عدلیہ کی آزادی کو خطرہ چیف جسٹس کو برطرف کرنے سے نہیں، حزب اقتدار کے دخل سے ہے
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف Impeachment لایا گیا تو ایسا ماحول بنا جیسے ایسا کرنے سے عوام کا انصاف سے اعتماد اٹھ جائےگا اور جمہوریت خطرے میں پڑ جائےگی۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف Impeachment لایا گیا تو ایسا ماحول بنا جیسے ایسا کرنے سے عوام کا انصاف سے اعتماد اٹھ جائےگا اور جمہوریت خطرے میں پڑ جائےگی۔
احمد آباد میں آر ایس ایس کے ذریعے منعقد دیورشی نارد جینتی میں گجرات کے وزیراعلیٰ وجے روپانی نے کہا کہ انسانیت کی بھلائی کے لئے جانکاریاں جٹاتے تھے نارد۔ اس سے پہلے روپانی رام کے تیروں کو اسرو کے راکٹ جیسا بتا چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت چنڈی گڈھ میں کرانے اور سی بی آئی کو تفتیش سونپنے کی عرضی پر غور کرنے کے بعد کٹھوعہ میں چل رہی کارروائی پر 7مئی تک روک لگا دی ہے۔
سپریم کورٹ نے کٹھوعہ میں بچی کے ساتھ ریپ اور اس کے قتل کے دو ملزمین کی اس عرضی پر غور کرنے کی حامی بھر دی ہے ،جس میں انہوں نے مقدمہ کی سماعت جموں سے باہر منتقل نہیں کرنے اور معاملے کی تفتیش سی بی آئی کو سونپنے کی گزارش کی ہے۔
میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے پاکسو قانون میں کیے گئے بدلاؤاور میڈیا پر سینٹر آف ڈیتھ پینالٹی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ نکتا وشوناتھ اور سینئر جرنلسٹ افتخار گیلانی کے ساتھ ارملیش کی بات چیت
کٹھوعہ ریپ اور قتل کی نئی میڈیا رپورٹ:اخبار کی اس رپورٹ اور ملزمین کی حمایت میں نکالی گئی ریلی میں کیا فرق ہے؟آپ کو کوئی فرق نظرآتا ہے؟تو کیابکاؤ میڈیاکے اس دور میں کسی بھی چیز کی توقع کی جا نی چاہیے؟
کٹھوعہ گینگ ریپ معاملے میں آٹھ سالہ بچی کی پہچان اجاگر کرنے والے میڈیا گھرانوں نے دہلی ہائی کورٹ سے معافی مانگی۔
’وہ بےحد غریب لوگ ہیں۔ ان کو نہیں پتا کہ دنیا کیسے چلتی ہے۔ بکروال لوگ خانہ بدوش ہوتے ہیں، ہمیشہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے رہتے ہیں۔ وہ ان سنی سی زندگی جیتے ہیں اور ان سنے ہی مر جاتے ہیں۔ وہ بے بس محسوس کرتے ہیں۔ لیکن ان کو اپنی بیٹی کے لئے انصاف چاہیے۔ جب میں ان سے ملی تب وہ یہ جانکر خوش ہوئے کہ کوئی ان کی بچی کے لئے انصاف کی لڑائی لڑنا چاہتا ہے۔‘
جسٹس جوسیف نے عدلیہ اور میڈیا کو جمہوریت کا پہرےدار بتایا۔ ساتھ ہی کہا کہ سبکدوشی کے بعد وہ حکومت کے ذریعے دیا گیا کوئی بھی کام منظور نہیں کریںگے۔
مرکز ی حکومت کے 13 وزیر جس ویب سائٹ کا لنک ٹوئٹ کرتے ہیں، اپیل کرتے ہیں کہ فیک نیوز کے خلاف آواز اٹھائیں، اس ویب سائٹ کو کون چلاتا ہے، کہاں سے چلتی ہے، اس کا پتا دو دنوں تک میڈیا میں بحث ہونے کے بعد بھی نہیں چلتا ہے۔
آپ سے ایک گزارش ہے۔ آپ کسی اینکر کو اسٹار ہونے کا احساس نہ کرائیں۔ مجھے بھی نہیں۔ ایسا کرکے آپ میڈیا کے اندر کے گناہ کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ اینکر اب عوام مخالف غنڈے ہیں۔
