خبریں

پرینکا چوپڑہ کی روہنگیا پناہ گزینوں سے ملاقات پر بی جے پی لیڈر ونے کٹیار بولے اس کو ملک سے نکالو

بی جے پی لیڈرونے  کٹیار نے کہا کہ یہ لوگ نہ صرف دوسروں کی زندگی چھین لیتے ہیں بلکہ انسانوں  کا گوشت بھی کھاتے ہیں ۔ایک بھی دن ضائع کیے بغیر پرینکا کو یہاں نہیں رہنے دینا چاہیے ۔ان کو اس ملک سے باہر بھگا دینا چاہیے۔

فوٹو: اے این آئی

فوٹو: اے این آئی

نئی دہلی : بالی ووڈ ایکٹریس اور یونیسیف کی گلوبل گڈول ایمبیسڈر پرینکا چوپڑہ کے بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں سے حالیہ ملاقات پر بی جے پی لیڈر ونے کٹیار نے پرینکا کو ہندوستان چھوڑنے کو کہا ہے ۔آج تک کے مطابق ؛روہنگیا پناہ گزینوں کے بارے میں کٹیار نے کہا کہ یہ لوگ نہ صرف دوسروں کی زندگی چھین لیتے ہیں بلکہ انسانوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں ۔ایک بھی دن ضائع کیے بنا پرینکا کو یہاں نہیں رہنے دینا چاہیے ۔ان کو اس ملک سے باہر بھگا دینا چاہیے۔

اسکرین شاٹ ٹوئٹر

اسکرین شاٹ ٹوئٹر

انہوں نے کہا ؛پرینکا چوپڑہ کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا،یہ ان کا نجی فیصلہ ہوسکتا ہے ۔لیکن یہ صحیح نہیں ہے ،جن لوگوں کو روہنگیا پناہ گزینوں سے ہمدردی ہے ان کو اس ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔امراجالا کے مطابق؛کٹیار نے کہا کہ پرینکا چوپڑہ جیسے لوگوں کو روہنگیا کی سچائی پتہ نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ روہنگیا ئی مسلمانوں کو اس ملک میں نہیں رہنے دینا چاہیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ونے کٹیار نے یہ باتین خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات چیت میں کہی تھیں ،جس کو اے این آئی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کیا لیکن بعد میں اس کو ہٹالیاہے۔جس کے بعد کچھ ٹوئٹر یوزر لکھ رہے ہیں کہ آخر اے این آئی نے اپنا ٹوئٹ کیوں ہٹالیا۔

فوٹو: انسٹا گرام

فوٹو: انسٹا گرام

کٹیار نے مزید کہا کہ روہنگیا نے بہت سارے ہندوؤں کو مارا ہے ،اس لیے ان کا جینا اس ملک کے لیے خطرناک ہے۔غور طلب ہے کہ اس سلسلے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ روہنگیامسلح تنظیم اراکان روہنگیا سالویشن آرمی(ARSA)نے 25 اگست 2017 کو رخائن کے شمالی حصے میں قریب 99 ہندوؤں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔رپورٹ کے مطابق یہ وہی دن ہے جس دن مسلح افراد نے پولیس چوکیوں پر حملے کئے اور بعد میں پوری ریاست میں تشدد بھڑک اٹھا۔  رپورٹ میں متاثرین کے بیان کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تشدداراکان روہنگیا سالویشن آرمی نےانجام دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق واردات کے دن روہنگیا انتہا پسندوں نے پولیس پوسٹ پر حملے کئے تھے اور ریاست میں بحران شروع ہو گیا تھا۔  رپورٹ کے مطابق رخائن میں موجود تمام روہنگیا میانمار فوج کے نشانے پر تھے۔  اراکان رہنگیا سالویشن آرمی کے حملے کے جواب میں میانمار کی فوج نے جو آپریشن چلایا تھا اس کی وجہ سے قریب 7 لاکھ روہنگیا مسلموں کو میانمار چھوڑ کر ہندوستان، بنگلہ دیش جیسے پڑوسی ممالک میں پناہ لینا پڑا۔  غور طلب ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کا مسئلہ پوری دنیا میں  ایک خوفناک انسانی مسئلہ بن‌کر ابھرا ہے۔ لاکھوں پناہ گزین آج بھی ہندوستان، بنگلہ دیش جیسے ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

واضح ہو کہ پرینکا چوپڑہ نے حال ہی میں بنگلہ دیش میں رہ رہے روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا دورہ کیا تھا۔جس کی ایک تصویر انہوں نے اپنے ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر شیئر کی تھی ۔اس پوسٹ میں پرینکا نے لکھا ؛ میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ کے دورے پر ہوں ۔میرے تجربات کو شیئر کرنے کے لیے انسٹا گرام پر فالو کریں ۔دنیا کو ان کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں ان کی کیئر کرنے کی ضرورت ہے۔

یونیسیف کی سفیر نے بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں پناہ گزینوں سے ملاقات کی اور اس حادثے کو ڈراونا بتاتے ہوئے متاثر بچوں کی مدد کرنے کی اپیل کی ۔انہوں نے کہا بچوں کو ایک اچھا مستقبل دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے دینا کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔پرینکا نے انسٹا گرام پر روہنگیا پناہ گزینوں کے بچوں کے ساتھ کئی تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ؛ 2017 کی دوسری ششماہی میں دنیا نے برما میں نسلی تشدد دیکھا اس تشدد نے 700,000 روہنگیا ئی مسلمانوں کو بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور کیا۔جن میں 60 فیصدی بچے ہیں ۔ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کا کیا ہوگا اور وہ ہر دن اس خوف میں جی رہے ہیں کہ اگلی بار کھانا کب ملے گا۔پرینکا نے کہا ہے کہ دنیا کو ان بچوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