RSS

جن وادی لیکھک سنگھ کا مطالبہ – وزارت داخلہ ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے سے متعلق فیصلہ واپس لے

جن وادی لیکھک سنگھ نے حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے سے متعلق جاری حکم نامہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا  کہ یہ فیصلہ دستور ساز اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی تمہید کی روح کے بھی خلاف ہے، جس میں کسی طرح کی تبدیلی کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔

جے این یو سیڈیشن کیس کے ایک دہائی بعد ہندوستانی یونیورسٹیوں میں اختلاف رائے کی آوازیں خاموش ہو چکی ہیں

فروری 2016 میں جے این یو کے طالبعلموں کی سیڈیشن معاملے میں گرفتاری کے دس سال بعد اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ آج یونیورسٹی اپنی پرانی پہچان کی پرچھائیں محض رہ گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہ رکھنے والے پروگرام باقاعدگی سے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور تقرریاں مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔

قومی ترانہ بمقابلہ قومی گیت، قومی علامتوں کے خلاف حکومت کی نئی پیش قدمی

سرکار نے کہا ہے کہ قومی ترانہ سے پہلے لازمی طور پر ہمیشہ قومی گیت – وندے ماترم ، کو اس کے مکمل چھ بند کے ساتھ گانا ہوگا۔ یہاں یہ دعویٰ کرنا کہ وندے ماترم کا مقام و مرتبہ بلند کیا جا رہا ہے، تویہ  دراصل قومی ترانے کو کمتر دکھانے کا شعوری عمل ہے۔

کرناٹک: گاندھی کو منفی انداز میں پیش کرنے والے سیاسی اشتہارات پر گاندھی اسمارک ندھی کا اعتراض

گاندھی اسمارک ندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بی جے پی کی کرناٹک اکائی نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئے گاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے دکھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ گاندھی کو پارٹی سیاست کے حساب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔

آج ذات پات صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے ہے: موہن بھاگوت

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ آج  ذات پات صرف سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے موجود ہے، کیونکہ اس کی روایتی پیشہ ورانہ بنیاد اب ختم ہو چکی ہے۔ سماج کے اندر یہ ذہنیت موجود ہے، اسی لیے سیاستداں ذات  پات کے مسئلے کو اچھالتے ہیں۔

بی جے پی لیڈر نے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا، کہا – کشمیری ملک کے تئیں وفادار نہیں

بی جے پی کے سینئر لیڈر شیام لال شرما نے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جموں کوکشمیر سے الگ کر دیا جاتا ہے تو یہ خطہ معاشی، سماجی اور انتظامی طور پر خوشحال ہوگا۔ اس بیان پر ریاست کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ بی جے پی نے شرما کے بیان سے خود کو الگ کرلیا ہے۔

مودی اور آر ایس ایس کی مخالفت ’ملک کی مخالفت‘ نہیں، زندہ جمہوریت کی علامت ہے

آج جو بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، وہ ایک خطرناک وہم پر مبنی ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کو ‘ملک و قوم’ سے تشبیہ دے کر میڈیا حکومت کو تنقید سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک فراڈ ہے۔ آر ایس ایس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، بی جے پی سیاسی جماعت ہے۔ نریندر مودی آئین کے منتخب خادم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ‘ملک’ نہیں ہے۔

بنگلہ دیش بحران پر موہن بھاگوت بولے – ہندو متحد ہو جائیں، ہندوستانی حکومت کو کچھ کرنا ہوگا

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں سے وہاں جاری بدامنی کے درمیان متحد رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیت ہونے کی وجہ  سے صورتحال مشکل ہے اور عالمی ہندو برادری کو زیادہ سے زیادہ تحفظ کو یقینی بنانے میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔

نتن نبین: ایک اور لو-پروفائل صدر، جن کا دور مودی-شاہ کے تسلط اور اقتدار کو اور مضبوط کرے گا

نتن نبین کو بی جے پی کے قائم مقام صدر کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ نریندر مودی کی قیادت کی اسی کڑی کا حصہ ہے، جس کے تحت پارٹی صدر کے عہدے کو مسلسل کمزور کیا گیا ہے۔ نئے صدر کا اپنا سیاسی وزن بہت کم ہے۔ حالاں کہ یہ قدم بہار میں ایک بڑا انتخابی داؤ بھی ہے۔

وشو ہندو پریشد کی اپیل: کرسمس نہ منائے ہندو سماج، دکان اور اسکول بھی نشانے پر

وشو ہندو پریشد نے ’سانسکرتک سجگتا‘ یعنی’ثقافتی بیداری‘ کے نام پر ہندوؤں سے کرسمس نہ منانے کی اپیل کی ہے۔ قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی آزادی اور آئین کی تمہید میں درج بھائی چارے کے اصولوں کے خلاف ہے۔

