جس وقت ہولی کے بہانے رمضان کو لے کر تنازعہ پیدا کرکے حملہ کیا جا رہا ہے، دہشت پیدا کی جا رہی ہے، اسی وقت دہشت کے دباؤ میں مسلم کمیونٹی اپنے پہناوے میں کھلے پن کو بڑھاوا دے رہی ہے، انہیں انسٹا پر درج کر رہی ہے۔ کہیں گھر گرایا جا رہا ہے تو کہیں مسجد خطرے میں ہے، روز ایسی خبروں کے درمیان انسٹا کے یہ ریل ایک تخلیقی بغاوت کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔
سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے بہانے فرقہ پرستی اور عدم اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ اپنے زہریلے بیانات سے آگ پر تیل ڈال رہی ہے۔ اس بارے میں دی وائر کی ایڈیٹر سیما چشتی اور دی وائر کی رپورٹر شروتی شرما سے تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
انج چودھری نے جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ مسلمانوں کو ہولی کے رنگ سے اعتراض ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اعتراض دوسروں کو بھی ہو سکتا ہے- کچھ کو رنگ سے الرجی ہو سکتی ہے، کچھ کو رنگ پسند نہیں ہو سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ سب مسلمان ہوں۔ جو نہیں چاہتے انہیں رنگ لگانے کی ضد کیوں؟
ایمس کے جئے پرکاش نارائن اپیکس ٹراما سینٹر کی وجہ سے حکومت کو تقریباً 50 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے ایک کمپنی کی ادائیگی کو طویل عرصے تک التوا میں رکھا، جس کے نتیجے میں ایک لمبی قانونی لڑائی چلی، لیکن ایمس کو ہر قدم پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وزارت صحت نے ایمس کو نوٹس بھیجا تو ایمس نے جواب تک نہیں دیا۔
جھڑپوں کے بعد شام کے دیگر علاقوں جوابی احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں، جو حکومت کے سابق عہدیداروں کو سزا دینے اور عام معافی کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دہلی فسادات کی پانچویں برسی پر کاروانِ محبت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ فسادات کے متاثرین ابھی تک انصاف اور معاوضے سے محروم ہیں۔ اس بارے میں انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل سرور مندر اور دی وائر کے پالیٹکل ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
بک ریویو: آڈری ٹروشکی نے اپنی اس کتاب کے ذریعے ان کی درست تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ کتاب ہمیں بہت سی ایسی باتیں بتاتی ہے، جو ملک کی بھگوا سیاست اور بھگوا تاریخ و صحافت ہم سے چھپاتی ہے ۔ مثلاً یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے ہولی پر روک لگائی تھی مگر یہ چھپایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے عید اور بقرعید پر بھی روک لگائی تھی ۔
کسی بھی شخص یا متن کو مطالعہ کا موضوع بنانے کا مطلب اس کا تنقیدی جائزہ لینا ہے۔ تعلیم کا مطلب تبلیغ نہیں ہے۔ مذہب کے مطالعہ کے حوالے سے ایک بحران پیدا ہوتا ہے کیونکہ مذہبی لوگ مذہب کو عقیدے کا موضوع سمجھتے ہیں تنقید کا نہیں۔ لیکن عقیدت اور جذبے سے آزادی کلاس میں داخل ہونے کی پہلی شرط ہے۔
یورپ اچانک ایسی صورتحال کے ایک سلسلے سے دو چار ہے، جس کی شروعات یوکرین بحران سے ہوئی تھی اور یہ جرمنی میں دائیں بازو کی پارٹی کے عروج کے ساتھ ہی ڈونالڈ ٹرمپ کی تخریبی پالیسیوں تک جا تی ہے۔ اس بارے میں ذیشان کاسکر سے بات کر رہے ہیں دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج ۔