خفیہ کیمرے کی مدد سے کئے گئے کوبراپوسٹ کے ’آپریشن 136 ‘میں ملک کے کئی مشہور میڈیا ہاؤس حکمراں جماعت کے لئے انتخابی ہوا تیار کرنے کو راضی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
آپ اپنے سیاسی صحافیوں اور مدیروں سے یہ بھی نہیں جان پائیںگے کہ دین دیال اپادھیائے کے انتیودیہ (Antyodaya)پر چلنے والی پارٹی نے کئی سو کروڑ کا ہیڈکوارٹر بنایا ہے وہ اندر سے کتنا شاندار ہے۔
سوشل میڈیا پر فرضی خبروں کی تشہیر کے بارے میں اطلاعات و نشریات وزیر نے کہا کہ سوشل میڈیا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر وہاں کوئی غلط کنٹینٹ ہے، تو لوگوں کے پاس اس کو صحیح کرنے کی طاقت ہے۔
شور کے اس دور میں سمجھ دار، خاموش لیکن نیلابھ جیسی توانا آواز کا خاموش ہو جانا بہت بڑا خسارہ ہے لیکن زندگی میں لطف لینے اور اس کو قبول کرنے والے دوست کا نہ رہنا جو شکایتی نہ ہو، زیادہ بڑا نقصان ہے۔
ہائی پروفائل ملزمین کی رہائی، ضمانت اور گواہوں پر دباؤ ہونے جیسے کئی سوال اٹھاتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے ایم تھپسے نے اس معاملے کو عدلیہ کی ناکامی کہا ہے۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے میڈیا کن گمراکن رویے اور فلم پدماوت کو لے کر سورا بھاسکر کا سنجے لیلا بھنسالی کے نام خط پر ونود دوا کا تبصرہ
ملک کے میڈیا اداروں کا وطنیت کے جذبات میں اس قدر اندھا ہو جانا بہت افسوس ناکہے اور ایسے حالات میں گردیو ربندر ناتھ ٹیگوربہت یاد آتے ہیں جب وہ تصور وطنیت کو غلط بتاتے ہیں۔
سروے کے مطابق، عالمی سطح پر پہلی بار میڈیا سب سے کم بھروسہ مند ادارہ بنا۔ بھروسے میں سب سے زیادہ کمی کے معاملے میں امریکہ اول رہا۔
چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت تبھی ہوگی، جب سپریم کورٹ کی رجسٹری عرضی درج کرکے سماعت کے لئے فہرست میں شامل کرےگی۔
ڈبیٹ اینکر بھی اپنی موت مر رہا ہے۔ وہ حکومت کا روبوٹ بنکر رہ گیا ہے۔
کسی سرمایہ کاری کے بھلےبرے پر ظاہر کی گئی رائے کو اڈانی گروپ کے ذریعے ہتک عزت کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟
ہتک عزت کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ گھوٹالہ کی رپورٹنگ کے وقت جوش میں غلطی ہو سکتی ہے۔
وہائٹ ہاؤس نے کہا، ٹرمپ کا نفسیاتی علاج نہیں ہوگا، ٹرمپ نے کتاب کو بتایا جھوٹ کا پلندہ۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دور کو پورا ہونے میں تقریباً16 مہینے کا وقت باقی رہ گیا ہے۔ لیکن انہیں خود کو اور اپنی حکومت کو آزاد پریس کےتئیں جواب دہ بنانے کی ضرورت آج تک محسوس نہیں ہوئی ہے۔
فسطائی طاقتوں نے اس برس سب سے زیادہ مسلمانوں اور سیکولرلوگوں کو اپنے نشانے پر رکھا۔ 2017انڈین ہسٹری کانگریس کے 70 ویں اجلاس میں پروفیسر عرفان حبیب نےحقائق کے برعکس تاریخ کی تشکیل پر افسوس کا اظہار کیا۔ پروفیسر حبیب جس طرح ماضی کے تحفظ کے لئے فکرمند […]
