نرمداپورم ضلع کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے گزشتہ 12 جون کو مبینہ گئو تسکری سے جڑے ایک ماب لنچنگ معاملے میں 14 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ویڈیو اور پوسٹ سامنے آئے، جن میں جج کو ان کی مذہبی پہچان کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

اگست 2022 میں مہاراشٹر کے امراوتی میں لگنے والے ایک میلے کے لیے 30 مویشیوں کو لے جارہےایک ٹرک پر حملہ کیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)
نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے نرمداپورم (ہوشنگ آباد) ضلع میں پولیس نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی جے)تبسم خان کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دینے اور ان کے خلاف فرقہ وارانہ تبصرہ کرنے کے الزام میں دو نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
جج خان نے حال ہی میں مبینہ گئو تسکری سے جڑے ایک ماب لنچنگ معاملے میں 14 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، سیونی مالوا تھانہ پولیس نے سنیچر کواز خود نوٹس لیتے ہوئے بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس)کی دفعہ 302 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے لفظ یا اشارے کا استعمال) اور دفعہ 196 (مختلف برادریوں کے درمیان دشمنی پھیلانا) کے تحت معاملہ درج کیا۔
تھانہ انچارج سدھاکر براسکر نے بتایا کہ یہ کارروائی مرکزی وزارت داخلہ کے سائبر سیل کی جانب سے انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کے تحت بھیجے گئے نوٹس کے بعد کی گئی۔
براسکر نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ اور ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ درج کیا گیا۔
انہوں نے کہا،’ایک مبینہ ویڈیو میں ایک شخص نے دھمکی دی کہ اگر 14 مجرموں کو 10 دن کے اندر رہا نہ کیا گیا تو تشدد کیا جائے گا۔ ایک اور ویڈیو میں ایک خاتون نے جج کے خلاف فرقہ وارانہ تبصرہ کیا اور خبردار کیا کہ انہیں اس فیصلے کے نتیجے بھگتنے ہوں گے۔ ‘
انہوں نے بتایا کہ دونوں ملزمین کی پہچان کرنےکی کوشش جاری ہے۔
یہ دھمکیاں اس فیصلے کے بعد سامنے آئیں، جس میں 12 جون کواے ڈی جےتبسم خان نے مبینہ گئو تسکری سے جڑے ماب لنچنگ معاملے میں 14 ملزم کو قتل،قتل کی کوشش، دنگا اور غیر قانونی طور پر روکنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، فیصلے کے فوراً بعد عدالت کے باہر کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی، جب مجرموں کے اہل خانہ نے انہیں جیل لے جانے والی پولیس گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔
فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ویڈیو اور پوسٹ بھی سامنے آئے، جن میں جج کو ان کی مذہبی پہچان کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
کچھ ویڈیو میں عمر قید کی سزا کو رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے دکھائے گئے، جن میں جج پر مذہب کی بنیاد پر فیصلہ سنانے کا الزام لگایا گیا۔کچھ احتجاجی مناظر میں جج کے پتلے جلائے جانے کے ویڈیو بھی سامنے آئے۔
یہ واقعہ 3 اگست 2022 کا ہے۔ اس دن مہاراشٹر کے امراوتی میں لگنے والے ایک میلے کے لیے 30 مویشی لے جانے والے ٹرک کو سیونی مالوا کے براکھڑ گاؤں کے قریب روک لیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ بھیڑ نے ٹرک میں سوار تین لوگوں پر لاٹھیوں اور لوہے کی راڈ سے حملہ کیا، جس میں نذیر احمد کی موت ہو گئی۔
پولیس کے مطابق، حملے میں گاؤں کے کچھ لوگ اور خود ساختہ گئو رکشک شامل تھے۔ واقعہ کا ایک مبینہ ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس معاملے پر قانونی برادری اور عوامی شخصیات نے تنقید کی ہے۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور اپنے فرائض انجام دینے والے عدالتی افسر کو نشانہ بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کانگریس رہنما پون کھیڑا نے کہا، ’عام طور پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف فوراً کارروائی کی جاتی ہے، لیکن مودی کےہندوستان میں نفرت پھیلانے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ سائبر سیل سزا دینے کے بجائے صرف نوٹس بھیج رہا ہے۔‘
کھیڑا نے کہا،’تمام مجرم ہندو ہیں، لیکن انہیں ان کے مذہب کی وجہ سے مجرم نہیں ٹھہرایا گیا، انہیں اس لیے سزا دی گئی کیونکہ جانچ میں وہ دنگا کرنے، قتل کی کوشش اور قتل کے مجرم پائے گئے۔‘
وہیں، بی جے پی کے ترجمان ہیتیش باجپئی نے کہا،’پولیس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ درج کر لیا ہے۔ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
