آج جو بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، وہ ایک خطرناک وہم پر مبنی ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کو ‘ملک و قوم’ سے تشبیہ دے کر میڈیا حکومت کو تنقید سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک فراڈ ہے۔ آر ایس ایس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، بی جے پی سیاسی جماعت ہے۔ نریندر مودی آئین کے منتخب خادم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ‘ملک’ نہیں ہے۔
آپریشن سیندور کے بعد ہندوستانی حکومت نے 32 ممالک میں 7 کثیر جماعتی وفد بھیجنے کے لیے 13 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس قدر مہنگی سفارتی مہم سے ہندوستان کو کوئی ٹھوس بین الاقوامی حمایت یا تزویراتی فائدہ حاصل ہوا؟
اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا کہ ان کے خیال میں قید تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں وہ سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑوں سے باتیں کرتے تھے۔ خوف تھا کہ کہیں وہ بولنا ہی بھول نہ جائیں۔
حکومت نے پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول یعنی ای ٹوئنٹی پیٹرول کے پروموشن کے لیے ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کیا ہے یا نہیں – اس بارے میں آر ٹی آئی کے توسط سے جانکاری مانگی گئی، لیکن حکومت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے ایک ہی طرح کے سوالوں کے مختلف جوابات دیے۔ جہاں بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم نے ‘تجارتی رازداری’ کا حوالہ دیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا، وہیں انڈین آئل نے کہا کہ ‘مطلوبہ معلومات قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔’
تشدد کے تئیں ریاست کی رواداری کی پالیسی کے پیش نظر معاشرے میں تشدد کے کلچر کا پھیلنا کوئی حیران کن واقعہ نہیں ہے۔ کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملے پر قومی خاموشی سے پتہ چلتا ہے کہ چونکہ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ پورے ہندوستانی نہیں ہیں، اس لیے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہم کسی نہ کسی طرح کسی کمیونٹی اور افراد پر غیر ہندوستانیت کا الزام لگا سکتے ہیں اور انہیں مار سکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں اناؤ ریپ کیس میں سپریم کورٹ نے سروائیور کو بڑی راحت دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت دینے کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ دریں اثنا، متاثرہ کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی کارروائی ہندی میں ہو، تو وہ اپنا مقدمہ خود لڑتے ہوئے دنیا کے سامنے ساری سچائی لا دیں گی۔
’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔’
فروری 2024 میں سپریم کورٹ کے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو ختم کرنے کے بعد پہلے مالی سال 2024-25 میں مرکز میں برسراقتدار بی جے پی نے اپنی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے اور اپنے اہم حریف کانگریس سے 12 گنا زیادہ چندہ اکٹھا کیا ہے۔
کم لوگوں کو علم ہے کہ منموہن سنگھ نے بڑی سریلی آواز پائی تھی، وہ ‘لگتا نہیں ہے جی میرا’ اور امریتا پریتم کی نظم ‘آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول’ بڑی پرسوز آواز میں گاتے تھے۔ اردو زبان پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ اردو ادب اور شاعری کا بھی ستھرا ذوق رکھتے تھے۔
