سال 2024 کے بعد کے واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا امت شاہ صرف دوسرے نمبر کے لیڈر ہیں، جنہیں نریندر مودی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لیے آگے کر رہے ہیں یا پھر 2029 پر نظر جمائے بی جے پی-جو 2024 جیسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتی— جانشینی کے کسی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔
اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو یہ خواتین ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں، بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔
پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کو ایک سال بیت چکا ہے، تاہم اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ان’خامیوں‘کے بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے، جن کی وجہ سے یہ حملہ ممکن ہو سکا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ حملے کے بعد کوئی اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں اور کیا کسی کی جوابدہی طے کی گئی ہے۔
سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔
جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔
بیک اسٹوری: حد بندی کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو پارلیامنٹ میں کئی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن گہرائی سے جائزہ لینے پر وہ گمراہ کن ثابت ہوتی ہیں۔
بی جے پی نے خواتین کے لیے ریزرویشن لاگو کرنے کے لیے 2011 کی مردم شماری کو بنیاد کیوں بنایا، یہ سوال مسلسل اٹھ رہا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد حاشیائی طبقے کی تعداد میں اضافے سے او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ تیز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حد بندی کے حوالے سے بھی اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے، اس کے بعد ہی حد بندی کی جائے۔
لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ’ گھروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی‘- سننے میں ایک سادہ سا بیان لگ سکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اس سچائی سے آنکھ چرانے جیسا ہے، جسے ملک کا ایک بڑا حصہ روز جیتا ہے۔ آج بھی ملک کے کئی حصوں میں بستیاں ذات کی بنیاد پرمنقسم ہیں اور یہ تفریق صرف سماجی رویوں تک محدود نہیں ہے۔
نریندر مودی اور امت شاہ کی زندگی کی ایک بڑی حصولیابی یہ ہے کہ انہوں نے ثابت کر دیا کہ بہار کا سیاسی شعور باقی ریاستوں سے مختلف نہیں ہے۔ نتیش کمار نے جس بہار کے دم پر مودی کو چیلنج کرنا چاہا، مودی نے اس بہار سے ہی نتیش کو باہر کر دیا۔ یہ حقیقت ہے اور ہندوستانی سیاست میں حساب چکانے کا ایک بڑا واقعہ ہے۔
اپوزیشن نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیامنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور الزام لگایا کہ اسپیکر کے طور پر برلا نے جانبدارانہ انداز میں کام کیا۔ ان الزامات میں دسمبر 2023 میں 100 اراکین پارلیامنٹ کی معطلی بھی شامل ہے۔
سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے میں نامزد چار ہندوستانی شہریوں کے مقدمے کی شنوائی شروع ہونے والی ہے۔ اس دوران کینیڈین حکومت کے محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق ‘حساس’ معلومات کو خفیہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی رہنما اسمبلی انتخابات سے قبل ’دراندازوں‘ کو نکالنے کے دعوے کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں آسام میں امت شاہ نے’64 لاکھ دراندازوں‘ کے قبضے کا دعویٰ کیا، حالاں کہ اس بارے میں وزارت داخلہ کا جواب بڑے سوال کھڑے کرتا ہے۔ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت نے کہا ہے کہ اس کے پاس دراندازوں سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔
ویسے تو اس کتاب میں کئی ایسے واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔
لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ ہوگیا، جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں میگزین کی ایک رپورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیا۔ حکومت اور لوک سبھا اسپیکر نے اسے پارلیامانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’اس میں ایسا کیا ہے جس سے آپ لوگ اتنا ڈررہے ہیں؟‘
