Religion

ایودھیا میں شرنگار ہاٹ سے ہنومان گڑھی کے راستے رام مندر کو جانے والا بھکتی پتھ۔ (تصویر: شروتی سونکر)

کیا یہ امرت کال ہے؟

ہندو معاشرہ یا یوں کہیں کہ پورا ہندوستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب کو اپنا جائزہ لینے اور اپنے بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ خواہ اقتدارمیں بیٹھے لوگ اسے امرت کال کہیں، لیکن یہ سنکرمن کال یعنی متعدی مرض کا زمانہ ہے۔ حماقت اور نفرت کا متعدی مرض، جہاں قدرومنزلت اور وقار کے ہر پیمانے کو مجروح / پامال کیا جا رہا ہے۔

ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر۔ (تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ)

کیا اس وقت رام مندر ہندوؤں کی مذہبیت کو ظاہر کر رہا ہے؟

ایودھیا کو ہندوستان کی ، یا کہیں کہ ہندوؤں کی مذہبی راجدھانی کے طور پر قائم کرنے کے لیے سرکار کی سرپرستی میں مہم چل رہی ہے۔ 22 جنوری 2024 کو لوگوں کے ذہنوں میں 26 جنوری یا 15 اگست سے بھی بڑا اور اہم دن بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

SV-Apoorvnand-Ji-Thumb

’ایودھیا کے ادھورے رام مندر میں دھرم نہیں، ادھرم کی سیاست کے لیے یگیہ ہو رہا ہے‘

ویڈیو: ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر کی ‘پران-پرتشٹھا’ تقریب کے حوالے سے ہو رہی سیاست اور اس مندر کے پس منظر پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند ۔

maxresdefault (2)

یہ تاجروں کی سرکار ہے، ووٹ کے لیے اس نے ملک کو ذات پات اور مذہب میں تقسیم کر دیا: راکیش ٹکیت

ویڈیو: کسان رہنما راکیش ٹکیت نے دی وائر کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران گزشتہ 10 سالوں کی زرعی پالیسیوں اور ہندوستانی کسانوں کی موجودہ صورتحال، چینی کی برآمدات پر پابندی اور کارپوریٹ کے نئے خطرات کے بارے میں بات چیت کی۔

Illustration: Pariplab Chakraborty.

منٹو نے کیوں کہا؛ہندوستان کو لیڈروں سے بچاؤ…

یہ لیڈر جلسوں میں سرمائے اور سرمایہ داروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں صرف ا س لئے کہ وہ خود سرمایہ اکٹھا کر سکیں۔ کیا یہ سرمایہ داروں سے بدترین نہیں؟ یہ چوروں کے چور ہیں، رہزنوں کے رہزن۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام ان پر اپنی بے اعتمادی ظاہر کر دیں۔

(فوٹو: دی وائر)

ملک میں مذہب کی بنیاد پر ہیٹ کرائم کے لیے کوئی جگہ نہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ ایک مسلمان شخص کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ جولائی 2021 میں مذہب کے نام پر ان پر حملہ کیا گیا، ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور یوپی پولیس نے ہیٹ کرائم کی شکایت تک درج نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ جب نفرت کے جذبے سے کیے جانے والے جرائم کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی تب ایسا ماحول بنے گا، جو خطرناک ہوگا۔

(علامتی تصویر، کریڈٹ: Lawmin.gov.in)

تبدیلی مذہب ایک سنگین مسئلہ، اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے: سپریم کورٹ

دھوکہ دہی سےہونے والے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیےمرکز اور ریاستوں کو کڑی کارروائی کرنے کی ہدایت دینے کی گزارش کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم پورے ملک کے لیے فکر مند ہیں۔ اگر یہ آپ کی ریاست میں ہو رہا ہے تو یہ برا ہے۔ اگر نہیں ہو رہا ہے تو اچھی بات ہے۔ اسے سیاسی ایشو نہ بنائیں۔

