Women

 (السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

سال 2023 میں خواتین کے خلاف جرائم کی 28811 شکایتیں موصول ہوئیں، 55 فیصد سے زیادہ معاملے یوپی سے: این سی ڈبلیو

این سی ڈبلیو کے اعداد و شمار کے مطابق، خواتین کے خلاف جرائم کی سب سے زیادہ 16109 شکایتیں اتر پردیش میں درج کی گئیں۔ اس کے بعد دہلی کو 2411 اور مہاراشٹر کو 1343 شکایتیں موصول ہوئیں۔ عزت اور وقارکے حق کے زمرے میں سب سے زیادہ شکایتیں موصول ہوئیں جن میں گھریلو تشدد کے علاوہ ہر طرح سے ہراساں کرنا بھی شامل ہے۔ ان کی تعداد 8540 تھی۔

 (علامتی تصویر بہ شکریہ: X/@ECISVEEP)

اسمبلی انتخابات کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین ریزرویشن ابھی دور کی کوڑی ہے

پی آر ایس لیجسلیٹیو ریسرچ کے مطابق، حالیہ اسمبلی انتخابات میں چھتیس گڑھ واحد ریاست ہے جہاں 20 فیصد سے زیادہ خواتین ایم ایل اے منتخب ہوئی ہیں۔ یہاں کل 90 ایم ایل اے میں سے 19 خواتین نے کامیابی حاصل کی ہے۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: فیس بک/بھارتیہ جنتا پارٹی)

بی جے پی اور کانگریس نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں 12 فیصد سے بھی کم خواتین کو ٹکٹ دیا

راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم کی 679 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 643 اور کانگریس نے 666 سیٹوں کے لیے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے بی جے پی نے صرف 80 خواتین امیدوار کھڑے کیے ہیں اور کانگریس نے 74 خواتین امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ 230 رکنی مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 28 اور کانگریس نے 30 خواتین کو میدان میں اتارا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

مدھیہ پردیش: خاتون کا ہاتھ پکڑنے اور نمبر مانگنے کے الزام میں مسلم نوجوان کے ساتھ مار پیٹ

یہ مبینہ واقعہ مدھیہ پردیش میں اجین کتاب میلے کے دوران پیش آیا۔ کتاب میلے میں ایک خاتون کا ہاتھ پکڑنے اور اس کا نمبر مانگنے کے الزام میں دائیں بازو کی ہندو تنظیم درگا واہنی کے ارکان نے ملزم کے ساتھ مار پیٹ کی۔ احمدیہ مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے میلے میں ا سٹال لگا رکھا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اشونی ایر تیواری، گنیت مونگا، کارتیکی گونسالویس، امی پٹیل، شانو شرما، پونم دھامانیہ اورنیہا ویاس، فوٹو: سوشل میڈیا

  بالی وڈ کی آف اسکرین خواتین

فلمی تاریخ دان نریش تنیجا کا ماننا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیشہ ورانہ تربیت یافتہ خواتین بالی ووڈ کے ایسے شعبوں میں کارنامے دکھا رہی ہیں، جو ابھی تک صرف مردوں کے ہی کنٹرول میں ہوتے تھے۔ ان میں کیمروں کو سنبھالنا، ایڈیٹنگ جیسا مشکل اور صبر آزما کام اور حتیٰ کہ لائٹنگ میں بھی خواتین نے قدم جمائے ہیں۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ سے کہا – خواتین مسجد میں نماز ادا کر سکتی ہیں

سال 2020 میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک درخواست میں مسلم خواتین کے مساجد میں داخلے پر مبینہ پابندی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی ہدایت دینے کی گزارش کی گئی تھی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے عدالت کو بتایا ہے کہ مسلم خواتین مسجد جانے کے لیے آزاد ہیں اور یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ وہاں نماز پڑھنے کے اپنے حق کا استعمال کرنا چاہتی ہیں یا نہیں۔

(علامتی تصویر، کریڈٹ: Lawmin.gov.in)

تبدیلی مذہب ایک سنگین مسئلہ، اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے: سپریم کورٹ

دھوکہ دہی سےہونے والے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیےمرکز اور ریاستوں کو کڑی کارروائی کرنے کی ہدایت دینے کی گزارش کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم پورے ملک کے لیے فکر مند ہیں۔ اگر یہ آپ کی ریاست میں ہو رہا ہے تو یہ برا ہے۔ اگر نہیں ہو رہا ہے تو اچھی بات ہے۔ اسے سیاسی ایشو نہ بنائیں۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

دہلی: تنقید کے بعد جامع مسجد میں خواتین کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ واپس لیا گیا

جامع مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کو مرکزی دروازوں پر لگائے گئے نوٹس میں کہا گیا تھاکہ مسجد میں لڑکیوں کا اکیلے یا گروپ میں داخلہ ممنوع ہے۔ اس فیصلے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر سے بات چیت کے بعد اسے واپس لے لیا گیا ہے۔

