این آئی اے کے متاثر کن کنوکشن ریٹ یعنی سزا یابی کی اعلیٰ شرح کے تناظر میں ملزمین، ان کے وکیل اور ایجنسی سے وابستہ رہے ایک شخص نے دی وائر کو بتایا کہ آخر کیوں این آئی اے کے اتنے سارے معاملے ملزمین کے اقرار جرم کی درخواستوں کے بعد انہیں قصوروار تسلیم کرلینے کے ساتھ ہی انجام کو پہنچتے ہیں۔
فروری 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ مبینہ ‘بڑی سازش’ کے معاملے میں پچھلے پانچ سالوں سے جیل میں بند گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان اور شفا الرحمان کو بدھ کی شام رہا کر دیا گیا۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی آے) کی جانب سے 100 فیصد سزایابی کی شرح کا دعویٰ کرنے کے ایک سال بعد دی وائر کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ طویل مدتی حراست، ضمانت سے انکار اور تفتیش کاروں کے دباؤ کی وجہ سے درجنوں ملزمین، جن میں بیشتر مسلمان ہیں، اپنا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی خود کو مجرم مان لینے کو مجبور ہو رہے ہیں۔
چھتیس گڑھ میں اے ٹی ایس نے دو نابالغ کو حراست میں لیا ہے اور ان کے خلاف آئی ایس آئی ایس کے آن لائن ماڈیول سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے کے الزام میں یو اے پی اےکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ وجئے شرما نے کہا کہ دونوں نابالغ ایک آئی ایس آئی ایس گروپ کے ساتھ (آن لائن) رابطے میں تھے اور پاکستان واقع ایک ماڈیول کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔
سابق جج ایس مرلی دھر نے پروفیسر جی این سائی بابا میموریل لیکچر میں کہا کہ آر ایس ایس تفرقہ انگیز ایجنڈہ کو فروغ دے رہی ہےاور گمراہ کن تاریخ پڑھا رہی ہے۔ انہوں نے تعلیمی میدان میں نوجوانوں کے ذہنوں پر قبضہ، ادارہ جاتی مداخلت اور اکیڈمک آزادی پر سوال اٹھائےاور سائی بابا کیس کے توسط سے عدلیہ کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
کانگریس نے مودی حکومت پر یو اے پی اے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اختلاف رائے کو دبانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے طلبہ، صحافیوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پرتشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس نے ہی اس قانون کی بنیاد رکھی تھی اور اس میں سخت دفعات شامل کیےتھے۔
مرکزی وزارت داخلہ نے یو اے پی اے کے تحت حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والی عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی ہے۔ میرواعظ نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اے اے سی بات چیت اور مشاورت کے توسط سے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرتی ہے۔
ایلگار پریشد کیس میں گرفتار کیے گئے لوگوں میں سے ایک سدھیر دھاولے 2424 دن کی قید کے بعد رہا ہونے والے نویں شخص ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں کانگریس اور بی جے پی، دونوں حکومتوں میں 10 سال سے زیادہ جیل میں گزارنے کے بعد دھاولے کا کہنا ہے کہ دونوں کی حکمرانی میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں نے ہر طرح کے اختلاف کو بہت پرتشدد طریقے سے دبایا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ نے ایلگار پریشد معاملے میں رونا ولسن اور سدھیر دھاولے کوطویل عرصے تک جیل میں رہنے، الزامات طے نہ ہونے اور 300 سے زیادہ گواہوں سے پوچھ گچھ کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت دی ہے ۔
پنجاب کی تین درجن سے زیادہ جمہوری تنظیموں نے 21 جولائی کو جالندھر میں ایک مشترکہ کانفرنس کرتے ہوئے نئے فوجداری قوانین کے نفاذ اور دہلی کے ایل جی کی جانب سے ارندھتی رائے اور پروفیسر شیخ شوکت حسین کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا۔
گزشتہ چند دنوں میں مدھیہ پردیش، بہار، جھارکھنڈ، اتر پردیش اور جموں و کشمیر میں فلسطینی پرچم لہرانے پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، حراست میں لیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ سری نگر میں محرم کے جلوس کے دوران فلسطین کی حمایت اور اسرائیل مخالف نعرے لگانے پر یو اے پی اے کے تحت معاملہ بھی درج کیا گیا۔
