فکر و نظر

ہندوستان میں انتخابات کی شفافیت پر اٹھتے سوال

بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس  میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔

شہریت، تاریخ پیدائش سے انکار — تو آخر کس چیز کا ثبوت ہے آدھار؟

آج کل ملک میں کم وبیش ہر سروس کے لیے آدھار کارڈ مانگا جاتا ہے، لیکن حکومت اور یو آئی ڈی اے آئی بار بار یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ یہ تاریخ پیدائش، شہریت یا کئی معاملوں میں پتے کا حتمی ثبوت نہیں ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر آدھار کی قانونی اور عملی حیثیت کیا ہے؟

نکسل ازم کا خاتمہ اور احتساب کے فقدان کا مسئلہ

کامیابی کا یہ نشہ، جو اس وقت اپنے عروج پر ہے، پچھلے بیس برسوں میں ماؤ نوازوں اور خصوصاً پولیس فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کے باوجود، کسی کو بھی جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ سلوا جڈوم کی وجہ سے خواتین کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، سو سے زائد گاؤں جلا دیے گئے اور بستر میں ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ لیکن ’کامیابی‘ کے شور میں ان واقعات پر اٹھنے والے اہم سوالات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

رگھو رائے: ’تھوڑا اور دیکھو‘ سکھانے والی وہ نظر، جو اب بھی ہمارے فریم میں زندہ ہے

رگھو رائے صرف ایک نام نہیں تھے۔ وہ ایک بصیرت تھے۔ ایک احساس تھے۔ ایک دبستان تھے۔ ایک ایسی آنکھ تھے جس نے ہندوستان کو صرف دیکھا نہیں، بلکہ اسے خود سے ملوایا ۔ اس رات ان کا جسم چلاگیا، لیکن ان کی نظرابھی بھی اس ملک کی صبحوں میں گھوم رہی ہے۔ کیمروں کے سرد سیاہ بدن میں، پرانی کانٹیکٹ شیٹس میں، نمائش کی دیواروں پر، اور ہم جیسے شاگردوں کی لرزتی انگلیوں میں۔

خواتین ریزرویشن بل خواتین کو با اختیار بنانے کا نہیں، ووٹ حاصل کرنے کا سیاسی حربہ ہے

اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو یہ خواتین  ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں، بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔

سارک کے جمود کے بیچ متبادل راستہ: ہندوستان کے بغیر سافٹا پر پیش رفت کی بازگشت

یہ ویبینار ہندوستان میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مکالموں کی ایک سیریز کا حصہ تھا، جس کی صدارت او پی شاہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دینا ہے۔

محبت ہی وہ طاقت ہے جو سماجی برائیوں کی دیواریں گرا سکتی ہے: انیتا بھارتی

ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے شاعرہ، مصنفہ اور ایکٹوسٹ انیتا بھارتی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں محبت کو بدنام کرنے کے لیے کئی طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ذات-کجات سے متعلق دلائل دیے جاتے ہیں۔ لیکن محبت بذات خود اس قدر انقلابی ہوتی ہے کہ وہ کسی بندھن کو نہیں مانتی۔ محبت میں ہر طرح کے تعصبات ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ لوگوں کو تمام  برائیوں سے آزاد کر دیتی ہے۔

پہلگام حملہ: سال بھر بعد بھی مودی حکومت نے ’سکیورٹی میں کوتاہی‘ پر وضاحت پیش نہیں کی

پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کو ایک سال بیت چکا ہے، تاہم اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ان’خامیوں‘کے بارے میں کوئی وضاحت  پیش نہیں کی ہے، جن کی وجہ سے یہ حملہ ممکن ہو سکا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ حملے کے بعد کوئی اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں اور کیا کسی کی جوابدہی طے کی گئی ہے۔

لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان

لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ایک بڑا حلقہ ابھی بھی حزب اللہ کو ہی لبنانی قوم پرستی کی علامت اور اسرائیل کے خلاف قوت کے بطور تسلیم کرتا ہے۔

حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بلوں پر مودی حکومت کی شکست سے نکلنے والے 9 اہم نتائج

حد بندی کے لیے نئے قواعد طے کرنے اور لوک سبھا کی نشستوں کو بڑھا کر 850 کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر مودی حکومت کو ملی شکست سے کئی اہم سیاسی اشارے سامنے آئے ہیں۔ لوک سبھا میں اس شکست سے مودی حکومت کی ’ناقابل تسخیر‘ ہونے کی شبیہ کو بھی شدیددھچکا لگا ہے۔

پلیز مودی جی! ہندوستان کی خواتین کے لیے آنسو مت بہائیے

سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔

بل کے لیے نہیں، کئی اور باتوں کے لیے نریندر مودی کو ملک کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے

گزشتہ 18اپریل کو اپنے خطاب میں نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں تین بلوں کے پیکیج کو منظور نہ کروا پانے پر ’ملک کی ماؤں اور بہنوں‘ سے ’معافی‘ مانگی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی مواقع سامنے آئے ہیں، جہاں وزیر اعظم مودی کے لیے معافی مانگنا زیادہ موزوں ہوتا۔

عورت نصف آبادی ہے تو جمہوریہ میں اس کی نصف نمائندگی کیوں نہیں؟

جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔

کیا گھروں کی واقعی کوئی ذات نہیں ہوتی؟

لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ’ گھروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی‘- سننے میں ایک سادہ سا بیان لگ سکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اس سچائی سے آنکھ چرانے جیسا ہے، جسے ملک کا ایک بڑا حصہ روز جیتا ہے۔ آج بھی ملک کے کئی حصوں میں بستیاں ذات کی بنیاد پرمنقسم ہیں اور یہ تفریق صرف سماجی رویوں تک محدود نہیں ہے۔

سرکاری دعووں کی تفتیش: ’ناری وندن‘ یا 2029 کے لیے نشستیں طے کرنے کی کوشش؟

دس سال پہلے کی نوٹ بندی کی طرح اچانک لیا جارہا حد بندی کا فیصلہ ہندوستان کے بڑے حصوں کو سیاسی طور پر کمزور کر دے گا، اور اس کے ساتھ ہی یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے  پر دور رس اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں، جو معیشت کے مرکز، روزگار فراہم کرنے والے اور سماجی ترقی کی نمایاں مثال رہے ہیں۔

سمراٹ کا وزیر اعلیٰ بننا بند کمرے میں مودی-شاہ کی سیاست کی جیت کا جشن ہے

نریندر مودی اور امت شاہ کی زندگی کی ایک بڑی حصولیابی یہ ہے کہ انہوں نے ثابت کر دیا کہ بہار کا سیاسی شعور باقی ریاستوں سے مختلف نہیں ہے۔ نتیش کمار نے جس بہار کے دم پر مودی کو چیلنج کرنا چاہا، مودی نے اس بہار سے ہی نتیش کو باہر کر دیا۔ یہ حقیقت ہے اور ہندوستانی سیاست میں حساب چکانے کا ایک بڑا واقعہ ہے۔

اتر پردیش ایس آئی آر: حتمی اعداد و شمار جاری، رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ

اتر پردیش کے چیف الیکشن کمشنر نے ریاست میں ایس آئی آر کی مہم شروع ہونے کے پانچ ماہ سے زیادہ کے بعد حتمی اعداد و شمار جاری کیے، جن میں رائے دہندگان  کی تعداد میں  84 لاکھ سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہوں گے۔

جنگ بندی سے آگے کا سوال: مستقل امن اور ہندوستان کی خاموشی

ایران بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے کہ سوال صرف جنگ بندی کا نہیں ، جنگ کبھی نہ ہو، اس کا ہے۔ اس کی ضمانت کون دے گا؟ دنیا میں ایسی کوئی اخلاقی قوت موجود نہیں جو مستقل امن کے لیے پہل کرنے کی ہمت رکھتی ہو۔ کبھی پوری دنیا میں اپنی اخلاقی آواز کی وجہ سے سنے  جانے والے ہندوستان کی بولتی بند ہے۔

