دی کراس کرنٹ کے رپورٹر اور گوہاٹی پریس کلب کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری دلور حسین مجمدار کو 27 مارچ کی شام کو گوہاٹی پولیس نے ایک پرانے کیس میں ضمانت ملنے کے فوراً بعد دوبارہ گرفتار کر لیا۔ دریں اثنا، وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ حکومت حسین کو صحافی نہیں مانتی۔
آسام کوآپریٹو اپیکس بینک میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف احتجاج کی کوریج کرنے کے بعد صحافی دلور حسین مجمدار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مذکورہ بینک کے ڈائریکٹر چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما ہیں اور چیئرمین بی جے پی ایم ایل اے بسواجیت پھوکن ہیں۔
اردوان نے اپنے سیاسی حریف اور استنبول کے میئر اکرم امام اولو کو گرفتار کر کے اندرونِ ملک اپنی مقبولیت کو ایک نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ بظاہر یہ قدم ان کے اقتدار کے لیے فوری خطرہ نہیں، مگر عام ترک شہری کے لیے یہ ‘حد سے تجاوز’ کا اشارہ بن چکا ہے۔ ان کی گرفتاری نے گزشتہ دس برسوں میں حکومت مخالف سب سے بڑے مظاہروں کو جنم دیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک امام اولو کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تقریباً ایک ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے طلباء نے 17 فروری کو معطل طالبعلموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یونیورسٹی میں کلاس کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم، انتظامیہ معطل طلباء کی حمایت میں کسی بھی طرح کی مزاحمت اور آواز کو دبانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کا ‘قصور’ اتنا ہی تھا کہ وہ 15 دسمبر کو یونیورسٹی میں ایک پروگرام منعقد کر کے اس دن کو یومِ مزاحمتِ کے طور پر منانا چاہتے تھے۔ یہ وہی دن ہے جب 2019 میں جامعہ کے طلبہ سی اے اے اور این آر سی جیسے غیر جمہوری قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے اور اس وقت کی انتظامیہ نے طلبہ کے جمہوری حقوق کا تحفظ کرنے کے بجائے پولیس کو کیمپس میں بلا کر مظاہرین پر لاٹھیاں برسوائی تھیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی آئین کے آگے ماتھا ٹیکتے ہیں اور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویر کے سامنے ادب سے سر کو خم کرتے ہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ دلت ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان کا شو آف ہے۔
ویڈیو: بدھ کو پارلیامنٹ میں زبردست ہنگامہ آرائی کے درمیان بابا صاحب امبیڈکر کا نام سرخیوں میں رہا۔ جہاں اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ریمارکس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا، وہیں ان کے دفاع میں خود پی ایم مودی مورچہ سنبھالتے نظر آئے۔
گزشتہ 17 دسمبر کو راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اب ایک فیشن ہوگیا ہے – امبیڈکر، امبیڈکر، امبیڈکر، امبیڈکر، امبیڈکر، امبیڈکر۔ اتنا نام اگر بھگوان کا لیتے تو سات جنموں کے لیے جنت مل جاتی۔’
منگل کو مراد آباد کی ٹی ڈی آئی سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اس وقت احتجاج شروع ہوگیا، جب کالونی میں ایک مکان اس کے ہندو مالک نے ایک مسلمان ڈاکٹر کو بیچ دیا۔ رہائشیوں نے رجسٹری رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے آبادیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔
سال 2022 میں بی جے پی لیڈر نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے کے خلاف الہ آباد میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں یوپی پولیس نے مقامی کارکن جاوید محمد کو حراست میں لیا تھا اور انہیں ‘ماسٹر مائنڈ’ قرار دینے کے بعد ان کا گھر گرا دیا تھا۔ ان کی کہانی، ان کی زبانی۔
