فری اسپیچ کلیکٹو کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2025 میں اظہار رائے کی آزادی سے متعلق 40 حملوں میں سے 33 میں صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہراساں کیے جانے کے 19 واقعات میں سے 14 صحافیوں سے متعلق تھے۔ اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزیوں کی سب سے زیادہ تعداد گجرات میں ریکارڈ کی گئی اس کے بعد اتر پردیش اور کیرالہ میں۔
دہلی سمیت کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر عمل کے درمیان، دہلی بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس عمل کے پس پردہ اسلامو فوبک پوسٹ شیئر کرنے کے الزام لگ رہے ہیں۔ زمینی سطح پر ایس آئی آرسے متعلق انسانی اور انتظامی مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں، لیکن بی جے پی اس پوری کارروائی کو محض ‘دراندازوں کو ہٹانے’ کی مہم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
سشیلا کارکی کی مدت کار مختصر ہے، لیکن ان کا اثر دیرپا ہو سکتا ہے۔ اگر وہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں ،تو یہ پورے نیپال کی جیت ہوگی۔ کیا ان کا دور اقتدار یہ ثابت کر پائے گا کہ ادھورے انقلابات کے اس طویل سفر میں امید کی لو اب بھی جل رہی ہے؟
نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی، بے روزگاری اور بدعنوانی کے خلاف شروع ہوئے مظاہروں کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینا پڑا ہے۔ دارالحکومت کاٹھمنڈو سمیت کئی شہر آگ اور تشدد کی زد میں ہیں۔ مظاہرین نے رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ عدم اطمینان نیپال کے جمہوری سفر کی گہری دراڑوں کو اجاگر کرتا ہے۔
نیپال میں سوموار (8 ستمبر) کو پرتشدد مظاہروں کے بعد ہندوستان نے منگل کو کہا کہ ان مظاہروں میں ‘متعدد نوجوانوں کی ہلاکت’ کا ہمیں شدید غم ہے۔ نئی دہلی نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ اس بحران کو ‘پرامن طریقے اور بات چیت’ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر درج ایف آئی آر معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم کو پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ ایس آئی ٹی خود کو ہی گمراہ کیوں کر رہی ہے، جبکہ اس کی تحقیقات کا دائرہ صرف دو ایف آئی آر تک ہی محدود ہے ۔
این ایچ آر سی نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کی گرفتاری کا از خود نوٹس لیتے ہوئےاسے پہلی نظر میں استاد کے انسانی حقوق اور آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اب کمیشن نے بتایا ہے کہ ہریانہ پولیس نے ایک ہفتہ کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے باوجود اس کے نوٹس کا جواب نہیں دیا ہے۔
محمود آباد کے بہانے اب اشوکا یونیورسٹی پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ہم اس ادارے سےامید کر سکتے ہیں کہ یہ ہارورڈ کی طرح حکومت کے سامنے اٹھ کرکھڑا ہوجائے؟ شاید وہ روایت یہاں نہیں ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس بار پھر سے اس ادارے کے آقا بی جے پی کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی قربانی دے دیں گے۔
سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کو سخت شرائط کے ساتھ عبوری ضمانت دیتے ہوئے ان کے سوشل میڈیا پوسٹ کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ اس کیس سے متعلق مسائل پر نہ تو لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بات کر سکتے ہیں۔
محمود آباد کو سیڈیشن اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ اس سے قبل ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے محمود آباد کو ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے سلسلے میں طلب کیا تھا۔
ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے اشوکا یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ علی خان محمود آباد پر سوشل میڈیا پر اپنے تبصروں کے ذریعے’مسلح افواج میں خدمات انجام دینے والی خواتین کی توہین’ کا الزام لگایا ہے۔ علی نے الزامات کی تردید کی ہے اور کمیشن کے نوٹس کو سینسر شپ کا نیا طریقہ قرار دیا ہے ۔
وزارت داخلہ نے گزشتہ ایک سال میں 1.1 لاکھ سے زیادہ پوسٹ ہٹانے کے نوٹس دیے، جن میں پی ایم مودی کا مذاق اڑانے والے پوسٹ، وزیر داخلہ کے ایڈیٹیڈ ویڈیو اور وزیر مملکت برائے داخلہ پر طنزیہ ویڈیو شامل ہیں۔
اگر آپ نئے ہندوستان میں مسلمان ہیں، تو آپ کو مسلسل یہ خطرہ در پیش ہے کہ آپ کے نماز پڑھنے کے عمل کو جرم سمجھ لیا جائے۔