’ یہ صحیح ہے کہ میں نے آپ کو ’سورگ ‘نہیں دیا لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ میں نے آپ کو آواز نہیں دی ‘ لالو یادو نے بہت پہلے کہا تھا؛’ یہ صحیح ہے کہ میں نے آپ کو ’سورگ ‘نہیں دیا لیکن […]
ایک طاقتور اور مقبول لیڈر کے سامنے کھڑا ہوکر بول دینے کے لئے جو حوصلہ چاہیے وہ مجھ میں ہے۔ یہ حوصلہ جیب میں دس لاکھ کروڑ کے ہونے سے نہیں آتا بلکہ لاکھوں میں ایک رویش کمار ہونے سے آتا ہے۔ نتیجوں کے دن کبھی اتنے دلچسپ […]
گزشتہ9 سال میں بینکوں نے 2 لاکھ 28ہزار روپیے کا لون معاف کر دیا ہے۔ کیا اس سے معیشت پر کوئی فرق پڑا ہے ؟ اس سے پہلے کہ ردی نیوز چینل اور ہندی کے اخبار آپ کو کانگریس بی جے پی کے کباڑ میں دھکیل دیں، اقتصادی […]
میڈیا کے سوال پوچھنے کی بات کرنا بیکار ہے کیونکہ وہ سوال پوچھنا بھول چکی ہے۔ وہ کم وبیش اسی راستے پر ہے جس کے لیے ان کو کہا جارہا ہے۔ ہندوستانی میڈیا تقریبا ستّر فیصد ہندوستان سے کس طرح کا سلوک کر رہی ہے، اس کا صحیح […]
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے کارپوریٹ قرض معافی سے متعلق ارون جیٹلی کی صفائی پر ونود دوا کا تبصرہ
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے گجرات ماڈل کی حقیقت اور مودی کی انتخابی مہم پر ونود دوا کا تبصرہ
وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے نیشنلزم کے ڈسکورس میں راشٹر ماتا لفظ کا اضافہ کر دیا ہے ۔ خوشی سے جھوم اٹھیے کہ اب ہمارے پاس راشٹر ماتا بھی ہیں۔راشٹرماتا پد ما وتی۔ پچھلے ایک ہفتے سے اخبارات اور ٹیلی ویژن والوں کے یہاں خبروں […]
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ای وی ایم سے چھیڑ چھا ڑ اور سی بی آئی جج کی مشتبہ موت پر ونود دوا کا تبصرہ
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیےسیاست میں زبان کی شائستگی اور سوچھ بھارت ابھیان پر ونود دوا کا تبصرہ
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے سیاست میں اقربا پروری اور احتجاجوں کی میڈیا رپورٹنگ پر ونود دوا کا تبصرہ
نیشنل پریس ڈےکے موقع پر راجستھان کی وسندھرا حکومت کے’کالے قانون‘پراحتجاج کرتے ہوئے ’راجستھان پتریکا ‘نے اپنا ادارتی کالم خالی چھوڑ دیاہے۔ راجستھان کے اہم ہندی روزنامہ راجستھان پتریکا نے وسندھرا حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئےنیشنل پریس ڈےکے موقع پر اپنا ادارتی کالم خالی چھوڑ […]
راجستھان پتریکا کے مدیر اعلیٰ گلاب کوٹھاری نے ‘جب تک کالا:تب تک تالا’ کے عنوان سے پہلے صفحے پر ادارتی مضمون لکھا ہے ۔اس میں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا ،تب تک راجستھان پتریکا وزیراعلیٰ وسندھرا راجے اور ان سے متعلق […]
آپ کا تعاون بیش قیمتی ہے اور اس کے لئے ہم آپ کے بےحد شکرگزار ہیں۔
کیا مودی سپر مین ہیں ،جن سے سوال نہیں کیا جاسکتا؟ جمہوریت کے چوتھے ستون کے ممبروں سے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے ساتھ یاری گانٹھنے کی امید نہیں کی جاتی۔ ان سے یہ امید بھی نہیں کی جاتی کہ وہ وزیر اعظم کو دلاسا دیتے رہیں کہ […]