بی جے پی اور آر ایس ایس کا اتحاد ہندوستان میں امتیازی قوانین کو فروغ دیتا ہے: امریکی کمیشن

مذہبی آزادی سے متعلق یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم کےتازہ اپڈیٹ بریف میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی حکمران بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کااتحاد ‘امتیازی’ قوانین کو فروغ دیتا ہے۔

اربن نکسل اور خان مارکیٹ گینگ کہہ کر کرتے ہیں بدنام: ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج نے کیا سنگھ پریوار پر حملہ

سابق جج ایس مرلی دھر نے  پروفیسر جی این سائی بابا میموریل لیکچر میں کہا کہ  آر ایس ایس تفرقہ انگیز ایجنڈہ کو فروغ دے رہی ہےاور گمراہ کن تاریخ پڑھا رہی ہے۔ انہوں نے تعلیمی میدان میں نوجوانوں کے ذہنوں پر  قبضہ، ادارہ جاتی مداخلت اور اکیڈمک آزادی پر سوال اٹھائےاور سائی بابا کیس کے توسط سے عدلیہ کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

کیا آر ایس ایس غیر سیاسی ہے؟

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، جس نے ابھی حال میں اپنی 100 ویں سالگرہ منائی ہے، ‘غیر سیاسی’ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، حالانکہ اس کےنظریے کا عکس  اقتدار کے اعلیٰ ترین عہدوں سے لے کر تعلیمی اداروں حتیٰ کہ سنیما تک پر دیکھا جا سکتا ہے۔آر ایس ایس کے 100 سالہ سفر پر صحافی اور مصنف دھیریندر جھا اور دی وائر کے بانی مدیرسدھارتھ وردراجن کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی۔

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ نے کہا – صیہونی اور آر ایس ایس جڑواں بھائی ہیں

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کرنے کو آئین کی توہین قرار دیا اور آر ایس ایس کا موازنہ اسرائیل کے صیہونیوں سے کیا۔ سنگھ کی تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں نے اسے تفرقہ انگیز، رجعت پسند اور تحریک آزادی کی مخالفت کرنے والی تنظیم قرار دیا ہے۔

آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں جاری سکے پر سوال: کیا یہ سیکولر آئین کے تحت جائز ہے؟

وزیر اعظم مودی کی جانب سے آر ایس ایس کی صد سالہ  تقریبات میں جاری یادگاری ڈاک ٹکٹ 100 روپے کا  سکہ اپوزیشن کے نشانے پر ہے۔ سی پی آئی (ایم) اور کیرالہ کے وزیر اعلیٰ نے اسے آئین کی توہین قرار دیا ہے۔ سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ نے پوچھا ہے کہ کیا یہ سیکولر آئین کے تحت قانونی ٹینڈر ہے؟ اپوزیشن اسے جدوجہد آزادی کی یاد کی توہین گردان رہی ہے۔

سنگھ کے ماؤتھ پیس میں ٹرمپ کے ٹیرف کی تنقید – ’امریکہ دہشت گردی اور آمریت کو فروغ دے رہا ہے‘

ایک طرف جہاں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کے ٹیرف اور جنگ بندی کے ثالثی کے دعووں پر امریکہ کے خلاف براہ راست کچھ کہنے سے گریز کیا ہے، وہیں بی جے پی کی مربی تنظیم آر ایس ایس نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گردی اور آمریت کو فروغ دے رہا ہے۔

رام کتھا اور شاکھا کے جھگڑے میں ہوا سادھو کا قتل، سات سال بعد آر ایس ایس پرچارک کو ہوئی عمر قید

راجستھان کی سروہی عدالت نے سادھو اودھیشانند مہاراج کے قتل کے معاملے میں آر ایس ایس کے سابق پرچارک اتم گری کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ قتل سنگھ کے دفتر میں ہوا تھا۔ یہ شاید پہلا معاملہ ہے جب سنگھ کے کسی عہدیدار کو سنگھ پریوار کے کسی دوسرے رکن کے قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔  

مودی کا جانشین او ر حکمران بی جے پی کا اگلا صدر کون؟

 سنگھ کو لگتا ہے کہ مودی کے بعد ایک تو اقتدار کی کشمکش  امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان ہوگی، دوسری طرف کسی سنجیدہ طاقتورلیڈرشپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی کانگریس سے بھی بری حالت ہو جائےگی،جس کا سد باب کرنا ضروری ہے۔

محمود آباد معاملے میں ایس آئی ٹی کو سپریم کورٹ کی سرزنش، کہا – آپ کو ان کی نہیں، ڈکشنری کی ضرورت ہے

