سنگیتا بروآ پیشاروتی پریس کلب آف انڈیا کی پہلی خاتون صدر منتخب
سنگیتا بروآ پیشاروتی پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی) کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئی ہیں۔ ان کے پینل نے سنیچر کو ہوئے انتخابات میں 21-0 سے کلین سویپ کرتے ہوئے تمام عہدوں پر جیت درج کی۔
سنگیتا بروآ پیشاروتی پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی) کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئی ہیں۔ ان کے پینل نے سنیچر کو ہوئے انتخابات میں 21-0 سے کلین سویپ کرتے ہوئے تمام عہدوں پر جیت درج کی۔
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے جمعرات کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اخبار کے مالکان نے اس چھاپے ماری کو آزاد میڈیا کو چپ کرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ہیومن رائٹس اینڈ ریلیجیس فریڈم جرنلزم ایوارڈ 2025 میں دی وائر ہندی کے جرنلسٹ انکت راج اور شروتی شرما کو ‘بیسٹ رپورٹنگ آن ہیومن رائٹس اینڈ ریلیجیس فریڈم (ہندی)’ کے زمرے میں ٹاپ تھری فائنلسٹ منتخب کیا گیا۔ ان کی رپورٹس ہریانہ کے انتخابات اور سنبھل تشدد پر مبنی تھیں۔
گزشتہ 13ستمبر کو کوچی میں صحافی اور کارکنوں نے مئی میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کے ذریعےگرفتار کیے گئے صحافی رجاز ایم شیبا صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بیٹھک کی تھی۔ اب کیرالہ پولیس نے منتظمین اور مقررین کے خلاف غیر قانونی اجتماع اور پولیس کی ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات میں ایف آئی آر درج کی ہے۔
سنکرشن ٹھاکر کا جانا صرف ایک شخص کا جانا نہیں، بلکہ ان الفاظ کا خاموش ہو جانا ہے جو سماج کی بُو باس اور سچائی کو گرفت میں لینے کی قوت رکھتے تھے۔ پٹنہ کی سرزمین سے آنے والے اس صحافی نے کشمیر سے بہار تک کی کہانیوں کو دلجمعی سے قلمبند کیا۔ ان کے یہ نوشتہ جات صحافت کا لازوال ورثہ ہیں۔
سرکردہ صحافی اور مصنف سنکرشن ٹھاکر کاطویل علالت کے بعد 63 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ دی ٹیلی گراف کے ایڈیٹر ٹھاکر نے بہار اور کشمیر کے علاوہ کئی اہم موضوعات پر غیر معمولی رپورٹنگ کی۔ خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے رہنماؤں اور صحافیوں نے انہیں بے خوف، حساس اور جمہوری ہندوستان کا مضبوط وکیل بتایا ۔
سری نگر کے ایک اسپتال کے باہر مظاہرہ کر رہے ڈاکٹروں نے کشمیر کی ایک خاتون صحافی اور چار دیگر صحافیوں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی تھی۔ اس کے بعد متاثرہ صحافی صوفی ہدایت نے پی سی آئی، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا سے جموں و کشمیر حکومت کے سامنے اس معاملے کو اٹھانے اور ملزم ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔
بہار کے بیگوسرائے ضلع میں آزاد صحافی اجیت انجم کے خلاف بہار ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن کے عمل سے متعلق حالیہ رپورٹنگ کے لیے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انجم کا کہنا ہے کہ ‘سوالوں کے جواب دینے کے بجائے اب صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ میں ڈروں گا نہیں ، میں صرف سچ دکھاؤں گا۔’
کنڑ ادیبہ بانو مشتاق کی’ہارٹ لیمپ’ کو انٹرنیشنل بکرپرائز ملنے پرپی ایم مودی نےانہیں مبارکباد پیش نہیں کی۔ اس سے پہلے انہوں نے رویش کمار کو ریمن میگسیسے ایوارڈ اور گیتانجلی شری کو انٹرنیشنل بکر ایوارڈ ملنے پر بھی مبارکباد نہیں دی تھی۔
