جمہوری حق سے محروم رائے دہندگان کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اہم نہیں تھے۔ یہ جمہوریت میں کسی کے ساتھ کی جانے والی سب سے بڑی ناانصافی تھی، مگر غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا کہ وہ یہ اعلان کرتیں کہ جب تک ان لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں دیا جاتا، وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ اگر سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ رائے دہندگان ان کے ساتھ کھڑے ہوں، تو پہلے انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے 15 سال پرانی ترنمول حکومت کو ہٹا کر اکثریت حاصل کر لی۔ ممتا بنرجی حکومت کے خلاف عدم اطمینان، بدعنوانی اور حکمرانی سے متعلق سوال، ہندو-مسلم پولرائزیشن اور ایس آئی آر کا تنازعہ اس بڑی سیاسی تبدیلی کے اہم اسباب بن کر سامنے آئے۔
مغربی بنگال میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بی جے پی نے مرکز میں اپنی حکومت اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے بے دریغ غلط استعمال کی معرفت جس طرح 293 نشستوں کے اسمبلی انتخابات میں زور آزمائی کی اور بے مثال جیت درج کی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے اکھلیش یادو کی تشویش میں کئی گنا اضافہ ہو جانا چاہیے۔ خصوصی طور پر اس لیے کہ اتر پردیش اور مرکز دونوں میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے اس ریاست میں بی جے پی کے لیے ایسا کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔
اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو یہ خواتین ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں، بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔
سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔
جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔
لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کو روک دیا۔ وہیں، بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا۔
لوک سبھا کی توسیع اور بڑے پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔ ایوان میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔
مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہونے کے 940 دن اور راجیہ سبھا میں 939 دن کی تاخیر کے بعد جمعرات کو106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، کو نوٹیفائی کیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن کو قانون کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس نئے بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو مرکز کی مجوزہ حد بندی بل کے خلاف سیاہ کپڑے پہن کر اسے ’کالا قانون‘سے تعبیر کرتے ہوئے بل کی ایک کاپی جلائی اور کالاجھنڈا دکھایا۔ انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے ہوئے احتجاج نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی اسی طرح کی تحریک اس تجویز کو چیلنج پیش کرے گی۔
اپوزیشن نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیامنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور الزام لگایا کہ اسپیکر کے طور پر برلا نے جانبدارانہ انداز میں کام کیا۔ ان الزامات میں دسمبر 2023 میں 100 اراکین پارلیامنٹ کی معطلی بھی شامل ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران ملک میں ایل پی جی کی قیمت میں 60 روپے فی سلنڈر اور کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 115 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس اضافے کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ نریندر مودی اور ان کے وزراء کی ناکامیوں کا خمیازہ ملک کی عوام کیوں بھگت رہی ہے۔
دہلی کی ایک عدالت نے مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالے کے تمام 23 ملزمان – جن میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں – کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ایجنسی کے شواہد کی تائید کے لیے ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا ہے۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
دی وائر کی رپورٹ میں اس انکشاف کے بعد کہ جے ڈی یو لیڈر اور مرکزی وزیر للن سنگھ نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو پٹنہ میں عالیشان فلیٹ گفٹ کیا ہے، اپوزیشن نے ریاستی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے نتیش کمار پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، جس نے ابھی حال میں اپنی 100 ویں سالگرہ منائی ہے، ‘غیر سیاسی’ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، حالانکہ اس کےنظریے کا عکس اقتدار کے اعلیٰ ترین عہدوں سے لے کر تعلیمی اداروں حتیٰ کہ سنیما تک پر دیکھا جا سکتا ہے۔آر ایس ایس کے 100 سالہ سفر پر صحافی اور مصنف دھیریندر جھا اور دی وائر کے بانی مدیرسدھارتھ وردراجن کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی۔
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کرنے کو آئین کی توہین قرار دیا اور آر ایس ایس کا موازنہ اسرائیل کے صیہونیوں سے کیا۔ سنگھ کی تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں نے اسے تفرقہ انگیز، رجعت پسند اور تحریک آزادی کی مخالفت کرنے والی تنظیم قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم مودی کی جانب سے آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں جاری یادگاری ڈاک ٹکٹ 100 روپے کا سکہ اپوزیشن کے نشانے پر ہے۔ سی پی آئی (ایم) اور کیرالہ کے وزیر اعلیٰ نے اسے آئین کی توہین قرار دیا ہے۔ سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ نے پوچھا ہے کہ کیا یہ سیکولر آئین کے تحت قانونی ٹینڈر ہے؟ اپوزیشن اسے جدوجہد آزادی کی یاد کی توہین گردان رہی ہے۔
دی وائر کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں اویسی نے حد بندی ایکٹ کے اطلاق، وقف بائی یوزر، املاک وقف کرنے کے لیےکم از کم پانچ برس تک ’پریکٹسنگ مسلمان‘ کی شرط پر ’مکمل روک‘ نہیں لگائے جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
سپریم کورٹ نے سوموار کو متنازعہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے اہم اہتماموں پر روک لگا دی ہے۔ اس میں وقف بنانے کے لیے کسی شخص کے 5 سال تک اسلام کا پیروکار ہونے ، کلکٹر یا ایگزیکٹو کو جائیداد کے حق کا فیصلہ کرنے کی اجازت اور غیر مسلموں کو وقف بورڈ کا ممبر بنانے سے متعلق اہتمام شامل ہیں۔
