ہندوستان میں آج جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ صرف مسلمانوں یا چند مساجد کا مسئلہ نہیں۔ اگر عدالتیں تاریخ، عقیدے اور اساطیری روایتوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر اس کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی۔ کل کوئی اور گروہ کسی اور مقام پر اسی منطق کے تحت دعویٰ کرسکتا ہے۔ اس طرح ریاست کے ادارے مستقل مذہبی تنازعات کے میدان میں تبدیل ہوجائیں گے۔
سی جے آئی سوریہ کانت نے جمعہ کو سینئر وکیل کا درجہ دیے جانے کے مطالبے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ معاشرے میں کچھ پیراسائٹ ہیں، جو سسٹم پر حملہ کرتے ہیں۔ انہیں روزگار نہیں ملتا اور پیشہ ورانہ زندگی میں کوئی جگہ نہیں ملتی۔ ان میں سے کچھ میڈیا اہلکار بن جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔
تین مئی کو منعقد نیٹ-یو جی 2026 کا امتحان پیپر لیک کے دعووں کے بعد رد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب یہ امتحان دوبارہ 21 جون کو ہوگا۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بتایا کہ ’گیس پیپر‘کے نام پر اصل سوال لیک ہوئے تھے اور اگلے سال سے یہ امتحان آن لائن لیا جائے گا۔
گزشتہ 13 مئی کو منی پور کے چوڑا چاندپور میں منعقد ایک پروگرام سے کانگپوکپی واپس لوٹ رہے چرچ رہنماؤں کی گاڑیوں پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ کے چوڑا چاندپور دورے سے محض چند دن پہلے پیش آیا ہے۔
مغربی بنگال کی نو منتخب بی جے پی حکومت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب عوامی مقامات پر جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جانوروں کو صرف میونسپلٹی کی جانب سے مقرر کردہ یا مجاز سلاٹر ہاوس میں ہی ذبح کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ لازمی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی گائے یا بھینس کو ذبح کرنا پوری طرح سے ممنوع ہوگا۔
اپریل کے وسط میں نوئیڈا کے فیکٹری مزدوروں نے تنخواہ میں اضافے، سازگار ماحول اور مزدوروں کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے سات ایف آئی آر درج کی ہیں اور 300 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں کارکن، طلبہ، ایک صحافی اور ایک پی ایچ ڈی اسکالر شامل ہیں۔ اب تقریباً ایک ماہ بعد پولیس نے دو لوگوں پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی ہے۔
کرناٹک حکومت کے 13 مئی کو جاری نئے فیصلے میں طلبہ کو یونیفارم کے ساتھ ’محدود روایتی اور رسم و رواج سے متعلق علامتیں‘ پہننے کی اجازت دی گئی ہے- جن میں حجاب، جنیئو، رودراکش وغیرہ شامل ہیں۔ فروری 2022 میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے والے تعلیمی اداروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔
اے بی وی پی ممبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد کے ایک گروپ نے میدنی پور واقع ودیاساگر یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہو کر ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگائے، اس دوران بنگال نشاۃ ثانیہ کی دو عظیم شخصیات – ایشور چندر ودیاساگر اور رابندر ناتھ ٹیگور کی تصاویر، جو بند طلبہ یونین دفتر کے اندر آویزاں تھیں، مبینہ طور پر اتار کر پاؤں تلے روند دی گئیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے بیٹے سائی بھاگیرتھ کے خلاف ایک 17 سالہ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے الزام میں پاکسوقانون کےتحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وزیرنے الزامات کو سیاسی مخالفین کی ’سازش‘قرار دیا ہے۔ تین سال قبل بھی بھاگیرتھ پر مہندرا یونیورسٹی کیمپس میں اپنے ایک بیچ میٹ کے ساتھ مارپیٹ کرنے کا الزام لگا تھا، جس کے پس پردہ دوست سے وابستہ خاتون کا پیچھا کرنا بتایا گیا تھا۔
سی بی آئی ڈائریکٹر کے انتخابی عمل پر اختلافی نوٹ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کوئی ’ربڑ اسٹیمپ‘نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار مطالبے کے باوجود انہیں سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کے امیدواروں کی 360 ڈگری رپورٹ فراہم نہیں کی گئی، اور اجلاس کے دوران ہی 69 امیدواروں کی تفصیلات دی گئیں۔
ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔
گَیس پیپر کے ذریعے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان این ٹی اے نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان ردکر دیا ہے۔ راجستھان ایس او جی کی جانچ میں 410 سوال پر مشتمل ایک ’گَیس پیپر‘ میں 120 سے زیادہ سوال اصل امتحانی پرچے سے مماثل پائے گئے تھے۔ امتحان رد ہونے کے بعد طلبہ اب دوبارہ تیاری، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
ہندوستانی جمہوریت میں شاید اب ایک نئے موسم کا اضافہ کر دینا چاہیے؛ گرمی، بارش، سردی اور ’انتخابات کے بعد کا موسم قربانی‘۔ انتخابات کے دوران شہری ’وکاس‘ کے نعرے سنیں گے اور انتخابات کے بعد ’صبر و تحمل اور کفایت شعاری‘ کا سبق پڑھیں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری کی اپیل کے بعد ان کے کئی شہروں کے دوروں پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ جس اتوار کو وزیر اعظم نے شہریوں سے’بحران کے وقت‘ میں’اجتماعی قربانی‘ کی بات کہی، اسی دن انہوں نے تین ریاستوں کے چار شہروں میں عظیم الشان اہتمام اور انتظامات والے پروگراموں میں شرکت کی، اور یہ دورے آج بھی جاری ہیں۔
