فکر و نظر

ووٹر لسٹ رویژن: بہار صرف تجربہ گاہ ہے، آپ کا نمبر بھی آنے والا ہے

بہار میں جو ہو رہا ہے وہ آج تک ہندوستانی جمہوریت میں کبھی نہیں ہوا۔ آپ نے بھلے ہی پچھلے بیس سالوں میں درجنوں انتخابات میں ووٹ دیا  ہو، اب آپ کو نئے سرے سے ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ ہندوستان کے شہری ہیں۔ آپ کی شہریت کا فیصلہ ایک گمنام سرکاری ملازم کرے گا، ایک ایسےعمل کے ذریعے جس کے بارے میں کسی کو کچھ  معلوم نہیں ہے۔

مودی کا جانشین او ر حکمران بی جے پی کا اگلا صدر کون؟

 سنگھ کو لگتا ہے کہ مودی کے بعد ایک تو اقتدار کی کشمکش  امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان ہوگی، دوسری طرف کسی سنجیدہ طاقتورلیڈرشپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی کانگریس سے بھی بری حالت ہو جائےگی،جس کا سد باب کرنا ضروری ہے۔

بہار ووٹر لسٹ رویژن: غلط فہمیاں اور سچائی

بہار کی کل آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے۔ ان میں سے کوئی 8 کروڑ بالغ ہیں، جن کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا چاہیے۔ ان میں سے تقریباً 3 کروڑ لوگوں کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں تھا، باقی 5 کروڑ لوگوں کو اپنی شہریت کا ثبوت اکٹھا کرنا ہوگا۔ ان میں سے نصف یعنی ڈھائی کروڑ لوگوں کے پاس وہ سرٹیفکیٹ نہیں ہوں گے، جو الیکشن کمیشن مانگ رہا ہے۔

تخلیقی سرگزشت: ’میری ہر تخلیق ایک صدائے احتجاج ہے ‘

ادب میرے لیے محض لفظوں کا ہنر نہیں، ایک اخلاقی ذمہ  داری ہے — وقت سے آنکھیں ملانے اور خاموشی کو آواز دینے کی۔ ایسے قلم کا کیا کرنا جو دیکھے سب کچھ ، مگر لکھے کچھ نہیں۔  میرے نزدیک، ایسا قلم مردہ ہے — اور میں اسے اٹھانے کا روادار نہیں۔میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی پہلی قسط میں پڑھیے معروف فکشن نویس شبیر احمد کو۔

کانوڑ یاترا کا بہانہ، مسلمانوں پر نشانہ

سپریم کورٹ میں دائر ایک عرضی میں اتر پردیش اور اتراکھنڈ حکومتوں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس میں حکومتوں نے کانوڑ یاترا کے راستے میں پڑنے والے  دکانوں پر کیو آر کوڈ لگانے کو کہا ہے، جسے اسکین کرنے پر مالک کا نام پتہ چل سکے۔ کیا یہ مذہبی بنیاد پرتفرقہ انگیزی کی کوشش ہے؟ اس عرضی  کو دائر کرنے والے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور دی وائر کی مدیر سیما چشتی سے تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری ۔

ترکیہ میں پندرہ جولائی کی اہمیت

پندرہ جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک گروہ نے سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک منظم مگر ناکام کوشش کی تھی۔یوں اس بغاوت کی ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں، جن میں کم از کم 40,000 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ان میں 10,000 سے زائد فوجی اور 2,745 جج شامل تھے۔

ایلون مسک اور امبانی کو سیٹلائٹ اسپیکٹرم: خدشات اور خطرات

ہندوستانی حکومت نے ایلون مسک کی اسٹارلنک اور امبانی کی جیو سمیت کچھ کمپنیوں کو سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس کی منظوری  دے  دی ہے، لیکن نیلامی کے بغیر ہوئے اس مختص  پر سوال اٹھائے جا رہے  ہیں۔ کیایہ الاٹمنٹ شفاف ہے؟ کیا اس سے قومی مفاد کو خطرہ ہے اور معاشی نقصان کا اندیشہ ہے؟