ایک حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں صحافیوں کے خلاف فوجداری مقدمات میں عدالتی عمل ہی سزا بن گیا ہے۔ اکثر معاملات میں تفتیش یا مقدمے کی سماعت مکمل نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے صحافیوں کو، خصوصی طور پر چھوٹے شہروں میں، مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور کیریئر پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ویڈیو: چھتیس گڑھ کے صحافی مکیش چندراکر نے اگست 2024 میں دی وائر ہندی پر ‘بستر کے صحافیوں کی آندھرا پردیش میں گرفتاری’ کی رپورٹ شائع ہونے کے اگلے روز کہا تھا کہ ریاست کے ایک سینئر پولیس افسر نے اس خبر پر اعتراض کیا تھا۔ اس بارے میں دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج سے ذیشان کاسکر کی بات چیت۔
چھتیس گڑھ کے بستر ڈویژن کے صحافی مکیش چندراکر کےقتل کو حال ہی میں ان کے ذریعے کی گئی ایک رپورٹ سے جوڑا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے دیگر صحافیوں کے ساتھ بیجاپور کے گنگالور سے نیلسنار تک 120 کروڑ روپے کی لاگت سے بن رہی سڑک میں گڑبڑی کے بارے میں بتایا تھا۔
بستر کے صحافی مکیش چندراکر کے قتل معاملہ کو حال ہی میں ان کے ذریعے کی گئی ایک رپورٹ سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ میڈیا تنظیموں نے اس قتل کے بعد صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ قتل کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پچھلی ڈیڑھ دہائی میں ماؤ واد سے مقابلے کے نام پر بستر میں ڈھیر ساری پونجی پہنچی ہے، ٹھیکیدار پنپ چکے ہیں اور بہت سے تعمیراتی کام شروع ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان سے وابستہ منافع کی تار کو ہلانے کی کوئی بھی کوشش مہلک ہوگی۔ اس لیے اس حملہ آور کے پہلے نشانے پر بستر کے صحافی آ جاتے ہیں۔
راج شیکھر کا کام نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے، جس کے دوران انہوں نے دلتوں کے جذبات اور مسائل کی انتھک نمائندگی کی ہے، اپنے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ ذات کی بالادستی کو چیلنج کیا۔ جرنل دلت وائس کو انہوں نے 1981 میں قائم تھا۔ ان کا جرنل ہندوستان کے انسانی حقوق سے محروم سبھی طبقات کے ترجمان کے طور پر کام کرتا تھا۔
کانگریس لیڈر ڈولی شرما نے بی جے پی لیڈر اتل گرگ پر الزام لگائے تھے، جس کی بنیاد پر غازی آباد کے صحافی عمران خان نے اپنے اخبار میں خبر شائع کی تھی۔ یوپی پولیس نے اسے ہتک عزت کا معاملہ مانتے ہوئے عمران کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔
جی ایس ٹی چوری کے مبینہ کیس میں گرفتار سینئر صحافی مہیش لانگا کے خلاف گجرات میری ٹائم بورڈ کے خفیہ دستاویز رکھنے کے الزام میں بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس پر میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو کام کے دوران حساس دستاویز کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے تعزیری کارروائی شروع کرنا تشویشناک ہے۔
احمد آباد میں گرفتار کیے گئے صحافی مہیش لانگا کے وکیل نے کہا ہے کہ جس کمپنی (ڈی اے انٹرپرائز) کا نام ایف آئی آر میں درج ہے، ان کے موکل نہ تو اس کے ڈائریکٹر ہیں اور نہ ہی پروموٹر۔
احمد آباد میں دی ہندو کے صحافی مہیش لانگا کو مبینہ جی ایس ٹی گھوٹالے سے متعلق معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے، حالاں کہ اس سے متعلق ایف آئی آر میں وہ نامزد نہیں ہیں۔ دی ہندو کا کہنا ہے کہ مہیش کی گرفتاری کا ان کی طرف سے کی گئی رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں لگتا ہے۔