چھتیس گڑھ میں کوئلے کی کانوں کے خلاف آدی واسیوں کی مزاحمت کو روکنے کے لیے اڈانی گروپ نے ان کے ہی علاقے کے لوگوں کو کوآرڈینیٹر بنا دیا ہے۔ وہ گاؤں والوں کے سامنے کمپنی کی بات رکھتے ہیں، گاؤں والوں کو بغیر احتجاج کے معاوضہ قبول کرنے اور مظاہرہ سے دور رہنے کے لیے راضی کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے قبائلی سماج کو تقسیم کر دیا ہے۔
اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ ضلع کے بیریناگ علاقے میں دائیں بازو کے ایک گروپ نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ایک احتجاجی ریلی نکال کر مطالبہ کیا کہ علاقے میں گھر کے اندر غیر قانونی طور پر بنائی گئی مسجد کو ہٹایا جانا چاہیے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے اس عمارت کے مالک سے وضاحت طلب کی ہے۔
سال 2020 کے دہلی فسادات کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں پانچ نوجوان زخمی حالت میں زمین پر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کم از کم سات پولیس اہلکار ان نوجوانوں کو گھیرکر قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے کے علاوہ انہیں لاٹھیوں سے مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان فیضان کی موت ہو گئی تھی۔
سال 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق کیس میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکالر شرجیل امام اور دیگر کی درخواست ضمانت پر شنوائی کر رہی دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس پرتبھا سنگھ اور جسٹس امت شرما کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ معاملے کو ایسی بنچ کے سامنے درج کیا جائے جس کے ممبرجسٹس شرما نہ ہوں۔
آئی آئی ٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے شرجیل امام جنوری 2020 سے جیل میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ سے سیڈیشن کے ایک معاملےمیں ضمانت ملنے کے باوجود وہ جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ ان پر دہلی فسادات سے متعلق ایک کیس میں یو اے پی اے کے تحت الزام لگائے گئے ہیں۔
اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام منعقد ریویو آفیسر (آر او) اور اسسٹنٹ ریویو آفیسر (اے آر او) کے امتحانات میں 10 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی تھی، جسے اب رد کردیا گیا ہے۔ وہیں، حال ہی میں 12 ویں بورڈ کے امتحان کے دو مضامین کے پرچے امتحان کے دوران وہاٹس ایپ گروپ میں شیئر کیے گئے تھے۔
آئی آئی ٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے شرجیل امام جنوری 2020 سے جیل میں ہیں۔ ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ شرجیل کو سول سوسائٹی گروپس اور سرکردہ سیاسی کارکنوں کی حمایت نہیں ملی ہے۔
پارلیامنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بیان دینے کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے 14 دسمبر سے اب تک معطل کیے گئے حزب اختلاف کے ممبران پارلیامنٹ کی کل تعداد 141 ہو گئی ہے۔ ایوان زیریں میں اپوزیشن جماعتوں کے صرف 47 ارکان رہ گئے ہیں۔
پندرہ دسمبر 2019 کو دہلی پولیس نے سی اے اے مخالف مظاہرے میں پتھراؤ کا حوالہ دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس اور لائبریری میں گھس کر طالبعلموں کی پٹائی کی تھی۔ اس تشدد کے چار سال ہونے پر جامعہ کے طالبعلموں نے ‘یوم مزاحمت’ مناتے ہوئے کیمپس میں مارچ نکالا۔
سیڈیشن کا معاملہ رد کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ بچوں کو حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کرنا نہ سکھائیں۔ معاملہ کرناٹک کے بیدر میں واقع شاہین اسکول سے متعلق ہے۔ سال 2020 میں یہاں طالبعلموں کی طرف سےسی اے اے اور این آر سی کے خلاف ڈرامہ اسٹیج کرنے پر تنازعہ ہوگیا تھا۔
