Amit Shah

امریکی کمیشن نے لگاتار تیسرے سال ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والے ممالک‘ میں شامل کرنے کی سفارش کی

یو ایس سی آئی آر ایف نے لگاتار تیسرے سال امریکی محکمہ خارجہ سے سفارش کی ہے کہ وہ ‘خصوصی تشویش والے ملک’ کے طور پر ہندوستان کی درجہ بندی کرے۔ رپورٹ کے مطابق، جن 15 ممالک کو اس زمرے میں رکھنے کا کہا گیا ہے، ان کی حکومتوں میں سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور انہوں نے عدم برداشت کا موقف اختیار کیا ہوا ہے۔

وزیر اعظم بھلے ہی نہرو اور کانگریس کو برا بھلا کہہ لیں، پر اپنا فرض تو نبھائیں: راہل گاندھی

منگل کو راجیہ سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس اور نہرو-گاندھی خاندان کو نشانہ بنایا تھا اور ملک کے پہلے وزیر اعظم نہرو کے بارے میں کہا تھا کہ وہ اپنی بین الاقوامی شبیہ کی فکرکرتے تھے، اس لیے گوا کی جدوجہد آزادی میں ستیہ گرہ کرنے والوں کی حمایت نہیں کی۔

ملک کو ’شہنشاہ‘ کی طرح چلانے کی کوشش ہو رہی ہے: راہل گاندھی

پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں صدرجمہوریہ کے خطاب پر لوک سبھا میں شکریے کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے راہل گاندھی نے مودی حکومت کو سخت نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر بڑے خطرات کا سامنا ہے۔

مقتدرہ جماعت نہ صرف ہیٹ اسپیچ پر خاموش ہیں، بلکہ اس کو بڑھاوا بھی دے رہے ہیں: جسٹس نریمن

سپریم کورٹ کے سابق جج روہنٹن نریمن نے لاء کالج کے ایک پروگرام میں کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سب سے اہم انسانی حق ہے، لیکن بدقسمتی سے آج کل اس ملک میں نوجوان، طالبعلم، کامیڈین جیسےکئی لوگوں کی جانب سےحکومت کی تنقیدکیے جانے پر نوآبادیاتی سیڈیشن قانون کے تحت معاملہ درج کیا جا رہا ہے۔

پی ایم مودی کو ’جان کا خطرہ‘، اس سے بڑا کوئی جھوٹ نہیں ہو سکتا: نوجوت سنگھ سدھو

ویڈیو: پنجاب میں اسمبلی انتخاب کےقریب آتے ہی کانگریس کے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس کے پرانے ‘پنجاب ماڈل’اروند کیجریوال اور وزیر اعظم مودی کی ریلی سمیت مختلف موضوعات پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی سے بات چیت کی۔

سی-پلین کی سواری سے برلن اسٹیشن تک نریندر مودی نے کئی بار حفاظتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے

پنجاب میں مبینہ سکیورٹی کوتاہی کی ضرور جانچ ہونی چاہیے،لیکن یہ وزیراعظم کے حفاظتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایس پی جی کے سابق عہدیداروں کا کہنا ہےکہ حتمی فیصلہ صرف نریندر مودی ہی لیتے ہیں اور اکثر طے شدہ امورکو انگوٹھا دکھاتےدیتے ہیں۔

وزیر اعظم کی کوئی بھی مخالفت ان کی سلامتی کے لیے خطرہ کیوں ہے

وزیر اعظم کی خوبی یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامناکرتے ہیں تو کسی نہ کسی طرح ان کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ جب سے وہ وزیر اعلیٰ ہوئےتب سے اب تک کچھ وقت کے بعد ان کے قتل کی سازش کی کہانی کہی جانے لگتی ہے۔ لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، لیکن کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ پھر ایک دن ایک نئے خطرے کی کہانی سامنے آجاتی ہے۔

