Urdu News

آسام میں این آرسی کا مقصد مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانا تھا: یو ایس کمیشن

امریکہ میں مذہبی آزادی کے معاملوں پر بنی ایک فیڈرل ایجنسی یو ایس سی آئی آر ایف نے الزام لگایا ہے کہ آسام میں این آرسی مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور مسلمانوں کو ریاست سے ہٹانے کا ایک اوزار ہے۔

ایودھیا فیصلہ: ریویو پیٹیشن داخل کرے گا مسلم پرسنل لاء بورڈ، ہندو مہاسبھا نے کہا-بورڈ کو اپیل کاحق نہیں

وہیں ہندو مہاسبھا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں صرف مقدمے میں شامل فریق ہی ریویو پیٹیشن داخل کر سکتے ہیں۔ بورڈ اس معاملے میں پارٹی نہیں ہے، اس لیے اس کو عرضی داخل کرنے کاحق نہیں ہے۔

ایودھیا تنازعہ: یہ فیصلہ جارحیت کے اچھے دنوں کی نشانی ہے؟

سپریم کورٹ نے بھی متنازعہ زمین رام للا کو دیتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ اس کافیصلہ نہ صرف 6 دسمبر، 1992 کی توڑپھوڑبلکہ 22-23 دسمبر، 1949 کی رات مسجدمیں مورتیاں رکھنے والوں کی بھی جیت ہوگی۔ ایسے میں عدالت کا ان دونوں کارناموں کوغیر-قانونی ماننے کا کیا حاصل ہے؟

ایودھیا تنازعہ: یہ فیصلہ انصاف پر اکثریت کی جیت ہے

بابری مسجد-رام جنم بھومی زمینی تنازعہ میں’امن اور ہم آہنگی’بنائےرکھنے کے لئے متنازعہ زمین کو نہ بانٹنے کا ججوں کا فیصلہ اکثریتی دباؤ سے متاثرلگتا ہے، جس میں مسلم فریقوں کے قانونی دعویٰ کو نظرانداز کر دیا گیا۔

سابق وزرائے اعلیٰ  کے نظربند رہنے سے اگر گھاٹی میں امن  ہے، تو بہتر ہے وہ ایسے ہی رہیں:وزیر

مرکزی وزیر نے کہا، ‘ہمارے پاس ایک نیا نظام ہے اوریہ نظام سیدھے مرکز کو رپورٹ کرتا ہے اور ہم اسے اس حلقے کے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے اور کامیاب بنانے کے لئے اس کا سہرا دیتے ہیں۔’

مہاراشٹر میں سرکار بنانے پر بی جے پی کا بھروسہ ایم ایل اے کی خرید و فروخت کی طرف  اشارہ کرتا ہے: شیوسینا

شیوسینا نے اپنے ترجمان‘سامنا’ میں کہا ہے کہ جن کے پاس 105 سیٹیں ہیں، انہوں نے پہلے گورنر سے کہا تھا کہ ان کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ اب وہ سرکاربنانے کا دعویٰ کیسے کر رہے ہیں؟

دہلی-این سی آر میں آلودگی سے متعلق پارلیامانی کمیٹی کی میٹنگ سے غائب رہے گوتم گمبھیر اور اعلیٰ حکام

دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کی سنگین صورت حال پر غور وفکر کے لئے پارلیا مانی کمیٹی کی میٹنگ میں 28 میں سے محض چارایم پی نے حصہ لیا۔ کمیٹی میں شامل دہلی سے بی جے پی کے واحد رکن پارلیامان گوتم گمبھیر اندور میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان چل رہے ٹیسٹ میچ میں کمنٹری کرتے دیکھے گئے۔

ایودھیا فیصلہ: انصاف کے بنا امن ممکن نہیں

ویڈیو: گزشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملے میں ان لوگوں کے حق میں فیصلہ دیا ، جو براہ راست بابری مسجد کو گرانے کے کلیدی ملزمین سے جڑے ہوئے ہیں یہ ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے ۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ ۔