آج جو بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، وہ ایک خطرناک وہم پر مبنی ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کو ‘ملک و قوم’ سے تشبیہ دے کر میڈیا حکومت کو تنقید سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک فراڈ ہے۔ آر ایس ایس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، بی جے پی سیاسی جماعت ہے۔ نریندر مودی آئین کے منتخب خادم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ‘ملک’ نہیں ہے۔
نتن نبین کو بی جے پی کے قائم مقام صدر کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ نریندر مودی کی قیادت کی اسی کڑی کا حصہ ہے، جس کے تحت پارٹی صدر کے عہدے کو مسلسل کمزور کیا گیا ہے۔ نئے صدر کا اپنا سیاسی وزن بہت کم ہے۔ حالاں کہ یہ قدم بہار میں ایک بڑا انتخابی داؤ بھی ہے۔
مذہبی آزادی سے متعلق یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم کےتازہ اپڈیٹ بریف میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی حکمران بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کااتحاد ‘امتیازی’ قوانین کو فروغ دیتا ہے۔
فیکٹ چیک: وزیر داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں مسلم آبادی میں اضافہ شرح پیدائش کے باعث نہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر گھس پیٹھ کی وجہ سے ہوا ہے۔ شاہ کے دعوے سیاسی طور پر مؤثر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ سائنسی اعداد و شمار اور حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملک میں آزادی کے بعد، خصوصی طور پر 1974 کے بعد ہونے والی تمام تحریکوں کے ‘مالیاتی پہلوؤں’، نتائج اور ‘پردے کے پیچھے سرگرم قوتوں’ کی چھان بین کرکے ایک ایس او پی تیار کرے، تاکہ مستقبل میں ‘مفاد پرستوں کے ذریعے منظم ہونے والی بڑی تحریکوں’ کو روکا جاسکے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نائب صدر کے عہدے کے لیے اپوزیشن کے امیدوار جسٹس بی سدرشن ریڈی اور سپریم کورٹ پر سلوا جڈوم فیصلے کے ذریعے ‘نکسل ازم کی حمایت’ کا الزام لگایا ہے۔ شاہ کے بیان کو مذکورہ فیصلے کی غلط تشریح قرار دیتے ہوئے سابق ججوں نے کہا کہ یہ ‘بدقسمتی’ ہے۔
امت شاہ کی جانب سے پیش کیے گئے 130 ویں آئینی ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ 30 دن کی حراست پر وزیر، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم تک کی کرسی جا سکتی ہے۔ یہ بل جانچ ایجنسیوں کا غلط استعمال کرکے اپوزیشن لیڈروں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا نیا ہتھیار بن سکتا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیامنٹ میں 130واں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے جا رہے ہیں۔ اس میں یہ شق ہے کہ اگر کوئی وزیر اعلیٰ، وزیر یا وزیر اعظم مسلسل 30 دن تک جیل میں رہتا ہے تو اسے برخاست کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس نے اسے اپوزیشن ریاستوں کو کمزور کرنے کا حربہ قرار دیا ہے۔
مالیگاؤں بم دھماکے میں ہندوتوا تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ملزمان کے بری ہونے کے باوجود مہاراشٹر حکومت بامبے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی خواہشمند نہیں ہے ۔ جبکہ حال ہی میں 2006 کے ممبئی ٹرین دھماکے کے مسلم ملزمان کے بری کیے جانے پر حکومت نے فوراً سے پیشترسپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔
اگر ہندوستانی حکومت کے پچھلے چھ سالوں کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے، تو ان کا ایک ہی مقصد معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار بناکر مجبور بنایا جائے۔
ہندوستان کی مقتدر شخصیات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ سال قبل لیے گئے اس فیصلہ نے جموں و کشمیر کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے حکومت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا قدم انتہائی غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اس سے بھی خراب حالات میں انتخابات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔
مالیگاؤں دھماکہ میں مسلمان ہی ہلاک اور زخمی ہوئے، اور اس کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر ہی عائد کرنے کی گھناؤنی کوشش کی گئی۔ تاہم، یہ ملک کا پہلا مقدمہ نہیں ہے،جس میں این آئی اے کو اپنی بے ایمانی کی وجہ سے شکست ہوئی۔ اور کیایہ اتفاق ہے کہ این آئی اے کوایسے بیشتر مقدمات میں ہار کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ملزمین ہندوتھے اور بم دھماکوں میں شہید اور زخمی ہونے والے مسلمان ؟
