دی وائر کا طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور کنیسٹ میں انہیں دیے گئے ’میڈل‘ سے متعلق ہے، کو ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ایکس پر دی وائر کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، جو اب اس ویڈیو کو نہیں دیکھ سکتے۔
اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔
اسرائیل اور امریکہ نے سنیچر کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل اور چار خلیجی عرب ممالک — بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات — جہاں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں، پر میزائلوں اور ڈرون سے حملے کیے۔
دہلی کی ایک عدالت نے مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالے کے تمام 23 ملزمان – جن میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں – کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ایجنسی کے شواہد کی تائید کے لیے ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا ہے۔
نارتھ-ایسٹ ریاستوں کے تین وزرائے اعلیٰ نے دہلی کے مالویہ نگر میں اروناچل پردیش کی تین خواتین کے خلاف نسلی تبصروں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ-ایسٹ کے لوگوں کے ساتھ امتیازی رویہ اب بند ہونا چاہیے کیونکہ وہ بھی ہندوستان کے ہی شہری ہیں۔
واقعہ رودرپور کا ہے۔ پولیس کے مطابق ریشم باڑی علاقے کے رہنے والے شاہد نے جگت پورہ میں واقع اٹریا مندر کے پاس خالی زمین پر نماز ادا کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر ان پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا اور انہیں مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجئے کمار سنہا نے گوشت کی کھلے عام فروخت اور کھپت کو نوجوانوں اور بچوں میں ’پرتشدد رجحانات‘ سے جوڑنے کے بعد سوموار کو کہا کہ بلدیاتی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکولوں، مندروں کے احاطوں اور دیگر بھیڑ بھاڑ والے عوامی مقامات کے قریب واقع ایسی دکانوں کو بند کریں۔
این بی ڈی ایس اے نے نیوز رپورٹنگ میں لفظ ’جہاد‘ کے استعمال کے حوالے سے خصوصی رہنما اصول تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زی نیوز نیٹ ورک کے مختلف چینلوں، ٹائمز ناؤ نو بھارت، نیوز18 اور این ڈی ٹی وی سمیت کئی ٹی وی چینلوں کو ان نشریات کے حوالے سےوارننگ دی ہے، جن میں کھانے میں مبینہ ملاوٹ کے واقعات کو ’تھوک جہاد‘ اور ’فوڈ جہاد‘ جیسے الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔
اتوار کو سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں بی جے پی لیڈر اور سابق ایم پی سکھبیر سنگھ جوناپوریا راجستھان کے ٹونک کے ایک گاؤں میں کمبل تقسیم کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ وہ مسلمان عورتوں سے کمبل واپس لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘جو مودی کو گالی دیتا ہے، اسے کمبل لینے کا حق نہیں ہے۔’ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر خواتین کو برا لگا تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جن وادی لیکھک سنگھ نے حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے سے متعلق جاری حکم نامہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دستور ساز اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی تمہید کی روح کے بھی خلاف ہے، جس میں کسی طرح کی تبدیلی کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت عائد کیے گئے ٹیرف کو اختیارات کی حد سے تجاوز قرار دیا ہے۔ تاہم، صدر نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ ہوئے معاہدے پر اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اب ہندوستان ٹیرف ادا کرے گا، امریکہ نہیں، جبکہ قانونی صورتحال ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں جے این یو کی وی سی کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ آپ ہمیشہ مظلوم بن کر یا وکٹم ہڈ کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتے۔ ایسا ہی سیاہ فاموں کے ساتھ ہوا، یہی دلتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس بیان پر ہر طرف سے تنقید کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ خود بہوجن سماج سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے کسی بھی کمیونٹی کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے میں نامزد چار ہندوستانی شہریوں کے مقدمے کی شنوائی شروع ہونے والی ہے۔ اس دوران کینیڈین حکومت کے محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق ‘حساس’ معلومات کو خفیہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔
سپریم کورٹ نے نوئیڈا واقع دوا ساز کمنی میرین بایوٹیک کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر دائرہ اختیار کی پابندی نہ ہوتی تو کمپنی پر اس سے بھی زیادہ سنگین الزامات عائد کیے جا سکتے تھے۔ عدالت نے مزید کہا کہ 2022 میں ازبیکستان میں 18 بچوں کی ہلاکت کے لیے ذمہ دار پائے جانے پر کمپنی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی چلایا جانا چاہیے تھا۔
ہندوستان نے جمعرات کو واشنگٹن میں غزہ پر ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں آبزرور کی حیثیت سے شرکت کی۔ ہفتہ بھر پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے بورڈ میں شامل ہونے کی امریکہ کی پیشکش کو زیر غور قرار دیا تھا۔ نئی دہلی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ صرف آبزرور رہے گا یا مستقبل میں بورڈ کی مکمل رکنیت بھی اختیار کرے گا۔
جموں و کشمیر میں ایک ٹرک ڈرائیور کے ہائی وے پر نماز پڑھنے کے ویڈیو کو تصدیق کے بغیر نشر کرنے کی وجہ سے زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ این بی ڈی ایس اے نے اسے سنگین کوتاہی مانتے ہوئے سوشل میڈیا مواد کے استعمال سے متعلق سخت رہنما اصول جاری کیے ہیں۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے جنوری میں دیے گئے اپنے فیصلے پرعمل نہ کرنے کے معاملے میں بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک درخواست گزار نے رمضان کے پیش نظر اپنے نجی احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی تھی، جسے انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے جنوری میں واضح کیا تھا کہ نجی احاطے میں مذہبی اجتماع کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
