خاص خبر

سپریم کورٹ نے ’محمد‘ دیپک کے خلاف ایف آئی آر سے متعلق کارروائی روکی، سوشل میڈیا پابندی ہٹائی

سپریم کورٹ نے کوٹ دوار کے دیپک کمار کی ہائی کورٹ کی جانب سے ایف آئی آر ردکرنے سے انکار کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیا ہےاور ایف آئی آر سے متعلق کارروائی پر بھی روک لگا دی۔ دیپک کمار، جنہیں ’محمد دیپک‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے ہندوتوا گروپوں کی جانب سے ایک مسلم دکاندار کو ہراساں کیے جانے کی مخالفت کی تھی۔

سپریم کورٹ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سوموار (31 اگست) کو دیپک کمار – جنہیں ’محمد دیپک‘ کے نام سے جانا جاتا ہے- کے خلاف درج ایف آئی آر سے متعلق کارروائی پر روک لگا دی۔

یہ معاملہ 26 جنوری کو کوٹ دوار میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق ہے، جہاں کمار نے ایک مسلم دکاندار پر اپنی دکان کا نام تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے والے دائیں بازو کی تنظیموں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ارکان کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتہ کی بنچ نے ہائی کورٹ کے اس آرڈر کے عمل پر بھی روک لگا دی، جس کے تحت دیپک کو اس واقعہ اور معاملے سے متعلق پوسٹ سوشل میڈیا پر کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے سوموار کو دیپک کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ عبوری حکم جاری کیا۔ درخواست میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں ایف آئی آر رد کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس معاملے میں مدعا علیہان کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

دیپک کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے دلیل دی کہ بجرنگ دل کے ارکان نے ایک مسلم دکاندار کی دکان کے نام میں ’بابا‘ لفظ استعمال کیے جانے پر اعتراض کیا تھا، جس کے بعد دیپک نے معاملے میں مداخلت کی تھی۔

یہ واقعہ یوم جمہوریہ کے دن پیش آیا تھا اور اس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ ویڈیو میں جب ہجوم دیپک سے ان کا نام پوچھتا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں، ’محمد دیپک‘۔

اس کے بعد کئی ایف آئی آر درج کی گئیں، جن میں ایک ایف آئی آر وی ایچ پی کے ارکان کی جانب سے کمار کے خلاف دنگا کرنے اور عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے جیسے الزامات کے تحت درج کی گئی تھی۔ دیگر ایف آئی آر دکاندار اور خود کمار کی شکایات کی بنیاد پر درج ہوئیں۔

سنگھوی نے سپریم کورٹ سے کہا، ’ایک بھلے انسان کے ساتھ اس طرح کی شکایت کیسے کی جا سکتی ہے؟‘

سنگھوی نے دلیل دی کہ دیپک نے خود بھی اس واقعہ کے سلسلے میں شکایات درج کرائی تھیں، لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ دوسری جانب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔

سنگھوی نے ہائی کورٹ کی اس ہدایت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں دیپک کو اس واقعہ کے بارے میں سوشل میڈیا پر پیغامات یا ویڈیو پوسٹ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کو راحت دینے کے بجائے ہائی کورٹ نے ان پر ’مکمل پابندی‘ عائد کر دی۔

سپریم کورٹ نے چار ہفتے کے اندر جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ اس دوران متعلقہ ایف آئی آر کے تحت کارروائی پر روک رہے گی۔

عدالت نے ہائی کورٹ کے متنازعہ حکم کے اثر اور اس پر عملدرآمد پر بھی روک لگا دی۔ اس میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے متعلق پابندی بھی شامل ہے۔

سوشل میڈیا پر مسلم دکاندار کے دفاع میں کھڑے ہونے والے دیپک کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے انہیں مبینہ طور پر ہندو توا کے حامیوں کی جانب سے دھمکیوں اور ڈرانے دھمکانے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فروری میں بہار پولیس نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا تھا جس نے دیپک کو قتل کرنے والے شخص کو 2 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