فکر و نظر

اتر پردیش ایس آئی آر: حتمی اعداد و شمار جاری، رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ

اتر پردیش کے چیف الیکشن کمشنر نے ریاست میں ایس آئی آر کی مہم شروع ہونے کے پانچ ماہ سے زیادہ کے بعد حتمی اعداد و شمار جاری کیے، جن میں رائے دہندگان  کی تعداد میں  84 لاکھ سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہوں گے۔

جنگ بندی سے آگے کا سوال: مستقل امن اور ہندوستان کی خاموشی

ایران بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے کہ سوال صرف جنگ بندی کا نہیں ، جنگ کبھی نہ ہو، اس کا ہے۔ اس کی ضمانت کون دے گا؟ دنیا میں ایسی کوئی اخلاقی قوت موجود نہیں جو مستقل امن کے لیے پہل کرنے کی ہمت رکھتی ہو۔ کبھی پوری دنیا میں اپنی اخلاقی آواز کی وجہ سے سنے  جانے والے ہندوستان کی بولتی بند ہے۔

کلائمیٹ کانفرنس کی میزبانی سے ہندوستان دستبردار، ماہرین نے مایوسی کا اظہار کیا

ہندوستان 2028 میں ہونے والے 33 ویں سالانہ کلائمیٹ کانفرنس (سی او پی 33) کی میزبانی سے دستبردار ہو گیا ہے۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ’اسٹریٹجک موقع گنوانے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی کوششوں کے لیے بڑا ’دھچکا‘ بتایا ہے۔

دھماکے کی دھمکی: 15مہینوں میں 1,600 سے زیادہ فرضی دھمکیاں، دہشت گردی اور بدامنی کا ایک وسیع پیٹرن

گزشتہ 15 مہینوں میں ملک بھر میں فرضی بم دھمکیوں کے 1,600 سے زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں اسکول، عدالتیں، ہوائی اڈے اور اسپتال نشانے پر رہے۔ زیادہ تر دھمکیاں ای میل کے ذریعے دی گئیں اور ہر بار بڑے پیمانے پر سکیورٹی جانچ کے باوجود کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا۔ تاہم، ان واقعات نے وسیع پیمانے پر خوف و دہشت، بدنظمی اور وسائل پر شدید دباؤ پیدا کیا ہے۔

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات: وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات طے کریں گے کہ ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔

کیا راہل گاندھی کیرالہ میں سیاسی خود کشی کرنا چاہتے ہیں؟

فاشسٹ یا نیم فاشسٹ سیاست سے لڑنے کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ آپ اپنے حقیقی اور ثانوی حریف کے درمیان فرق بنائیں رکھیں۔ کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو شکست دینے کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے؛ مگر راہل گاندھی کی زبان اسٹریٹجک ہوشمندی کا اشارہ نہیں دے رہی۔ ایل ڈی ایف کو آر ایس ایس کے مساوی قرار دینا سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک نوع کی ناسمجھی اور  بے صبری کا اظہارہے۔

گلابی ہاتھی کی موت کا معاملہ: سوشل میڈیا ٹرینڈز ہمارے جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں، جبکہ روزمرہ کی سفاکی کا کوئی ہیش ٹیگ نہیں ہے !

فوٹوگرافر جولیا برولیوا کے ’گلابی ہاتھی‘ فوٹو شوٹ سے متعلق معاملہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ معاشرے میں جانوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں معمول تصور کی جاتی ہیں، اور ہمارا غم و غصہ کچھ خاص واقعات پر ہی نکلتا ہے۔ گھنٹوں تک اونٹ یا ہاتھی کی سواری، پنجرے میں قید پرندے، شادی کی تقریبات میں لگام سے بندھے لنگڑاتے اور بعض اوقات زخمی گھوڑوں کو بھی ہمدردی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

شہادت کو شکست نہیں بلکہ اخلاقی فتح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے …

مغربی ایشیا کے تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یادداشت داؤ پر  ہو، تو جدوجہد صرف مادی نہیں رہتی؛ بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی پہلو اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں’فتح‘ اور ’ شکست ‘کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں ۔

ایل پی جی بحران: کیا آپ چولہا چھوڑ کر ایل پی جی اپنانے والوں کی تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں؟