لاہور اور دہلی بالکل جڑواں بہنیں لگتی ہیں۔ اگر دہلی میں کسی شخص کو نیند کی گولی کھلا کر لاہور میں جگایا جائے، تو شاید ہی اس کو پتہ چلے کہ وہ کسی دوسرے شہر میں ہے۔
ایک رپورٹ میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے فیس بک اور انسٹاگرام پر اُ ن آوازوں کو غیر منصفانہ طور پر دبانے اور ہٹانے کے ایک پیٹرن کادستاویز تیار کیا ہے، جس میں فلسطین کی حمایت میں پرامن اظہار اور انسانی حقوق کے بارے میں عوامی بحث شامل ہے۔
نفرت انگیز پیغامات پھیلانے میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا ڈپارٹمنٹ کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ 2014 کے انتخابات کے دوران ہی ہندوستان نے اس فن میں مہارت حاصل کر لی تھی جس نےنریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کو اقتدارمیں لانے میں اہم رول ادا کیا۔ تب سے لے کر اب تک ہندوستان میں نفرت کی سیاست نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اب یہ ہندوستانی پارلیامنٹ تک پہنچ چکی ہے۔
اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع میں ریزرو پولیس لائن میں تعینات کانسٹبل سہیل انصاری نے مبینہ طور پر اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر فلسطین کے لیے مالی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹیٹس ڈالا تھا۔ حال ہی میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اسرائیل — فلسطین جنگ پر کسی بھی ‘متنازعہ بیان’ کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پولیس کو اسرائیل-حماس تصادم پر ہندوستانی حکومت کے موقف کی مخالفت کرنے اور فلسطین کی حمایت کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ویڈیو: حماس کے حملے کے بعداسرائیل — فلسطین جنگ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ہندوستان کے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔
یہ معاملہ ہریانہ کے پٹودی کے بابا شاہ محلہ میں 6 فروری کو دو گروہوں کے درمیان تصادم سے متعلق ہے، جس میں گئو رکشک مونو مانیسر نے مبینہ طور پر اپنے لائسنسی ہتھیار سے گولیاں چلائی تھیں، جس سے اقلیتی کمیونٹی کا ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔ مانیسر راجستھان کےچچازاد بھائیوں جنید اور ناصر کے قتل میں بھی ملزم ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ 31 جولائی کو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں نوح پولیس سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے جارہے پوسٹ کی جانچ کر رہی تھی۔ ایک فرضی اکاؤنٹ سے اسی طرح کے پوسٹ کرنے کے الزام میں مونو مانیسر کو پکڑا گیا ہے۔ وہ راجستھان کے دو بھائیوں جنید اور ناصر کو پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کے معاملے میں بھی ملزم ہے۔
گزشتہ 9 اگست کی رات رتلام ضلع میں مسلمانوں کے ایک گروپ نے انسٹاگرام پر اسلام مخالف پوسٹ ڈالنے والے شخص کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاتھا۔ الزام ہے کہ احتجاج کے دوران پوسٹ کرنے والے شخص کے بارے میں مبینہ طور پر ‘سر تن سے جدا’ کا متنازعہ نعرہ لگایا گیا تھا۔
واقعہ کولہاپور کے ایک انجینئرنگ کالج کا ہے، جہاں کلاس میں مذہبی امتیاز پرہوئے ڈسکشن کے ایک وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لیکچرار اورنگ زیب کی تعریف کر تے ہوئے ‘پٹیل-دیشمکھ’ کو ریپسٹ بتا رہی ہیں۔ لیکچرار نے ویڈیو کو ایڈیٹیڈ قرار دیا ہے۔ تاہم ،کالج کا کہنا ہے کہ جانچ پوری ہونے تک انہیں چھٹی پر رہنا ہوگا۔
شعر کہنے کے شوق میں نئے لڑکے اور لڑکیوں نے اردو سیکھنا شروع کیا۔ بلکہ نئی اردو شاعری میں کئی اہم اور نمایاں نام توایسے ہیں جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کاایک ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں انہیں یہ دعویٰ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اور جسٹس یو یو للت (موجودہ سی جے آئی) نے سری پدمنابھاسوامی مندر پر قبضہ کرنے کی کیرالہ حکومت کی کوششوں کو ناکام کر دیا تھا۔
نیویارک یونیورسٹی کے اسٹرن سینٹر فار بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کے ہندو قوم پرست گروپس کے حامیوں کی طرف سے ‘مسلمانوں کو نشانہ بنانا’ ملک میں ‘یو ٹیوب کا سب سے پریشان کن استعمال’ ہے۔
سمستی پور کے سرکاری صدر اسپتال کا معاملہ۔ اسپتال کے ایک ملازم نے مبینہ طور پر بیٹے کی لاش دینے کے لیے بوڑھے والدین سے 50 ہزار روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ذمہ دار لوگوں کو بخشا نہیں جائے گا۔