فوٹو: تنیکا گوڈبولے/ڈی ڈبلیو

دہلی کی یہودی برادری نے اپنی رسومات کیسے زندہ رکھی ہیں؟

ڈی ڈبلیو کے لیے تنیکا گوڈبولے کی رپورٹ: بھارتی دارالحکومت دہلی میں دس سے بھی کم خاندانوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی یہودی برادری اور ان کی ایک عبادت گاہ بھی ہے۔ ربی ایزاکیل آئزک اس برادری کو ایک ساتھ جمع کرنے اور یہودی روایات کو زندہ رکھنے کا کام کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ(فوٹو : رائٹرس)

مذہبی آزادی کے حق میں دوسروں کا مذہب تبدیل کرانے کا حق شامل نہیں ہے: مرکزی حکومت

سپریم کورٹ میں ایک عرضی کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ مذہب کی آزادی کا حق یقینی طور پر کسی شخص کو دھوکہ دہی، زبردستی یا لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کا حق نہیں دیتا۔ اس طرح کی روایات پر قابو پانے والے قوانین سماج کے کمزور طبقوں کے حقوق کے تحفظ کے لیےضروری ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/@MHA)

دہشت گردی کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہیے: امت شاہ

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی اعانت دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خطرے کو کسی مذہب، قومیت یا کسی گروہ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی منسلک کیا جانا چاہیے۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کیا ایک مذہب کے تہوار پر اپنا مذہبی چھاپ چھوڑنے کی عجلت پسندی کسی احساس کمتری کے باعث ہے

عید مبارک کے جواب میں اکشے ترتیہ یا پرشورام جینتی کی مبارکباد دینا کلینڈر پرست مذہبیت کی علامت ہے۔ ہم ہر جگہ اپنا تسلط چاہتے ہیں۔ آواز کی سرزمین پر، آواز کی لہروں پر بھی، دوسروں کی عبادت گاہوں پر اور سماج کے نفسی وجودپر بھی۔

ساکشی مہاراج/ فوٹو: ہی ٹی آئی

جہادیوں کی بھیڑ سے نمٹنے کے لیے گھر میں تیر اور کمان رکھیں: ساکشی مہاراج

بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ ساکشی مہاراج نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں ٹوپی لگائے ایک مخصوص مذہب کے نوجوانوں کے ہجوم کی تصویر لگاتے ہوئے لکھا ہے کہ، ایک دن یہ بھیڑ آپ کے گھر میں داخل ہوجائے گی، تب پولیس بچانے نہیں آئے گی۔ اس لیے خو دانتظام کر لیجیے۔

رقاصہ مانسیہ وی پی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/ کے آر کرشنن)

کیرالہ: مندر میں غیر ہندو بھرت ناٹیم ڈانسر کا ڈانس پروگرام رد کیا گیا

بھرت ناٹیم رقاصہ مانسیہ وی پی کو 21 اپریل کو ترشور کے کدلمانکیم مندر میں ایک تقریب میں پرفارم کرنا تھا، لیکن انہیں منظوری نہیں ملی، کیونکہ مندر کی روایت کے مطابق غیر ہندو احاطے میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی مانسیہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی مذہب کو نہیں مانتی۔

استاد بسم اللہ خاں (فوٹو :یوٹیوب)

استاد بسم اللہ خاں موسیقی کی دنیا کے سنت کبیر تھے، جن کے لیے مندر مسجد اور ہندو مسلمان کا فرق مٹ گیا تھا

یوم پیدائش پر خاص:استاد بسم اللہ خاں ایسے بنارسی تھے جو گنگا میں وضو کر کے نماز پڑھتے تھے اور سرسوتی کو یاد کر کے شہنائی کی تان چھیڑتے تھے ۔اسلام کے ایسے پیروکار تھے جو اپنے مذہب میں موسیقی کے حرام ہونے کے سوال پر ہنس کر کہتے تھے ،کیا ہو اسلا م میں موسیقی کی ممانعت ہے ،قرآن کی شروعات تو’ بسم اللہ‘ سے ہی ہوتی ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: indiarailinfo)

گڑگاؤں: مذہب کو نشانہ بناتے ہوئے دو مسلمانوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی: پولیس