کیا وزیر اعظم کی سکیورٹی میں ہوئی کوتاہی کو انتخابی ’ایونٹ‘ میں تبدیل کیا جا رہا ہے؟

جس طرح سے وزیر اعظم خود اور ان کی پارٹی سکیورٹی میں کوتاہی کو اسی لمحے سےسنسنی خیز بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے صاف ہے کہ وہ اس واقعہ کی سنگینی کے بارے میں کم اور ممکنہ انتخابی فائدے کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہیں۔

جھارکھنڈ: ایک مسلمان کو مبینہ طور پر تھوک چاٹنے اور ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے مجبور کیا گیا

پنجاب میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سکیورٹی میں کوتاہی کےخلاف دھنباد میں احتجاج کر رہےبی جے پی کے کارکنوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم اور بی جے پی کے جھارکھنڈ ریاستی صدر کو نا زیبا کلمات کہنےکے الزام میں ذہنی طور پر معذور ایک مسلمان کی پٹائی کی تھی۔ وزیراعلیٰ نے اس معاملے میں قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔

رویش کمار کا بلاگ: پی ایم کی سکیورٹی میں چوک کہیں کوریج کی بھوک مٹانے کی منصوبہ بندی تو نہیں

وزیراعظم کی سکیورٹی میں کوتاہی ہوئی ہے۔اس سوال پر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں ہےکہ جلسے میں کتنے لوگ آئے، کتنے نہیں آئے۔ سکیورٹی انتظامات میں پنجاب حکومت کا رول ہوسکتا ہے لیکن یہ ایس پی جی کے ماتحت ہے۔ وزیر اعظم کہاں جائیں گے اور ان کے قریب کون بیٹھے گا یہ سب ایس پی جی طے کرتی ہے۔ اس لیےسب سے پہلے کارروائی مرکزی حکومت کی طرف سے ہونی چاہیے۔

رائے دہندگان کو متوجہ کرنے کی دوڑ میں سیاسی جماعتوں کے بیچ کوئی خاص نظریاتی فرق نہیں ہے

موجودہ ہندوستانی سیاست میں ہر پارٹی اپنا کامیاب فارمولہ ایجاد کرنے کی کوشش میں دوسری پارٹی سے کچھ نہ کچھ مستعار لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ آج ہندوستانی جمہوریت کم ہوتےسیاسی متبادل اور ان متبادل کی عدم موجودگی میں اپنے آپ کو ہی متبادل خیال کرنے والوں سے بھری پڑی ہے ۔

رام مندر کی تحریک آزادی کی جدوجہد سے بڑی تھی: وشو ہندو پریشد

وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ ملک کو سیاسی آزادی1947میں ملی لیکن مذہبی اور ثقافتی آزادی رام مندر کی تحریک کے ذریعے حاصل ہوئی۔ جین نے یہ بھی کہا کہ چندے کی مہم نے پورے ملک کو ساتھ لاکر بتایا کہ صرف رام ہی ملک کو متحد کر سکتے ہیں۔ سیکولر سیاست نے صرف ملک کو تقسیم ہی کیا ہے۔

ناگالینڈ تشدد: کیا ہے پورا معاملہ

ویڈیو: گزشتہ چار دسمبر کو ناگالینڈ کے مون ضلع میں سیکورٹی فورسزکی مبینہ گولی باری میں14عام شہریوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد مختلف طلبہ تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں نے فوج کو خصوصی اختیارات دینے والےاے ایف ایس پی اے ہٹانے کی مانگ کی ہے۔

گجرات: امت شاہ کے لوک سبھاحلقہ میں بی جے پی ’آرٹیکل 370‘ کے نام پر اسپورٹس ٹورنامنٹ کرائے گی