اگرچہ اوجلان کا جنگ بندی کا اعلان ایک بڑا قدم ہے، مگر اس راہ میں کئی رکاوٹیں باقی ہیں۔ قندیل پہاڑوں میں پی کے کے، کے کئی عسکری کمانڈر تحریک کے مکمل خاتمے پر آمادہ نہیں ہو سکتے ہیں، اور ممکن ہے کہ کچھ علیحدگی پسند دھڑے بدستور سرگرم رہیں گے۔ اس لیے یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی واقعی ایک نئے دور کا آغاز کرے گی یا پھر ماضی کی ناکام کوششوں کی طرح کسی نئی شورش کو جنم دے گی۔
دہلی فسادات کی پانچویں برسی پر کاروانِ محبت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے ایک کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا، لیکن اس کے معیارات نا معلوم تھے۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی تاریخ میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد معاوضے کی ادائیگی کی یہ ممکنہ طور پر بدترین صورتحال ہے۔
ملک کا سب سے اہم طبی ادارہ ایمس کئی الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔ مرکزی وزارت صحت ایمس کے ڈائریکٹر کو خط لکھ کر تحقیقاتی رپورٹ مانگ رہی ہے، لیکن انتظامیہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ نئی دہلی میں واقع اس ادارے پر دی وائر کی سیریز کی یہ پہلی قسط ہے، جو سرجیکل دستانے کی خریداری میں ہونے والی بے ضابطگیوں پرمرکوز ہے۔
ہندوستان کی تاریخ میں کبھی کسی سابق آر بی آئی گورنر کو شکتی کانت داس کی طرح اس قدراعلیٰ عہدے پر فائز نہیں کیا گیا۔ ان کی تقرری کو محض ‘بے مثال’ کہنا مودی حکومت کے پیمانوں اور روایات کو ختم کرنے کے غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
ہر سال اکتوبر میں جیلوں کے درمیان مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں، جن کو تہاڑ اولمپکس کہتے ہیں۔ اگست سے ہی ان کی تیاریا ں شروع ہوتی ہیں۔ کھلاڑیوں کے سلیکشن سے لے کر، کوچنگ اور پریکٹس وغیرہ کروانے کے لیے جیل حکام سرگرم ہو جاتے ہیں۔ ہر جیل کا کسی نہ کسی مخصوص کھیل کے شعبہ میں دبدبہ ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشن ایکسس ناؤ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ہیش ٹیگ کیپ اِٹ آن کی مشترکہ کوششوں سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے معاملے میں جمہوری ممالک کی فہرست میں پہلےپائیدان پر ہے۔ 2024 میں ملک بھر کی 16 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 84 بار انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کیے گئے۔
نشاد پارٹی کے کارکن پریشان ہیں۔ پارٹی قیادت عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہے اور اپنی نااہل اولادوں کو کارکنوں پر مسلط کر رہی ہے۔ کچھ لیڈروں نے وقت رہتے پارٹی چھوڑ دی، لیکن دھرماتما نشاد ایسا نہیں کرپائے۔ ایک نوجوان سیاسی کارکن کی خودکشی وسیع پیمانے پر غوروخوض کا تقاضہ کرتی ہے۔
بی جے پی لیڈر نے مالیگاؤں میں ‘غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا’ کے ہونے کے دعوے کیے تھے، جس کے بعد حکومت نے ایس آئی ٹی تشکیل دی اور تحقیقات شروع کی۔ تاہم، اب تک گرفتار کیے گئے لوگوں پر’غیر قانونی تارکین وطن’ ہونے کا الزام نہیں ہے، بلکہ انہیں مبینہ طور پر دستاویز سے متعلق جعلسازی کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔
سی پی سی بی کی جانب سے این جی ٹی کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گنگا ندی کا پانی اس قدر آلودہ ہو چکا ہے کہ اب یہ ڈبکی لگانے کے قابل نہیں ہے۔ اس تلخ سچائی کی تردید کرنے والا یوگی آدتیہ ناتھ کا بیان حقائق سے چشم پوشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