پریس کی آزادی کے اصلی دشمن باہر نہیں، بلکہ اندر ہی ہیں

مودی کے انتخاب جیتنے کے بعد یا پھر اس سے کچھ پہلے ہی میڈیا نے اپنا غیر جانبدارانہ رویہ طاق پر رکھنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا تب ہے جب حکومت اور وزیر اعظم نے میڈیا کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جتنی زیادہ توہین کی گئی ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اپنی وفاداری دکھانے کے لئے بےتاب نظر آ رہے ہیں۔

اپنی حکومت سے کہیں کہ ہمارے فیصلے کھیلنے کے لیے نہیں ہیں: جسٹس آر ایف نریمن

سپریم کورٹ کے جسٹس آر ایف نریمن نے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئےسالیسٹر جنرل تشار مہتہ سے کہا کہ برائے مہربانی اپنی حکومت کو سبری مالا معاملےمیں سنائے گئے عدم اتفاق کے فیصلے کو پڑھنے کے لئے کہیں، جو بہت ہی اہم ہے…ہمارا فیصلہ کھیلنے کے لئے نہیں ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے نے کہا-ایودھیا پر فیصلہ سنانے والے ججوں کو دیا جائے بھارت رتن

بی جے پی ایم ایل اے نے کہا کہ ایودھیا میں رام نہیں ہوں گے تو کیا عرب میں رام ہوں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ،فیصلہ دینے والے پانچوں جج ملک کے رتن ہیں، ان ججوں کو بھارت رتن ملنا چاہیے۔ نئی دہلی : اپنے متنازعہ […]

وزیر اعظم مودی کی اپیل کو درکنار کر تے ہوئے فیصلے کا ’جشن‘ منا رہے ہیں ایودھیا کے بھاجپائی

ایودھیا میں بی جے پی کے منتخب رکن پارلیامان، ایم ایل اے اور اہلکاروں نےسنیچر کو فیصلے کے دن دیپ جلائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ سوموار کو پارٹی ضلع صدردفتر پر رامائن کاپاٹھ کیا گیا ، جہاں رہنما اور کارکنان نے ایک دوسرے کو مبارکبادی۔وہیں منگل کو 1992 کی کارسیوا کے دوران پولیس فائرنگ میں مارے گئے رضاکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

رافیل معاملے میں بی جے پی ایک با رپھر ملک کو گمراہ کر رہی ہے، کورٹ نے جانچ کا راستہ کھول دیا ہے: کانگریس

کانگریس نے دعویٰ کیا کہ ، سپریم کورٹ نے اب رافیل ڈیل کے مجرمانہ جانچ کا دائرہ کھول دیا ہے۔کانگریس کے ترجمان سرجےوالا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صاف کہا ہے کہ آئینی اہتماموں کی وجہ سے سپریم کورٹ کے ہاتھ بندھے ہو سکتے ہیں جانچ ایجنسیوں کے نہیں۔

سو دنوں میں مزید نوکری -مزید فیکٹری کے وعدوں کے برعکس، کشمیریوں کو ملی مزید پابندیاں-مزید افواج

رام چندر گہا کا کالم: مکیش امبانی کشمیر میں سرمایہ کاری سے متعلق بالکل خاموش ہیں؛ جبکہ سرکار نے سرمایہ کاری میلے کو غیر معینہ مدت کے لیے آگے بڑھا دیا ہے۔ وعدے تو مزید نوکری، مزید فیکٹریز کے کیے گئے تھے، مگر 5اگست کے بعد سے کشمیریوں نے پایا کیا ہے؛ مزید افواج، مزید پابندیاں۔ اس نے ان میں گہرا غصہ پیدا کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سبری مالا معاملے میں نظرثانی کی عرضی کو سات ججوں کی بنچ کے پاس بھیجا

سبری مالا مندر معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے کہا کہ مذہبی مقامات میں خواتین کے داخلے پر پابندی صرف سبری مالا تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دیگر مذاہب میں بھی ایسا ہے۔سبری مالا، مسجدوں میں خواتین کے داخلے اور داؤدی بوہرا کمیونٹی میں خواتین میں ختنہ جیسے مذہبی مدعوں پر فیصلہ بڑی بنچ لے‌گی۔