ایل پی جی بحران کے باعث دہلی کے بھلسوا کے وہ خاندان، جو گزشتہ چند برسوں میں چولہا جلانا چھوڑ کر ایل پی جی پر شفٹ ہوئے تھے، اب ان میں ایک طرح کا غصہ ہے۔ کچھ نے واپس اپنے گاؤں کا رخ کر لیا ہے، جو لوگ ٹھیلہ اور ریڑھی لگا کر روزی کماتے تھے، ان کے لیے روزمرہ کا کام چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ جو ابھی بھی یہیں ہیں، ان کے لیے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت پہلے سے غیر مستحکم حالات میں ایک اور بوجھ بن گئی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں

اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔

روپے کا خط، ہندوستان کے نام: ’مجھے ڈالر کے نہیں، الیکشن کمیشن کے مقابلے دیکھو‘

صحافی رویش کمار بتا رہے ہیں کہ ملک کے نام چٹھی میں ہندوستانی روپیہ کہتا ہے کہ ’کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک ڈالر کے سامنے میری قدر 95 تک پہنچ جائے گی۔ مجھے کمزور کہا جائے گا۔ میری کمزوری کے نام پر ایک مضبوط حکومت آئی، جو ہر دن مضبوط ہوتی چلی گئی اور میں کمزور ہوتا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کام کا نہیں ہوں۔ اس کمزوری میں بھی میں ووٹر کے کھاتے میں پہنچ کر نتیجہ نکال دیتا ہوں۔ مجھے بانٹ کر ووٹ مل جاتا ہے۔‘

آپ کی تھالی کتنی محفوظ؟ کھانے میں ملاوٹ کے معاملے بڑھنے کے باوجود لائسنس رد کرنے کی کارروائی 60 فیصد گھٹی

ملک بھر میں لاکھوں خوراک کے نمونوں کی جانچ کے باوجود لائسنس رد کرنے جیسے سخت اقدامات میں گراوٹ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلاف ورزیاں مسلسل سامنے آ رہی ہیں، لیکن کارروائی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے غذائی تحفظ کے نظام کی افادیت اور صارفین کے تحفظ پر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

محمود آباد کیس: آزادی اظہار کے تحفظ کے بجائے عدالت نے ارباب اقتدار کو جوابدہی سے بچنے کا موقع فراہم کیا

علی خان محمود آباد کی پوسٹ کے حوالے سے نہ ایس آئی ٹی اور نہ ہی ہریانہ پولیس عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش کر سکے، جس سے ان دو ایف آئی آر کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے پروفیسر کو ’دانشمندانہ‘ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، مگر ہریانہ حکومت کے لیے کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔ اس کی اسی ’فیاضی‘ کے باعث حکومتیں مقتدرہ کی تنقید کرنے والوں کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر کے قانون کا غلط استعمال جاری رکھ سکتی ہیں۔

اتم نگر میں نفرت کا ریلا اور سرکاری خاموشی

اتم نگر میں جو کچھ ہو رہا ہے – ہونے دیا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے – وہ صرف غلط نہیں، جرم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا جرم ہے اور اس نفرت کو پھیلانے کی اجازت دینا اس جرم میں شریک ہونا ہے۔ معاشرے کے ہر طبقے کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں اس کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پھر  وہ کیوں مسلمانوں کی حفاظت کے لیے خود کو جوابدہ نہیں مانتی؟

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں  دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ  ہیں۔

ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

 زاویہ الہندیہ وہ مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ایسے میں مودی کا زاویہ الہندیہ کو نظر انداز کر کے کنیسٹ کو اولیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساوتھ کی لیڈرشپ کے لیے کوشاں ہو۔ اس کے علاوہ مودی ان گنے چنے چند سربراہانِ مملکت میں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل کا سفر کیا ہے، جب اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف رہا ہے۔

ایران پر حملہ: ارندھتی رائے نے کہا – مجھے شرم آتی ہے کہ ہماری حکومت بزدل ہے

دہلی کے کمانی آڈیٹوریم میں ملک کی نامور ادیبہ ارندھتی رائے نے اپنی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘ پر منعقد مذاکرے کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بارے میں کئی اہم باتیں کہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستانی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ غزہ میں امریکی-اسرائیلی نسل کشی کا ہی تسلسل ہے، لیکن ایران غزہ نہیں ہے۔