ایمرجنسی  نے آئین کا قتل کیا تھا یا پچھلے 11 سال نے؟

پچیس جون کو ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر ‘سمودھان ہتیا دِیوَس’ مناتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 1975 میں جمہوریت کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ تاہم، مودی حکومت کے گزشتہ گیارہ سال کے بارے میں بھی یہی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اس غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے حوالے سےسینئر صحافی ونود شرما اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ میناکشی تیواری کا تبادلہ خیال۔

جب علی خامنہ ای نے ہندوستانی صحافی سے کہا: ایرانی انقلاب کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہے

اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔

ایمرجنسی کے پچاس سال: مدیران کے نام رام ناتھ گوئنکا کا خط

اگر رام ناتھ گوئنکا زندہ ہوتے اور آج کی ‘غیر اعلانیہ ایمرجنسی’ کے حوالے سے اخبار کے مالکان اور مدیران کو خط لکھتے، تو شاید یہ کہتے کہ وہ پریس  جو آزاد ہونے کی اجازت کا انتظار کرتی ہے، اس نے  اپنی مرضی سے عمر بھر کا قیدی بننے کا انتخاب کیا ہے۔ اور وہ مدیر جو سچائی سے منہ موڑتا ہے، اس کو اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

پچاس سال بعد: ایمرجنسی سے زیادہ خطرناک ہے یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی …  

سال 1975کی ایمرجنسی تاریخ میں ایک  سیاہ باب کے طور پر درج ہے۔ لیکن آج کی غیر اعلانیہ ایمرجنسی کہیں زیادہ سنگین ہے، کیونکہ یہ جمہوریت کے لبادے میں جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ انتخابات اب صرف ووٹ ڈالنے کے عمل تک محدود ہیں اور یہ عمل بھی کئی سطحوں پر داغدار ہے۔

ایران پر امریکی حملہ: عالمی غم و غصہ، یورپ کی خاموشی اور ایک نئے المیے کا آغاز

دنیا جب اس بحران کو بڑھتے ہوئےدیکھ رہی ہے، تو بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک نئے عالمی تنازعہ کے آغاز کا مشاہدہ کر رہے ہیں؟ ایران، جو پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی تہذیب والا  ملک ہے، اس طرح کی جارحیت کے سامنے خاموش رہنے والا نظر نہیں آتا۔

ٹام آلٹر: اردو کا سچا عاشق

ٹام صاحب نے آسامی، بنگلہ، مراٹھی، ملیالم، ہندی، انگریزی، کنڑ اور اردو جیسی زبانوں میں سینکڑوں فلموں، ڈراموں اور ٹی وی سیریل میں کام کیا۔ لیکن اردو کے لیے ان کے دل میں ایک خاص جگہ تھی۔ وہ اردو بولنے، پڑھنے اور لکھنے میں بہت حساس تھے اور اردو کو اردو رسم الخط میں ہی پڑھنے  اور لکھنے کے  قائل تھے۔

جلد شرم محسوس کریں گے انگریزی بولنے والے: کیوں خطرناک ہے امت شاہ کا یہ بیان؟

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہےکہ ہندوستان میں انگریزی بولنے والے لوگ جلد ہی شرم محسوس کریں گے۔ یہ بیان ثقافتی ہی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے – جو زبان، تعلیم، پہچان اور عالمی مسابقت سے متعلق سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ یہ خیال معاشرے میں تفرقہ پیدا کرتا ہے اور عدم مساوات کو وسیع کرتا ہے۔