پولیس نے بتایا کہ گڑگاؤں کے سیکٹر-45 میں رماڈا ہوٹل کےقریب بہار کے رہنے والے عبدالرحمٰن اور ان کے دوست محمد اعظم سے دو افراد نے مبینہ طور پر موبائل فون چھیننے کے بعد مار پیٹ کی اور ان کے مذہب کی توہین کی ۔ حملہ آوروں نے انہیں خنزیر کا گوشت کھلانے کی بات بھی کہی اور کوئی سفید پاؤڈر کھانے کو مجبور کیا۔

تیجسوی سوریہ:(فوٹوبہ شکریہ: یوٹیوب اسکرین گریب)

کرناٹک: تیجسوی سوریہ نے کہا-ہندو مذہب چھوڑ کر گئے لوگوں کو واپس لانے کا سالانہ ہدف بنائیں

بی جے پی رکن پارلیامنٹ تیجسوی سوریہ نے اُڈپی میں ایک پروگرام کے دوران کہا کہ ہندو مذہب چھوڑ کر گئے لوگوں کی واپس اسی مذہب میں’ٹیپو جینتی’پر ہونی چاہیے اور یہ’گھر واپسی’ہندوؤں کی ذمہ داری ہے۔سوریہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے مسلمانوں کو ہندو مذہب اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان متحدہ ہندوستان کےنظریےمیں شامل ہے۔

وائرل ویڈیو کا اسکرین شاٹ۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

اتر پردیش:مبینہ طور پر ’اسلام قبول کروانے‘ والے ویڈیو کے سلسلے میں درج کیس میں دونوں لڑکے نابالغ ہندو نکلے

اتر پردیش کےعلی گڑھ ضلع کا معاملہ۔اہل خانہ نے ایف آئی آر پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لڑکے12ویں میں پڑھتے ہیں اور وہ اپنے دوستوں کے بیچ محض ‘بات چیت’ کر رہے تھے۔ اس کو لےکر بےوجہ کسی نے شکایت درج کرائی ہے۔شکایت درج کرانے والے بی جے پی رہنما نے کہا کہ ویڈیوکی وجہ سے لوگوں میں غصہ ہے اور اس کی وجہ سےمذہبی منافرت پھیل سکتی ہے۔

مولانا کلیم صدیقی۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@KhanAmanatullah)

اتر پردیش: مبینہ تبدیلی مذہب کے معاملے میں گرفتار مولانا کلیم صدیقی کو 10دن کی حراست میں بھیجا گیا

مبینہ طور پر‘تبدیلی مذہب کا سب سے بڑاریکٹ’چلانے کےالزام میں یوپی اے ٹی ایس نے اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو گزشتہ 21ستمبر کو میرٹھ سے گرفتار کیا تھا۔ صدیقی کے وکیل نے کہا ہے کہ پولیس ثبوت کے طور پر ان کے یوٹیوب چینل کو پیش کر رہی ہے جو پہلے سے ہی عوامی ہے اور اس میں کچھ بھی مجرمانہ یاملک کے خلاف نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ صدررام ناتھ کووند (فوٹوبہ شکریہ:فیس بک/@PresidentOfIndia)

عزت مآب صدر جمہوریہ ہند، ’رام سب کے اور سب میں ہیں‘ انہیں سمجھائیے جو رام کے نام پر ہم وطنوں کا جینا محال کیے ہوئے ہیں

ایودھیا میں صدر رام ناتھ کووند کو اپنے خطاب میں نہ اودھ کی‘جو رب ہے وہی رام ہے’ کی گنگا جمنی تہذیب کی یاد آئی، نہ ہی اپنے آبائی شہر کانپور کےاس رکشےوالے کی، جسے گزشتہ دنوں بجرنگ دل کے کارکنوں نے مسلمان ہونے کی وجہ سے پیٹا اور جبراً ‘جئے شری رام’ بلوا کر اپنی ‘انا’ کی تسکین کا سامان کیا تھا۔

(علامتی  تصویر، فوٹو: رائٹرس)