بہار کے کئی غریب خاندانوں کے لیے مڈ ڈے میل ایک ضروری سہارا ہے، لیکن سہرسہ میں اس کے مبینہ استعمال کے بعد 150 سے زیادہ بچوں کے بیمار پڑنے کے بعد والدین کا کہنا ہے کہ ان کا اس سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ ایک گارجین نے بچوں کو اسکول نہ بھیجنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ان پڑھ رہ جائیں تو بھی چلے گا، لیکن کم سےکم زندہ تو رہیں گے۔‘
انیس سو نوے بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر سبرت گپتا کو بنگال میں نئے وزیراعلیٰ کے حلف لینے کے فوراً بعد سی ایم کا صلاح کار بنایا گیا ہے۔ گپتا دسمبر 2025 میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مغربی بنگال میں کرائے گئے متنازعہ ایس آئی آر عمل میں اسپیشل رول آبزرور کے طور پر تعینات تھے۔
تمل سنیما کے سپر اسٹار وجے کو سیاسی عروج اچانک حاصل نہیں ہوا۔ یہ کہانی برسوں سے انتہائی احتیاط کے ساتھ لکھی جا رہی تھی۔فلموں، علامتی اشاروں، عوامی رابطوں اور کئی بار معنی خیز خاموشیوں کے ذریعے۔ برسوں سے تشکیل دی جا رہی اس کہانی کا ایک مرحلہ 10 مئی کو وجے کے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ کے عہدے کی حلف برداری کے ساتھ مکمل ہوا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانا پکانے کے تیل کی کم کھپت اور کھاد کے کم استعمال کی بھی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی کو انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور آئینی اداروں پر جانبداری کے الزامات وغیرہ کے حوالے سے جے این یو کی پروفیسر زویا حسن اور سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
ایک آر ٹی آئی درخواست کے تحت آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کی سکیورٹی پر ہونے والے اخراجات کی جانکاری مانگی گئی تھی، لیکن وزارت داخلہ اور سی آئی ایس ایف نے جانکاری دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وزارت نے سکیورٹی اور پرائیویسی کا حوالہ دیا، جبکہ سی آئی ایس ایف نے خود کو قانون سے مستثنیٰ ادارہ قرار دیتے ہوئے جانکاری دینے سے منع کر دیا۔
سہراب الدین شیخ کو 2005 میں مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر میں مار دیا گیا تھا۔ 2018 میں ایک خصوصی عدالت نے گجرات اور راجستھان کے پولیس افسران سمیت 22 افراد کو اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔ سہراب الدین کے بھائیوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ نے ان کی اپیل کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔
مجسمے صرف پتھر یا دھات کے ڈھانچے نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ ایک معاشرہ کن نظریات، جدوجہد اور یادوں کو اپنی معاشرت میں جگہ دینا چاہتا ہے۔ جب سیاست حافظے اور یادداشت کے انہدام کی شکل اختیار کر لے، تو پھر کوئی بھی علامت محفوظ نہیں رہتی- نہ لینن، نہ گاندھی، نہ نہرو، نہ امبیڈکر۔
مغربی بنگال کی 294 نشستوں میں سے 150 نشستوں پر حذف کیے گئے رائے دہندگان کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ ان میں سے بی جے پی نے 99 سیٹوں پر جیت درج کی، جبکہ 2021 میں وہ ایسی صرف 19 نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔
اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی میں نو منتخب 190 اراکین اسمبلی (65فیصد) نے اپنے خلاف فوجداری معاملے کی جانکاری دی ہے، جبکہ 2021 میں یہ تعداد 142 (49 فیصد) تھی۔ ان میں سے 170 اراکین اسمبلی (58 فیصد) سنگین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پچھلی اسمبلی میں یہ تعداد 113 (39فیصد) تھی۔
جمہوری حق سے محروم رائے دہندگان کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اہم نہیں تھے۔ یہ جمہوریت میں کسی کے ساتھ کی جانے والی سب سے بڑی ناانصافی تھی، مگر غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا کہ وہ یہ اعلان کرتیں کہ جب تک ان لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں دیا جاتا، وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ اگر سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ رائے دہندگان ان کے ساتھ کھڑے ہوں، تو پہلے انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے’آئی لو محمد‘تنازعہ سے جڑے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے سبب گرفتار کیے گئے مظفرنگر کے ندیم کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوسٹ میں کسی بھی ذات یا برادری کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ندیم کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کا ویڈیو اشتعال انگیز تھا۔