(تصویر بہ شکریہ : cathredfern/Flickr CC BY NC 2.0)

خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟

قومی دارالحکومت میں شردھا واکر کے ان کے لیو-ان پارٹنر آفتاب پونا والا کے ہاتھوں وحشیانہ قتل نے بہت درد اور غصہ پیدا کیا ہے۔ پولیس کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ آفتاب کو اس بہیمانہ قتل کی سزا ملے۔ لیکن خواتین کے خلاف مزید تشدد کو روکنے کے لیے ہمیں ایک سماج کے طور پرکیا کرنا چاہیے؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر نئی دہلی کے لال قلعہ سے قوم سے خطاب کیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

خواتین کے احترام کی بات پر اپوزیشن نے کہا – خواتین کے تئیں اپنا اورپارٹی کا رویہ دیکھیں پی ایم

یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کی توہین سے چھٹکارا پانے کا عہد لینے کی بات کہنے پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا نےان کا ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے احترام کا عہد لینے کی سب سے زیادہ ضرورت اگرکسی کو ہے تو وہ اس شخص (وزیراعظم) کو ہے۔ سماجی کارکن کویتا کرشنن نے کہاکہ کیا نریندر مودی بتا سکتے ہیں کہ بلقیس بانو ان کی ‘ناری شکتی ‘ کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ وہ مسلمان ہیں؟

کملا بھسین۔ (السٹریشن:پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کملا بھسین: سرحد پر بنی دیوار نہیں، اس دیوار پر پڑی دراڑ …

حقوق نسواں کی علمبردارکملابھسین اپنی سادگی اور صاف گوئی سےکسی بھی مسئلہ کےاندرون تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی تھیں۔انہوں نے ماہرین تعلیم اورحقوق نسواں کے علمبرداروں کےدرمیان جس سطح کی عزت حاصل کی، وہ سماجی کارکنوں کے لیےعام نہیں ہے۔ان کے لیے وہ ایک آئی-کان تھیں،تانیثی ڈسکورس کو ایک نئے نظریے سے برتنے کی ایک کسوٹی تھیں۔

کملا بھسین۔ (فوٹو بہ شکریہ: Tanveer Shehzad, White Star/Herald)

حقوق نسواں کی علمبردار اور معروف سماجی کارکن کملا بھسین نہیں رہیں

ہندوستان اورجنوب ایشیائی خطے میں تحریک نسواں کی علمبردار رہیں 75 سالہ کملا کا سنیچر کوانتقال ہو گیا۔ وہ صنفی مساوات ،تعلیم ، غریبی کے خاتمے،انسانی حقوق اور جنوبی ایشیا میں امن کے مسئلوں پر 1970 سے مسلسل سرگرم تھیں۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

مہا راشٹر: بین مذہبی شادی کا کارڈ لیک ہونے کے بعد اس کو ’لو جہاد‘ کا معاملہ بتاتے ہوئے مخالفت کی گئی

معاملہ ناسک کا ہے، جہاں ایک ہندو خاتون کی مسلمان مرد سے شادی کا کارڈ وہاٹس ایپ پر لیک ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے ‘لو جہاد’ بتاتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ گھر والوں کی رضامندی سے شادی کی تقریب 18 جولائی کو ہونی تھی، لیکن اب اسے رد کر دیا گیا ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

خواتین کو بااختیار بنانے کے وعدے؛ ’کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا‘

بی جے پی خود کو خواتین کی فلاح و بہبود سے متعلق پارٹی کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔وزیراعظم اکثر مسلم خواتین کےطلاق کےقانون کو پاس کرنے کا حوالہ دےکر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے مسلم خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد ملی ہے۔مگر جس طرح اس قانون میں شوہر کو جیل میں بند کرنے کی بات کہی گئی ہے، مسلمان خواتین کے ایک بڑے طبقے کا ماننا ہے کہ یہ ان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

تیرتھ سنگھ راوت۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

زیادہ راشن چاہیے تھا تو بیس بچہ پیدا کیوں نہیں کیے: تیرتھ سنگھ راوت

رام نگر میں ایک پروگرام کے دوران اتراکھنڈ کےوزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت نے کہا کہ اگر لوگوں کو کووڈ 19کے دوران زیادہ راشن پانا تھا تو دو سے زیادہ بچہ پیدا کرتے۔ اسی پروگرام میں راوت نے کہا کہ ہندوستان 200 سال امریکہ کا غلام تھا اور اب کووڈ 19 نے اس کی طاقت کو بھی کم کر دیا۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئےروپانی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سخت قانون کے ذریعے ہندو لڑکیوں کے تبدیلی مذہب کو روکیں گے: وجئے روپانی