جسٹس بی آر گوئی نے حال ہی میں ایک سماعت کے دوران دہلی میں بے گھر افراد کے لیے لفظ ‘پرجیوی’ (پیراسائٹس) کا استعمال کیا تھا۔ ہرش مندر نے خط میں لکھا ہے کہ حقیقی انصاف ہمیشہ ہمدردی کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور بے گھر لوگوں کو باوقار زندگی کا حق حاصل ہے۔
یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے طلباء نے 17 فروری کو معطل طالبعلموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یونیورسٹی میں کلاس کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم، انتظامیہ معطل طلباء کی حمایت میں کسی بھی طرح کی مزاحمت اور آواز کو دبانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کا ‘قصور’ اتنا ہی تھا کہ وہ 15 دسمبر کو یونیورسٹی میں ایک پروگرام منعقد کر کے اس دن کو یومِ مزاحمتِ کے طور پر منانا چاہتے تھے۔ یہ وہی دن ہے جب 2019 میں جامعہ کے طلبہ سی اے اے اور این آر سی جیسے غیر جمہوری قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے اور اس وقت کی انتظامیہ نے طلبہ کے جمہوری حقوق کا تحفظ کرنے کے بجائے پولیس کو کیمپس میں بلا کر مظاہرین پر لاٹھیاں برسوائی تھیں۔
کمبھ میں بھگدڑ ہوئی۔ کتنی موتیں ہوئیں، اب تک ہمیں نہیں معلوم۔ کووڈ کی وجہ سے کتنی موتیں ہوئیں، ہمیں نہیں معلوم۔ سرکار کا کہنا ہے کہ اتنے لوگ زندہ بچ گئے، اس کے لیے ہمیں حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
ساڑھے چھ سال جیل میں گزارنے کے بعد ایلگار پریشد کے ملزم رونا ولسن کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں جیلیں ‘ایمرجنسی کی حالت’ میں ہیں۔
موئے مقدس کی چوری محض ایک چوری نہیں تھی ۔یہ ایک چنگاری تھی جس نے کشمیر کی دیرینہ جدوجہد برائے انصاف اور شناخت کو زندہ کردیا تھا۔ جس کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ تاہم، تاریخ دان اور سابق بیوروکریٹ خالد بشیر احمد کی کتاب تاریخ کشمیر کے اس اہم واقعہ کے کئی گوشوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔
‘انڈیا اگینسٹ کرپشن’ کی بے اُصولی سے قطع نطر اپنی فرقہ پرست سیاست کی ہوشیاری کا مظاہرہ عآپ نے گزشتہ 11 سالوں میں بارہا کیا۔ ہر بار کہا گیا کہ وہ اپنے آئیڈیل ازم یا مثالیت پسندی کی منکر ہے۔ لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آئیڈیل ازم کیا تھا۔ پھر ہم کس آئیڈیل سیاست سے دھوکے پر ماتم کناں ہیں؟
بی جے پی ایم ایل اے پاؤلین لال ہاؤکیپ نے دی وائر سے بات چیت میں کہا کہ ریاست میں معنی خیز اور مثبت تبدیلی تبھی آئے گی جب مرکزی حکومت پہاڑی علاقوں میں کُکی برادری کے لیے ایک الگ انتظامیہ تشکیل دے گی۔
بی جے پی کی قومی قیادت، جو منی پور میں 21 ماہ سے جاری نسلی تشدد میں وزیر اعلیٰ کے طور پر این بیرین سنگھ کی نااہلی کو تسلیم کرنے کو راضی نہیں تھی، وہ اچانک بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے لیے کیسے راضی ہو گئی؟
آج وہی جماعت، جو کبھی انقلاب کا استعارہ سمجھی جاتی تھی، خود داستانِ عبرت بن چکی ہے۔
ایلگار پریشد کیس میں گرفتار کیے گئے لوگوں میں سے ایک سدھیر دھاولے 2424 دن کی قید کے بعد رہا ہونے والے نویں شخص ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں کانگریس اور بی جے پی، دونوں حکومتوں میں 10 سال سے زیادہ جیل میں گزارنے کے بعد دھاولے کا کہنا ہے کہ دونوں کی حکمرانی میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں نے ہر طرح کے اختلاف کو بہت پرتشدد طریقے سے دبایا ہے۔