اسرائیل کا جوہری پروگرام: پردہ اٹھانے کی ضرورت

اگرچہ اسرائیل نے سخت رازداری قائم رکھی ہے، تاہم جوہری ماہرین کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اسرائیل ایک جوہری طاقت ہے۔ مگر شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں، حکمت عملیاں اور خطرے کی حدود اب بھی اندھیرے میں چھپی ہیں۔یہ ابہام ایک طرف دشمنوں کو باز رکھنے کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف کھلے اعتراف سے بچنے کا طریقہ ہے۔

ملک کو ایک نئی تحریک آزادی کی ضرورت ہے …

جدوجہد آزادی صرف برطانوی راج کو ختم کرنے کے لیے نہیں تھی۔ یہ اپنے وقار کو دوبارہ حاصل کرنے، بے اختیار لوگوں کو بااختیار بنانے اور ایک منصفانہ اور جامع معاشرے کی تشکیل کے  لیے ایک تہذیبی تحریک تھی۔ ہندوستان کو دوبارہ انہی جذبات کی ضرورت ہے…

بانو مشتاق کو کیوں پڑھیں؟

بکر انعام کی بدولت سہی، بانو مشتاق پڑھی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی کم یا زیادہ تنقید کا نشانہ بھی بن رہی ہیں۔میرے خیال میں اردو (مسلم؟) سوشل میڈیا پر جو لعن طعن ہو رہی ہے اس میں نہ صرف پدر شاہی طرزِ فکر کا عکس جھلکتا ہے بلکہ مذہبی عصیبت کا وہ پہلو بھی نمایاں ہے جو عورتوں کو ان مسائل پر بات کرنے سے روکنا چاہتا ہے جن کا تعلق مذہب کے ادارے سے ہے۔

طیارہ حادثہ یا کمپنیوں کی لاپرواہی؟ اے آئی 171کا سانحہ اور بوئنگ ڈریم لائنر پر اٹھنے والے سوال

بارہ جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جا رہی ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی 171 گر کر تباہ ہو گئی، جس میں 241 افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثے کا مرکز بنا ڈریم لائنر طیارہ  برسوں سے کوالٹی، اسمبلی کی خامیوں اور سابق ملازمین کی وارننگ کے حوالے سے تنازعات میں رہا ہے۔ یہ سانحہ اب ان تمام انتباہات کا بھیانک نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

راجستھان میں سولر پاور پلانٹس کا قہر

راجستھان میں آ رہے سولر پاور پلانٹس کی وجہ سے قدرتی نباتات تباہ ہو رہی ہیں، چراگاہیں ختم ہو رہی ہیں اور حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ راجستھان کا فخر سمجھے جانے والے کھیجڑی کے درخت بڑے پیمانے پر کاٹے جا رہے ہیں۔

ڈرائنگ رومز اور وہاٹس ایپ جرنیلوں کے نام

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے  ڈرائنگ رومز کو جنگی ہیڈکوارٹر کے بجائے امن کے مراکز میں بدلیں۔ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، ذہنوں سے بھی لڑی جاتی ہے۔ اگر ہم صرف نفرت، افواہوں اور پوائنٹ اسکورنگ میں الجھے رہے، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے بچے فلمی اور اصلی جنگ کا فرق بھول جائیں گے۔

پہلی جماعت کے بچوں کے لیے فوجی تربیت: مہاراشٹر حکومت کے منصوبے پر اٹھتے سوال

مہاراشٹر حکومت کے پہلی جماعت کے اسکولی بچوں کو فوجی تربیت دینے کے منصوبے نے تعلیم اور بچوں کے حقوق سے متعلق بنیادی خدشات کو جنم دیا ہے۔ حکومت اسے ‘نظم وضبط’ اور ‘حب الوطنی’ کی مثال قرار دے رہی ہے، لیکن یہ قدم بچوں کی ذہنی نشوونما، تعلیم کی آزادی اور جمہوری اقدار کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔

