بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔

السٹریشن : دی وائر
نئی دہلی: بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے 7 فروری 2026 کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے انتہائی فرقہ وارانہ اور قابل اعتراض ویڈیو کے حوالے سے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ویڈیو میں آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو بندوق سے نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جسے بعد میں پارٹی نے ہٹا لیا۔ جسٹس ماتھر نے اسے نہ صرف انتہائی قابل مذمت بلکہ آئینی، قانونی اور سماجی طور پر بے حد خطرناک قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں گووند ماتھر نے کہا کہ کسی عام شہری کی جانب سے کسی مذہبی اقلیت کے خلاف تشدد کودکھانے والا ویڈیو دیکھنا ہی ناقابل برداشت ہے، لیکن کسی ریاست کے وزیراعلیٰ کا بار بار ایسے اقدامات میں ملوث ہونا جمہوریت کے لیے باعث تشویش ہے۔
انہوں نے کہا؛
ایک برسر اقتدار وزیراعلیٰ کے ایسے قابل اعتراض اور مجرمانہ رویے کو دکھانے والا ویڈیو ہمارے آئینی اقدار، جمہوری روایات اور ہندوستانی جمہوریہ کے تصور کی بنیاد کو ہی کمزور کرتا ہے۔ یہ عمل آئینی طور پر ناقابل قبول، قانونی طور پر جرم اور سماجی طور پرانتہائی تباہ کن ہے۔
سابق چیف جسٹس نے واضح طور پر کہا کہ صرف ویڈیو کو ہٹا دینا کافی نہیں ہے اور اس معاملے کی کسی بااختیار اور آزاد تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعے مکمل قانونی جانچ لازمی ہے۔
جسٹس ماتھر نے آگاہ کیا کہ سیاسی پیغامات کی آڑ میں تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ناگزیر ہے۔
گووند ماتھر نے یہ بھی کہا کہ آسام کے وزیراعلیٰ اپنے آئینی فرائض کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعلیٰ کے عہدے کی حلف برداری کے تحت قانون کی پاسداری، غیرجانبداری برقرار رکھنے اور جمہوری ڈھانچے کے احترام کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایسا معاملہ ہے جس میں آئینی عدالتوں، بالخصوص سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لیتے ہوئے آزادانہ تحقیق کا حکم دینا چاہیے۔
اپنے بیان کے اختتام پر جسٹس ماتھر نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں تمام متعلقہ تعزیری دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے اور اقلیتوں کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔ انہوں نے آئین اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اجتماعی طور پر وزیراعلیٰ کی اس روش کی مذمت کریں۔
ویڈیو میں کیا تھا؟
جب وزیراعظم نریندر مودی ملیشیا کے دورے (7–8 فروری) پر تھے، جو اسلام کو اپنا سرکاری مذہب مانتا ہے، اسی دوران ان کی پارٹی کی آسام یونٹ نے ایک ویڈیو پوسٹ کیا اور پھر ہٹا لیا ۔اس ویڈیو میں آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
یہ ویڈیو شرما کی جانب سے آسام کے مسلمانوں کے خلاف پہلے سے جاری فرقہ وارانہ بیان بازی سے بھی آگے بڑھ کر ایک غیر معمولی اور غیرقانونی اشتعال انگیزی کو ظاہر کرتا ہے۔
ویڈیو میں شرما کو ایک ایئر رائفل سے فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جس کی گولیاں ٹوپی اور داڑھی والے مردوں کی تصاویر کو نشانہ بناتی ہیں، جو واضح طور پر ان کے مذہب پہچان کی علامتیں ہیں۔
ویڈیو کے ساتھ کیپشن تھا،’پوائنٹ بلینک شاٹ۔’ اس میں شرما کو ایک مغربی فلم کے ہیرو کی طرح پیش کیا گیا ہے اور ان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے،’غیر ملکیوں سے پاک آسام۔’ خبروں کے مطابق، ویڈیو میں آسامی زبان میں’کوئی رحم نہیں’، ‘پاکستان کیوں نہیں چلے گئے؟’ اور ‘بنگلہ دیشیوں کو معافی نہیں’ جیسے جملے بھی دکھائے گئے ہیں۔
ویڈیو پوسٹ ہونے کے بعد اس کی مذمت شروع ہو گئی تھی۔ وسیع تنقید کے بعد اس ویڈیو کو سوشل میڈیا سے ہٹا لیا گیا۔
