muslim community

شہید گنج سے کمال مولا- بھوج شالہ تک: ایک مقدمے میں قانون غالب، دوسرے میں عقیدہ

ہندوستان میں آج جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ صرف مسلمانوں یا چند مساجد کا مسئلہ نہیں۔ اگر عدالتیں تاریخ، عقیدے اور اساطیری روایتوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر اس کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی۔ کل کوئی اور گروہ کسی اور مقام پر اسی منطق کے تحت دعویٰ کرسکتا ہے۔ اس طرح ریاست کے ادارے مستقل مذہبی تنازعات کے میدان میں تبدیل ہوجائیں گے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلمانوں کی لنچنگ پر خاموشی کے لیے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا

الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ایسے معاملوں میں، جہاں مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں اور کئی بار ان کی لنچنگ تک ہو جاتی ہے، اور جہاں ملزمان کے خلاف کیس  درج نہیں ہوتے یا ٹھیک سے جانچ نہیں ہوتی-ان معاملوں میں از خود نوٹس لینے کے بجائے اُن معاملوں میں مداخلت کرتا نظر آ رہا ہے جو اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔

اتراکھنڈ: مندر کے پاس خالی زمین پر نماز پڑھنے کے لیے بزرگ کو پیٹا گیا، مذہبی نعرے لگوائے

واقعہ رودرپور کا ہے۔ پولیس کے مطابق ریشم باڑی علاقے کے رہنے والے شاہد نے جگت پورہ میں واقع اٹریا مندر کے پاس خالی زمین پر نماز ادا کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر ان پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا اور انہیں مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔

بلھے شاہ درگاہ میں توڑ پھوڑ: ’ہم آہنگی کی علامتوں کو توڑنا، غربت اور بے روزگاری کے سوالوں کے جواب دینے سے زیادہ آسان ہے‘

اتراکھنڈ کے مسوری میں 18ویں صدی کے پنجابی صوفی بزرگ، شاعر اور سماجی مصلح بابا بلھے شاہ کے تقریباً 100 سال پرانے مزار میں ہفتے کی رات دیر گئے مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم آہنگی کی علامتوں کو توڑنا، بڑھتی ہوئی غربت، وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور نوجوان نسل کے تاریک مستقبل کے حوالے سے اٹھنے والوں سوالوں کے جواب دینے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔

معطلی، حراست اور توہین کے درمیان حق احتجاج کے لیے جامعہ کے طلباء کی لڑائی

یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے طلباء نے 17 فروری کو معطل طالبعلموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یونیورسٹی میں کلاس کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم، انتظامیہ معطل طلباء کی حمایت میں کسی بھی طرح کی مزاحمت اور آواز کو دبانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

طلبہ کے خلاف پولیس زیادتی: جامعہ انتظامیہ اور بھگوا حکومت کی ملی بھگت کا نتیجہ

طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کا ‘قصور’ اتنا ہی تھا کہ وہ 15 دسمبر کو یونیورسٹی میں ایک پروگرام منعقد کر کے اس دن کو یومِ مزاحمتِ کے طور پر منانا چاہتے تھے۔ یہ وہی دن ہے جب 2019 میں جامعہ کے طلبہ سی اے اے اور این آر سی جیسے غیر جمہوری قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے اور اس وقت کی انتظامیہ نے طلبہ کے جمہوری حقوق کا تحفظ کرنے کے بجائے پولیس کو کیمپس میں بلا کر مظاہرین پر لاٹھیاں برسوائی تھیں۔

مہاراشٹر: بی جے پی لیڈر کی دھمکی — مسجدوں میں گھس کر مسلمانوں کو ماریں گے، پارٹی نے خود کو  بیان سے الگ کیا

سابق مرکزی وزیر نارائن رانے کے بیٹے اور بی جے پی ایم ایل اے نتیش رانے نے ہندو سنت مہنت رام گیری مہاراج کی حمایت میں منعقد ایک جلسے میں دھمکی دی کہ اگر سنت کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ مسجدوں میں گھس کر مسلمانوں کو ماریں گے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ کسی بھی لیڈر کو ایسے بیان نہیں دینے چاہیے۔

دہلی فسادات: قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے کے معاملے میں ہوئی نوجوان کی موت کی جانچ سی بی آئی کرے گی