چوکیدار چور ہے، تبصرہ: سپریم کورٹ نے ’احتیاط‘ کی صلاح کے ساتھ راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ بند کیا

کانگریسی رہنما راہل گاندھی نے رافیل معاملے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابی تشہیر کے دوران کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ ’چوکیدار چور ہے‘۔ ان کے اس تبصرے کے خلاف ہتک عزت کی عرضی دائر کی گئی تھی۔

’ایودھیا  کے فیصلے پر دوبارہ غور کرے عدالت‘

ویڈیو: سپریم کورٹ کے متنازعہ زمین پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے ، سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ہندوستان کی سیاست اور سما ج میں کیا تبدیلی آئے گی ۔ اس بارے میں اپنا نظریہ پیش کر رہے ہیں پروفیسر اپوروانند۔

بھیما کورے گاؤں معاملہ: عدالت نے گوتم نولکھا کی ضمانت عرضی خارج کی

پونے کی اسپیشل کورٹ نے کہا کہ پہلی نظر میں نولکھا کے خلاف ایسے ثبوت ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ وہ ممنوعہ تنظیم کے ایک ممبر ہی نہیں بلکہ فعال رہنما ہیں۔ اس لیے ان کی حراست میں پوچھ تاچھ ضروری ہے۔ بھیما کورے گاؤں تشدد معاملے میں گوتم نولکھا کو سپریم کورٹ سے گرفتاری سے تحفظ ملا ہوا تھا۔

کیا اب بابری مسجد صرف تاریخ کے اوراق میں گم ہوکر رہ جائے گی؟

تقریباًایک ہزار صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلہ کو پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے میں کشمیری نوجوان افضل گرو کو دی گئی سزائے موت کے فرمان کو پڑھ رہا ہوں۔ جب لگ رہا تھا کہ شاید کورٹ اپنے ہی دلائل کی روشنی میں گرو کر بری کردے گی،تب فیصلے کا آخری پیراگراف پڑھتے ہوئے، جج نے فرمان صادر کیا کہ’اجتماعی ضمیر’ کو مطمئن کرنے کی خاطر، ملزم گرو کو سزائے موت دی جاتی ہے۔بالکل اسی طرح بابری مسجد سے متعلق فیصلہ میں بھی کورٹ نے ہندو فریقین کو مطمئن کردیا۔

مہاراشٹر میں لگا صدر راج، شیوسینا نے لیا سپریم کورٹ کا سہارا

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت والی مرکزی کابینہ کی سفارش پر مہر لگاتے ہوئے صدر جمہوریہ نے مہاراشٹر میں صدر راج کو منظوری دے دی ہے۔ سرکار بنانے کے لیے این سی پی اور کانگریس کوحمایتی خط جمع کرنے کے لیے تین دن کا اضافی وقت دیے جانے کی مانگ کی گزارش گورنر کے ذریعے ٹھکرائے جانے کے بعد شیوسینا نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

ایودھیا: مسلم مذہبی رہنماؤں اور مدعی کا مطالبہ-67 ایکڑ  زمین میں سے ہی دی جائے مسجد کی زمین

مسلم مذہبی رہنماؤ ں کا کہنا ہے کہ سرکار کے ذریعے لی گئی67 ایکڑ زمین میں سے زمین ملتی ہے تبھی قبول کیا جائےگا۔ مسلم کمیونٹی مسجد بنانے کے لیے اپنے پیسے سے زمین خرید سکتی ہے اور وہ اس کے لیےمرکزی حکومت پرمنحصر نہیں ہے۔ ادھر حکومت نے ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل کی کارروائی شروع کردی ہے۔

مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا، کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے فیصلے کا جوڈیشیل ریویو نہیں ہو سکتا