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے گودھرا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ ان کی سرکار ایک مارچ سے شروع ہو رہے ودھان سبھاسیشن میں لو جہاد کے خلاف قانون لانا چاہتی ہے تاکہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کو روکا جا سکے۔

یوپی پولیس( فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش: بین مذہبی شادی کرانے والے وکیل نے پولیس پر ہراساں کر نے کے الزام  لگائے

دہلی کے ایک وکیل نے بتایا کہ اتر پردیش کے ایٹہ ضلع واقع جلیسر کی خاتون کو ان کی مرضی سے مذہب تبدیل کرواکر شادی کروانے میں مدد کی تھی۔ ڈر کی وجہ سےجوڑا لاپتہ ہو گیاہے۔الزام ہے کہ ان کی تلاش میں اتر پردیش پولیس نے وکیل کی فیملی کے لگ بھگ دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/MYogiAdityanath)

اترپردیش تبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قانون کی قانونی ’خامیاں‘ اس کے نفاذکی بدنیتی کو دکھاتی ہیں

مدھیہ پردیش اور اڑیسہ کےتبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قوانین میں کہیں بھی بین مذہبی شادی کا ذکر نہیں تھا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس پر کوئی تبصرہ کیا تھا۔ ایسے میں اتر پردیش سرکار کا ایسا کوئی اختیار نہیں بنتا کہ وہ بنا کسی ثبوت یادلیل کے بین مذہبی شادیوں کو نظم و نسق کے سوال سے جوڑ دے۔

2307 Gondi.00_47_04_06.Still146

یوپی میں ’لو جہاد‘ آرڈیننس: ہندو مسلم شادی  پر کیا ہوگا اثر؟

ویڈیو: مبینہ لو جہاد کو لےکر اتر پردیش سرکار نے آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت شادی کے لیے فریب، لالچ یا جبراًمذہب تبدیل کرائے جانے پر زیادہ سے زیادہ10 سال کی قیداور جرما نے کی سزا کا اہتمام ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

لو جہاد فحش پروپیگنڈہ ہے

بی جے پی لو جہاد کے راگ کو کیوں نہیں چھوڑ رہی؟وہ ہندوؤں میں خوف بٹھا رہی ہے کہ ‘ہماری’عورتوں کا استعمال کرکے ‘ودھرمی’اپنی تعداد بڑھانے کی سازش کر رہے ہیں۔ ‘ودھرمیوں’ کی تعداد میں اضافہ پریشانی کا سبب ہے۔ تعداد ہی طاقت ہے اور وہی برتری کی بنیاد ہے۔ اس لیے ایسی ہر شادی یا رشتے کی مخالفت کی جانی ہے، کیونکہ اس سے ‘ودھرمی’ کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

لو جہاد معاملے میں یوپی پولیس نے سونپی رپورٹ، کہا- کسی سازش یا غیرملکی فنڈنگ کے ثبوت نہیں

اتر پردیش کے کانپور شہر میں کچھ رائٹ ونگ ہندو تنظیموں نے الزام لگایا تھا کہ مسلم نوجوان مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہندو لڑکیوں سے شادی سے کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہیں دوسرے ملکوں سے فنڈ مل رہا ہے اور لڑکیوں سے انہوں نے اپنی پہچان چھپا رکھی ہے۔ اس کی جانچ کے لیے کانپور رینج کے آئی جی نے ایس آئی ٹی بنائی تھی۔

(فوٹو بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس)

عام عورتوں کا بڑھتا سیاسی شعور ان کا اپنا ہے یا وہ کسی سیاسی ایجنڈے کی شکار ہیں؟

سوسائٹی کے وہاٹس ایپ گروپ میں وہ خواتین عموماً گھرگرہستی سے جڑے مسئلے شیئرکیا کرتی تھیں۔ پتہ نہیں یہ کب اورکیسے ہوا کہ اپنی زندگی کےتمام مسائل کو چھوڑ کربالی ووڈ کی اقربا پروری کو ختم کرنا، سشانت سنگھ راجپوت کے لیے انصاف مانگنا اور عالیہ بھٹ کو نیست و نابود کر دینا ان عورتوں کا مقصد بن گیا۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

دنیا بھر میں لاپتہ ہوئی کل خواتین میں سے ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ ہندوستانی: یواین رپورٹ

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اےکی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2013 سے 2017 کے بیچ ہندوستان میں ہر سال تقریباً ساڑھے چار لاکھ بچیاں پیدائش کے وقت ہی لاپتہ ہو گئیں۔اندازے کے مطابق،سالانہ لاپتہ ہونے والی 12 سے 15 لاکھ بچیوں میں سے 90 فیصد سے زیادہ چین اورہندوستان کی ہوتی ہیں۔

