فکر و نظر

کیسے ’یوگی‘ نے مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کے غیر قانونی استعمال کا قومی ماڈل تیار کیا

یوگی آدتیہ ناتھ کے دور اقتدار میں اتر پردیش میں بلڈوزر تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے اوزار سے بدل کر مسلمانوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے والے ہتھیار اور سیاسی تماشے کا حصہ بن گیا۔ یہ طریقہ ایک قومی ماڈل بن گیا، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے سراہا اور دیگر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ کانگریس مقتدرہ کرناٹک میں بھی اپنایا گیا۔

بہار کی کہانی بھلے ہی اتحاد کی سیاست کی ایک اور کڑی لگے، مگر حقیقی ڈراما کہیں اور چل رہا ہے

بہار میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں ڈرامے کا مرکزی کردار اسٹیج پر تو موجود ہے، مگر اپنی ہی کہانی سنانے سے قاصر ہے۔ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کے عروج کے ساتھ جو سیاسی ڈراما سامنے آیا تھا، وہ اسی طرح کی سیاست کا ایک خاکہ تھا۔ بہار میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کہانی کا دہراؤ کم اور ایک نئی تشریح کی طرح  زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

دہلی تشدد کے چھ سال: حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی

سال 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے چھ سال بعد اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو یہ فرقہ وارانہ قتل عام سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو تشدد سے بچانے، ان کی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے اور انصاف دلانے کی اپنی ذمہ داریوں سے خود کو الگ کر لیا۔

تیل، تختہ پلٹ اور حملہ: ایران میں امریکی مداخلت کی کہانی

اقتباس: ایران اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کی تاریخ پرانی ہے۔ ایران کے تیل پر اپنا اور مغرب کا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے امریکہ نے جو پرتشدد، مجرمانہ اور نفرت انگیز اقدامات کیے ہیں، ان کی فہرست طویل ہے۔ سی آئی اے کی دستاویز سے ہی اب ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ ایران کے قوم پرست وزیر اعظم کی حکومت گرانے کے لیے امریکہ اور برطانیہ نے جنرل فضل اللہ زاہدی اور فوج کو پانچ ملین ڈالر دیے تھے۔ اس وقت ایران میں کمیونسٹ پارٹی بااثر تھی جو منتخب وزیر اعظم کی حمایت کر رہی تھی۔

ہندوستان-ایران: ہم اتنے جڑے ہوئے ہمیشہ رہے ہیں، جتنا ہمیں یاد نہیں

آج ہندوستان اور ایران کے تعلقات کا ذکر عموماً تیل اور اسٹریٹجک تناظر میں کیا جاتا ہے۔ لیکن صدیوں پہلے گجرات کے تاجر ہرمز اور بندر عباس تک جاتے تھے۔ مصالحے، کپڑے، نیل اور جواہرات مغرب کی طرف جاتے اور گھوڑے اور دھاتیں مشرق کی طرف آتے۔ سمندر کوئی سرحد نہیں تھا، بلکہ ایک پل تھا۔ آج کا چابہار بندرگاہ اسی قدیم سمندری منطق کی ایک جدید شکل ہے-ایسا راستہ جو جغرافیہ کو سیاست سے اوپر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کے بعد کس کا نمبر آئے گا

اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔

مغربی ایشیا میں کشیدگی: توانائی کے بحران کے درمیان پیٹرولیم وزیر ہردیپ پوری کہاں ہیں؟

مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) میں غیر یقینی صورتحال کے بیچ توانائی سلامتی کے حوالے سے ہندوستان کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی انحصار کے درمیان  پیٹرولیم وزیر کی خاموشی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، حکومت کی تیاریوں اور متبادل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

جب علی خامنہ ای نے ہندوستانی صحافی سے کہا: ایرانی انقلاب کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہے

اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔

سقوط ایران: سعودی عرب کی خفیہ سفارت کاری

محمد بن سلمان نے یہ بھانپ لیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے ’اصول‘ نہیں بلکہ ’نتائج‘ اہم ہیں۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنا دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس مسلکی جنگ میں ایک ’ہٹ مین‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کی جڑیں سنی-شیعہ عصبیت میں پیوست ہیں۔ سلمان کی لابنگ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ’اخلاقیات‘ کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ جب ایک طاقتور اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملے کی وکالت کرے، تو ’او آئی سی‘ اور ’اسلامی بلاک‘ جیسے نعرے محض سیاسی فریب نظر آتے ہیں۔

نیو انڈیا میں ہی ’اسکولی طالبعلم‘ کے روبوٹ بنانے کا دعویٰ قومی سلامتی کے ’خطرے‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے

جس طرح نئے آئی ٹی قوانین کا قہر ’محبوب لیڈر‘ کے خلاف پوسٹ کیے جانے والے لطیفوں پر نازل ہو رہا ہے، اس سے واضح ہے کہ یہ مودی حکومت کے سنسرشپ راج کے شروعاتی دن ہیں … آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

مودی اور نیتن یاہو: نظریاتی ہم آہنگی کا سفر

ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔ ہماری اسرائیل نوازی اس بات کا بھی اعلان ہے کہ ہم گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔

سال بھر بعد دہلی کی امیدوں پر کتنی کھری اتری ریکھا گپتا کی حکومت؟

دہلی کی بی جے پی حکومت بھلے ہی خود کو ’وعدوں کی نہیں، بلکہ کام کی حکومت‘ بتا رہی ہو، لیکن مہیلاسمردھی یوجنا سے لے کر بزرگوں کی پنشن بڑھانے تک کے ادھورے وعدوں کے حوالے سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں لوگ بجلی-پانی، خراب سڑکیں اور کوڑے کے مسائل سے بھی جوجھ رہے ہیں۔

ہندوستان کی نئی غذائی سفارت کاری اور بھوکے مہمان

دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔

ہندوستان میں انہدام نیا نہیں، مگر پانچ سالوں میں 379 فیصد اضافہ جمہوریت کے ’بلڈوزر راج‘میں تبدیل ہونے کی کہانی ہے

گزشتہ چند برسوں میں بلڈوزر کو تعزیری کارروائی کے طور پر استعمال کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کارروائی میں اکثر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 2022 اور 2023 میں گرائے گئے گھروں میں سے 44 فیصد گھرمسلمانوں کے تھے۔ دراصل یہ پیٹرن بن گیا ہے کہ مسلسل قانونی عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے اور آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

وزارت داخلہ کا ’سہیوگ‘پورٹل مودی حکومت کی ڈیجیٹل سنسرشپ کا نمونہ ہے

دی وائر نے حکومت کے اب تک منظر عام پر نہیں لائے گئے ’سہیوگ‘ پورٹل (آئی ٹی انٹرمیڈیئری) کے یوزر مینوئل کا تجزیہ کیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کے آن لائن مواد ہٹانے سے متعلق مکمل طریقہ کار کو بیان کیا گیا ہے۔ مینوئل بتاتا ہے کہ آن لائن مواد ہٹانے کے احکامات یکطرفہ ہوتے ہیں، جہاں اسٹیک ہولڈرز میں حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے درمیان گفت وشنید ہوتی ہے، جبکہ اصل مواد لکھنے یا بنانے والا ندارد ہوتا ہے۔

جے این یو سیڈیشن کیس کے ایک دہائی بعد ہندوستانی یونیورسٹیوں میں اختلاف رائے کی آوازیں خاموش ہو چکی ہیں

فروری 2016 میں جے این یو کے طالبعلموں کی سیڈیشن معاملے میں گرفتاری کے دس سال بعد اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ آج یونیورسٹی اپنی پرانی پہچان کی پرچھائیں محض رہ گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہ رکھنے والے پروگرام باقاعدگی سے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور تقرریاں مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔

اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی

اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔

قومی ترانہ بمقابلہ قومی گیت، قومی علامتوں کے خلاف حکومت کی نئی پیش قدمی

سرکار نے کہا ہے کہ قومی ترانہ سے پہلے لازمی طور پر ہمیشہ قومی گیت – وندے ماترم ، کو اس کے مکمل چھ بند کے ساتھ گانا ہوگا۔ یہاں یہ دعویٰ کرنا کہ وندے ماترم کا مقام و مرتبہ بلند کیا جا رہا ہے، تویہ  دراصل قومی ترانے کو کمتر دکھانے کا شعوری عمل ہے۔

این آئی اے کے مقدموں کے وکیل ’اقرار جرم کی درخواستوں‘ کے کھیل کو بخوبی سمجھتے ہیں

دہشت گردی کے معاملے میں اپنے موکلوں کی جانب سے اقرار جرم کی درخواستیں دائر کیے جانے کے بعد بھی ان کا دفاع کرنے کے حوالے سے وکیلوں کے پاس الگ-الگ وجوہات ہیں، لیکن وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ این آئی اے ہی ان درخواستوں کو فروغ دے رہی ہے اور حتیٰ کہ اس کے لیے دباؤ بھی بنا رہی ہے۔

آر ٹی آئی میں انکشاف – وزارت داخلہ کے پاس ’دراندازوں‘ کا ڈیٹا نہیں

وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی رہنما اسمبلی انتخابات سے قبل ’دراندازوں‘ کو نکالنے کے دعوے کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں آسام میں امت شاہ نے’64 لاکھ دراندازوں‘ کے قبضے کا دعویٰ کیا، حالاں کہ اس بارے میں وزارت داخلہ کا جواب بڑے سوال کھڑے کرتا ہے۔ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت نے کہا ہے کہ اس کے پاس دراندازوں سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔

آسام نفرت کے حصار سے کیسے نکلے گا؟

ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟

جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں

ویسے تو اس کتاب میں کئی ایسے واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔

فرقہ وارانہ منافرت سے تباہ حال ملک میں دیپک کی جرأت خوش خبری کی طرح ہے

آئینی ادارے نفرت سے مقابلہ نہیں کر رہے، محض دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس بھیڑ کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔

یو جی سی کے نئے ضوابط کا استقبال کرنے اور انہیں بہتر بنانے کے بجائے ملک کو گمراہ کیا جا رہا ہے

یو جی سی کے ضوابط میں کئی خامیاں موجود ہیں اور انہیں مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، تاہم، اعلیٰ ذات کی لابی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا نے ملک بھر میں ایسا مصنوعی اور گمراہ کن ماحول قائم کر دیا ہے، گویا یو جی سی نے اعلیٰ ذات کے خلاف امتیاز برتنے کا کوئی دروازہ کھول دیا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

ایپسٹین فائلز اور پی ایم مودی

امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے منسلک بات چیت میں وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ آنے کے بعد کانگریس نے لوک سبھا میں فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک التوا پیش کی۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزوں کےمطابق، 2017 اور 2019 کے درمیان ہندوستانی کاروباری انل امبانی امریکی سیاسی رسائی سے متعلق امور اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ترجیحات کے بارے میں گفت و شنید کے حوالے سے ایپسٹین کے ساتھ رابطے میں تھے۔

مرکزی حکومت اب بھی کمپنیوں سے زیادہ عام آدمی سے ٹیکس وصول کر رہی ہے

حکومت کی کل آمدنی میں انکم ٹیکس (شخصی ٹیکس) کی حصہ داری 21 فیصد ہے، جو کارپوریٹ ٹیکس (18فیصد) سے زیادہ ہے۔ دستاویز کے مطابق، 2026-27 کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کا بجٹ تخمینہ 1231,000 کروڑ روپے ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی آمدنی کا تخمینہ 1466,000 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