سپریم کورٹ نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر درج ایف آئی آر معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم کو پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ ایس آئی ٹی خود کو ہی گمراہ کیوں کر رہی ہے، جبکہ اس کی تحقیقات کا دائرہ صرف دو ایف آئی آر تک ہی محدود ہے ۔

آر ایس ایس کے بعد نائب صدر جمہوریہ نے آئین کی تمہید میں ’سیکولر‘ اور ’سوشلسٹ‘ الفاظ کو ’ناسور‘ قرار دیا

آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے کی جانب سے آئین ہند کی تمہید سے ‘سیکولر’ اور ‘سوشلسٹ’ الفاظ کو ہٹانے کی بات کہے جانے کے بعد نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے ان الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں ‘ناسور’ قرار دیا۔ وہیں، کانگریس نے کہا ہے کہ اگر آئین کے کسی بھی لفظ کو چھونے کی کوشش کی گئی تو پارٹی آخری سانس تک اس کی مخالفت کرے  گی۔

سنگھ کا آئین سے ’سوشلسٹ، سیکولر‘ لفظ ہٹانے کا مطالبہ، کانگریس نے کہا – آئین مخالف سوچ

ایمرجنسی پر ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے نے آئین کے دیباچے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ آر ایس ایس نے امبیڈکر کے آئین کو کبھی قبول نہیں کیا اور ان کا مطالبہ اسے تباہ کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

یوپی حکومت نے ’لاء اینڈ آرڈر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ایودھیا اور بارہ بنکی میں عرس پر روک لگائی

وشو ہندو پریشد کی شکایت کے بعد حکام نے امن و امان کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اتر پردیش کے ایودھیا اور بارہ بنکی میں دو سالانہ عرس کی تقریبات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

محمود آباد کے بہانے اب اشوکا یونیورسٹی پر حملہ

محمود آباد کے بہانے اب اشوکا یونیورسٹی پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ہم اس ادارے سےامید کر سکتے ہیں کہ یہ ہارورڈ کی طرح حکومت کے سامنے اٹھ کرکھڑا ہوجائے؟ شاید وہ روایت یہاں نہیں ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس بار پھر سے اس ادارے کے آقا بی جے پی کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی قربانی دے دیں گے۔

جب زندگی کے تمام فیصلے ذات پات کی بنیاد پر، تو پھر ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کیوں؟

پہلگام میں دہشت گردانہ تشدد کے اشتعال کے درمیان ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیا گیا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پانچ سال تک کشمیر کو اپنے قبضے میں رکھنے کے بعد بھی بی جے پی حکومت سیاحوں کی حفاظت کیوں نہیں کر سکی؟ اس سوال سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومت نے اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو موضوع دیتے ہوئے ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کر دیا ہے۔

نیشنل ہیرالڈ کو لے کر کانگریس کا بی جے پی پر نشانہ، کہا – پانچ جنیہ اور آرگنائزر مفت میں چلتے ہیں

بی جے پی نے کانگریس پرنیشنل ہیرالڈ اخبار کو دی گئی پبلک پراپرٹی  کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس پر کانگریس نے سوال کیا کہ کیا آر ایس ایس کے ترجمان پانچ جنیہ اور آرگنائزرمفت میں کام کرتے ہیں۔

سنگھ بی جے پی تعلقات میں نئی ​​گرمجوشی؟

سنگھ اور بی جے پی کے رشتوں میں پچھلے ایک سال میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی کھل کر سنگھ کی تعریف کرتی نظر آ رہی ہے۔ حال ہی میں نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی بار سنگھ ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ کیا سنگھ بدل رہا ہے؟ سنگھ-بی جے پی کے رشتوں پر سینئر صحافیوں – راہل دیو اور دھیریندر جھا کے ساتھ آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔

مودی آر ایس ایس کے حقیقی ’سپوت‘ ہیں اور سنگھ مودی سے سب سے زیادہ فیض اٹھانے والا

آر ایس ایس کے جن خیالات کو پردے میں رکھ کر اٹل بہاری یا لال کرشن اڈوانی پیش کیا کرتے تھے، ان کو مودی کے منہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سنا جا سکتا ہے۔ اور مودی کی وجہ سے بہت سے دانشور اور صنعتکار آر ایس ایس کی سلامی بجاتے ہیں۔ آر ایس ایس کواور کیا چاہیے؟

یوپی: سنبھل پولیس نے برسوں سے ہونے والے نیجا میلےکو ’اینٹی نیشنل‘ قرار دیتے ہوئے پابندی لگائی