کشمیر: سکھ خطرے میں ہے کا الارم بجاکر فرقہ وارانہ کھیل کیوں کھیلا گیا…

اکالی دل پچھلی کئی دہائیوں سے بی جےپی کا ایک دم چھلہ بن گئی تھی۔ جب اس کے گڑھ پنجاب میں مرکزی حکومت کےکسانوں کے تئیں رویہ کی وجہ سے اس کی سبکی ہو رہی تھی تو وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بی جے پی اور حکومت سے الگ تو ہوگئی مگر سکھوں کی اکثریت کی حمایت سے ابھی بھی وہ محروم ہے۔ اس لیے کشمیر میں سکھ خطرے میں ہے کاالارام بجا کر وہ اپنا سیاسی الو سیدھا کرنا چاہتی تھی، جس کو مقامی آبادی نے ناکام بنادیا۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

مہا راشٹر: بین مذہبی شادی کا کارڈ لیک ہونے کے بعد اس کو ’لو جہاد‘ کا معاملہ بتاتے ہوئے مخالفت کی گئی

معاملہ ناسک کا ہے، جہاں ایک ہندو خاتون کی مسلمان مرد سے شادی کا کارڈ وہاٹس ایپ پر لیک ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے ‘لو جہاد’ بتاتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ گھر والوں کی رضامندی سے شادی کی تقریب 18 جولائی کو ہونی تھی، لیکن اب اسے رد کر دیا گیا ہے۔

WhatsApp-Image-2021-07-10-at-2.03.09-PM-1200x600

کیا ہندوستان میں مذہبی رواداری اور نفرت ساتھ ساتھ ہیں؟

ویڈیو: حال ہی میں پیو ریسرچ سینٹر نے 2019 کے اواخر اور 2020 کی شروعات کے بیچ17زبانوں میں لگ بھگ 30000بالغان کےانٹرویوز پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ ‘ہندوستان میں مذہبی رواداری اور علیحدگی’کے عنوان سےاس مطالعے نےہندوستانی سماج میں مذہب کی حرکیات میں جامع بصیرت فراہم کی ہے۔ اس موضوع پر پروفیسر اپوروانند نے ماہر تعلیم پرتاپ بھانو مہتہ کے ساتھ بات چیت کی۔

0407 AKI.00_25_53_00.Still003

بھاگوت کہتے ہیں ہندو اور مسلمان کا ڈی این اے ایک، لیکن ہندوتوا سے نفرت کرنے والوں کا کیا؟

ویڈیو:ایک طرف آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کا ملک کی یکجہتی کو لےکر بیان آتا ہے اور دوسری طرف اقلیتی طبقے کے خلاف کچھ بی جے پی رہنما نفرت کی آگ پھیلا رہے ہیں۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ

موہن بھاگوت(فوٹو : پی ٹی آئی)

اگر ہندو کہتا ہے کہ کسی مسلمان کو یہاں نہیں رہنا چاہیے تو وہ ہندو نہیں: موہن بھاگوت

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے آر ایس ایس کی اقلیتی اکائی مسلم راشٹریہ منچ کے ایک پروگرام میں کہا کہ تمام ہندوستانیوں کا ڈی این اے ایک ہے۔ جو لوگ لنچنگ میں شامل ہیں، وہ ہندوتوا کے خلاف ہیں۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں نے ان کے بیان کو‘قول وفعل میں تضاد’قرار دیتے ہوئے ان کو نشانہ بنایا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

کیا ہندوستان میں مذہب کے سلسلے میں قول و فعل میں تضاد ہے

امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹرنے ہندوستان میں مذہبی ہونے کو لےکرسروے رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ دکھاتی ہے کہ ہم ہندوستانی دور سے سلام کےاصول پر عمل پیرا ہیں۔ آپ ہم سے زیادہ دوستی کی امید نہ کریں، ہم آپ کو تنگ نہیں کریں گے جب تک آپ اپنے دائرے میں بنے رہیں۔