معروف ادیبہ اور سماجی کارکن ارندھتی رائے اور کشمیر سینٹرل یونیورسٹی کے سابق پروفیسر شیخ شوکت حسین کے خلاف یو اے پی اے کا یہ معاملہ 2010 میں ایک پروگرام میں دیے گئے بیان سے متعلق ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کے اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پریس کلب آف انڈیا میں ہوئے ایک پروگرام میں مختلف پریس تنظیموں نے صحافت کو دباؤ سے آزاد رکھنے کی اپیل کی۔ نیوز کلک کے ایڈیٹر پربیر پرکایستھ نے کہا کہ میڈیا کے پاس لوگوں تک سچائی پہنچانے کی ذمہ داری اور آزادی، دونوں ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یو اے پی اے معاملے میں نیوز کلک کے مدیر پربیر پرکایستھ کی گرفتاری غلط ہے کیونکہ صحیح طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔
ویڈیو: اسٹوڈنٹ لیڈرعمر خالد نے دہلی فسادات سے متعلق سازش کیس میں 14 فروری کو سپریم کورٹ سے اپنی ضمانت کی عرضی واپس لے لی۔ وہ ستمبر 2020 میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔اس موضوع پرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ایس کیو آر الیاس سےدی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت سال 2022 میں سب سے زیادہ 371 معاملے جموں و کشمیر میں درج کیے گئے۔ اس کے بعد منی پور میں 167، آسام میں 133 اور اتر پردیش میں 101 معاملے درج ہوئے۔
معاملہ جموں و کشمیر کی شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹکنالوجی کا ہے۔ الزام ہے کہ 19 نومبر کو ہوئے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست کے بعد کشمیری طالبعلموں نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے تھے۔ پولیس نے طلبا کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
گلوبل سول سوسائٹی الائنس ‘سی آئی وی آئی سی یو ایس’ نے کہا ہے کہ یہ پوری طرح سے ہندوستان میں پریس کی آزادی پر حملہ ہے اور نیوز ویب سائٹ نیوز کلک کی تنقیدی اور آزاد صحافت کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ یو اے پی اے کے تحت اس ویب سائٹ پر الزام عائد کرنا، آزاد میڈیا، کارکنوں اور شہریوں کو خاموش کرانے اور ہراساں کرنے کی ایک بے شرم کوشش ہے۔
گزشتہ 3 اکتوبر کو نیوز کلک کے بانی پربیر پرکایستھ اور اس کے ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر یو اے پی اے کے تحت الزام عائد کیے گئے ہیں، لیکن ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف […]
ویڈیو: یو اے پی اے کے تحت درج ایک معاملے میں پوچھ گچھ کے بعد دہلی پولیس نے نیوز ویب سائٹ نیوز کلک کے مدیر پربیر پرکایستھ اور ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کو 3 اکتوبر کو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملے پر سوراج انڈیا پارٹی کے لیڈر یوگیندر یادو سے بات چیت۔
گزشہ چند سالوں میں صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، وکیل، طالبعلم، مزدور اور آدی واسی پر الزام لگانے کے لیے یو اے پی اے کا بے تحاشہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور چھتیس گڑھ پبلک سیفٹی ایکٹ، نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) اور آئی پی سی میں سیڈیشن جیسے دیگر ایکٹ بھی لاگو کیے گئے ہیں۔
جنوری 2018 میں پونے پولیس کے ذریعے درج کیے گئے اور 2020 میں این آئی اے کو سونپے گئے ایلگار پریشد کیس میں گرفتار کارکنوں ورنان گونجالوس اور ارون فریرا کو ضمانت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ان کے خلاف دستیاب شواہد انہیں لگاتار حراست رکھنے کی بنیاد نہیں ہو سکتے ہیں۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کو گزشتہ سال ٹرائل کورٹ نےٹیرر فنڈنگ کیس میں یو اے پی اے اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی سپریم کورٹ کالجیم نے بامبے ہائی کورٹ کی وکیل نیلا گوکھلے کو بامبے ہائی کورٹ کی جج کے طور پر تقرری کو منظوری دی ہے۔ نیلا گوکھلے 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے ملزم لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کی وکیل ہیں۔
بھیما کورےگاؤں اور ایلگار پریشد کیس میں کچھ ملزمین کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا ہے کہ عدالت نے مئی 2022 میں این آئی اے کو ہدایت دی تھی کہ وہ ملزمین کو ان کے خلاف جمع کیے گئے شواہد کی تمام کلون کاپیاں فراہم کرے، لیکن ابھی تک صرف 40 فیصدکاپیاں ہی شیئر کی گئی ہیں۔
سال 2018 میں بھیما کورے گاؤں میں ہونے والے تشدد کے لیے ایلگار پریشد کی تقریب کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد اس کے کچھ شرکاء سمیت کئی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ معاملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے ایک پولیس افسر نے اپنے حلف نامے میں تشدد میں ایلگار پریشد کی تقریب کے کسی بھی طرح کے رول سے انکار کیا ہے۔