ویڈیو: دہلی کی ایکسائز پالیسی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کر رہی سی بی آئی نے آٹھ گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد اتوار کو نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے خلاف سوموار کو عام آدمی پارٹی کے کارکنوں نے دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
گزشتہ 4 فروری کو ساکیت ڈسٹرکورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ارول ورما نے جامعہ تشدد کیس میں شرجیل امام، آصف اقبال تنہا ، صفورہ زرگر اور آٹھ دیگر کو بری کر دیا تھا۔ جج ورما نے پایا تھا کہ پولیس نے ‘حقیقی مجرموں’ کو نہیں پکڑااور ان ملزمین کو ‘قربانی کا بکرا’ بنانے میں کامیاب رہی۔
سال 2019 کے جامعہ تشدد کے سلسلے میں درج ایک معاملے میں شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا سمیت 11 لوگوں کو بری کرنے والے کورٹ کے فیصلےمیں کہا گیا ہے کہ معاملے میں پولیس کی طرف سے تین ضمنی چارج شیٹ دائرکرنا انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ اس نے ضمنی چارج شیٹ داخل کرکے ‘تفتیش’ کی آڑ میں پرانے حقائق کو ہی پیش کرنے کی کوشش کی۔
جامعہ نگر علاقے میں دسمبر 2019 میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں درج ایک معاملے میں شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا سمیت11 افراد کو الزام سے بری کرتے ہوئے دہلی کی عدالت نے کہا کہ چونکہ پولیس حقیقی مجرموں کو پکڑنے میں ناکام رہی، اس لیے اس نے ان ملزمین کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔
چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کے گورا گاؤں میں یکم جنوری کو مبینہ تبدیلی مذہب کو لے کر عیسائی خاندانوں پر ہوئے حملے میں ایک پولیس افسر سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اگلے دن 2 جنوری کو نارائن پور میں تبدیلی مذہب کے خلاف ایک میٹنگ ہوئی تھی، جس کے بعد ہجوم نے شہر کے ایک اسکول میں واقع چرچ میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس سے پہلے اس معاملے میں بی جے پی لیڈروں سمیت کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
بستر ڈویژن کے نارائن پور ضلع میں کلکٹریٹ کے باہرسینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کلکٹر کو دیے گئے میمورنڈم میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ آر ایس ایس اور دیگر ہندوتوا تنظیموں کے اکساوے پر عیسائیوں کے خلاف تشددکیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کی جائے۔
دسمبر 2019 کو شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔
واقعہ اتر پردیش کے شاہجہاں پور کی ایک مسجد کا ہے۔ 2 نومبر کی شام جب امام مسجد پہنچے تو انہوں نے قرآن کو جلایا ہوا پایا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مسلم کمیونٹی کے سینکڑوں لوگ مسجد کے باہر جمع ہوگئے اور احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا۔
دہلی کی ایک عدالت نے جے این یو کے سابق طالبعلم شرجیل امام کو سیڈیشن کے معاملے میں ضمانت دی ہے، جس میں ان پر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنی تقریر کے ذریعےدنگا بھڑکانے کا الزام تھا۔ تاہم دہلی فسادات سے متعلق مقدمات کی وجہ سے انہیں فی الحال جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔
انصاف کا اصول ہے کہ ،سو مجرم بھلے ہی چھوٹ جائیں، لیکن ایک بھی بے قصور نہ پکڑا جائے، لیکن الہ آباد کے اٹالہ میں پتھر بازی کے بعد بڑے پیمانے پر کی گئی گرفتاریوں میں انصاف کے اس اصول کو الٹ دیا گیا ہے۔
پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے کے خلاف 10 جون کو الہ آباد میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے رہنما اور سی اے اے مخالف مظاہروں میں شامل رہے جاوید محمد کو اتر پردیش پولیس نےگرفتار کیا تھا۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ جب پولیس ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہی تو اس نے این ایس اے لگا دیا۔
بی جے پی لیڈروں کی جانب سے پیغمبر اسلام پر تبصرہ کرنے کے بعد منعقد مظاہرے کے دوران سہارنپور میں پیش آنے والے تشدد کے واقعات میں ملزم بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کو گھر توڑے جانے سے متعلق نوٹس مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹس کا 10 جون یعنی تشدد کے دن ہی جاری ہونا ان پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
ویڈیو: اگنی پتھ سے لے کر سی اے اے، زرعی قانون اور نوٹ بندی کی وجہ سے ملک میں احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں مودی کی حکومت کے بارے میں دی وائر کے بانی ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔
سابق نوکر شاہوں کے کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ نے ملک کے چیف جسٹس کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ مسئلہ اب صرف مقامی سطح پر پولیس اور انتظامیہ کی ‘زیادتیوں’ کا نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی ہے، قانونی کارروائی اور’قصوروار ثابت نہ ہونے تک بے قصور ماننے’کے نظریہ کو بدلا جا رہا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند ارشد مدنی گروپ نے کہا کہ مظاہرہ کرنا ہر ہندوستانی شہری کا جمہوری حق ہے،لیکن موجودہ حکمرانوں کے پاس اس کے لیےدو پیرامیٹرز ہیں۔ مسلم اقلیت احتجاج کرے تو ناقابل معافی جرم، لیکن اگر اکثریتی طبقہ سڑکوں پر آکر پرتشدد کارروائیاں کرے تو انہیں منتشر کرنے کے لیے ایک ہلکا لاٹھی چارج بھی نہیں کیا جاتا۔
پہلے مسلمانوں کو سزا دینے کے لیے قتل عام کیا جاتا تھا، بھیڑ ان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالتی تھی، ان کو نشانہ بناکر قتل کیا جاتا تھا، وہ حراستوں اورفرضی انکاؤنٹر میں مارے جاتے تھے یا جھوٹے الزامات میں قید کیے جاتے تھے۔ اب ان کی جائیدادوں کو بلڈوز سے منہدم کردینا اس فہرست میں شامل ایک نیا ہتھیار ہے۔
نوکریوں کے سلسلے میں نوجوانوں کا کوئی بھی مظاہرہ صرف ان کی اپنی نوکریوں کے لیے ہے۔ اس لیے نوکری اور نوجوانوں کا مبینہ غصہ سیاسی ایشو ہوتے ہوئے بھی ووٹ کا ایشو نہیں۔ جس لڑائی کو آپ لڑنے چلے ہیں، اس کو آپ بہت پہلے روند چکے ہیں۔ آپ نےدوسروں کی ایسی بہت سی لڑائیاں ختم کی، میدان تک ختم کر دیے۔ اب جب کہ میدان دلدل میں بدل گیا ہے، تب اس میں لڑائی کے لیے اتر ے ہیں۔ آپ پھنستے چلے جائیں گے۔
دی وائر سے بات چیت میں الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے جسٹس گووند ماتھر نے کہا کہ جیسا اتر پردیش میں چل رہا ہے، ایسا ہی چلتا رہا تو قانون یا پولیس کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ من مانا ہے۔
اتر پردیش انتظامیہ نے جے این یو کی اسٹوڈنٹ آفرین فاطمہ کے والد اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے رہنما جاوید محمد کے الہ آباد واقع گھر کو بلڈوز چلا کرزمین دوزکر دیا تھا۔ پولیس نے یہ قدم جاوید کو 10 جون کو شہر میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کا ‘ماسٹر مائنڈ’ قرار دینے کے بعد اٹھایا تھا۔ مذکورہ مظاہرہ بی جے پی لیڈروں کے پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے کے بعد ہوا تھا۔
رواں سال جنوری میں دہلی کی ایک عدالت نے 2019 کے سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالبعلم شرجیل امام کے خلاف سیڈیشن کا الزام طےکیا تھا۔ اسی ماہ سپریم کورٹ نے سیڈیشن کے قانون پر غوروخوض ہونے تک اس سے متعلق تمام کارروائیوں پر روک لگانے کی ہدایت دی ہے۔