گجرات میں امت شاہ کی نمائندگی والے لوک سبھاحلقہ گاندھی نگر میں بی جے پی‘گاندھی نگر لوک سبھا پریمیئر لیگ370’یا‘جی ایل پی ایل 370’کے نام سے کرکٹ اور کبڈی ٹورنامنٹ کرانے جا رہی ہے۔ اس کا مقصد زیادہ سےزیادہ نوجوانوں کو پارٹی کی طرف متوجہ کرنا ہے۔

انسانی حقوق کی پامالیوں کے بیچ کمیشن کے چیئرمین کا سرکار کی تعریف کرنا، چہ معنی دارد

جس نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو شہریوں کےانسانی حقوق کےتحفظ کے ساتھ خلاف ورزیوں پرنظر رکھنے کے لیےبنایا گیا تھا، وہ اپنے یوم تاسیس پر بھی ان کی خلاف ورزیوں کےخلاف آواز اٹھانے والوں پر برسنے سے گریز نہ کر پائےتو اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ اب مویشیوں کے بجائے انہیں روکنے کے لیے لگائی گئی باڑ ہی کھیت کھانے لگی ہے؟

لوگ آزادی سے سانس لے سکیں، اس لیے یو اے پی اے اور سیڈیشن قانون کو رد کرنا چاہیے: جسٹس نریمن

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن نریمن نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ان جابرانہ قوانین کی وجہ سےبولنے کی آزادی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔اگرآپ ان قوانین کے تحت صحافیوں سمیت تمام لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں، تو لوگ اپنے دل کی بات نہیں کہہ پائیں گے۔

یوپی: اسمبلی انتخاب سے پہلے کیا سوچتی ہے صوبے کی عوام

اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب میں ابھی تقریباً پانچ مہینے باقی ہیں،لیکن سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ کابینہ میں تبدیلی سے لےکرسیاسی پارٹیوں کے گٹھ جوڑ تک دیکھنے کو مل رہے ہیں۔لیکن صوبے کی عوام کیا بدلاؤ چاہتی ہے یا موجودہ نظام میں ان کا بھروسہ بنا ہوا ہے؟

کشمیر اور خطے کی جیو اکانومکس کا خواب

جہاں مغربی اور عرب ممالک ان دنوں ہندوستان کی ناراضگی کے پیش نظر حکومتی سطح پر کشمیر سے دامن بچا کر ہی چلتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی بیان جاری کرکے خاموش ہو جاتے ہیں، وسط ایشائی ممالک کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے خاصے فکرمند دکھائی دے رہے تھے۔

قومی سطح پر این آر سی نافذ کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں: سرکار

مرکزی وزیرمملکت برائےداخلہ نتیانند رائےنے لوک سبھا میں بتایا کہ ابھی تک سرکار نے قومی سطح پر ہندوستانی شہریوں کا قومی رجسٹر تیارکرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ حالانکہ مردم شماری 2021 کے پہلے مرحلے کے ساتھ شہریت ایکٹ 1955 کے تحت این پی آر کو اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ ضرور لیا ہے۔

جموں وکشمیر: 2019 سے یو اے پی اے کے تحت 2300 سے زیادہ لوگوں پر کیس، لگ بھگ آدھے ابھی بھی جیل میں

اس بیچ مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ 2019 میں یو اے پی اے کے تحت 1948 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور 34 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 31 دسمبر 2019 تک ملک کی مختلف جیلوں میں478600قیدی بند تھے،جن میں144125 قصوروار ٹھہرائے گئے تھے جبکہ 330487 زیر سماعت و 19913 خواتین تھیں۔

کشمیر: آئینی سرجیکل اسٹرائیک کے دو سال

دو سال قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کی جائیں گی۔تاہم دوسال بعد صورتحال یہ ہے جموں وکشمیر میں بےروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک طرف ترقی و خوشحالی کی باتیں ہورہی ہیں تو دوسری جانب عملی طور یہاں روزگار کے مواقع محدود کیے جارہے ہیں۔