سال 2020 کے دہلی فسادات کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں پانچ نوجوان زخمی حالت میں زمین پر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کم از کم سات پولیس اہلکار ان نوجوانوں کو گھیرکر قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے کے علاوہ انہیں لاٹھیوں سے مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان فیضان کی موت ہو گئی تھی۔

’پندرہ دسمبر جامعہ کے لیے ایک ایسا داغ ہے جو کبھی مٹایا نہیں جا سکتا‘

پندرہ دسمبر 2019 کو دہلی پولیس نے سی اے اے مخالف مظاہرے میں پتھراؤ کا حوالہ دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس اور لائبریری میں گھس کر طالبعلموں کی پٹائی کی تھی۔ اس تشدد کے چار سال ہونے پر جامعہ کے طالبعلموں نے ‘یوم مزاحمت’ مناتے ہوئے کیمپس میں مارچ نکالا۔

یوپی: متھرا میں گوشت فروخت کرنے پر پابندی نے مسلمانوں کو کس طرح سے متاثر کیا ہے؟

ویڈیو: اگست 2021 میں متھرا ضلع کے 22 وارڈوں میں انڈے، نان ویجیٹیرین مصنوعات اور شراب کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس کاروبار سے وابستہ مسلم کمیونٹی کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں گوشت فروخت کرنے کی روایت انگریزوں کے دور سے چلی آ رہی ہے۔ تاہم گزشتہ دو سال کی پابندیوں کی وجہ سے کاروبار پوری طرح سے ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔

جلگاؤں: دائیں بازو کے کارکن کی شکایت پر کلکٹر نے 800 سال پرانی مسجد میں نماز پر پابندی لگائی

مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع کے ایرنڈول تعلقہ میں واقع جمعہ مسجدوقف بورڈ کی جائیدادکے طور پررجسٹرڈ ہے، جس کے بارے میں دائیں بازو کے شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ہندو عبادت گاہ کی جگہ پر بنائی گئی تھی۔ کلکٹر کی جانب سے دفعہ 144لاگو کرتے ہوئے احاطے میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کرنے کے احکامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

شرجیل – صفورہ اور دیگر کو بری کرنے والے جج نے خود کو جامعہ تشدد کے معاملوں سے الگ کیا

گزشتہ 4 فروری کو ساکیت ڈسٹرکورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ارول ورما نے جامعہ تشدد کیس میں شرجیل امام، آصف اقبال تنہا ، صفورہ زرگر اور آٹھ دیگر کو بری کر دیا تھا۔ جج ورما نے پایا تھا کہ پولیس نے ‘حقیقی مجرموں’ کو نہیں پکڑااور ان ملزمین کو ‘قربانی کا بکرا’ بنانے میں کامیاب رہی۔

جامعہ تشدد: عدالت نے فیصلے میں کہا-دہلی پولیس نے پرانے حقائق کو ہی نئے شواہد کے طور پر پیش کیا

سال 2019 کے جامعہ تشدد کے سلسلے میں درج ایک معاملے میں شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا سمیت 11 لوگوں کو بری کرنے والے کورٹ کے فیصلےمیں کہا گیا ہے کہ معاملے میں پولیس کی طرف سے تین ضمنی چارج شیٹ دائرکرنا انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ اس نے ضمنی چارج شیٹ داخل کرکے ‘تفتیش’ کی آڑ میں پرانے حقائق کو ہی پیش کرنے کی کوشش کی۔

جامعہ تشدد: شرجیل امام اور صفورہ سمیت 11 افراد الزام سےبری، عدالت نے کہا – قربانی کا بکرا بنایا گیا

جامعہ نگر علاقے میں دسمبر 2019 میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں درج ایک معاملے میں شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا سمیت11 افراد کو الزام سے بری کرتے ہوئے دہلی کی عدالت نے کہا کہ چونکہ پولیس حقیقی مجرموں کو پکڑنے میں ناکام رہی، اس لیے اس نے ان ملزمین کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔

جامعہ تشدد: ایس پی پی کو فائل سونپنے میں تاخیر پر عدالت نے دہلی پولیس سے وضاحت طلب کی

دسمبر 2019 کو شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

تریپورہ: ہندوتوا گروپ کے قبرستان میں مندر بنانے کے بعد اگرتلہ کے مضافات میں کشیدگی