میساچیوسٹس واقع ڈیجیٹل فرانزک فرم، آرسینل کنسلٹنگ کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹین سوامی تقریباً پانچ سال تک ایک میل ویئر مہم کے نشانے پر تھے، جب تک کہ جون 2019 میں پولیس نے ان کے آلات کو ضبط نہ کر لیا۔
دہلی یونیورسٹی کے کیمپس میں یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی این سائی بابا کی رہائی کی مانگ کو لے کر تقریباً 36 تنظیموں کا مشترکہ محاذ ‘کیمپن اگینسٹ اسٹیٹ رپریشن’ کے بینر تلے مظاہرہ کیا جا رہا تھا ۔ الزام ہے کہ اس دوران اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے ارکان نے مظاہرین پر لاٹھی وغیرہ سے حملہ کیا۔
الزام ہے کہ انجینئرنگ کے 21 سالہ طالبعلم فیض رشید نے دہشت گردانہ حملے کا جشن مناتے ہوئے فوج کا مذاق اڑایا تھا اور مختلف میڈیا اداروں کی پوسٹ پر 23 تبصرے کیے تھے۔ عدالت نے رشید کو آئی پی سی کی دفعہ 153 اے کے تحت بھی قصوروار پایا۔
عرضی گزار منظر امام کو این آئی اے نے ایک اکتوبر 2013 کو انڈین مجاہدین سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، وہ تب سے جیل میں ہیں اور اب تک ان کے خلاف الزام بھی طے نہیں ہوئے ہیں۔
بامبے ہائی کورٹ نے جی این سائی بابا کو ماؤنوازوں کے ساتھ ان کے مبینہ لنک سے متعلق ایک کیس میں بری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف یو اے پی اے کی سخت دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری دینے والا حکم قانون کی نظر میں غلط تھا۔ مہاراشٹر حکومت نے سپریم کورٹ سے اس فیصلے پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔
گڑھ چرولی کی ایک عدالت نے 2017 میں جی این سائی بابا اور پانچ دیگر کو ماؤنوازوں سے تعلق رکھنے اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا قصور وار ٹھہرایا تھا۔ بامبے ہائی کورٹ نے تمام لوگوں کو بری کرتے ہوئے کہا کہ ‘قومی سلامتی کے لیے مبینہ خطرہ’ کے نام پر قانون کو طاق پر نہیں رکھا جا سکتا۔
پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کی ایک اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ 2009 سے 2022 کے درمیان این آئی اے نے یو اے پی اے کے کل 357معاملے درج کیے ہیں۔ ان میں 238 معاملوں کی جانچ میں پایا گیا کہ 36 فیصد میں دہشت گردی کے کچھ واقعات رونما ہوئے تھے، لیکن 64 فیصد معاملوں میں ایسا کوئی خاص واقعہ رونما نہیں ہواتھا۔
اکثرسوچتا ہوں یہ اندھیری سرنگ کتنی لمبی ہے؟ کیا کوئی روشنی نظر آرہی ہے؟ کیا میں اس کے انجام کے قریب ہوں یا اب تک صرف آدھا فاصلہ طے ہوا ہے؟ یا آزمائش کا دور ابھی بس شروع ہی ہوا ہے؟
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق، 2021 میں سیڈیشن ، آفیشیل سیکرٹس ایکٹ اور یو اے پی اے سمیت ملک کے خلاف مختلف جرائم کے الزام میں 5164 معاملے، یعنی ہر روز اوسطاً 14 معاملے درج کیے گئے۔ پچھلے سال ملک میں سیڈیشن کے کل 76 اور یو اے پی اے کے 814 معاملے درج کیے گئے تھے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایلگار پریشد کیس میں جیل میں بند انسانی حقوق کے کارکن سریندر گاڈلنگ پر ممنوعہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ نواز) کی سرگرمیوں کو چلانے کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی عدالت میں عرضی داخل کرکے گاڈلنگ سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔
ہر دو تین ماہ بعد سیکورٹی ایجنسیاں کشمیر میں کسی نہ کسی صحافی کےدروازے پر دستک دینے پہنچ جاتی ہیں،اور یہ منظر خود بخود دوسروں کےذہنوں میں خوف پیدا کر دیتا ہےکہ اگلی باری ان کی ہو سکتی ہے۔
کیا یاسین ملک اپنے اوپر عائد الزامات کے لیے قصوروار ہیں؟ یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ نہیں ہیں، لیکن جو حکومتیں برسوں سے جاری تنازعات کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ ہیں، ان کے پاس اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کے اور طریقے ہیں۔
یاسین ملک کو دو جرائم – آئی پی سی کی دفعہ 121 (حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنا) اور یو اے پی اے کی دفعہ 17 (دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنا) – کے لیے قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ 10 مئی کو ملک نے 2017 میں وادی میں مبینہ دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق ایک معاملے میں عدالت کے سامنے تمام الزامات کو قبول کر لیا تھا۔
یہ پانچ ان چھ لوگوں میں شامل ہیں جن پر پہلے ہی مبینہ طور پر پولیس حراست میں ہوئی شفیق الاسلام کی موت کے خلاف احتجاج کے دوران ناگاؤں ضلع کے بٹادروا پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کا الزام لگایا گیا ہے۔