کلائمیٹ کانفرنس کی میزبانی سے ہندوستان دستبردار، ماہرین نے مایوسی کا اظہار کیا

ہندوستان 2028 میں ہونے والے 33 ویں سالانہ کلائمیٹ کانفرنس (سی او پی 33) کی میزبانی سے دستبردار ہو گیا ہے۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ’اسٹریٹجک موقع گنوانے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی کوششوں کے لیے بڑا ’دھچکا‘ بتایا ہے۔

دھماکے کی دھمکی: 15مہینوں میں 1,600 سے زیادہ فرضی دھمکیاں، دہشت گردی اور بدامنی کا ایک وسیع پیٹرن

گزشتہ 15 مہینوں میں ملک بھر میں فرضی بم دھمکیوں کے 1,600 سے زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں اسکول، عدالتیں، ہوائی اڈے اور اسپتال نشانے پر رہے۔ زیادہ تر دھمکیاں ای میل کے ذریعے دی گئیں اور ہر بار بڑے پیمانے پر سکیورٹی جانچ کے باوجود کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا۔ تاہم، ان واقعات نے وسیع پیمانے پر خوف و دہشت، بدنظمی اور وسائل پر شدید دباؤ پیدا کیا ہے۔

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات: وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات طے کریں گے کہ ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔

کیا راہل گاندھی کیرالہ میں سیاسی خود کشی کرنا چاہتے ہیں؟

فاشسٹ یا نیم فاشسٹ سیاست سے لڑنے کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ آپ اپنے حقیقی اور ثانوی حریف کے درمیان فرق بنائیں رکھیں۔ کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو شکست دینے کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے؛ مگر راہل گاندھی کی زبان اسٹریٹجک ہوشمندی کا اشارہ نہیں دے رہی۔ ایل ڈی ایف کو آر ایس ایس کے مساوی قرار دینا سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک نوع کی ناسمجھی اور  بے صبری کا اظہارہے۔

گلابی ہاتھی کی موت کا معاملہ: سوشل میڈیا ٹرینڈز ہمارے جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں، جبکہ روزمرہ کی سفاکی کا کوئی ہیش ٹیگ نہیں ہے !

فوٹوگرافر جولیا برولیوا کے ’گلابی ہاتھی‘ فوٹو شوٹ سے متعلق معاملہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ معاشرے میں جانوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں معمول تصور کی جاتی ہیں، اور ہمارا غم و غصہ کچھ خاص واقعات پر ہی نکلتا ہے۔ گھنٹوں تک اونٹ یا ہاتھی کی سواری، پنجرے میں قید پرندے، شادی کی تقریبات میں لگام سے بندھے لنگڑاتے اور بعض اوقات زخمی گھوڑوں کو بھی ہمدردی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

شہادت کو شکست نہیں بلکہ اخلاقی فتح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے …

مغربی ایشیا کے تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یادداشت داؤ پر  ہو، تو جدوجہد صرف مادی نہیں رہتی؛ بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی پہلو اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں’فتح‘ اور ’ شکست ‘کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں ۔

ایل پی جی بحران: کیا آپ چولہا چھوڑ کر ایل پی جی اپنانے والوں کی تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں؟

ایل پی جی بحران کے باعث دہلی کے بھلسوا کے وہ خاندان، جو گزشتہ چند برسوں میں چولہا جلانا چھوڑ کر ایل پی جی پر شفٹ ہوئے تھے، اب ان میں ایک طرح کا غصہ ہے۔ کچھ نے واپس اپنے گاؤں کا رخ کر لیا ہے، جو لوگ ٹھیلہ اور ریڑھی لگا کر روزی کماتے تھے، ان کے لیے روزمرہ کا کام چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ جو ابھی بھی یہیں ہیں، ان کے لیے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت پہلے سے غیر مستحکم حالات میں ایک اور بوجھ بن گئی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں

اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔

روپے کا خط، ہندوستان کے نام: ’مجھے ڈالر کے نہیں، الیکشن کمیشن کے مقابلے دیکھو‘

صحافی رویش کمار بتا رہے ہیں کہ ملک کے نام چٹھی میں ہندوستانی روپیہ کہتا ہے کہ ’کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک ڈالر کے سامنے میری قدر 95 تک پہنچ جائے گی۔ مجھے کمزور کہا جائے گا۔ میری کمزوری کے نام پر ایک مضبوط حکومت آئی، جو ہر دن مضبوط ہوتی چلی گئی اور میں کمزور ہوتا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کام کا نہیں ہوں۔ اس کمزوری میں بھی میں ووٹر کے کھاتے میں پہنچ کر نتیجہ نکال دیتا ہوں۔ مجھے بانٹ کر ووٹ مل جاتا ہے۔‘

آپ کی تھالی کتنی محفوظ؟ کھانے میں ملاوٹ کے معاملے بڑھنے کے باوجود لائسنس رد کرنے کی کارروائی 60 فیصد گھٹی

ملک بھر میں لاکھوں خوراک کے نمونوں کی جانچ کے باوجود لائسنس رد کرنے جیسے سخت اقدامات میں گراوٹ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلاف ورزیاں مسلسل سامنے آ رہی ہیں، لیکن کارروائی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے غذائی تحفظ کے نظام کی افادیت اور صارفین کے تحفظ پر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

محمود آباد کیس: آزادی اظہار کے تحفظ کے بجائے عدالت نے ارباب اقتدار کو جوابدہی سے بچنے کا موقع فراہم کیا

علی خان محمود آباد کی پوسٹ کے حوالے سے نہ ایس آئی ٹی اور نہ ہی ہریانہ پولیس عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش کر سکے، جس سے ان دو ایف آئی آر کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے پروفیسر کو ’دانشمندانہ‘ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، مگر ہریانہ حکومت کے لیے کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔ اس کی اسی ’فیاضی‘ کے باعث حکومتیں مقتدرہ کی تنقید کرنے والوں کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر کے قانون کا غلط استعمال جاری رکھ سکتی ہیں۔

اتم نگر میں نفرت کا ریلا اور سرکاری خاموشی

اتم نگر میں جو کچھ ہو رہا ہے – ہونے دیا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے – وہ صرف غلط نہیں، جرم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا جرم ہے اور اس نفرت کو پھیلانے کی اجازت دینا اس جرم میں شریک ہونا ہے۔ معاشرے کے ہر طبقے کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں اس کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پھر  وہ کیوں مسلمانوں کی حفاظت کے لیے خود کو جوابدہ نہیں مانتی؟

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں  دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ  ہیں۔

ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

 زاویہ الہندیہ وہ مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ایسے میں مودی کا زاویہ الہندیہ کو نظر انداز کر کے کنیسٹ کو اولیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساوتھ کی لیڈرشپ کے لیے کوشاں ہو۔ اس کے علاوہ مودی ان گنے چنے چند سربراہانِ مملکت میں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل کا سفر کیا ہے، جب اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف رہا ہے۔

ایران پر حملہ: ارندھتی رائے نے کہا – مجھے شرم آتی ہے کہ ہماری حکومت بزدل ہے

دہلی کے کمانی آڈیٹوریم میں ملک کی نامور ادیبہ ارندھتی رائے نے اپنی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘ پر منعقد مذاکرے کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بارے میں کئی اہم باتیں کہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستانی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ غزہ میں امریکی-اسرائیلی نسل کشی کا ہی تسلسل ہے، لیکن ایران غزہ نہیں ہے۔