مارک ٹلی: ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے …

مارک ٹلی نے بی بی سی میں اپنی تقریباً تین دہائیوں (1964-94) کی صحافت کے دوران بر صغیر کا شاید ہی کوئی ایسا بڑا واقعہ ہو جس کی کوریج نہ کی ہو۔ انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے جو ساکھ بنائی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو پاتی ہے۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح رہداری

یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔

مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائی: ملبے کا ڈھیر بنا پروین فاطمہ کا گھر

اتر پردیش کی حکومت نے پریاگ راج کے ایک ایکٹوسٹ کی فیملی کے گھر کو منہدم کر دیا، جنہوں نے بغیر کسی جرم کے 21 ماہ جیل میں گزارے۔ جب وہ پولیس کی حراست میں ہسپتال میں تھے، تب بلڈوزر سے گھر کو توڑا گیا، یہ گھر ان کی اہلیہ کا تھا۔

مارک ٹلی: ملک و قوم کا نبض شناس چلا گیا …

وفاتیہ: جس نسل نے ٹرانزسٹر ریڈیو کے سہارے سیاسی فہم و فراست پیدا کرنے کی سعی کی، اس کے لیے مارک ٹلی صرف نامہ نگار نہیں تھے۔ الجھن کے ساتھی تھے، ایک ایسے ملک کے لیے سمت نما تھے، جو اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اتراکھنڈ میں مساجد، مدارس اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم پر اے پی سی آر کی فیکٹ فائنڈنگ

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق، جون 2025 سے نومبر 2025 کے درمیان 300 سے زائد مساجد، مزارات اور درگاہیں بلڈوزر کارروائی میں مسمار کی گئیں۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی گئی ہے کہ ان میں کئی ایسی مذہبی جگہیں شامل تھیں جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے قائم تھیں اور باقاعدہ مذہبی سرگرمیوں، اجتماعی عبادات اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔

چودہ مہینے سے اڈانی کے پاس امریکی سمن نہیں پہنچنے دے رہی مودی حکومت، اب ای میل سے نوٹس بھیجنے کو تیار ایجنسی

یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے وفاقی عدالت کو بتایا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے اڈانی گروپ کو 14 ماہ سے سمن کی تعمیل نہیں کرائی جا سکی ہے۔ ایجنسی نے اب ای میل سے نوٹس بھیجنے کی اجازت طلب کی ہے۔ معاملہ مبینہ رشوت خوری سے متعلق ہے۔

دہلی میں مذاکرات سے پہلے لداخ کا پیغام: ’یونین ٹیریٹری ماڈل ناکام، ہمیں باوقار جمہوریت کی ضرورت ہے‘

انٹرویو: مرکزی حکومت 4 فروری کو لداخ کی سرکردہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنے جا رہی ہے۔ ستمبر 2025 کے تشدد کے بعد بدلے ہوئے حالات میں لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے ایک مشترکہ مسودے کے ساتھ اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔ دی وائر سے بات کرتے ہوئے کے ڈی اے کے کنوینر سجاد کرگلی کہتے ہیں کہ یونین ٹیریٹری ماڈل ناکام ہو چکا ہے اور لداخ کو مکمل جمہوری حقوق چاہیے۔

بہار: آدرش سینٹرل جیل میں قید صحافی روپیش نے جیل انتظامیہ کی بدعنوانی کے خلاف ڈی ایم کو خط لکھا

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بھیجی گئی درخواست میں صحافی روپیش کمار سنگھ نے آدرش سینٹرل جیل، بیور، پٹنہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور قیدیوں کے استحصال اور بدسلوکی کے لیے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں قیدیوں کی روزمرہ کی جدوجہد کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

ڈاکٹر منظور عالم: ادارہ سازی اور میراث کی ایک کہانی

ڈاکٹر منظور عالم ان رہنماؤں میں نہیں تھے جو ہر مسئلے کا حل محض شکایت، احتجاج یا وقتی ردعمل میں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے شعوری طور پر شکایت کی سیاست کو ترک کیا تھا اور فکر کی تشکیل، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