حالیہ برسوں میں عیسائیوں کے خلاف مہم میں تیزی آئی ہے۔ ہندوستان کی آبادی کے صرف 2.3 فیصد عیسائی ہیں۔ ہندوستان کی آبادی میں ان کا حصہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی رہا ہے۔ تو پھر تبدیلی مذہب کی وجہ سے عیسائیوں کی آبادی میں دھماکہ خیز اضافہ کا خطرہ اتنا حقیقی کیوں لگتا ہے؟
انٹرویو: یہودی عالم ربی ڈیوڈ فیلڈمین کے مطابق، فلسطینیوں کی تکلیف دو برس کی نہیں بلکہ 70 برس پر محیط ہے۔ اسرائیل کا وجود ہی خدا کے خلاف بغاوت کا تسلسل ہے، اور جب تک یہ بغاوت ختم نہیں ہوتی، نہ فلسطین کو سکون ملے گا اور نہ یہودیوں کو۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں کے بارے میں بولنے والے ملک کے پہلے بھاجپائی چیف منسٹر بننے کو کچھ لوگوں نے اس سے پہلے دیگر وزرائے اعلیٰ کی جانب سے ایس آئی آر سے متعلق بے ضابطگیوں کی شکایتوں کی تصدیق کے طور پر دیکھا ہے۔ تاہم، کئی حلقوں میں یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا یوپی میں ایس آئی آر میں ’کھیل‘ کرنے کے ارمانوں کے برعکس بی جے پی کو ہی بڑے نقصان کا ڈر ستانے لگا ہے؟
نتیش کمار کی بدتمیزی اور بے حیائی کے دفاع میں دلائل پیش کیے جا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو خواتین مخالف یا مسلم مخالف نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہوں نے دونوں کے حق میں بہت کام کیے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے کسی طرح میری مدد کی ہے تو میں آپ کو اپنے ساتھ بدتمیزی کرنے کا حق دے دوں؟
نتن نبین کو بی جے پی کے قائم مقام صدر کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ نریندر مودی کی قیادت کی اسی کڑی کا حصہ ہے، جس کے تحت پارٹی صدر کے عہدے کو مسلسل کمزور کیا گیا ہے۔ نئے صدر کا اپنا سیاسی وزن بہت کم ہے۔ حالاں کہ یہ قدم بہار میں ایک بڑا انتخابی داؤ بھی ہے۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی مسودہ ووٹر لسٹ ریاست میں طویل عرصے سے جاری سیاسی بیانیہ کو چیلنج کرتی ہے۔ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ جنہیں ‘باہری’ کہا جاتا ہے، وہ دراصل سب سے زیادہ عرصے سے آباد ‘ٹھوس’ اور حقیقی شہری ہیں۔
بشارالاسد کے زوال کے ایک سال بعد، دنیا کے میڈیا آوٹ لیٹ ’نئے شام’ کے بارے میں مختلف اور متضاد سرخیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں سب سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ رات کہاں گزاری جائے۔
بنگلور، حیدرآباد اور دہلی میں کی گئی فیلڈ اسٹڈیز سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ڈیجیٹل مزدور کی اوسط آمدنی 12 سے 15 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ 60 فیصد ورکرز کے پاس کوئی کنٹریکٹ نہیں ہے۔ 75 فیصد کے پاس سوشل سکیورٹی نہیں ہے۔ 90 فیصد کو نہیں معلوم اصل کمپنی کون ہے۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی آے) کی جانب سے 100 فیصد سزایابی کی شرح کا دعویٰ کرنے کے ایک سال بعد دی وائر کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ طویل مدتی حراست، ضمانت سے انکار اور تفتیش کاروں کے دباؤ کی وجہ سے درجنوں ملزمین، جن میں بیشتر مسلمان ہیں، اپنا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی خود کو مجرم مان لینے کو مجبور ہو رہے ہیں۔
عالمی عدم مساوات 2026 کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی امیر ترین 10 فیصد آبادی کی آمدنی باقی 90 فیصد لوگوں کی کل آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔ وہیں، ہندوستان میں 10 فیصد لوگ کل قومی آمدنی کا 58 فیصد کماتے ہیں، جبکہ نیچے کے 50 فیصد لوگ صرف 15فیصد۔