اتراکھنڈ: آگے سی ایم، پیچھے سی ایم، بولو کتنے سی ایم

اتراکھنڈ کی بنیاد رکھنے والی بی جے پی کے ماتھے پر سب سے بڑا داغ یہ لگا ہے کہ بھاری اکثریت سے سرکار چلانے کے باوجود اس نے دس سال کے اقتدار میں صوبے پر سات وزیر اعلیٰ تھوپ ڈالے ۔ پارٹی کی ناکامی یہ بھی ہے کہ اب تک اس کا کوئی بھی وزیر اعلیٰ اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔

وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت کا استعفیٰ، اتراکھنڈ میں چار مہینے میں تیسرا سی ایم چنا جائے گا

پوڑی سے لوک سبھا ایم پی تیرتھ سنگھ راوت کو بی جے پی کی مرکزی قیادت کی جانب سے ترویندر سنگھ راوت کی جگہ پر وزیر اعلیٰ چنا گیا تھا۔ اتراکھنڈ بی جے پی میں عدم اطمینان کی وجہ سے ترویندر سنگھ راوت نے گزشتہ نو مارچ کو استعفیٰ دے دیا تھا۔

امت شاہ نے پولیس کے نوجوان افسروں سے کہا-پبلسٹی اور سوشل میڈیا سے دور رہیں

وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پولیس کو غریب، دلت اور آدی واسیوں کے لیےحساس ہونا چاہیے۔ پولیس کی امیج کو بہتر بنانے کے لیے‘سنواد اور سنویدنا’ دونوں ضروری ہے۔ عوامی تعلقات کے بغیر جرم کے بارے میں معلومات جمع کرنا مشکل ہے، اس لیے ایس پی، ڈی ایس پی کی سطح کے پولیس افسروں کو تحصیل اور گاؤں میں جانا چاہیے اور لوگوں سے ملنا چاہیے۔

کیا جموں و کشمیر کا نام بدل کر جموں پردیش رکھا جائے گا؟

کئی افواہوں کے درمیان جس افواہ نے واقعی خوف و ہراس پھیلایا ہے وہ یہ ہے کہ وادی کشمیر کے کل رقبہ 15520مربع کلومیٹر میں سے 8600مربع کلومیٹر پر جموں اور دہلی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں کو بسا کر ایک علیحدہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ تشکیل دیے جانے کی تجویز ہے۔ اس کا نام پنن کشمیرہوگا۔

کیا اتر پردیش بی جے پی میں ہو رہی اٹھاپٹک کسی تبدیلی کا اشارہ ہے

اسمبلی انتخابات سے کچھ مہینے پہلے اتر پردیش بی جے پی میں‘سیاسی عدم استحکام’کا انفیکشن شروع ہو گیا، جس کے مرکزمیں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے رہنماؤں کے غوروخوض کے بیچ سوال اٹھتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ انہیں یوپی کا میدان فتح کرنااتنا آسان نہیں دکھ رہا، جتنا سمجھا جا رہا تھا۔

کشمیر کی زمینی صورت حال پر ایک تازہ رپورٹ

جن دنوں یہ گروپ کشمیر کے دورہ پر تھا، حکومت نے بتایا کہ حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق ہاؤس اریسٹ نہیں ہیں اور کہیں بھی آ جا سکتے ہیں۔ اگلے روز یہ گروپ ان کی رہائش گا ہ پر پہنچا۔ مگر سیکورٹی اہلکاروں نے ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے دی۔

مغربی بنگال: بی جے پی کے تمام 77 ایم ایل اے کو سیکیورٹی ملی، وزارت داخلہ  نے دی منظوری

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے حکم کے مطابق 77 میں سے 61ایم ایل اے کو کم از کم‘ایکس’زمرے کی سیکیورٹی دی جائیگی اور سی آئی ایس ایف کے کمانڈو تعینات کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ باقی کو یا تو سینٹرل سیکیورٹی حاصل ہے یا انہیں‘وائی’زمرے کی سب سے اعلیٰ سیکیورٹی مہیا کرائی جائےگی۔

