق کے ساتھ اقتدار میں واپس آئی تھی۔

سبیہ ساچی داس اور اشوکا یونیورسٹی کیمپس۔

سبیہ ساچی داس اور اشوکا یونیورسٹی کیمپس۔

نئی دہلی: 2019 کے انتخابی نتائج کے بارے میں  لکھے گئے ایک مقالے (ریسرچ پیپر)پر سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد ہریانہ کے سونی پت میں واقع  اشوکا یونیورسٹی میں معاشیات کے اسسٹنٹ پروفیسر سبیہ ساچی داس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان کے استعفیٰ کی تصدیق کم از کم دو فیکلٹی ممبران نے دی وائر کو کی ہے، لیکن ابھی تک اس پرائیویٹ یونیورسٹی کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سبیہ ساچی ایک تحقیقی مقالے کے لیےسرخیوں میں رہے ہیں، جس میں انہوں نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ‘ہیرا پھیری’ کے امکان کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد بی جے پی 2014 کے مقابلے میں زیادہ فرق  کے ساتھ اقتدار میں واپس آئی تھی۔

سبیہ ساچی داس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 25 جولائی 2023 کے ان کے مقالے ‘ڈیموکریٹک بیک سلائیڈنگ ان دی ورلڈس لارجیسٹ ڈیموکریسی‘میں انہوں نے جن طریقوں اور اثرات کا مشاہدہ کیا،  وہ صرف 11 نشستوں تک ہی  محدود تھے۔ تاہم، اس کے مطالعہ نے سوشل میڈیا پر کافی ہنگامہ کھڑا کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے ان کے نتائج کے حوالے سےانہیں نشانہ بنایا تھا۔

گزشتہ ایک  اگست کو معاملہ اس وقت گرم ہوگیا جب اشوکا یونیورسٹی نے داس کے تحقیقی مقالے سے خود کو الگ کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ وہ اس سے پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں اور مباحث سے مایوس ہے۔

جب دی وائر نے اتوار (13 اگست) کی شام کو یہ جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا کہ وہ بات کرنے کی پوزیشن میں ہیں، تو داس نے میسیج کیا،میں اس وقت میڈیا سے بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں میڈیا سے بات چیت پر غور کرنے سے پہلے  اپنے مقالے کو شائع کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہوں۔ جب  داس سے صاف طور پرپوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے، تو انہوں نےکوئی جواب نہیں دیا۔

دی وائر کی طرف سے جب پوچھا گیا کہ کیا داس نے اپنی مرضی سے استعفیٰ دیا ہے توایک فیکلٹی ممبر نے کہا، آپ جانتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ایک  گرے ایریا ہوتا ہے۔ کسی کو اس مقام پر دھکیل دیا جاتا ہے، جہاں اپنی عزت بچانے کا واحد راستہ استعفیٰ دینا ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کے ایک اور ماہر تعلیم نے کہا، ’ہم جانتے ہیں کہ داس کے استعفیٰ دینے سے پہلے بند دروازوں کے پیچھے بہت کچھ ہوا‘۔

تاہم، ایک تیسرے فیکلٹی ممبر نے کہا،ہم انہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ سونپ  دیا ہے۔ ہم انہیں رکنے کے لیے منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اشوکا یونیورسٹی نے تحقیقی مقالے سے خود کوالگ کیا

سبیہ ساچی داس کے استعفیٰ کی خبر سے ہندوستان میں تعلیمی آزادی کی حالت کے بارے میں خدشات کو دوبارہ جنم دینے کا امکان ہے۔

اشوکا یونیورسٹی نے گزشتہ ہفتے واضح طور پرخودکو داس کے تحقیقی مقالے سے دور کر لیا اور یہ کہہ کر اس کے معیار پر بالواسطہ طور پر سوالیہ نشان لگایا کہ ‘انسٹی ٹیوٹ اس تحقیق کواہمیت دیتاہے،جس کا تنقیدی جائزہ لیا جاتا ہے’ اور معروف جرائد میں شائع ہوتا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق، زیر بحث مقالے نے ابھی تک تنقیدی جائزے کا عمل مکمل نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی علمی جریدے میں شائع ہوا ہے۔

یونیورسٹی کے موقف کو طلبا اور ماہرین تعلیم نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، خاص طور پر انسٹی ٹیوٹ کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کہ اس نے حکمراں بی جے پی کی سیاست پر صحافتی تحریروں کی وجہ سے اپنے وائس چانسلر پرتاپ بھانو  مہتہ کومارچ 2021 میں استعفیٰ دینے پر آمادہ کیا تھا۔

ایک نقاد نے سبیہ ساچی داس کے تحقیقی مقالے پر یونیورسٹی کے تبصرے کو ‘اکیڈمیا میں جمہوری زوال‘ کی مثال قرار دیا۔

سال 2017 میں، فیکلٹی کونسل کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا تھا کہ یونیورسٹی کے بانیوں نے 2016 میں دو فیکلٹی ممبران – سورو گوسوامی، ڈپٹی مینیجر آف اکیڈمک افیئرز، اور عادل مشتاق شاہ، پروگرام مینیجر آف اکیڈمک افیئرز – سے 2016 میں استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں نے برہان وانی کی موت  کے بعد کشمیر میں تشدد کے خلاف ایک پٹیشن پر دستخط کیے تھے اور ریاست میں رائے شماری (ریفرنڈم)کا مطالبہ کیا تھا۔

بی جے پی نے تحقیقی مقالے کو ‘آدھا ادھورا’ بتایا

داس کے تحقیقی مقالے نے سابق سول سرونٹ ایم جی دیواسہایم اور یوگیندریادو جیسے انتخابی تجزیہ کار– سیاست دانوں کے بیچ  بحث شروع کر دی۔ انتخابات میں بے ضابطگیوں کی طرف ‘توجہ دلانے کے لیے’ اس کی تعریف کی جا رہی ہے اور مودی اور بی جے پی پر ایک حالیہ کتاب کے مصنف نلن مہتہ جیسے دوسرے لوگ اس کے طریقہ کار اور نتائج پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

بی جے پی لیڈروں نے سخت تبصرے کیے۔ بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے تو داس اور نہ ہی اشوکا یونیورسٹی کو بخشا۔انہوں نے کہا،  بی جے پی کے ساتھ پالیسی کے معاملات پر اختلافات ہونا ٹھیک ہے، لیکن یہ اسے بہت آگے تک لے جا رہا ہے، آدھے ادھورے ریسرچ کے نام پرکوئی ہندوستان کے متحرک انتخابی عمل کو کیسے بدنام کر سکتا ہے؟ کوئی یونیورسٹی اس کی اجازت کیسے دے سکتی ہے؟ اس پر جواب کی ضرورت ہے – یہ خاطرخواہ  اور اچھا جواب نہیں ہے۔’

بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے کنوینر امت مالویہ نے کہا، اشوکا یونیورسٹی کے سبیہ ساچی داس کا تحقیقی مقالہ کئی ڈیٹا سیٹ اور درجنوں چارٹ کو ‘ثبوت’ کے طور پر پیش کرتا ہے جسے وہ ‘اہم بے قاعدگیوں’ اور ‘انتخابی فراڈ’ کہتے ہیں۔ یہ بڑے دعوے ہیں۔ کیا ثبوت ختم ہو گئے ہیں ؟ جواب نا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