نجی کمپنیوں کے لیے ایٹمی توانائی کا شعبہ کھولنے والے مودی حکومت کے ’شانتی‘ ایکٹ کی منظوری کے صرف دو ماہ بعد ہی اڈانی گروپ نے اس سیکٹر میں انٹری کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی پاور نے ’اڈانی اٹامک انرجی لمیٹڈ‘ کے نام سے ایک ذیلی کمپنی تشکیل دی ہے۔ اپوزیشن نے مذکورہ قانون کو اپنے ’پسندیدہ افراد کو فائدہ پہنچانے والا‘ بتایا ہے۔
ارندھتی رائے نے غزہ پر برلنالے جیوری کے بیان کو ’حیران کن‘ اور ’مایوس کن‘ بتاتے ہوئے 2026 کے فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ان کی فلم ’ان وہچ اینی گوز اٹ دوز ونس‘ کو کلاسکس سیکشن میں منتخب کیا گیا تھا۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔
اندور کے انٹرنیشنل اسکول آف بامبے میں مذہبی بنیاد پر ہندو اور مسلم طلبہ کے درمیان امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں دونوں برادری کے طلبہ کے لیے الگ الگ سالانہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جس کے حوالے سے والدین میں ناراضگی دیکھی گئی۔ انہوں نے اسکول پر پہلے بھی مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتنے کے الزامات لگائے ہیں۔
گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے ‘محمد’ دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔
دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
‘اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں مسلمان بزرگ کی حمایت میں ہندوتوادی ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کے جم میں مذکورہ واقعہ کے بعد 135 لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے ۔ دیپک کا کہنا ہے،’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔
گاندھی اسمارک ندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بی جے پی کی کرناٹک اکائی نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئے گاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے دکھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ گاندھی کو پارٹی سیاست کے حساب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر کہ ہندوستان نے روسی خام تیل کی درآمد مکمل طور پر روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اٹھتے سوالوں کے جواب میں وزیر خارجہ اور وزیر تجارت کے بیان اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ دونوں وزارتوں کے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے درمیان، کسی واضح تردید کا سامنے نہ آنا اب خاموش رضامندی جیسا نظر آنے لگا ہے۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ آج ذات پات صرف سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے موجود ہے، کیونکہ اس کی روایتی پیشہ ورانہ بنیاد اب ختم ہو چکی ہے۔ سماج کے اندر یہ ذہنیت موجود ہے، اسی لیے سیاستداں ذات پات کے مسئلے کو اچھالتے ہیں۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد اس ویڈیو کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کانگریس قائدین نے ویڈیو کو ’آئین کے سینے پر گولی‘ قرار دیا ہے۔
یو پی اے حکومت کے دوران اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے پر کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کرنے والی بی جے پی کی حکومت میں وہی کمپنی اب لیونارڈو نام سے اڈانی ڈیفنس کی شراکت دار بن کر ہندوستان کے دفاعی شعبے میں لوٹ آئی ہے۔ اسی ہفتے، اڈانی ڈیفنس نے اس کمپنی کے ساتھ ہندوستان میں ہیلی کاپٹر مینوفیکچرنگ کا ایکو سسٹم قائم کرنے کے لیے، مودی حکومت کے نمائندوں کی موجودگی میں ایم او یو پر دستخط کیا ہے۔
سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی سنسر کی گئی کتاب میں ایک فون کال کے ذکر کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کتاب کے مطابق، اس کال میں ہندوستان اور چین کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوج کو سیاسی ہدایت محض یہ تھی کہ ‘جو صحیح لگے، وہ کرو’۔ حالاں کہ اس کے علاوہ بھی کتاب ایسے کئی سوال اٹھاتی ہے، جن کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔
گڑیابند ضلع کے دتکیا گاؤں میں لاٹھیوں، اینٹوں، پتھروں اور مٹی کے تیل کی بوتلوں سے مسلح سینکڑوں لوگوں کے ہجوم نے مبینہ طور پر 10 مسلم خاندانوں پر حملہ کیا، گاڑیوں اور گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں کم از کم چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فسادات کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی ہیں، لیکن پولیس فورس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فی الحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ ہوگیا، جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں میگزین کی ایک رپورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیا۔ حکومت اور لوک سبھا اسپیکر نے اسے پارلیامانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’اس میں ایسا کیا ہے جس سے آپ لوگ اتنا ڈررہے ہیں؟‘
حال ہی میں اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک مسلمان دکاندار کو دکان کا نام تبدیل کرنے کے لیے ہندوتوا کے حامیوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے خلاف دیپک کمار نامی شخص نے احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد دائیں بازو کے لوگ بڑی تعداد میں دیپک کے جم پراحتجاج کرنے پہنچے تھے۔ اب پولیس نے دیپک کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے ‘میاں مسلم’ یعنی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے خلاف دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ اس کے جواب میں شرما نے مندر کے خلاف سو مقدمہ درج کرانے کی بات کہی ہے۔ اس پرمندر نے کہا کہ ان دھمکیوں سے ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ پوری طاقت سے کام کرتے رہیں گے۔
بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس پر سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ دریں اثنا، الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے کہا کہ شرما کے بیان شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہیں اور ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ ‘غیر قانونی غیر ملکیوں کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے الیکشن کمیشن میں 5 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کروائی ہیں، ورنہ یہ سب ‘سودیشی’ (شہری) بن جاتے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ میاں کمیونٹی کے لیے پریشانیاں پیدا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں۔