بی جے پی پر کچھ سال پہلے سوچھ بھارت، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور کسان سیوا جیسی سرکاری اسکیموں کے نام پر عوام سے ‘غیر قانونی طور پر’ چندہ اکٹھا کر نے کا الزام لگا تھا۔ صحافی بی آر ارونداکشن کو آر ٹی آئی کے توسط سے معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی کو ان اسکیموں کے لیے چندہ جمع کرنے کی کوئی خصوصی اجازت یا منظوری نہ تو مرکزی حکومت کے کی کسی وزارت سے ملی تھی، نہ ہی پی ایم او سے۔
دہلی سمیت کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر عمل کے درمیان، دہلی بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس عمل کے پس پردہ اسلامو فوبک پوسٹ شیئر کرنے کے الزام لگ رہے ہیں۔ زمینی سطح پر ایس آئی آرسے متعلق انسانی اور انتظامی مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں، لیکن بی جے پی اس پوری کارروائی کو محض ‘دراندازوں کو ہٹانے’ کی مہم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
مودی حکومت نے نئے موبائل فون میں سنچار ساتھی ایپ کو لازمی قرار دیا ہے، جسے صارفین ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔ ماہرین اور شہریوں نے اسے پرائیویسی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ سائبر سکیورٹی کی بات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ چند سالوں میں کو-ون، آئی سی ایم آر اور دیگر سرکاری ویب سائٹ یا پلیٹ فارم سے ہندوستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔
چالیس سال بعد سوال اب یہ نہیں ہےکہ نیلی میں کیا ہوا؟ بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان اب اس کھلے سچ کے ساتھ کیا کرے گا؟ اگر نیلی کے قاتل سزا پاتے، تو 1984 کا سکھ مخالف قتل عام شاید نہ ہوتا۔ اور اگر سکھوں کے قاتلوں کو فوری سزا ملتی، تو 2002 کے گجرات کے مسلم کش فسادات شاید نہ ہوتے۔ یہ صرف تاریخ نہیں، بلکہ سبق ہے۔
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔
دنیا بھر کی حکومتیں اور نجی کمپنیاں مقامی لوگوں کو ان کے جل- جنگل – زمین سے بے دخل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ اور انہی مقامی آدی-واسیوں کو سیاحوں کی تفریح کا سامان بنا دیا جا رہا ہے۔
یونیسکو کا یہ اعزاز صرف لکھنؤ نہیں، پورے جنوبی ایشیا کے ذائقوں کا اعزاز ہے۔ یہ اس خطے کی ذائقہ سفارت کاری کا اعتراف ہے، جو کبھی موسیقی،کبھی زبان اور کبھی کھانے کی صورت دنیا کے سامنے آتی ہے۔
نئی دہلی اب اسرائیل کے ساتھ فوجی، اقتصادی اور نظریاتی تعلقات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ یہ مضمون تاریخی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتا ہےکہ ہندوتوا کس طرح ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور گھریلو ردعمل کو نئی شکل دے رہا ہے۔
بہار کی خواتین اب صرف غیر جانبدار ووٹر نہیں، بلکہ انتخابات میں فیصلہ کن قوت بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی حکومت ان خواتین کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا پائے گی، جن کے بھروسے وہ اقتدار تک پہنچی ہے۔
مؤخر روداد: غزہ ٹریبونل اپنی بنیاد میں ایک شہری عدالت ہے، جس کی بنیاد لندن میں 2024 کے آخر میں ڈالی گئی۔ جب ریاستیں خاموش رہیں، جب عالمی عدالتیں بے بس ہو گئیں، جب سلامتی کونسل کی میز پر بار بار ایک ہی ملک کا ویٹو ظلم کی سیاہی کو تحفظ دیتا رہا، تو انسانوں نے خود فیصلہ کیا کہ ضمیر کی عدالت قائم کی جائے۔
کانگریس کی ناکامی کو اس طرح دیکھیے کہ پارٹی نے اس سال دلت رہنما راجیش کمار کو بہار کا ریاستی صدر مقرر کیا تھا، پارٹی کے قومی صدر بھی دلت ہیں۔ یہ دونوں مل کر بہار کی دلت برادری کو اپنی طرف کر سکتے تھے، لیکن پارٹی کی انتخابی مہم پوری طرح راہل گاندھی کے اردگرد گھومتی رہی۔