محمود آباد کے بہانے اب اشوکا یونیورسٹی پر حملہ

محمود آباد کے بہانے اب اشوکا یونیورسٹی پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ہم اس ادارے سےامید کر سکتے ہیں کہ یہ ہارورڈ کی طرح حکومت کے سامنے اٹھ کرکھڑا ہوجائے؟ شاید وہ روایت یہاں نہیں ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس بار پھر سے اس ادارے کے آقا بی جے پی کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی قربانی دے دیں گے۔

ہندوپاک کشیدگی کے درمیان ’بائیکاٹ ترکیہ‘ کا مطلب کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ترکیہ کے ساتھ تجارتی بائیکاٹ کا شاید ہی کوئی اثر ترکیہ پر پڑے گا۔ کیونکہ ترکیہ کی کل درآمدات میں ہندوستان کا حصہ صرف 0.2 فیصد ہے۔اسی طرح ہندوستان سے ترکیہ جانے والے سیاح کل سیاحوں کا صرف 0.6 فیصد ہیں۔

کیا آل پارٹی وفد مودی حکومت کی سفارتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے؟

ہندوستان-پاکستان کشیدگی کے بعد 30 ممالک میں آل پارٹی وفد بھیجنے کے نریندر مودی حکومت کے فیصلے کے سیاسی اور سفارتی مضمرات پر دی وائر کے پالیٹکل ایڈیٹر اجئے آشیرواد اور دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔

ماؤنواز تحریک آخری مرحلے میں: کیا بسواراجو کے انکاؤنٹر کے بعد بستر میں امن لوٹ آئے گا؟

نارائن پور کے جنگلات میں حال ہی میں ہوئے انکاؤنٹر میں سی پی آئی (ماؤسٹ) کے جنرل سکریٹری نمبلا کیشوا راؤ عرف بسواراجو  مارے گئے۔ بستر رینج کے آئی جی نے کہا ہے کہ بسواراجو پچھلے 40-45 سالوں سے ماؤنواز تحریک کا حصہ تھے اور 200 سے زیادہ نکسلی حملوں میں شامل تھے۔ اس کارروائی کو حکومت اور سیکورٹی فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی ماناجا رہا ہے، لیکن کیا اسے نکسل ازم کا خاتمہ سمجھا جا سکتا ہے؟ دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج سے ذیشان کاسکر کی بات چیت۔

ہیٹ ویو سے 20 سال کے عرصے میں 20 ہزار موتیں، پسماندہ سماج سب سے زیادہ متاثر

سال2001 سے 2019 کے درمیان ہندوستان میں ہیٹ ویو کی وجہ سے تقریباً 20000 افراد ہلاک ہوئے۔ تحقیق میں پایا گیا کہ مرد اور پسماندہ سماج کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ محققین نے ذات پر مبنی سماجی تحفظ کی پالیسی کی سفارش کی ہے۔

پہلگام اور اس کے بعد: ایک بے بس امن پسند دیوانے کی بڑ

گزشتہ دس سالوں میں مسلم مخالف تعصب اور جذبات عروج پر پہنچ گئےہیں– اور اسے مقتدرہ پارٹی کی خطرناک سیاست نے اوربھڑکایا ہے۔ پاکستان کے ساتھ جب بھی کشیدگی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، تو اس کا اثر مسلمانوں پر ظلم کی صورت میں نظر آتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پہلگام حملے کے بعد جو ماحول بنا ہے، وہ  بالکل وہی ہے جس کا مجھے خدشہ تھا۔

آل پارٹی وفد میں شامل جان برٹاس اور اویسی بولے – حکومت سے شدید اختلاف، لیکن ملک کے لیے متحد

مرکزی حکومت نے ہندوپاک کشیدگی سے متعلق مسئلے پر 30 سے ​​زائد ممالک میں سات وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے رہنما شامل ہیں، جن کے بارے میں حزب اختلاف کے ارکان پارلیامنٹ کا کہنا ہے کہ وہ ملک سے باہر مختلف اندرونی اختلافات کے باوجود متحد ہیں۔