کیسے ’یوگی‘ نے مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کے غیر قانونی استعمال کا قومی ماڈل تیار کیا

یوگی آدتیہ ناتھ کے دور اقتدار میں اتر پردیش میں بلڈوزر تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے اوزار سے بدل کر مسلمانوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے والے ہتھیار اور سیاسی تماشے کا حصہ بن گیا۔ یہ طریقہ ایک قومی ماڈل بن گیا، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے سراہا اور دیگر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ کانگریس مقتدرہ کرناٹک میں بھی اپنایا گیا۔

بہار کی کہانی بھلے ہی اتحاد کی سیاست کی ایک اور کڑی لگے، مگر حقیقی ڈراما کہیں اور چل رہا ہے

بہار میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں ڈرامے کا مرکزی کردار اسٹیج پر تو موجود ہے، مگر اپنی ہی کہانی سنانے سے قاصر ہے۔ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کے عروج کے ساتھ جو سیاسی ڈراما سامنے آیا تھا، وہ اسی طرح کی سیاست کا ایک خاکہ تھا۔ بہار میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کہانی کا دہراؤ کم اور ایک نئی تشریح کی طرح  زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

دہلی تشدد کے چھ سال: حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی

سال 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے چھ سال بعد اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو یہ فرقہ وارانہ قتل عام سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو تشدد سے بچانے، ان کی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے اور انصاف دلانے کی اپنی ذمہ داریوں سے خود کو الگ کر لیا۔

تیل، تختہ پلٹ اور حملہ: ایران میں امریکی مداخلت کی کہانی

اقتباس: ایران اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کی تاریخ پرانی ہے۔ ایران کے تیل پر اپنا اور مغرب کا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے امریکہ نے جو پرتشدد، مجرمانہ اور نفرت انگیز اقدامات کیے ہیں، ان کی فہرست طویل ہے۔ سی آئی اے کی دستاویز سے ہی اب ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ ایران کے قوم پرست وزیر اعظم کی حکومت گرانے کے لیے امریکہ اور برطانیہ نے جنرل فضل اللہ زاہدی اور فوج کو پانچ ملین ڈالر دیے تھے۔ اس وقت ایران میں کمیونسٹ پارٹی بااثر تھی جو منتخب وزیر اعظم کی حمایت کر رہی تھی۔

ہندوستان-ایران: ہم اتنے جڑے ہوئے ہمیشہ رہے ہیں، جتنا ہمیں یاد نہیں

آج ہندوستان اور ایران کے تعلقات کا ذکر عموماً تیل اور اسٹریٹجک تناظر میں کیا جاتا ہے۔ لیکن صدیوں پہلے گجرات کے تاجر ہرمز اور بندر عباس تک جاتے تھے۔ مصالحے، کپڑے، نیل اور جواہرات مغرب کی طرف جاتے اور گھوڑے اور دھاتیں مشرق کی طرف آتے۔ سمندر کوئی سرحد نہیں تھا، بلکہ ایک پل تھا۔ آج کا چابہار بندرگاہ اسی قدیم سمندری منطق کی ایک جدید شکل ہے-ایسا راستہ جو جغرافیہ کو سیاست سے اوپر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کے بعد کس کا نمبر آئے گا

اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔

مغربی ایشیا میں کشیدگی: توانائی کے بحران کے درمیان پیٹرولیم وزیر ہردیپ پوری کہاں ہیں؟

مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) میں غیر یقینی صورتحال کے بیچ توانائی سلامتی کے حوالے سے ہندوستان کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی انحصار کے درمیان  پیٹرولیم وزیر کی خاموشی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، حکومت کی تیاریوں اور متبادل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

جب علی خامنہ ای نے ہندوستانی صحافی سے کہا: ایرانی انقلاب کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہے

اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔

سقوط ایران: سعودی عرب کی خفیہ سفارت کاری

محمد بن سلمان نے یہ بھانپ لیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے ’اصول‘ نہیں بلکہ ’نتائج‘ اہم ہیں۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنا دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس مسلکی جنگ میں ایک ’ہٹ مین‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کی جڑیں سنی-شیعہ عصبیت میں پیوست ہیں۔ سلمان کی لابنگ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ’اخلاقیات‘ کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ جب ایک طاقتور اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملے کی وکالت کرے، تو ’او آئی سی‘ اور ’اسلامی بلاک‘ جیسے نعرے محض سیاسی فریب نظر آتے ہیں۔