ظہران ممدانی ایک نئے عہد کا نمائندہ ہے، جو میل جول سے زیادہ سچائی پر اصرار کرتا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کو اس کی شناخت کے حوالے سے پہچانیں — ایک مسلمان، افریقی اور جنوبی ایشیائی نژاد۔ ان کا کہنا ہے؛ ہمیں اپنی شناخت چھپانی نہیں چاہیے، بلکہ اُسے عزت دینی چاہیے۔
امریکہ میں جس ایک پہچان کو مجرمانہ قرار دیاگیا ہے، وہ ہے مسلمان پہچان۔ اسے مکمل طور پر قبول کرنا کسی بھی سیاستدان کے لیے آسان نہیں ہے۔ لیکن ظہران ممدانی نے یہ مشکل کام کر دکھایا ہے۔
مسلم دنیا کا کوئی اتحاد جو ناٹو کی طرح طاقتور اور تزویراتی طور پر وسیع تر عوامل کا حامل ہے، وہ بس پاکستان، افغانستان اور ایران کا اتحاد ہوسکتا ہے، جس کو ترکیہ اور وسط ایشاء کی ترک ریاستوں کی پشت پناہی حاصل ہو۔ اس سے ان سبھی ممالک کو اسٹریٹجک گہرائی بھی حاصل ہوگی اور کسی دشمن کی ہمت نہیں ہوگی کہ ان میں کسی کو نشانہ بنا سکے۔
گفٹ ڈیڈ کے مطابق، للن سنگھ بچپن سے ہی نشانت کمار سے گہرا لگاؤ اور انس رکھتے آئے ہیں۔ نشانت کے حسن سلوک سے خوش ہو کر للن سنگھ نے پٹنہ کے سب سے مہنگے علاقے میں واقع ایک عالیشان گھر وزیر اعلیٰ کے بیٹے کو تحفے میں دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 33 سال بعد جوہری تجربہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم عالمی ایٹمی طاقتوں کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے سے ہندوستان میں جوہری تجربے پر بحث تیز ہونے کا امکان ہے۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں متنازعہ ایس آئی آرکے بعد انتخابی فہرستوں میں شامل غیر ملکی افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں کرایا ہے، لیکن ان مبینہ ‘غیر قانونی تارکین وطن’ کی موجودگی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بہار انتخابی مہم میں ایک بڑا ایشو بن کر ابھری ہے۔
ہندوستانی معیشت کے حوالے سے کیا غلط فہمیاں ہیں؟ کیا شمالی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان سرکاری فنڈ کی تقسیم میں کوئی حقیقی تفاوت ہے؟ ہمارے ملک میں ایسے ارب پتی کیوں ہیں جنہوں نے تحقیق اور اختراع میں سرمایہ کاری کی ہے؟ سابق چیف اکنامک ایڈوائزر اروند سبرامنیم اور ماہر سیاسیات دیویش کپور کے ساتھ ان کی نئی کتاب، اے سکستھ آف ہیومینٹی پر بات کر رہے ہیں دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج ۔
عمر عبداللہ کی حکومت ایک امید کے طور پر شروع ہوئی تھی مگر اب وہ ایک علامت بن گئی ہے — ایسی علامت جو بتاتی ہے کہ جموں و کشمیر میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ مرکز کی بیوروکریسی کے شکنجے میں ہے۔ جمہوریت کا چہرہ زندہ ہے مگر روح خالی ہے۔ اور یہی اس حکومت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
الیکشن کمیشن نےبتایا ہے کہ اب گوا، پڈوچیری، چھتیس گڑھ، گجرات، کیرالہ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان، مغربی بنگال، تمل ناڈو، انڈمان اور نکوبار جزائر اور لکشدیپ میں ایس آئی آر کرایا جائے گا۔ آسام کو اس عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ بنگال، تمل ناڈو اور کیرالہ کے ساتھ ساتھ آسام میں بھی اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔
یہ احساس اب مسلمانوں میں گھر کرتا جا رہا ہے کہ وہ صرف گنتی میں ہیں، قیادت میں نہیں۔اسی خلا کو اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین اور پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی پُر کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