سنبھل میں سالانہ نیجا میلے پر پابندی لگاتے ہوئے پولیس کا موقف آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کے دیرینہ خیالات کے مطابق تھا۔ سنگھ سالار مسعود کی کہانی کو موجودہ سیاست سے جوڑ کر انہیں ولن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی اور دہلی کی افطار پارٹیوں کے قصے

جیسے جیسے مسلمانوں کو 2014 کے بعد سیاسی طور پر بے وزن کر دیا گیا ہے، دہلی کی افطارپارٹیاں بھی قصہ پارینہ بن گئی ہیں۔ ہندوستان میں اس تناظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا مسلمانوں کو واقعی سیاسی اچھوت بنایا گیا ہے اور کیا جو پارٹیاں مسلمانوں کے حقوق یاان کی تقریبات میں شرکت کریں گیں ان کو ووٹ نہیں ملیں گے؟

لیکس فریڈمین کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں پی ایم مودی نے کہا – تنقید جمہوریت کی روح ہے

لیکس فریڈمین کے پوڈ کاسٹ میں پی ایم مودی نے 2002 کے گجرات فسادات، آر ایس ایس کے نظریے اور دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیا۔ جمہوریت میں تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اپنی سوچ اور عمل میں جمہوریت پسند ہیں تو آپ کو تنقید کو گلے لگانا چاہیے۔

یوم دستور: آئین کے دیباچے سے لفظ ’سیکولر‘ کو ہٹانے کا مطالبہ ملک کے لیے خطرے کی علامت

آئین کی تمہید سے لفظ ‘سیکولر’ اور ‘سوشلزم’ کو ہٹانے کا مطالبہ جمہوریت اور آئین کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ الفاظ میں تبدیلی کے بجائے اپنی ذہنیت میں تبدیلی کا سامان کیا جانا چاہیے۔

یوم دستور: اگر ملک آر ایس ایس کی مرضی کے مطابق چلتا رہا تو ہمارا آئینی ڈھانچہ کیا ہوگا؟

امبیڈکر کا کہنا تھا کہ ہندو راج اس ملک کے لیے سب سے بڑی آفت ہوگی کیونکہ ہندو راشٹر کا خواب آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے خلاف ہے اور یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔

اے جی نورانی: علم کا بہتا دریا خاموش ہوگیا

مضامین اور کتابوں میں نورانی حوالہ جات سے اپنے دلائل کی عمارت اتنی مضبوط کھڑی کر دیتے تھے کہ اس کو ہلانا یا اس میں سیندھ لگانا نہایت ہی مشکل تھا۔ وہ اپنے پیچھے ایک عظیم ورثہ چھوڑ کر گئے ہیں، جس کے لیے صدیوں تک ان کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔

آر ایس ایس کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں؟

معروف قلمکار اور قانون داں اے جی نورانی نے اپنی کتاب The RSS: A Menace to India میں آر ایس ایس کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کیے ہیں ۔انہوں نےیہ بتانے کی سعی کی ہے کہ اس تنظیم کی بنیادی فلاسفی کیا ہے ،دنیا بھر میں اس کی کتنی شاکھائیں ہیں ، مسلم ممالک میں یہ شاکھائیں کیسے کام کرتی ہیں اور بی جے پی کے اہم فیصلوں میں اس کا کیا رول ہوتا ہے۔

جموں و کشمیر: اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی  میں اندرونی خلفشار

بی جے پی نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کی اور بعد میں اس کو واپس لے لیا، کیوں کہ نئے امیدواروں اور حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہونے والے لوگوں کے انتخاب پر پرانے قائدین میں عدم اطمینان کی بات کہی جا رہی ہے۔

جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا بگل

ایک اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا ان انتخابات کے نتیجے میں خطے میں حقیقی امن قائم ہو سکے گا؟ ویسے تو مودی حکومت بغلیں بجا رہی ہے کہ اس نے کشمیر میں پچھلے پانچ سالوں میں امن قائم کیا ہوا ہے۔ مگر یہ قبرستان کی خاموشی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا منتخب انتظامیہ لوگوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور عوامی شراکت پر پالیسی کو دوبارہ مرکوز کرکے سابق ریاست کے لوگوں کی بیگانگی کو کم کرنے میں کردار ادا کرے گی؟

انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے انتخاب میں سنگھ کی حمایت یافتہ تنظیم کے ارکان شکست سے دوچار، سلمان خورشید بنے صدر

کہا جا رہا تھا کہ سلمان خورشید کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کے قومی کنوینر ڈاکٹر ماجد احمد تالیکوٹی سے کڑی ٹکر ملے گی۔ لیکن مقابلہ یکطرفہ رہا۔