جھارکھنڈ کے آزاد صحافی روپیش کمار سنگھ کو 17 جولائی 2022 کو ماؤ نوازوں سے مبینہ تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دو سالوں میں انہوں نے اب تک چار جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ پڑھیے جدوجہد کی یہ کہانی …
اتراکھنڈ پولیس نے انکتا بھنڈاری قتل کیس میں انصاف کے لیے آواز اٹھانے والے آزاد صحافی اور ‘جاگو اتراکھنڈ’ کے مدیر آشوتوش نیگی کو گرفتار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ان جیسے نام نہاد سماجی کارکنوں کی منشا پر شبہ ہے۔ ان کا ایجنڈا انصاف کا حصول نہیں بلکہ معاشرے میں انارکی پھیلانا اور تنازعہ پیدا کرنا ہے۔
مہاراشٹر کے پونے شہر کا واقعہ۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کو ‘بھارت رتن’ سے نوازے جانے کے بعد ان کے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرے کرنے کے لیے واگلے نشانے پر آگئے ہیں۔ واگلے نے اس حوالے سے سوشل سائٹ ایکس پر تبصرہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ہندوستان کا صحافی اس وقت ایودھیا میں بھگوان رام کے ساتھ مصروف ہے۔ اس کو اب حکمران جماعت کے ایجنڈے کو چلانے اور اقتدار میں حکومت کے بجائے اپوزیشن سے سوال کرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی ہے، تو کیسے پڑوسی کا حال دریافت کرنے پہنچ جائے گا۔
ویڈیو: کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے حوالے سے ٹی وی میڈیا میں تقریباً دو دہائی تک کام کر چکے دیاشنکر مشرا کی کتاب کے رسم اجرا کی تقریب میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا اظہار خیال۔
ویڈیو: تقریباً دو دہائیوں تک ٹی وی میڈیا میں کام کرنے والے دیا شنکر مشرا کا کہنا ہے کہ کانگریس کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی پر کتاب لکھنے کا ان کا فیصلہ جس صحافتی ادارے میں وہ کام کرتے تھے اسے پسند نہیں آیا، جس کی وجہ سے انہوں نے یہ نوکری چھوڑ دی۔ ان سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
بک ریویو: 1989 میں انگلینڈ کی صحافی جون اسمتھ کی تحریر کردہ ‘مساجنیز’ زندگی کے ہر شعبے — عدالت سے لے کر سنیما تک میں عام اور رائج خواتین کی تضحیک کی چھان بین کرتی ہے۔ ہندوستانی تناظر میں دیکھیں تو خواتین کی تضحیک کا یہ دائرہ لامحدود نظر آتا ہے۔
آلٹ نیوز کے صحافی محمد زبیر کے خلاف مظفر نگر کے اسکول کے مسلمان طالبعلم کو ساتھی طالبعلموں کے ذریعے زدوکوب کرنے سے متعلق ویڈیو شیئر کرکے طالبعلم کی شناخت ظاہر کرنے کے الزام میں کیس درج کیا گیا ہے۔ زبیر نے اس کو ‘بدلے کی سیاست’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے این سی پی آر کے کہنے کے بعد مذکورہ ویڈیو ہٹا دیا تھا۔
چند سال قبل اپنا یوٹیوب چینل شروع کرنے کے بعد سےتلنگانہ کی فری لانس صحافی تلسی چندو کو آن لائن ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے ویڈیوکی وجہ سے انہیں’اینٹی ہندو’، ‘اربن نکسل’ اور ‘کمیونسٹ’ کے طور پر برانڈ کیا جا رہا ہے۔ اب ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملنے لگی ہیں۔
وفاتیہ: بزرگ صحافی شیتلا سنگھ نہیں رہے۔صحافت میں سات دہائیوں تک سرگرم رہتے ہوئے انہوں نے ملک اور بیرون ملک راست گفتارکی سی امیج اور شہرت حاصل کی اور اپنی صحافت کو اس قدرمعروضی بنائے رکھا کہ مخالفین بھی ان کے پیش کردہ حقائق پر شک و شبہ کی جرأت نہیں کرتے تھے۔