جانکاری کے مطابق، تریپورہ کی راجدھانی اگرتلہ کے مضافات میں واقع نندن نگر کے ایک قبرستان میں ہندو یوا واہنی کے ارکان نے مبینہ طور پر پہلے بلڈوزر کا استعمال کرکے زمین کو صاف کیا اور پھر بانس کا عارضی ڈھانچہ کھڑا کرکے اس میں شیولنگ نصب کردیا۔ آس پاس تنظیم کے بینر–جھنڈے اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تصویریں لگا دیں۔ انتظامیہ نے بعد میں اس ڈھانچے کو ہٹا دیا۔

ہماری لڑائی ہندوؤں سے نہیں، مذہب کی بنیاد پر آگ لگانے والی حکومت سے ہے: ارشد مدنی

اترپردیش کے دیوبندمیں جمعیۃ علماء ہند کے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے دوسرے گروپ کے سربراہ مولانا محمود اسعد مدنی نے سنیچر کو کہا کہ حکومت نے ملک کے مسلمانوں کے مسائل کے تئیں آنکھیں بند کرلی ہیں۔تنظیم نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی سرپرستی میں ملک کی اکثریتی برادری کے ذہنوں میں زہر گھولا جا رہا ہے۔

’یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا بدترین دور ہے‘

ویڈیو: گزشتہ چند دنوں میں کئی صوبوں میں فرقہ وارانہ واقعات کے بعد کشیدگی کا ماحول ہے۔ مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے مکان اور دکان توڑے گئے، مساجد کے سامنے غیرمہذب نعرے بازی کی گئی۔ اس سلسلے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے مؤرخ رام چندر گہا سے بات چیت کی۔

کیرالہ: مندر میں غیر ہندو بھرت ناٹیم ڈانسر کا ڈانس پروگرام رد کیا گیا

بھرت ناٹیم رقاصہ مانسیہ وی پی کو 21 اپریل کو ترشور کے کدلمانکیم مندر میں ایک تقریب میں پرفارم کرنا تھا، لیکن انہیں منظوری نہیں ملی، کیونکہ مندر کی روایت کے مطابق غیر ہندو احاطے میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی مانسیہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی مذہب کو نہیں مانتی۔

دہلی فسادات: ہیٹ اسپیچ معاملے میں عدالت نے کہا – بیان مسکراتے ہوئے دیا جائے تو یہ جرم نہیں ہے

دہلی ہائی کورٹ دہلی فسادات سے پہلے ہیٹ اسپیچ کے الزام میں بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورماکے خلاف ایف آئی آر کے مطالبے کو خارج کرنے کے سلسلے میں چیلنج دینے والی ایک عرضی پر سماعت کر رہی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ انتخابی بیان بازی میں رہنما کئی طرح کی باتیں کرتے ہیں، لیکن ہمیں کسی بھی پیش رفت کی مجرمانہ نوعیت کو دیکھنا ہوگا۔

دہلی فسادات: ہیٹ اسپیچ معاملے میں عدالت نے سونیا گاندھی، راہل گاندھی، کپل مشرا سمیت کئی لیڈروں کو دوبارہ نوٹس بھیجا

دہلی ہائی کورٹ فروری 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق مختلف عرضیوں کی سماعت کر رہی ہے، جن میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کے بعد ہوئے فسادات میں مبینہ طور پر ہیٹ اسپیچ کے معاملے میں ان لیڈروں کی جانچ کی جائے۔

کرناٹک: اسکول میں نماز ادا کرنے پر ہنگامہ

کرناٹک کے کولار ضلع کے ملبگل سومیشور پالیا بالے چنگپا گورنمنٹ کنڑ ماڈل ہائر پرائمری اسکول کا معاملہ۔ 22 جنوری کو ہندو تنظیموں اور گارجین کے ایک طبقے کے ہنگامہ کے بعد اس میں شامل سابق طالبعلموں میں سے ایک نے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی، کولار کے ایم پی اور محکمہ تعلیم سے مداخلت کی مانگ کی ہے۔

دہلی فسادات کی جانچ کو لے کر کئی بار پولیس پر سوال اٹھانے والے ایڈیشنل سیشن جج کا تبادلہ

ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو دہلی کےکڑکڑڈوما ضلع عدالت میں دنگوں سے متعلق کئی معاملوں کی شنوائی کر رہے تھے۔ ان کاتبادلہ نئی دہلی ضلع کےراؤز ایونیو عدالت میں خصوصی جج (پی سی قانون) (سی بی آئی)کے طور پر کیا گیا ہے۔جسٹس یادو نے دہلی دنگوں کو لےکر پولیس کی جانچ کو لےکر سوال اٹھاتے ہوئے کئی بار اس کی سرزنش کر چکے ہیں۔ انہوں نے اکثر معاملوں میں جانچ کے معیار کو گھٹیا بتایا تھا۔

دہلی فسادات: متضاد بیانات پر عدالت نے کہا-حلف اٹھا کر جھوٹی گواہی دے رہے پولیس گواہ

دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے فسادات سےمتعلق ایک معاملے کو سنتے ہوئے کہا کہ پولیس گواہوں میں سے ایک حلف لےکر غلط بیان دے رہا ہے۔کورٹ نے ایسا تب کہا جب ایک پولیس اہلکار نے تین مبینہ دنگائیوں کی پہچان کی لیکن ایک اور افسر نے کہا کہ جانچ کے دوران ملزمین کی پہچان نہیں ہو سکی۔ یہ پہلی بار نہیں ہیں جب عدالت نے دہلی دنگوں کے معاملے میں پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔

مدھیہ پردیش: تبدیلی مذہب کے شک میں نامعلوم ہجوم نے درگاہ پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا

معاملہ نیمچ ضلع کےجاود تحصیل کا ہے۔پولیس نے بتایا کہ دو درجن نقاب پوشوں نےمبینہ طور پر ایک درگاہ پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کر کےاس کو نقصان پہنچایا ہے، ساتھ ہی اس کے خادم اور زائرین کی لاٹھی ڈنڈوں سے پٹائی کی۔ حملہ سنیچر کی شب تقریباً11 بجے سے اتوار کی صبح تین بجے تک چلا۔

دہلی فسادات پل بھر میں نہیں ہوئے، منصوبہ بند سازش تھی: ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ فروری2020 میں ملک کی قومی راجدھانی کو ہلا دینے والے فسادات واضح طور پرپل بھر میں نہیں ہوئے اور ویڈیوفوٹیج میں موجود مظاہرین کے طرزعمل سے یہ صاف پتہ چلتا ہے۔یہ حکومت کے کام کاج میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ شہر میں لوگوں کی عام زندگی کو متاثرکرنے کے لیے سوچی سمجھی کوشش تھی۔

دہلی فسادات: زخمی نوجوانوں کو قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کی پہچان

گزشتہ سال دنگوں کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا،جس میں زخمی حالت میں پانچ نوجوان زمین پر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کم از کم سات پولیس اہلکارنوجوانوں کو گھیرکرقومی ترانہ گانے کے لیےمجبورکرنے کے علاوہ انہیں لاٹھیوں سے پیٹتے ہوئےنظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی، جس کی پہچان 23 سال کے فیضان کے طورپر ہوتی ہے۔ ان کی ماں کا کہنا تھا کہ پولیس کسٹڈی میں بےرحمی سے پیٹے جانے اور وقت پر علاج نہ ملنے سے ان کی جان گئی۔

دہلی فسادات: مسلم نوجوان کے قتل معاملے میں سات لوگوں کے خلاف فرد جرم عائد

گزشتہ سال 25 فروری کو 18سالہ مونس اپنےوالد سے مل کر اور مٹھائیاں لےکر گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ تبھی دنگے بھڑک گئے۔ جب وہ دہلی کے یمنا بس اسٹینڈ پر اترا تو اس نے دنگوں کو بھڑکتے دیکھا۔ مشتعل بھیڑ نے اس کے مسلم ہونے کا پتہ چلنے کے بعد لاٹھی ڈنڈوں اور پتھروں سے پیٹ پیٹ کر اس کی جان لے لی۔