مالیگاؤں بلاسٹ کیس میں عدالتی فیصلے سے چند گھنٹے قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کانگریس پر ‘بھگوا آتنکواد’ کی تھیوری پیش کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ کوئی بھی ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔
سنگھ کو لگتا ہے کہ مودی کے بعد ایک تو اقتدار کی کشمکش امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان ہوگی، دوسری طرف کسی سنجیدہ طاقتورلیڈرشپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی کانگریس سے بھی بری حالت ہو جائےگی،جس کا سد باب کرنا ضروری ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہےکہ ہندوستان میں انگریزی بولنے والے لوگ جلد ہی شرم محسوس کریں گے۔ یہ بیان ثقافتی ہی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے – جو زبان، تعلیم، پہچان اور عالمی مسابقت سے متعلق سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ یہ خیال معاشرے میں تفرقہ پیدا کرتا ہے اور عدم مساوات کو وسیع کرتا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یوپی پولیس میں بھرتی کے عمل کو ‘شفاف’ قرار دیا ہے، لیکن گزشتہ سال پیپر لیک کی وجہ سے اس امتحان کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کا انعقاد کرنے والی گجراتی کمپنی ایڈوٹیسٹ کی تاریخ داغدار رہی ہے۔ یوپی حکومت کو بھی اس کمپنی کو بلیک لسٹ کرنا پڑا تھا۔ اس کمپنی کے بانی ڈائریکٹر کے بی جے پی کے اعلیٰ لیڈروں سے قریبی روابط رہے ہیں۔
گزشتہ فروری میں منی پور کے سی ایم این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں 40 منٹ کی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔
راجیہ سبھا میں منی پور ٹیپ کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ مذکورہ آڈیو کلپ کی صحیح طریقے سے جانچ کی جانی چاہیے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ واقعی میں سابق وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی آواز ہے یا نہیں۔ اگر ہے، تو سنگھ کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور تشدد میں ان کے کردار کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔
مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے 13 فروری کو استعفیٰ دینے کے چند دن بعد ریاست کو صدر راج کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ صدر راج کے نفاذ کے بعد ریاست کے باشندے 23 سال بعد براہ راست مرکزی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔
انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2024 میں سب سے زیادہ 242 ہیٹ اسپیچ کے واقعات اتر پردیش میں درج کیے گئے۔ یہ 2023 کے مقابلے میں 132 فیصد کا اضافہ ہے۔ ہیٹ اسپیچ دینے والے ٹاپ ٹین لوگوں میں بی جے پی کے سینئر لیڈر- یوگی آدتیہ ناتھ، نریندر مودی اور امت شاہ کے نام شامل ہیں۔
بی جے پی ایم ایل اے پاؤلین لال ہاؤکیپ نے دی وائر سے بات چیت میں کہا کہ ریاست میں معنی خیز اور مثبت تبدیلی تبھی آئے گی جب مرکزی حکومت پہاڑی علاقوں میں کُکی برادری کے لیے ایک الگ انتظامیہ تشکیل دے گی۔
بی جے پی کی قومی قیادت، جو منی پور میں 21 ماہ سے جاری نسلی تشدد میں وزیر اعلیٰ کے طور پر این بیرین سنگھ کی نااہلی کو تسلیم کرنے کو راضی نہیں تھی، وہ اچانک بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے لیے کیسے راضی ہو گئی؟
کانگریس بیرین سنگھ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا منصوبہ بنا رہی تھی، جس میں حکمراں پارٹی کے کچھ ایم ایل اے کی حمایت کی خبریں موصول ہو رہی تھیں۔ عدالتی کمیشن نے ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں این بیرین سنگھ کے رول کی جانچ کی ہے۔
منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی مبینہ آواز کی صداقت کی تحقیقات کے لیے مقرر کردہ نجی لیبارٹری نے جوڈیشل کمیشن کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ کلپ اور سنگھ کی آواز کے نمونوں میں 93 فیصد مماثلت ہے اور اس بات کا’قوی امکان’ ہے کہ وہ ایک ہی شخص کی آواز ہیں۔
بی جے پی نے 19 دسمبر کو جو کچھ بھی کیا اس کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تشدد کے بعد ہمیشہ شک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ دو فریق بن جاتے ہیں۔ دوسرے فریق کو وضاحت پیش کرنی پڑتی ہے۔ بی جے پی ہر عوامی تحریک یا اپوزیشن کے احتجاج کے دوران تشدد کا سہارا لےکر یہی کرتی ہے۔