ویڈیو: تقریباً تین ماہ قبل زی نیوز میں اسسٹنٹ نیوز ایڈیٹر کے طور پر کام کرنے والے ددن وشوکرما نے نوئیڈا فلم سٹی میں کئی میڈیا اداروں کے دفاتر کے درمیان ایک اسٹال لگا کر پوہا بیچنے کا شروع کیا ہے اور اس کا نام ‘پترکر پوہا والا’ رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انہیں طویل عرصے تک کسی نے نوکری نہیں دی تو آخر کار انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا سوچا۔ ان کی کہانی۔
واقعہ سنبھل کے بدھ نگر کھنڈوا گاؤں کا ہے، جہاں 11 مارچ کو ثانوی تعلیم کی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) گلاب دیوی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں۔ یہاں ایک مقامی صحافی سنجے رانا نے ان سے گاؤں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے بارے میں سوال کیا۔ اس کے بعد بی جے وائی ایم لیڈر کی شکایت پر رانا کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ویڈیو: صحافی دیویندر کھرے کو 26 فروری کی شام کو اتر پردیش کے شہر جونپور میں نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار دی، جس سے وہ زخمی ہو گئے۔کھرے نے الزام لگایا کہ یہ حملہ بی جے پی کے ضلع صدر پشپ راج سنگھ کے بھائی ریتوراج سنگھ نے کرایا تھا۔ یاقوت علی کی رپورٹ۔
اتر پردیش کے شہر جونپور میں26 فروری کی شام کو ایک نیوز چینل کے نمائندہ دیویندر کھرے پر گولیاں چلائی گئیں، جس میں وہ زخمی ہو گئے۔ ان کی شکایت پر بی جے پی ضلع صدر پشپ راج سنگھ کے بھائی ریتوراج سنگھ اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کے رتناگیری سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار میں مجرمانہ پس منظر والے مقامی لینڈ ایجنٹ کے بارے میں خبر لکھنے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعدششی کانت واریشے نامی صحافی کو اس ایجنٹ نے کار سے کچل دیا، بعد میں شدیدطور پر زخمی صحافی کی ہسپتال میں موت ہوگئی۔
اڈانی گروپ کے ذریعے این ڈی ٹی وی کی حصہ داری خریدنے کے بعد این ڈی ٹی وی انڈیا کے گروپ ایڈیٹر رویش کمار نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو چونی سمجھنے والے جگت سیٹھ ہر ملک میں ہیں۔ اگر وہ دعویٰ کریں کہ وہ صحیح معلومات پہنچاناچاہتے ہیں تواس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی جیب میں ڈالر رکھ کر آپ کی جیب میں چونی ڈالنا چاہتے ہیں۔
سال 2016 میں بہار کے سیوان ضلع میں صحافی راج دیو رنجن کا قتل کر دیا گیا تھا۔ سیوان سے چار بار رکن پارلیامنٹ رہےمرحوم محمد شہاب الدین قتل کے ملزمین میں سے ایک تھے۔ گزشتہ چھ سال سے معاملے میں سی بی آئی کی تحقیقات چل رہی ہے اور رنجن کے اہل خانہ انصاف کے انتظار میں ہیں۔
کیرالہ کی سابق وزیر صحت اور کمیونسٹ پارٹی آف مارکسسٹ کی سینئر لیڈر کے کے شیلجا نے کہا کہ انہوں نےاس ایوارڈکو لینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اسے حاصل کرنے میں انفرادی طور پر کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہیں۔
ہر دو تین ماہ بعد سیکورٹی ایجنسیاں کشمیر میں کسی نہ کسی صحافی کےدروازے پر دستک دینے پہنچ جاتی ہیں،اور یہ منظر خود بخود دوسروں کےذہنوں میں خوف پیدا کر دیتا ہےکہ اگلی باری ان کی ہو سکتی ہے۔
صحافی رعنا ایوب کے جس ٹوئٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے، وہ 9 اپریل 2021 کو پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس میں انہوں نے وارانسی میں گیان واپی مسجد کے سروے کی اجازت دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