Varanasi

شیام رنگیلا۔ (تصویر بہ شکریہ: Twitter/@ShyamRangeela)

یوپی: وارانسی سے پی ایم مودی کے خلاف میدان میں اترے شیام رنگیلا کا پرچہ نامزدگی خارج

الیکشن کمیشن نے 15 مئی کو تکنیکی بنیادوں پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف وارانسی انتخابی حلقہ سے کامیڈین شیام رنگیلا کا پر چہ نامزدگی خارج کر دیا۔ رنگیلا نے کہا ہے کہ ‘جمہوریت میں صرف (الیکشن) کمیشن کے منتخب کردہ افراد کو ہی الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہے۔’

ڈومری گاؤں میں مہیش چوہان کا کچامکان۔ (تمام تصاویر: سرشٹی جسوال)

وارانسی: وزیر اعظم مودی کے گود لیے گئے گاؤں میں ’گرام سوراج‘ کا وعدہ محض جملہ بن کر رہ گیا ہے

سب کے لیے مکان، بیت الخلاء اور سڑکوں کے وعدے ان گاؤں میں بھی پورے نہیں ہوئے ہیں جنہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘سنسد آدرش گرام یوجنا’ کے تحت اپنے انتخابی حلقہ وارانسی میں گود لیا تھا۔

FotoJet (2)

’ہمارا معاشرہ ہی نہیں چاہتا کہ ڈوم اپنا کام چھوڑ دیں‘

انٹرویو: موت کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے وارانسی کے ڈوم برادری کے لوگوں پر صحافی رادھیکا اینگر نے ‘فائر آن گنگیز: لائف امنگ دی ڈیڈ ان بنارس’ کے عنوان سے کتاب لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگ بھی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، لیکن مشکلیں ایسی ہیں کہ ان کی زندگی اگلے پہرکی روٹی کی جدوجہد میں ہی گزر جا رہی ہے۔

گیان واپی مسجد۔ (فوٹو: کبیر اگروال/د ی وائر)

وارانسی کی گیان واپی مسجد کے نیچے ایک بڑا ہندو مندر موجود تھا: اے ایس آئی کی سروے رپورٹ

یہ پتہ لگانے کے لیے کہ کیا گیان واپی مسجد پہلے سے موجود کسی مندر پر بنائی گئی تھی، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے عدالت کی ہدایت پر مسجد کا سروے کیا ہے ۔ ہندو فریق نے ایک عرضی میں یہاں مندر ہونے کادعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے مسجد کے احاطے میں ماں شرنگار گوری کی پوجا کے لیے داخلے کا مطالبہ کیا ہے۔

Sharat-Ji-thumb

کیا گیان واپی مسجد کو بھی بابری کی راہ پر لے جایا جا رہا ہے؟

ویڈیو: وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر کے قریب واقع ماں شرنگار گوری مندر اور گیان واپی مسجد سے متعلق تنازعہ، عدالتوں کے احکامات اور اے ایس آئی سروے اور اس پر ہو رہی سیاست کے حوالے سے سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ ۔

گیان واپی مسجد۔ (فوٹو: کبیر اگروال/د ی وائر)

گیان واپی: کسی ایک مسجد کو نزاعی مسئلہ بنانے کا مطلب اکثریت پسندی کے رجحان کو بڑھاوا دینا ہے

گیان واپی کیس میں بنارس کی عدالت نے ابھی صرف یہ کہا ہے کہ ہندو خواتین کی عرضی قابل غور ہے۔ میڈیا اس فیصلے کو ہندوؤں کی جیت قرار دے کر مشتہر کر رہی ہے۔ اس سے آگے کیا ہوگا ،یہ صاف ہے۔ وہیں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ متھرا کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔

گیان واپی مسجد۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

گیان واپی معاملہ: ہندو فریق کی عرضی پر شنوائی جاری رہے گی، مسلم فریق کی روک کی مانگ خارج

وارانسی کی ضلع عدالت میں دائر عرضی میں پانچ ہندو خواتین نے کہا تھا کہ کاشی وشوناتھ مندر کے قریب بنی گیان واپی مسجد میں ہندو دیوی–دیوتا ہیں اور ہندوؤں کو اس جگہ پر پوجا کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ اس عرضی کو گیان واپی مسجد کی نگراں کمیٹی انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے چیلنج دیا تھا۔

