دی ٹیلی گراف کے سابق مدیرآر راج گوپال نے بتایا تھا کہ ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے بعد انہیں پاسپورٹ کی تجدید (رینیول) کرانے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایڈیٹرز گلڈ نے ایک بیان میں اس کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ راج گوپال کی ووٹر کی حیثیت سے پہچان جلد بحال کی جائے۔

سینئرصحافی اور دی ٹیلی گراف کے سابق مدیر آر راج گوپال۔تصویر (کیرالہ لٹریچر فیسٹیول ڈاٹ کام)
نئی دہلی: ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا(ای جی آئی)نے دی ٹیلی گراف کے سابق مدیر آر راج گوپال کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے اور اس کے بعد حکام کی جانب سے ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
اتوار (28 جون) کو جاری ایک بیان میں ای جی آئی نے مطالبہ کیا کہ راج گوپال کی ووٹر کی حیثیت سے پہچان جلد بحال کی جائے۔
گلڈ کے صدر سنجے کپور، جنرل سکریٹری راگھون شری نواسن اور خزانچی ٹریسا رحمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا،’ دی ٹیلی گراف (کولکاتہ کے ایک مؤقر روزنامہ) کے سابق مدیر آر راج گوپال کے ساتھ نوکرشاہی جس طرح کا سلوک کر رہی ہے، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا اس کی مذمت کرتا ہے؛ یہ وہی نوکر شاہی ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ کون ہندوستانی شہری ہے اور کون نہیں۔‘
Statement on the Denial of Electoral and Passport Rights to R. Rajagopal pic.twitter.com/xa4kJij9Tw
— Editors Guild of India (@IndEditorsGuild) June 28, 2026
بیان میں مزید کہا گیا، ’دہائیوں تک صحافی اور مدیر کے طور پر عوامی زندگی میں خدمات انجام دینے کے باوجود آج راج گوپال اس صورتحال سے دوچار ہیں کہ ووٹر لسٹ سے ان کا نام حذف کیے جانے کے باعث وہ اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو گئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، کولکاتہ پولیس کی مبینہ ’منفی رپورٹ‘ کی وجہ سے وہ گزشتہ 100 دنوں سے زیادہ سے اپنے پاسپورٹ کی تجدید بھی نہیں کرا پا رہے ہیں۔ یہ حیران کن ہے، کیونکہ شہر کے ایک مؤقرروزنامہ کے مدیر رہنے کے وجہ سے کولکاتہ پولیس انہیں اچھی طرح جانتی ہوگی۔‘
گلڈ نے یہ بھی کہا کہ ایسالگتا ہے کہ پولیس کی تصدیق صرف اس بنیاد پر نہیں کی گئی کہ راج گوپال کا نام اب ووٹر لسٹ میں درج نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا،’ راج گوپال کی مشکلات اس پریشانی کو اجاگرکرتی ہیں جس سے ہندوستان کے لاکھوں لوگ گزر رہے ہیں۔ یہ صورتحال الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سےایس آئی آرکے عمل کے باعث پیدا ہوئی ہے۔‘
’راج گوپال کی ووٹر کی حیثیت سے پہچان فوراً بحال کی جائے‘
ایڈیٹرز گلڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر راج گوپال جیسی ایک معروف عوامی شخصیت کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے، تو ان بے شمار لوگوں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جن کے نام بھی نوکر شاہی کے ایک فیصلے کے تحت ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں اور جن کے پاس انصاف کے حصول کے لیے اپنی بات مؤثر انداز میں رکھنے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا،’ گلڈ الیکشن کمیشن سے اپیل کرتا ہے کہ وہ دانشمندی اور ہمدردی کا مظاہرہ کرے، راج گوپال کی ووٹر کی حیثیت سے پہچان فوراً بحال کرے، اور ایسے تمام دیگر افراد کے معاملات میں بھی یہی رویہ اختیار کرے جو اسی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل آر راج گوپال نے بتایا تھا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے بعد انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سے وہ رواں سال کے آغاز میں ہوئے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکے۔ بعدمیں حکام نے ان کے پاسپورٹ کی تجدید سے انکار کی وجہ بھی یہی بتائی کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وہ امریکہ میں اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں بھی شرکت نہیں کر سکے۔