نیو انڈیا میں ہی ’اسکولی طالبعلم‘ کے روبوٹ بنانے کا دعویٰ قومی سلامتی کے ’خطرے‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے

جس طرح نئے آئی ٹی قوانین کا قہر ’محبوب لیڈر‘ کے خلاف پوسٹ کیے جانے والے لطیفوں پر نازل ہو رہا ہے، اس سے واضح ہے کہ یہ مودی حکومت کے سنسرشپ راج کے شروعاتی دن ہیں … آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

مودی اور نیتن یاہو: نظریاتی ہم آہنگی کا سفر

ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔ ہماری اسرائیل نوازی اس بات کا بھی اعلان ہے کہ ہم گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔

سال بھر بعد دہلی کی امیدوں پر کتنی کھری اتری ریکھا گپتا کی حکومت؟

دہلی کی بی جے پی حکومت بھلے ہی خود کو ’وعدوں کی نہیں، بلکہ کام کی حکومت‘ بتا رہی ہو، لیکن مہیلاسمردھی یوجنا سے لے کر بزرگوں کی پنشن بڑھانے تک کے ادھورے وعدوں کے حوالے سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں لوگ بجلی-پانی، خراب سڑکیں اور کوڑے کے مسائل سے بھی جوجھ رہے ہیں۔

ہندوستان کی نئی غذائی سفارت کاری اور بھوکے مہمان

دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔

ہندوستان میں انہدام نیا نہیں، مگر پانچ سالوں میں 379 فیصد اضافہ جمہوریت کے ’بلڈوزر راج‘میں تبدیل ہونے کی کہانی ہے

گزشتہ چند برسوں میں بلڈوزر کو تعزیری کارروائی کے طور پر استعمال کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کارروائی میں اکثر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 2022 اور 2023 میں گرائے گئے گھروں میں سے 44 فیصد گھرمسلمانوں کے تھے۔ دراصل یہ پیٹرن بن گیا ہے کہ مسلسل قانونی عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے اور آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

وزارت داخلہ کا ’سہیوگ‘پورٹل مودی حکومت کی ڈیجیٹل سنسرشپ کا نمونہ ہے

دی وائر نے حکومت کے اب تک منظر عام پر نہیں لائے گئے ’سہیوگ‘ پورٹل (آئی ٹی انٹرمیڈیئری) کے یوزر مینوئل کا تجزیہ کیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کے آن لائن مواد ہٹانے سے متعلق مکمل طریقہ کار کو بیان کیا گیا ہے۔ مینوئل بتاتا ہے کہ آن لائن مواد ہٹانے کے احکامات یکطرفہ ہوتے ہیں، جہاں اسٹیک ہولڈرز میں حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے درمیان گفت وشنید ہوتی ہے، جبکہ اصل مواد لکھنے یا بنانے والا ندارد ہوتا ہے۔

جے این یو سیڈیشن کیس کے ایک دہائی بعد ہندوستانی یونیورسٹیوں میں اختلاف رائے کی آوازیں خاموش ہو چکی ہیں

فروری 2016 میں جے این یو کے طالبعلموں کی سیڈیشن معاملے میں گرفتاری کے دس سال بعد اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ آج یونیورسٹی اپنی پرانی پہچان کی پرچھائیں محض رہ گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہ رکھنے والے پروگرام باقاعدگی سے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور تقرریاں مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔

اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی

اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔

قومی ترانہ بمقابلہ قومی گیت، قومی علامتوں کے خلاف حکومت کی نئی پیش قدمی

سرکار نے کہا ہے کہ قومی ترانہ سے پہلے لازمی طور پر ہمیشہ قومی گیت – وندے ماترم ، کو اس کے مکمل چھ بند کے ساتھ گانا ہوگا۔ یہاں یہ دعویٰ کرنا کہ وندے ماترم کا مقام و مرتبہ بلند کیا جا رہا ہے، تویہ  دراصل قومی ترانے کو کمتر دکھانے کا شعوری عمل ہے۔