کرناٹک کے سری رنگا پٹنم  میں واقع جامع مسجد۔ (فوٹو بہ شکریہ: وکی پیڈیا)

کرناٹک: ہندوتوا گروپوں کی جانب سے مسجد میں پوجا کرنے کی دھمکی کے بعد دفعہ 144 نافذ

کرناٹک کے مانڈیا ضلع میں سری رنگا پٹنم قلعے کے اندر جامع مسجد میں ہندوتوا گروپوں نے 4 جون کو پوجا کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں 3 جون سے 5 جون کی شام تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ہندوتوا گروپوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد ہنومان مندر کو منہدم کرنے کے بعد بنائی گئی تھی۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اب اور تحریک نہیں، ہر مسجد میں شیولنگ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں: موہن بھاگوت

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ روزانہ ایک نیا مسئلہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ ہم کو جھگڑا کیوں بڑھانا؟ گیان واپی کے بارے میں ہمارا عقیدہ روایت سے چلا آ رہا ہے، لیکن ہر مسجد میں شیولنگ کیوں دیکھنا؟ وہ بھی ایک پوجا ہے۔ ٹھیک ہےباہر سے آئی ہے، لیکن جنہوں نےاپنایاہےوہ مسلمان باہر سے تعلق نہیں رکھتے۔ اگرچہ پوجاان کی ادھر کی ہے،اس میں اگر وہ رہنا چاہتے ہیں تو اچھی بات ہے۔ ہمارے یہاں کسی پوجا کی مخالفت نہیں ہے۔

Mughal-Dynasty-Painting-CCBY

بی جے پی اور ہندوتوا بریگیڈ کے لیے مغل نئے ولن ہیں

لفظ مغل کو ہندوستانی مسلمانوں کی نشاندہی کے لیے ‘پراکسی’ بنا دیا گیا ہے۔ پچھلے آٹھ سالوں کے دوران، اس کمیونٹی کو اقتصادی، سماجی حتیٰ کہ جسمانی طور پر – نشانہ بنانا نہ صرف جنونی اور مشتعل ہجوم ، بلکہ سرکاروں کی بھی اولین ترجیحات میں شامل ہوگیاہے۔

321

متھرا-گیان واپی تنازعہ: کیا ہے 1968 کا سمجھوتہ  اور پلیسز آف ورشپ ایکٹ؟

ویڈیو: وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ پر جاری تنازعات کی وجہ سے 1968 کے معاہدے اور 1991 کے عبادت گاہوں کے قانون یعنی پلیسز آف ورشپ ایکٹ کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔ یاقوت علی ان کے بارے میں تفصیل سے بتا رہے ہیں۔

تصاویر: پی ٹی آئی، وکی میڈیا کامنس۔

تاریخی مساجد اور مسلم دور کی یادگاریں نشانے پر

اب پارلیامنٹ کی طرف سے پاس کیے گئے مذہبی مقامات ایکٹ 1991 کو کالعدم کرنے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہندو پریشدکے نشانے پر ملک بھر میں 25ہزار مساجد و قبرستان اور وقف کی جائیدادیں ہیں، جو ان کے مطابق عہد قدیم میں ہندو عبادت گاہیں تھیں۔

ناتھورام گوڈسے۔ (فوٹو بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس)

یوپی: گوڈسے کی سالگرہ پر ہندو مہاسبھا نے کی خصوصی پوجا، میرٹھ کا نام بدل کر ’گوڈسے نگر‘ کرنے کی مانگ

میرٹھ میں ہندو مہاسبھا نے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کے یوم پیدائش پر اپنے دفتر میں خصوصی پوجا کرتے ہوئے ‘ہندو مخالف گاندھی ازم’ کو ختم کرنے کا حلف لیا اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان جلد ہی ‘ہندو راشٹر’ بنے گا۔

گیان واپی مسجد۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنائے جانے پر اپنا موقف واضح کرے حکومت: مسلم پرسنل لاء بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ عبادت گاہوں کے بارے میں نچلی عدالتیں جس طرح سے فیصلے کر رہی ہیں، وہ افسوسناک ہے۔ بورڈ نے گیان واپی مسجد کی دیکھ بھال کرنے والی انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کو قانونی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر ہندو فریق نے کہا ہے کہ اگر شیولنگ فوارہ ہے تو اسے چلا کر دکھائیں۔ اس پر مسلم فریق نے کہا کہ وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