AKI 5 June.00_16_12_22.Still003

پہلے میں نریندر مودی کی قائل تھی…

ویڈیو: ہندوستانی فضائیہ میں ونگ کمانڈر رہیں انوما آچاریہ کو بی جے پی نے اتنامتاثر کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور پارٹی کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن کچھ عرصے میں ہی وہ پارٹی سے مایوس ہو گئیں۔ انوما آچاریہ کی مودی پرستار سے مودی نقاد بننے کی کہانی۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

نریندر مودی کے بارے میں میری رائے کیوں بدل گئی…

میں نریندر مودی سے متاثر تھی، گجرات میں رہتے ہوئے میں نے اچھی سڑکیں، چھوٹی صنعتیں دیکھی تھیں، ان کی تعریف بھی سنی تھی۔ سیاست میں جانے کا سوچنے کے بعد میں نے بی جے پی سے رابطہ بھی کیا اور پارٹی کے لیے کام بھی کیا۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں رونما ہوئے واقعات نے وزیر اعظم مودی کے بارے میں میری رائے بدل کر رکھ دی۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

ریپ کے معاملوں میں سزا کی شرح محض 27.2 فیصد: این سی آر بی رپورٹ

این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق،ریپ کے معاملوں میں سزا کی شرح 2018 میں گزشتہ سال کے مقابلے کم ہوئی ہے۔ 2017 میں سزا کی شرح 32.2فیصد تھی۔ نئی دہلی: حال ہی میں شائع این سی آربی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، […]

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

حیدر آباد انکاؤنٹر: سپریم کورٹ نے جوڈیشیل جانچ کا حکم دیا، 6 مہینے کی مدت طے کی

عدالت نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وی ایس سرپرکر کی رہنمائی میں جانچ کمیٹی کی تشکیل کی۔ کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے میں کوئی دیگر عدالت یا کوئی دیگر محکمہ تب تک جانچ نہیں کرے ‌گا۔

Media Bol 9 December.00_37_40_24.Still003

میڈیا بول: حیدرآباد-اناؤ میں ریپ-قتل، سماج اور میڈیا

ویڈیو: حیدرآباد ریپ پھر انکاؤنٹراور اناؤ کی ریپ متاثرہ کے قتل کے معاملے میں کس طرح سماج میں مجرموں کو پھانسی کی سزا کی مانگ اور ملک کے بڑے میڈیا اداروں کی ان مدعوں پر ہوئی رپورٹنگ پر سپریم کورٹ کی وکیل اونی بنسل،ہندوستان ٹائمس کےپالیٹیکل ایڈیٹر ونود شرمااور دی وائر کی سینئر ایڈیٹر رعارفہ خانم شیروانی سے بات کر رہے ہیں سینئر صحافی ارملیش۔

حیدر آباد میں جائے واردات پر تعینات پولیس اہلکار، جہاں خاتون ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے ملزم پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

حیدرآباد انکاؤنٹر: ریٹائر جج نے کہا، حراست میں ملزمین کی حفاظت پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے

دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائر جج جسٹس آر ایس سوڈھی نے کہا کہ حیدر آباد میں خاتون ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے ملزمین کی پولیس انکاؤنٹر میں مارے جانے کی بات ہضم نہیں ہو رہی ۔ یہ حراست میں کیا گیا قتل ہے۔ قانون کہتا ہے کہ اس کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔

حیدر آباد واقع شادنگر میں تعینات پولیس۔ یہ وہی جگہ ہے، جہاں خاتون ڈاکٹر کے ریپ  اور قتل کے چاروں ملزمین پولیس انکاؤنٹر میں مارےگئے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

حیدرآبادانکاؤنٹر : تلنگانہ حکومت نے بنائی ایس آئی ٹی، بدھ کو سپریم کورٹ میں ہوگی شنوائی

حیدر آباد کی ڈاکٹر کے ساتھ ریپ اور قتل کے چاروں ملزمین کے انکاؤنٹر میں مارے جانے کو فرضی بتاتے ہوئے جانچ کی مانگ کولےکر سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ جانچ سی بی آئی، ایس آئی ٹی، سی آئی ڈی یا کسی دیگر غیرجانبدار جانچ ایجنسی سے کرائی جائے جو تلنگانہ ریاست کے تحت نہ ہو۔

فوٹو : پی ٹی آئی

کیا واقعی ہندوستانی سماج میں ریپ کے واقعات مغربیت کی دین ہیں؟

پولیس کے رویے کولےکر خوب سوال اٹھتے رہے ہیں۔ آخر پولیس کے لوگ ہمارے اسی خاتون-مخالف سماج کی پیدائش ہیں اور چونکہ سیاسی نظام بھی اسی پدری سوچ سے چلتا ہے اسی لئے پولیس فطری طورپر جنسی تشدد کے معاملے میں خاتون کو ہی قصوروار ٹھہراتی ہے۔