سپریم کورٹ کی آئینی بنچ 14 نومبر سے اس معاملے کی شنوائی کرے گی۔ مرکز کو پانچ اگست کے صدر جمہوریہ کے حکم کے خلاف دائر عرضیوں پر اپنا جوابی حلف نامہ دائر کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

کانگریس ایم پی ششی تھرور کے خلاف وارنٹ، پی ایم مودی کا موازنہ ’شیو لنگ پر بیٹھے بچھو‘ سے کرنے کا معاملہ

کیرل سے لوک سبھا ایم پی تھرور نے گزشتہ سال بنگلور لٹریچر فیسٹیول میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک نا معلوم آر ایس ایس لیڈر نے وزیراعظم نریندر مودی کا موازنہ’ شیو لنگ پر بیٹھے بچھوسے کیا تھا۔’

میڈیا بول: سپریم کورٹ کا فیصلہ، انصاف اور میڈیا

ویڈیو: بابری مسجد -رام جنم بھومی زمینی تنازعہ پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ رام جنم بھومی ٹرسٹ کو 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق ملے گا ۔وہیں سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔اس مدعے پر سینئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے، سینئر صحافی صبا نقوی اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ سینئر صحافی ارملیش کی بات چیت۔

بی جے پی، پی ڈی پی سے ہاتھ ملا سکتی ہے تو شیوسینا، این سی پی اور کانگریس سے کیوں نہیں: سنجے راؤت

شیوسینا رہنما سنجے راؤت نے کہا کہ گورنر نے ہمیں 24 گھنٹے دیے ہیں جبکہ بی جے پی کو 72 گھنٹے دیے گئے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم حکومت کی تشکیل کریں لیکن کچھ لوگ ریاست کو گورنر راج کی طرف لے جانے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔

خصوصی تجزیہ: بابری-رام جنم بھومی تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تضادات سے پُر ہے

دی وائر کا خصوصی تجزیہ : اس معاملے پر فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے کہا کہ مسلم فریق یہ ثابت نہیں کر سکے ہیں کہ 1528 سے 1857 کے بیچ مسجد میں نماز پڑھی جاتی تھی اور اس پر ان کا خصوصی حق تھا۔ حالانکہ ہندوفریقین کے بھی یہ ثابت نہ کر پانے پر ان کو زمین کا مالکانہ حق دے دیا گیا ہے۔

ایودھیا فیصلے پر سوال بھی کم نہیں !

ویڈیو: رام جنم بھومی ٹرسٹ کو ملےگا 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق۔ مندر کی تعمیر کے لیے مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر بنانا ہوگا ٹرسٹ۔سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دی جائےگی۔اس مدعے پرسینئرصحافی ارملیش کا نظریہ۔

ایودھیا فیصلے سے بدلے گی ہندوستان کی سیاست؟

ویڈیو: رام جنم بھومی ٹرسٹ کو ملےگا 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق۔ مندر کی تعمیر کے لیے مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر بنانا ہوگا ٹرسٹ۔سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دی جائےگی۔اس مدعے پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور دی وائر کے ڈپٹی ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے دی وائر کی سنیئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

ایودھیا پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے معنی

ویڈیو: رام جنم بھومی ٹرسٹ کو ملےگا 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق۔ مندر کی تعمیر کے لیے مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر بنانا ہوگا ٹرسٹ۔سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دی جائےگی۔ اسی مدعے پر دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

ایودھیا: سابق جج جسٹس گانگولی نے کہا-اس فیصلے کے بعد ایک مسلمان کیا سوچےگا؟

جسٹس گانگولی نے کہا، کیاسپریم کورٹ اس بات کو بھول جائےگا کہ جب آئین وجودمیں آیا تو وہاں ایک مسجد تھی؟آئین میں اہتمام ہیں اور سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا ،بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی مسجد کو توڑ سکتے ہیں ،وہ آج کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ ان کو حکومت کی حمایت پہلے سے حاصل تھی ،اب ان کو عدلیہ سے بھی حمایت مل رہی ہے۔