Gyanvapi-PTI

عدالت نے گیان واپی مسجد کے اس حصے کو سیل کرنے کی ہدایت دی جہاں شیولنگ کے ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے

اترپردیش کے وارانسی ضلع کی ایک عدالت نے گیان واپی مسجد کے سیل کیے گئے مقام پر کسی بھی شخص کے داخلہ پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ مسجد میں صرف 20 لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دیں۔ عدالت کی ہدایت پر گیان واپی مسجد کمپلیکس کے سروے اور ویڈیو گرافی کا کام سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان 16 مئی کو تیسرے دن مکمل ہوا۔

گیان واپی مسجد۔ (فوٹو: کبیر اگروال/د ی وائر)

کاشی وشوناتھ مندر – گیان واپی مسجد: عدالت نے کہا، سروے جاری رہے گا، 17 مئی تک رپورٹ جمع کریں

اتر پردیش میں وارانسی کی ایک عدالت نے گیان واپی مسجد کے احاطے میں شرنگار گوری احاطہ کی ویڈیو گرافی-سروے کرنے کے لیے مقرر کردہ ایڈوکیٹ کمشنر کو تبدیل کرنے کے مطالبے کو بھی خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ضلع انتظامیہ سروے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔

استاد بسم اللہ خاں (فوٹو :یوٹیوب)

استاد بسم اللہ خاں موسیقی کی دنیا کے سنت کبیر تھے، جن کے لیے مندر مسجد اور ہندو مسلمان کا فرق مٹ گیا تھا

یوم پیدائش پر خاص:استاد بسم اللہ خاں ایسے بنارسی تھے جو گنگا میں وضو کر کے نماز پڑھتے تھے اور سرسوتی کو یاد کر کے شہنائی کی تان چھیڑتے تھے ۔اسلام کے ایسے پیروکار تھے جو اپنے مذہب میں موسیقی کے حرام ہونے کے سوال پر ہنس کر کہتے تھے ،کیا ہو اسلا م میں موسیقی کی ممانعت ہے ،قرآن کی شروعات تو’ بسم اللہ‘ سے ہی ہوتی ہے۔

پوسٹروں کے ساتھ وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے مبینہ ارکان ۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

ہندوتوا تنظیموں نے وارانسی کے گھاٹوں پر پوسٹر لگا کر غیر ہندوؤں کو یہاں نہ آنے کی وارننگ دی

اتر پردیش میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیامانی حلقہ وارانسی کے مختلف گھاٹوں پران پوسٹروں کو دیکھا جا سکتا ہے،جن میں پنچ گنگا گھاٹ، رام گھاٹ، دشاسوامیدھ گھاٹ، اسی گھاٹ اور منی کرنیکا گھاٹ شامل ہیں۔پوسٹروں میں لکھا ہے کہ ‘یہ درخواست نہیں، وارننگ ہے’۔

سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر کو گرفتار کرنے کے بعد لے جاتی پولیس۔(فوٹو بہ شکریہ :  اعظم حسین)

ریپ متاثرہ کو خودکشی کے لیے اکسانے کے الزام میں سابق آئی پی ایس امیتابھ ٹھاکر گرفتار

اتر پردیش کی ایک لڑکی نے 2019 میں بی ایس پی ایم پی اتل رائے پر ریپ کا الزام لگاتے ہوئے کیس درج کرایا تھا۔ لڑکی اور ان کے ایک دوست نے گزشتہ 16 اگست کو سپریم کورٹ کے پاس خودسوزی کر لی تھی۔ دونوں کی موت ہو چکی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سابق آئی پی ایس افسر ٹھاکربی ایس پی ایم پی اتل رائے کے حمایتی ہیں۔گرفتاری سے کچھ گھنٹے پہلے ہی سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر نے نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا اور وزیر اعلیٰ کے خلاف اتر پردیش اسمبلی انتخاب لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

وارانسی واقع گیان واپی مسجد۔ (فوٹو: ڈاکٹر اے پی سنگھ/فائل)

کیا بنارس کی گیان واپی مسجد معاملے میں بابری مسجد کا ری پلے ہو رہا ہے؟

بتایا جاتا ہے کہ مشہور شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان جو ایک مذہبی انسان تھے صبح کی نماز ادا کرنے اسی گیان واپی مسجد میں آتے تھے اور پھر اپنے ماموں علی بخش کے ساتھ پاس کے مندر میں جاکر ریاض کرتے تھے۔