WhatsApp Image 2021-06-29 at 20.51.15

کشمیر پہنچا لو جہاد کا جھوٹ، کیا چاہتی ہیں سکھ دلہنیں؟

ویڈیو: کشمیر میں دو سکھ لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرنےاور نکاح کا معاملہ طول پکڑ چکا ہے۔ سکھ کمیونٹی کے لوگ کشمیر سے لےکر نئی دہلی تک مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کشمیر میں آئے دن اغوا، دباؤ بناکر تو کبھی بہلا پھسلاکر لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے۔ اس موضوع پر عارفہ خانم شیروانی نے جموں وکشمیر کے صحافیوں گوہر گیلانی، شاکر میر اور سماجی کارکن کنول جیت کور سے چرچہ کی۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

آدتیہ ناتھ کی غیرمہذب زبان پر صحافیوں-افسران کے جھوٹ اور دھمکیوں کا پردہ

یوگی حکومت  کی ایک اہم نشانی یہ ہے کہ اس نے میڈیا کو چپ کرانے کے لیے ایف آئی آر اور دھمکیوں کا سہارا لیا ہے۔ ان کے غیر مہذب تبصرے کا ویڈیو شیئر کرنے کے بعد دی گئی ایف آئی آر کی دھمکیاں  اسی بات کی تصدیق […]

(علامتی تصویر، فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر/@compolmlr)

کرناٹک: دوسرے مذہب کی لڑکی  کے ساتھ جا رہے مسلم نوجوان پر حملہ، بجرنگ دل کے چار ممبر گرفتار

لڑکی کی شکایت کی بنیاد پر قتل کی کوشش کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ مختلف کمیونٹی کے بیچ دشمنی کو بڑھاوا دینا سےمتعلق دفعہ بھی لگائی گئی ہے۔ بجرنگ دل کے گرفتار چار میں سے دو کارکنوں کی اسی طرح کے معاملوں میں مجرمانہ تاریخ رہی ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹوبہ شکریہ : ابھی شرما/CC BY 2.0)

راجستھان: 12ویں جماعت کی کتاب میں دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ نے کو لے کر ایف آئی آر

بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن راجستھان کے لیےچھپی12ویں جماعت کی سیاسیات کی کتاب کو لےکرتنازعہ ۔ جئے پور میں کتاب سے متعلق ایک جوابی کتاب شائع کرنے والےاشاعتی ادارے کے دفتر میں توڑ پھوڑ کرنے کے سلسلے میں تین افراد گرفتار۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئےروپانی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سخت قانون کے ذریعے ہندو لڑکیوں کے تبدیلی مذہب کو روکیں گے: وجئے روپانی

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے گودھرا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ ان کی سرکار ایک مارچ سے شروع ہو رہے ودھان سبھاسیشن میں لو جہاد کے خلاف قانون لانا چاہتی ہے تاکہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کو روکا جا سکے۔

یوپی پولیس( فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش: بین مذہبی شادی کرانے والے وکیل نے پولیس پر ہراساں کر نے کے الزام  لگائے

دہلی کے ایک وکیل نے بتایا کہ اتر پردیش کے ایٹہ ضلع واقع جلیسر کی خاتون کو ان کی مرضی سے مذہب تبدیل کرواکر شادی کروانے میں مدد کی تھی۔ ڈر کی وجہ سےجوڑا لاپتہ ہو گیاہے۔الزام ہے کہ ان کی تلاش میں اتر پردیش پولیس نے وکیل کی فیملی کے لگ بھگ دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/MYogiAdityanath)

اترپردیش تبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قانون کی قانونی ’خامیاں‘ اس کے نفاذکی بدنیتی کو دکھاتی ہیں

مدھیہ پردیش اور اڑیسہ کےتبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قوانین میں کہیں بھی بین مذہبی شادی کا ذکر نہیں تھا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس پر کوئی تبصرہ کیا تھا۔ ایسے میں اتر پردیش سرکار کا ایسا کوئی اختیار نہیں بنتا کہ وہ بنا کسی ثبوت یادلیل کے بین مذہبی شادیوں کو نظم و نسق کے سوال سے جوڑ دے۔