اتر پردیش: علی گڑھ ضلع کے نور پور گاؤں سے ہندوؤں کے گاؤں چھوڑنے کی مکمل حقیقت

ویڈیو: نور پور گاؤں اتر پردیش کے علی گڑھ ضلع میں واقع ہے۔ ٹپل تھانہ حلقہ کے تحت آنے والے اس گاؤں میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق قصبے میں تقریباً800 مسلم فیملی اور 125 ہندو فیملی رہتی ہیں۔ اکثر ہندو فیملی جاٹو کمیونٹی(ایس سی)سے ہیں۔ کچھ دلت فیملی کے ذریعے اپنے گھروں پر ‘بکری کے لیے گھر ہے’ لکھے جانے کے بعد سے یہ گاؤں چرچہ میں ہے۔

دہلی فسادات: والد کی کووڈ 19 سے موت کے بعد نتاشا نروال کو کچھ شرطوں کے ساتھ ملی ضمانت

دہلی ہائی کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ دہلی فسادات کےمعاملے میں گرفتار کی گئیں نتاشا نروال کی فیملی میں آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے کوئی نہیں ہے۔ پچھلے سال 22 فروری 2020 کو دہلی کے جعفرآبادمیٹرو اسٹیشن کے باہرشہریت قانون کے خلاف ہوئے ایک احتجاج میں حصہ لینے پر 23 مئی2020 کو نروال کو ان کی ایک ساتھی دیوانگنا کلیتا کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

دہلی فسادات: پولیس کا دعویٰ-’قومی ترانہ والے ویڈیو‘ میں موجود نوجوان کی حراست کے وقت  تھانے کا کیمرہ خراب تھا

گزشتہ سال دہلی فسادات کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں کچھ پولیس والے پانچ مسلم نوجوانوں کو پیٹتے ہوئے انہیں قومی ترانہ گانے کو مجبور کررہے تھے۔ بعد میں ان میں سے ایک 23 سالہ فیضان کی موت ہو گئی تھی۔ فیضان کی ماں نے پولیس اہلکاروں پر حراست میں قتل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انصاف کی فریاد کی ہے۔

دہلی فسادات سے ٹھیک پہلے شدت پسند ہندوتوادی رہنما نے لگاتار مسلمانوں کے ’قتل عام‘ کی اپیل کی تھی

خصوصی سیریز: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکر دی وائر کےخصوصی سلسلہ کے دوسرے حصہ میں جانیےشدت پسند ہندوتوادی رہنمایتی نرسنہانند کو، جن کی نفرت اور اشتعال انگیزی نے ان شرپسندوں کے اندرشدت پسندی کا بیج بویا، جنہوں نے فروری 2020 کے آخری ہفتے میں شمال-مشرقی دہلی میں قہر برپاکیا۔

دہلی فسادات: موج پور کے دکانداروں کو نقصان کے مقابلے بہت کم معاوضہ ملا

گراؤنڈ رپورٹ: شمال – مشرقی دہلی کے موج پور علاقے میں پچھلے سال ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران تمام دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جتنے نقصان کا دعویٰ کیا تھا، اس سے کافی کم معاوضہ انہیں دیا گیا۔

دہلی فسادات کی اصل سازش؛ جس کو پولیس نے نظر انداز کیا

خصوصی رپورٹ: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکردی وائر کی سیریز کے پہلے حصہ میں جانیے ان ہندوتووادی کارکنوں کوجنہوں نےنفرت پھیلانے، بھیڑجمع کرنے اور پھر تشددبرپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

دہلی فسادات: حکومت کی یقین دہانی کے بعد متاثرین کو ملا 10 فیصدی سے بھی کم معاوضہ

گراؤنڈ رپورٹ:شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے دنگوں میں متاثرہ موج پور،اشوک نگر جیسے علاقوں کے55 دکانداروں نے نقصان کی بھرپائی کے لیےکل 3.71 کروڑ روپے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن دہلی سرکار نے اس میں سے 36.82 لاکھ روپے کی ہی ادائیگی کی ہے۔ جودعوے کے مقابلے9.91 فیصدی ہی ہے۔

ٹول کٹ معاملے میں نکیتا جیکب کو تین ہفتے کے لیے پیشگی ضمانت ملی

بامبے ہائی کورٹ نےممبئی کی وکیل نکیتا جیکب کو راحت دیتے ہوئے دہلی کی متعلقہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا ہے۔ یہ معاملہ کسانوں کے احتجاج کے سلسلے میں ماحولیاتی کارکن گریتا تنبیرکی جانب سے شیئر کیے گئے ٹول کٹ سے متعلق ہے۔