بی جے پی کی سابق ترجمان اور وکیل آرتی ساٹھے کی بامبے ہائی کورٹ میں جج کے طور پر تقرری کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے عدلیہ کی غیر جانبداری پر حملہ قرار دیتے ہوئے ان کی تقرری کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس نے مودی حکومت پر یو اے پی اے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اختلاف رائے کو دبانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے طلبہ، صحافیوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پرتشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس نے ہی اس قانون کی بنیاد رکھی تھی اور اس میں سخت دفعات شامل کیےتھے۔
انڈین ریلوے کے ٹکٹوں پر ‘آپریشن سیندور’ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کو لے کر سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابی فائدے کے لیے فوجی کارروائیوں کو موقع کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق، اگست 2019 تک ترکیہ میں 52000 مضبوط وقف، 5268 نئے وقف، 256 مُلحق وقف، اور 167 اقلیتی وقف رجسٹرڈ تھے۔یہودیوں اور عیسائیوں کے بھی اس ملک میں اپنے وقف ہیں، جن کا وہ اپنی مرضی سے دیکھ بھال کرتے ہیں۔
ایسی حکومت، جس کے پاس ایک بھی مسلم رکن پارلیامنٹ نہیں، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے راگ الاپتی ہے، جبکہ اس کا سیاسی ڈھانچہ نفرت انگیز تقاریر، حاشیے پر ڈالنے والی پالیسیوں اورمسلمانوں کو قانونی جال میں جکڑنے کی مہم چلا رہا ہے۔
وقف ترمیمی بل کو پارلیامنٹ کی منظوری مل گئی ہے، لیکن اپوزیشن جماعتوں اور مسلم کمیونٹی کے نمائندوں کے سوال اب بھی باقی ہیں۔ اس بل پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس اور سینئر صحافی عمر راشد کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی بل 2025 کو بحث کے بعد منظور کر لیا، اپوزیشن نے اسے مسلم مخالف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے شفافیت میں اضافہ کرنے والا بتایا۔ ڈی ایم کے نے بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں وقف بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل وقف بورڈ کو مضبوط بنانے کے ساتھ خواتین، بچوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ارادےسے بنایا گیا ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے تھے۔
وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی، جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
این ڈی اے حکومت میں اتحادی چندربابو نائیڈو نے وقف (ترمیمی) بل 2024 کو پیش کرنے کے اقدام کی وسیع تنقید کے درمیان وجئے واڑہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے منعقد افطار میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی پی حکومت نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کیا ہے اورآگے بھی کرتی رہے گی۔
اردوان نے اپنے سیاسی حریف اور استنبول کے میئر اکرم امام اولو کو گرفتار کر کے اندرونِ ملک اپنی مقبولیت کو ایک نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ بظاہر یہ قدم ان کے اقتدار کے لیے فوری خطرہ نہیں، مگر عام ترک شہری کے لیے یہ ‘حد سے تجاوز’ کا اشارہ بن چکا ہے۔ ان کی گرفتاری نے گزشتہ دس برسوں میں حکومت مخالف سب سے بڑے مظاہروں کو جنم دیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک امام اولو کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تقریباً ایک ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
وقف بل کے خلاف دہلی میں ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے احتجاجی مظاہرہ میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی، کانگریس ایم پی گورو گگوئی اور ٹی ایم سی کی مہوا موئترا سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے شرکت کی۔ اویسی نے کہا کہ بل کا مقصد مسلمانوں سے مسجد، قبرستان اور مدارس کو چھیننا ہے۔
اپوزیشن کے تمام 11 ارکان نے وقف (ترمیمی) بل پر اپنے اختلاف کا اظہار کیا اور اسے غیر آئینی قرار دیا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اس سے نئے تنازعات کھلیں گے اور وقف کی جائیدادیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ اپوزیشن ارکان نے جے پی سی کے کام کاج کے طریقے میں خامیوں کی بھی نشاندہی کی۔
وقف (ترمیمی) بل، 2024 کی جانچ کر رہی جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی نے اپوزیشن کی تجویز کردہ 44 ترامیم کو مسترد کر دیا ہے اور این ڈی اے خیمہ کی 14 تجاویز کو منظور کر لیا ہے۔ جے پی سی میں دونوں ایوانوں سے 31 ارکان ہیں، جن میں این ڈی اے کے 16 (بی جے پی سے 12)، اپوزیشن جماعتوں کے 13، وائی ایس آر کانگریس سے ایک اور ایک نامزد رکن ہیں۔
وقف (ترمیمی) بل 2024 پر بنی جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی میں شامل اپوزیشن پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ کئی ریاستی حکومتوں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے ابھی تک کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش نہیں کیا ہے، اس لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔ کمیٹی کو سرمائی اجلاس میں ہی اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی۔
سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی سربراہی والی کمیٹی کی سفارش پر مرکزی کابینہ نے ‘ون نیشن، ون الیکشن’ کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔ تاہم، سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی بعض اہم سفارشات میں خامیاں ہیں۔
’ون نیشن، ون الیکشن‘ کی تجویز میں لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ ناقابل عمل اور جمہوریت کے خلاف ہے۔
مرکز میں حکمراں این ڈی اے کی اتحادی پارٹی جنتا دل (متحدہ) نے شروع میں وقف ترمیمی بل کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی جے ڈی یو کے اندر عدم اطمینان کی بات کہی جا رہی ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کی دیگر اتحادی جماعتوں، چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی نے بھی بل پر سوال اٹھائے تھے۔
وقف ترمیمی بل کے توسط سے اس حکومت کا مسلم دشمن چہرہ ایک بار پھر سے بے نقاب ہو گیا ہے۔
جمعرات کو اپوزیشن کی جانب سے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل کے خلاف شدید احتجاج دیکھنے کو ملا، جس کے بعد اسے جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کی تجویز پیش کی گئی۔