ویڈیو: فلمساز انوبھو سنہا ممبئی کو سفاک بھی مانتے ہیں اور بہت مہربان بھی۔ ان کے ایک چھوٹے سے شہر سے بمبئی تک کے سفر، فلم تھیٹر سے اوٹی ٹی پلیٹ فارم تک کا سفر، سنیما، آرٹ اور ان کے تجربات کے حوالے سے ان سے دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔
ذات پات اور مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی اور ہندوستانی نژاد سابق امریکی کونسلر کشما ساونت اپنی بیمارماں کی عیادت کے لیے ہندوستان آنا چاہتی ہیں، لیکن ہندوستانی حکومت ان کا ویزا منظور نہیں کر رہی ہے۔ ساونت اسے سیاسی انتقامی کارروائی مانتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر ایسا نہیں ہے تو ہندوستانی حکومت انہیں ویزا دے۔
منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی مبینہ آواز کی صداقت کی تحقیقات کے لیے مقرر کردہ نجی لیبارٹری نے جوڈیشل کمیشن کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ کلپ اور سنگھ کی آواز کے نمونوں میں 93 فیصد مماثلت ہے اور اس بات کا’قوی امکان’ ہے کہ وہ ایک ہی شخص کی آواز ہیں۔
سیاسی جماعتیں خواتین کو کوئی نہ کوئی لالچ دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے اس الیکشن کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہی ہے کہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدے کیسے دیے جائیں، وہیں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ دہلی کی خطرناک حد تک آلودہ فضا کسی کو یاد ہی نہیں ہے۔
تپن بوس کی عدم موجودگی نے جنوبی ایشیا میں امن، انسانی حقوق اور انصاف کی جدوجہد میں ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے، جس کو پُر کرنا ناممکن ہے۔
ذکیہ جعفری نے اپنی زندگی کے آخری 22 سال انصاف کی جدوجہد میں صرف کر دیے۔ ہر قدم پر ہندوستان کے طاقتور نظام کی طرف سے رکاوٹ اور مخالفت کے باوجود انہوں نے انصاف کی اپنی جدوجہد نہیں چھوڑی۔
مونی اماوسیہ کے موقع پر مہا کمبھ میں جو حادثہ پیش آیا، اس کے لیے انسانی بھول اور بھیڑ پر قابو پانے میں ناکامی کو یقیناً ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اب چوں کہ حکومت اتنی بڑی بھیڑ جمع کرنے کا کریڈٹ لے رہی تھی، تو اسے اس سانحے کے بدنما داغ کو بھی اپنے سر ماتھے پر قبول کرنا ہی چاہیے۔
کانفرنس کے دوران سب سے زیادہ جذباتی لمحہ ان صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا تھا جو غزہ پر اسرائیلی بمباری کو کور کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں 220 سے زائد میڈیا کے پیشہ ور افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔
ویڈیو: جمہوریہ ہند نے 75 سال مکمل کر لیے ہیں، اس دوران ہندوستانی آئین نے ایک طویل سفر طے کیا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے سامنےخطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس بارے میں مؤرخ مردولا مکھرجی اور دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج سے تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
ویڈیو: ڈونالڈ ٹرمپ کی واپسی یورپ اور مغربی دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکہ کی رہنمائی میں چلنے والے عالمی نظام کے سامنے کون سے چیلنجز ہوں گے ،اس بارے میں بتا رہے ہیں میں دی وائر ہندی کے ایڈیٹر آشوتوش بھاردواج۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگ بندی کا برقرار رہنا غیر یقینی ہے، کیونکہ عدم اعتماد اور غیر حل شدہ مسائل کسی بھی وقت کشیدگی کو دوبارہ ہوا دے سکتے ہیں۔