وارانسی واقع گیان واپی مسجد۔ (فوٹو: ڈاکٹر اے پی سنگھ/فائل)

وارانسی: گیان واپی مسجد ہٹانے کے مطالبے پر عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کیا

دس لوگوں کے ایک گروپ نے وارانسی کے گیان واپی مسجد کی جگہ پر ایک مندر کی تزئین و آرائش کا مطالبہ کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ 1699 میں اورنگ زیب کے حکم پر مندر کومنہدم کر دیا گیا تھا۔

فوٹو پی ٹی آئی

الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی سرکار سے کہا-من مانے طریقے سے حراست میں رکھے گئے لوگوں کو معاوضہ دیں

اتر پردیش کے وارانسی ضلع کا معاملہ۔ پولیس نے بدامنی پیدا کرنے کے لیے پچھلے سال آٹھ اکتوبر کو دو لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں نے 12 اکتوبر کو نجی بانڈ اور دیگر دستاویز جمع کرائے تھے، لیکن ایس ڈی ایم نے انہیں رہا نہیں کیا تھا۔

बनारस.00_16_55_08.Still003

’اگر مجھے پتہ ہوتا کہ مجھے 14 دن جیل میں رکھا جائے گا تو میں مظاہرے میں نہیں جاتی‘

ویڈیو: 19 دسمبر کو ایک بچی چمپک کے والدین ایکتا اور روی شیکھر کو پولیس نے شہریت ترمیم قانون کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ 14 دن بعد چمپک کی ماں کو رہا کیا گیا، اس دن سے اب تک کیا ہوا، تفصیل سے بتا رہی ہیں ایکتا۔

فوٹو: اے این آئی

شہریت قانون: 14مہینے کی بچی کے ماں-باپ کے ساتھ بنارس کے 56 مظاہرین کو ملی ضمانت

شہریت ترمیم قانون کی مخالفت میں 19 دسمبر کو وارانسی کے بینیا علاقے سے نکالے مارچ میں شامل 14 مہینے کی بچی کے سماجی کارکن ماں- باپ کے ساتھ 73 لوگوں کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اس میں سماجی کارکنوں کے ساتھ لیفٹ پارٹی ممبر اور طلبا بھی شامل تھے۔

BHU-BANNER

بی ایچ یو: جنسی استحصال کے ملزم  پروفیسر کو چھٹی پر جانے کو کہا گیا

بی ایچ یو کے وی سی راکیش بھٹناگر نے بتایا کہ پروفیسر ایس کے چوبے کی بحالی کے فیصلے پر ایگزیکٹو کاؤنسل از سر نو غور کرے گی۔ کاؤنسل کا آخری فیصلہ آنے تک پروفیسر چوبے کو چھٹی پر جانے کو کہا گیا ہے۔

وارانسی میں انتخابی تشہیر کرتے تیج بہادر یادو(فوٹو بشکریہ: فیس بک/تیج بہادر یادو)

وارانسی: نریندر مودی کے خلاف سماجوادی پارٹی سے میدان میں اترے تیج بہادو یادو کا پرچہ نامزدگی رد

پرچہ نامزدگی رد ہونے کے بعد تیج بہادر نے کہا کہ میرے پرچہ نامزدی کو غلط طریقے سے رد کیا گیا۔ مجھے ثبوت دینے کے لیے کہا گیا تھا ۔ میں نے ثبوت دیے بھی ۔ اس کے باوجود میرا پرچہ نامزدگی رد کردیا گیا ۔ ہم اس کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔

بی ایس ایف کے برخاست جوان تیج بہادر یادو (فوٹو بشکریہ : فیس بک / تیج بہادر یادو)

مودی جی نے جوانوں پر سیاست شروع کی، اب ہم جوان ہی ان کو سیاست سکھائیں‌گے: تیج بہادر یادو

انٹرویو: فوج میں کھانے کو لےکر شکایت کرنے کے بعد سرخیوں میں آئے بی ایس ایف کے برخاست جوان تیج بہادر یادو نے گزشتہ دنوں وارانسی سیٹ سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف لوک سبھا انتخاب لڑنے کا اعلان کیاہے۔ انتخابی تشہیر کے لئے وارانسی پہنچے تیج بہادر یادو سے بات چیت۔