آر ایس ایس کے ایک سابق پرچارک یشونت سہدیو شندے نے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھے خط میں آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت، آر ایس ایس رہنما اندریش کمار اور وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری ملند پرانڈے سمیت کئی سینئر رہنماؤں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2000 کی دہائی میں ملک کے مختلف حصوں میں ہوئے بم دھماکوں میں ان کے مبینہ رول کی جانچ کی جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے۔

تصویر: پی ٹی آئی
منگلورو: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سابق پرچارک یشونت سہدیو شندے نے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا جائے۔
اپنے خط میں شندے نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت، آر ایس ایس رہنما اندریش کمار اور وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری ملند پرانڈے سمیت کئی سینئر رہنماؤں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2000 کی دہائی میں ملک کے مختلف حصوں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں ان کے مبینہ رول کی ’جانچ کی جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے۔‘
اگست کے شروع میں بھیجا گیا شندے کا یہ خط ان کی کئی سال سے جاری اس مہم کی تازہ کڑی ہے، جس میں وہ 2000 کی دہائی میں ہوئے کئی بم دھماکوں میں ہندوتوا دی رائٹ ونگ سے وابستہ افراد کے مبینہ رول کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ان معاملوں کی عدالتوں اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے جانچ کی گئی تھی، لیکن آخرکار ملزموں کو بری کر دیا گیا۔
شندے 1990 سے کل وقتی آر ایس ایس کارکن تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنظیم سے ان کا تعلق اس وقت ختم ہوا جب مبینہ طور پر انہیں ’بم بنانے اور تربیت دینے والی ٹیم میں شامل ہونے‘ کے لیے کہا گیا۔
اگست 2022 میں مہاراشٹر کے ناندیڑ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے سامنے دیےگئے ایک حلف نامے میں شندے نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایسی میٹنگوں میں شرکت کی تھی، جن میں آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے ارکان، جن میں موجودہ وی ایچ پی جنرل سکریٹری ملند پرانڈے بھی شامل تھے، نے ملک بھر میں سلسلہ وار بم دھماکوں کی مبینہ منصوبہ بندی کی تھی۔
اپنے حلف نامے میں شندے نے دعویٰ کیا تھا کہ 2003 میں پرانڈے کی رہنمائی میں تقریباً 20 دیگر لوگوں کے ساتھ انہیں بم بنانے کی تربیت دی گئی تھی۔
یہ حلف نامہ اپریل 2006 کے ناندیڑ دھماکہ کیس کی اس وقت جاری سماعت کے دوران داخل کیا گیا تھا۔ اس واقعے میں مبینہ آر ایس ایس کارکن لکشمن راج کونڈوار کے گھر ہوئے دھماکے میں ان کے بیٹے نریش اور ایک دوسرے شخص ہمانشو پانسے کی موت ہوئی تھی۔ بتایا گیا تھا کہ ہمانشو پانسے وی ایچ پی سے وابستہ تھا۔ سی بی آئی نے اسے ’بم تیار کرنے کی کارروائی‘ قرار دیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کا مقصد اورنگ آباد کی کسی مسجد کو نشانہ بنانا ہو سکتا تھا۔
شندے نے اس معاملے میں گواہ بنائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت کے ٹرائل کورٹ کے جج اے آر دھمیجا نے شروع میں ان کے حلف نامے پر غور کیا تھا، لیکن اگلی سماعت سے قبل ان کا اچانک تبادلہ ہو گیا۔ اس کے بعد نئے جج نے شندے کی گواہ بنائے جانے کی درخواست مسترد کر دی۔
قابل ذکر ہے کہ4جنوری 2025 کو ناندیڑ کی ایک عدالت نے اس معاملے میں زندہ بچنے والے تمام نو ملزموں کو بری کر دیا۔
اس وقت دیے گئے کئی انٹرویوز میں شندے نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انہیں پاکستان میں خفیہ کارروائیوں اور ہندوستان میں ایسے بم دھماکوں کے لیے تربیت دی گئی تھی جن کا الزام بعد میں ’مسلمانوں کے سر ڈالا جا سکے۔‘ ان کا الزام تھا کہ ان کے ساتھ تربیت حاصل کرنے والے کچھ افراد نے 2003-04 میں جالنہ، پورنا اور پربھنی کی مسجدوں میں بم دھماکے کیے تھے۔
حالاں کہ سی بی آئی کی شروعاتی جانچ میں دعووں کی حمایت کے لیے مضبوط شواہد موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن جب یہ معاملے عدالت کے سامنے آئے تو موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت کے تحت تمام معاملوں میں ملزم بری ہو گئے۔
آر ایس ایس اور وی ایچ پی نے شندے کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کے پہلی بار سامنے آنے کے بعد گزشتہ چار برسوں کے دوران کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
ناندیڑ عدالت کی جانب سے ملزموں کو بری کیے جانے کے بعد وی ایچ پی نے اس فیصلے کو ’کانگریس کے منہ پر زوردار طمانچہ‘ قرار دیا تھا۔
اس سے قطع نظر، اپریل 2026 میں جب آر ایس ایس کا موازنہ امریکہ کی سفید فام بالادستی کی تنظیموں سے کیے جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تھاتو آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ آر ایس ایس کا ’کو کلوکس کلان‘(کے کے کے)سے کوئی تعلق یا مماثلت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس کو اکثر غلط طور پر ہندو بالادستی پسند یا مسلم مخالف تنظیم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے بھی آر ایس ایس کے حوالے سے سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے موہن بھاگوت کو لکھے ایک کھلے خط میں تنظیم کی قانونی حیثیت، مالی صورتحال، تنظیمی ڈھانچے اور ٹیکس قوانین کی پابندی سے متعلق تفصیلی معلومات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ شندے کا کہنا ہے کہ کھڑگے کو بھیجے گئے ان کے تازہ خط میں انہوں نے عدالت کے سامنے پہلے لگائے گئے اپنے الزامات ہی دہرائے ہیں۔
اپنے خط میں شندے نے اجمیر شریف درگاہ دھماکے کے سلسلے میں اندریش کمار پر بھی الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کرنل پرساد پروہت اور سابق بی جے پی رکن پارلیامنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا بھی ذکر کیا ہے، جن پر 2008 کے مالیگاؤں دھماکہ کیس میں مقدمہ چلایا گیا اور آخرکار انہیں بری کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ شندے نے 1998 کے پوکھرن ایٹمی تجربے، کارگل جنگ، 2002 کے گجرات فسادات، 2019 کے پلوامہ حملے اور آرٹیکل 370 کو کمزور کیے جانے کے حوالے سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنماؤں پر کئی دیگر الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