گزشتہ ہفتے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ایک ہیڈ کانسٹبل نے مبینہ طور پر بہاری پہچان کو لے کر 22 سالہ ڈیلیوری بوائے پانڈو کمار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حالیہ دنوں میں ہندوستان میں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تشدد معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اس میں علاقائی امتیاز پر مبنی تشدد کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں اور بہاری مہاجرین دہائیوں سے اس طرح کے تشدد کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔
بہار کے رہنے والے امام توصیف رضا کی لاش گزشتہ 27 اپریل کو یوپی کے بریلی کے قریب ایک گاؤں میں ریلوے ٹریک کے پاس ملی تھی۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت سے پہلے کئی چوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ پولیس نے ایک بیان میں ان کی موت کو حادثہ بتایا تھا، جس کے بعد اب ان کی اہلیہ نے ٹرین میں توصیف کے ساتھ مارپیٹ کا الزام لگاتے ہوئے باضابطہ شکایت درج کروائی ہے۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے 15 سال پرانی ترنمول حکومت کو ہٹا کر اکثریت حاصل کر لی۔ ممتا بنرجی حکومت کے خلاف عدم اطمینان، بدعنوانی اور حکمرانی سے متعلق سوال، ہندو-مسلم پولرائزیشن اور ایس آئی آر کا تنازعہ اس بڑی سیاسی تبدیلی کے اہم اسباب بن کر سامنے آئے۔
مغربی بنگال میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بی جے پی نے مرکز میں اپنی حکومت اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے بے دریغ غلط استعمال کی معرفت جس طرح 293 نشستوں کے اسمبلی انتخابات میں زور آزمائی کی اور بے مثال جیت درج کی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے اکھلیش یادو کی تشویش میں کئی گنا اضافہ ہو جانا چاہیے۔ خصوصی طور پر اس لیے کہ اتر پردیش اور مرکز دونوں میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے اس ریاست میں بی جے پی کے لیے ایسا کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔
آسام اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے لگاتار تیسری بار اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس جیت کے مرکز میں ہمنتا بسوا شرما کی قیادت، شناخت پر مبنی سیاست، 2023 کی حد بندی کا اثر اور کمزور اپوزیشن نے رول ادا کیا ۔ اس انتخاب میں کانگریس محدود ہو گئی، اے آئی یو ڈی ایف کمزور پڑی اور ریاست میں پولرائزیشن کا اثر واضح طور پر نظر آیا۔
گجرات کے شہر وڈودرا میں واقع ایک یونیورسٹی میں’مودی تتو‘کے نام سے ایک نیا کورس شروع کیا گیا ہے، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو ایک تصور اور نظریہ کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ’سودیشی تعلیمی نظام‘، ہندو مذہب کا مطالعہ اور قوم پرستی کے ساتھ آر ایس ایس کو بھی نصاب میں نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے۔
نوئیڈا مزدور تحریک سے متعلق معاملے میں کئی افراد کی گرفتاری کے بعد پولیس کی کارروائی پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ اہل خانہ اور وکیل الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں مناسب قانونی عمل کے بغیر حراست میں لیا گیا۔ پولیس اسے سازش قرار دے رہی ہے۔ یہ معاملہ اب مزدوروں کے حقوق سے آگے بڑھ کر شہری آزادیوں کی بحث بن گیا ہے۔
ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر مرکز کی نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی حکومت سے بڑھی ہوئی قیمتوں کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔
سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ ان عرضیوں کے ایک گروپ پر فیصلہ سناتے ہوئے کیا، جن میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ دلیل کہ ہیٹ اسپیچ کا دائرہ قانون سازی کے لحاظ سے خالی ہے، گمراہ کن ہے۔ موجودہ فوجداری قانون کا ڈھانچہ، جس میں تعزیرات ہند اور دیگر متعلقہ قوانین کی دفعات شامل ہیں، ان سرگرمیوں سے مؤثر طور پر نمٹتا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی نو رکنی آئینی بنچ نے سبریمالا معاملے کی سماعت کے دوران ایک اہم ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہبی برادری کوپوجا -پاٹھ کرنے کے طریقوں میں خودمختاری حاصل ہے اور عدالت اس کے مذہبی معاملوں میں فیصلہ نہیں سنا سکتی ہے، لیکن اگر اس کا اثر کسی سیکولر سرگرمی پر پڑتا ہے تو حکومت اپنے اختیارات کے تحت مداخلت کر سکتی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ایسے معاملوں میں، جہاں مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں اور کئی بار ان کی لنچنگ تک ہو جاتی ہے، اور جہاں ملزمان کے خلاف کیس درج نہیں ہوتے یا ٹھیک سے جانچ نہیں ہوتی-ان معاملوں میں از خود نوٹس لینے کے بجائے اُن معاملوں میں مداخلت کرتا نظر آ رہا ہے جو اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔
آج کل ملک میں کم وبیش ہر سروس کے لیے آدھار کارڈ مانگا جاتا ہے، لیکن حکومت اور یو آئی ڈی اے آئی بار بار یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ یہ تاریخ پیدائش، شہریت یا کئی معاملوں میں پتے کا حتمی ثبوت نہیں ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر آدھار کی قانونی اور عملی حیثیت کیا ہے؟