کچھ دن پہلے مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع کے کوتوالی تھانے کے اندر نیم برہنہ حالت میں کھڑے کچھ لوگوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ الزام ہے کہ مقامی بی جے پی ایم ایل اے کیدار ناتھ شکلا کے کہنے پر پولیس نے صحافی اور دیگر لوگوں کو سبق سکھانے کی غرض سے انہیں حراست میں لے کر ان کے کپڑے اتروائے اور تقریباً برہنہ حالت میں ان کی تصویر وائرل کر دی۔
سُلی ڈیلز اور بُلی بائی ڈیلز نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر ‘نیلامی’کے لیے ڈالی گئی تھیں۔ سُلی ڈیلزبنانے والےاومکاریشور ٹھاکر کو ضمانت دیتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے کہا کہ ملزم نے پہلی بار جرم کیا ہے اور طویل عرصےتک قید اس کے لیے نقصاندہ ہو سکتی ہے۔
تریپورہ میں بی جے پی ایم ایل اے شمبھولال چکمہ نے مبینہ طور پر اسمبلی میں حکومت کے زیر انتظام مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر تیار کیےجاتے ہیں۔ ان کے بیان کے بعد سابق وزیر اعلیٰ اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مانک سرکار نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار میں اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ اس طرح کی صورتحال اس پارٹی کے اقتدار میں آنے سے پہلے کبھی نہیں تھی۔
گزشتہ 22 مارچ کو جموں و کشمیر کے سری نگر کے رہنے والے سید فیصل کو دہلی کے جہانگیر پوری واقع ایک ہوٹل میں ٹھہرنے سے منع کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کے مطابق ہوٹل کی ایک خاتون ملازمہ نے انہیں جموں و کشمیر سے ہونے کی وجہ سے ہوٹل میں ٹھہرنےسے منع کیا۔ فیصل نے کہا یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں اس طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ملک کے 28 سینئر صحافیوں اور میڈیا پرسن نے صدر جمہوریہ، سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے ججوں، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر قانونی اداروں سے ملک کی مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ہورہےحملوں کو روکنے کی اپیل کی ہے۔
الور ضلع کے بہرور کا واقعہ۔ الزام ہے کہ پرائیویٹ بینک کے ملازم راجیش کمار میگھوال نے سوشل میڈیا پر فلم ’دی کشمیر فائلز‘ پر اپنےتنقیدی ریمارکس پر ایک ردعمل کے جواب میں مبینہ طور پر ہندو دیوتاؤں پر توہین آمیز تبصرے کیے، جس کے نتیجے میں کچھ مشتعل افراد نے ان سےمار پیٹ کی اور مندر میں ناک رگڑنے کو مجبور کیا۔
اتر پردیش کے سدھارتھ نگر ضلع کے ڈمریا گنج سے بی جے پی کے سابق ایم ایل اے راگھویندر پرتاپ سنگھ کو حالیہ انتخابات میں ایس پی امیدوار سیدہ خاتون سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہندو یوا واہنی کے رہنما راگھویندر پرتاپ سنگھ کو اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی کئی مواقع پر مسلمانوں کے خلاف زہر فشانی کرتے دیکھا گیا تھا۔
شوپیاں کےایگزیکٹیو مجسٹریٹ نےگرفتاری وارنٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوہر گیلانی لگاتارعوامی امن وامان کو متاثرکر رہے ہیں۔ انہیں 7 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔
سال 2021 میں اقلیتوں کے خلاف ہیٹ کرائم میں اضافہ ہوا، لیکن میڈیا خاموش رہا۔ اس سال کی ابتدا اور زیادہ نفرت سے ہوئی، لیکن اس کے خلاف ملک بھر میں آوازیں بلند ہوئی۔ اقلیتوں اور خواتین سے نفرت کی مہم کا نشانہ بننے کے بعد میں اپنے آپ کو سوچنے سے نہیں روک پاتی کہ کیا اب بھی کوئی امید باقی ہے؟
واقعہ چھتیس گڑھ کے کوربا ضلع کا ہے۔اس واقعہ سےمتعلق مبینہ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ کے چاروں طرف کھڑے ہو کر کچھ لوگ ملک کو ہندو راشٹر بنانے اور مسلمانوں کو کام نہ دینے کا عہد لے رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق، کلیدی ملزم ہندو تنظیم سے وابستہ ہے۔
ممبئی پولیس کی سائبر برانچ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ فون کرنے والے نے متاثرہ کو دھمکی دی اور پوچھا کہ انہوں نے ملزمین کے ناموں کا انکشاف کیوں کیا اور ایف آئی آر کیوں درج کروائی ۔
مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے پس پردہ ، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ اس قوم کو اس قدر ذلت دی جائے، ان کےعزت نفس کو اتنی ٹھیس پہنچائی جائے کہ تھک ہارکر وہ ایک ایسی’شکست خوردہ قوم’کے طور پر اپنے وجود کو قبول کر لیں، جوصرف اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو مجبور ہے۔
معاملہ چھتیس گڑھ کےسرگجا ضلع کا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ویڈیو میں کئی گاؤں والے ایک جگہ پر مسلمانوں کا سماجی اور معاشی بائیکاٹ کرنے کا حلف لیتے ہوئےنظر آ رہے ہیں۔ سرگجا کےپولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