بنگال: بی جے پی نے صحافی کی تصویر کو تشدد میں ہلاک پارٹی کارکن بتایا، اعتراض  کے بعد دی صفائی

بی جے پی نے انڈیا ٹو ڈے کے صحافی ابھرو بنرجی کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا وہ مغربی بنگال کے سیتل کچی میں مارے گئے ان کے پارٹی کارکن مانک موئترا ہیں۔ بعد میں بی جے پی نے اپنی صفائی میں کہا کہ صحافی کی تصویرغلطی سے ویڈیو میں شامل ہو گئی۔

بنگال کاتشددفرقہ وارانہ نہیں، لیکن تشدد ہے

ویڈیو: بی جے پی رہنماؤں اور ان کے سیلبرٹی حامیوں کے ذریعےمغربی بنگال میں انتخاب کے بعد کےتشدد کو ‘فرقہ وارانہ’ تشددکے طور پرپیش کرنےکی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد بقیہ ہندوستان کے ہندوؤں کو ڈرانا اور فرقہ وارانہ بنانا ہے۔ دی وائر کےبانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔

بنگال کے انتخابی نتائج  نے بی جے پی کو ’ون نیشن، ون کلچر‘ کی حد بتا دی ہے

کئی سالوں سے مودی شاہ کی جوڑی نے انتخاب جیتنے کی مشین ہونے کی جو امیج بنائی تھی، وہ کئی شکست کی وجہ سے کمزور پڑ رہی تھی، مگر اس بار کی چوٹ بھرنے لائق نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے صوبے میں لڑکھڑا کر گرے ہیں، جو کسی ہندی بولنے والےکی زبان سے یہ سننا پسند نہیں کرتا کہ وہ ان کے صوبے کو کیسے بدلنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

بنگال اسمبلی انتخاب: ٹی ایم سی کی انتخابی مہم عوام کی توقعا ت کے بالکل خلاف ہے

دس سالوں سے مغربی بنگال کے اقتدار پر قابض ترنمول کانگریس کی انتخابی مہم صوبے کے سب سے اہم مدعوں سے بے خبر ہے۔ اس کے بجائے پارٹی کی کوشش بی جے پی کی ہی طرح بٹوارے کی سیاست کرنا نظر آتی ہے۔

بنگال میں سی اے اے نافذ کیا جائے گا، این آر سی لانے کا کوئی منصوبہ نہیں: کیلاش وجے ورگیہ

مغربی بنگال میں چل رہے اسمبلی انتخاب کے بیچ بی جے پی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجےورگیہ نے ٹی ایم سی کے اس دعوے کو خارج کیا کہ اگر بی جے پی بنگال میں اقتدار میں آئی تو این آر سی نافذ کرےگی۔ انہوں نے زور دےکر کہا کہ این آر سی لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، پر سی اے اے ضرورنافذ ہوگا۔

بنگال: پرولیا میں ٹی ایم سی سے ناراض مقامی لوگ بنے بی جے پی کی ’پوری بورتن‘ کی امید

پرولیا کےمختلف حلقوں میں عدم اطمینان کی لہر کے باوجود ممتا بنرجی کی مقبولیت بنی ہوئی ہیں، لیکن ٹی ایم سی کی مقامی قیادت کے خلاف ناراضگی کا پارٹی کو شدید نقصان اٹھاناپڑ سکتا ہے۔

ظلم جتنا بڑھےگا، احتجاج  اتنا ہی شدید ہوگا: بنگال میں لیفٹ کا نیا چہرہ دیپ ستا دھر

ویڈیو:مغربی بنگال کے ہاوڑہ کی بالی سیٹ سے جواہر لال نہرویونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر دیپ ستا دھر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ دیپ ستا سے اس انتخاب سے متعلق تمام مدعوں پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے بات چیت کی۔