فکر و نظر

بہار کے مظفر پور واقع بالیکا گریہہ میں بچوں سے ریپ  کے معاملے کا اہم ملزم برجیش ٹھاکر۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک / ٹوئٹر)

کیا ’جنگل راج‘ کی اصطلاح صرف غیر بی جےپی حکومت والے صوبوں کے لئے ہی ہے؟

اتنے بڑے اسکینڈل کے باوجود’جنگل راج‘ کااستعمال کہیں نہیں کیا گیا۔ گذشتہ دو دہائیوں سے ایک روایت سی بن گئی تھی کہ جب بھی اتر پردیش یا بہار میں کوئی بڑا جرم یا لاقانونیت کا معاملہ سامنے آتا تھااخبارات اور ٹی وی فوراً اس کو جنگل راج سے تشبیہ دیتے تھے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

کرونا ندھی کے بعد تمل سیاست کا مستقبل

گزشتہ دو سالوں میں تمل ناڈو کے دو اہم سیاسی رہنماوں کا انتقال ہو چکا ہے- ان دنوں صوبہ کے ایک اور اہم سیاسی لیڈر وجے کانت بھی علیل ہیں۔ اس صورت حال میں اندیشہ ہے کہ ان کی پارٹیاں بکھر سکتی ہیں اور قومی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کے لئے جگہ بن سکتی ہے۔

HBB EP 48

خوف سے آزادی مانگتی مائیں

مودی حکومت میں فرقہ وارانہ تشدد اور ماب لنچنگ کا شکار ہوئے لوگوں کے اہل خانہ حکومت سے انصاف مانگنے کے لیے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں13اگست کو جمع ہوئے ۔ ان سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت

فوٹو : پی ٹی آئی

فوج کی بے جا حرکتوں کو ’دیش ہِت‘ کے نام پر نظر انداز کرنا دراصل دیش کے ساتھ غداری ہے

فوج میں بھرتی ہونے والے عام انسان ہیں جنہیں وردی ایک خاص مقصد سے پہنائی جاتی ہے۔ان کی بے جا حرکتوں کو ’دیش ہِت ‘ میں نظر انداز کرنا دراصل دیش کے ساتھ غدّاری ہے۔ عوام کا اعتماد سسٹم میں باقی رہے اس کے لئے قانون نافذ کرنے والوں کو قانون کا پابند بنانا ہی ہوگا۔

فوٹوبشکریہ : فری پریس جرنل

آر کے دھون:جنہوں نے اندرا گاندھی کو نماز پڑھوا دی تھی…

اندرا گاندھی کے دورِ اقتدار میں وہ ایسی شخصیت تھے، جس کا سامنا کیے بنا اندرا گاندھی تک کسی کی رسائی ممکن نہ تھی۔اندرا گاندھی پر دھون کا کتنا اثر تھا، یہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ 1980 کے نصف اواخر میں انہوں نے وزیر اعظم کو نماز تک پڑھوا دی۔

India-Society-Boys-Girls-Reuters-2

ایسی کوئی جگہ نہیں، جہاں بچوں کا جنسی استحصال نہ ہوتا ہو

منسٹری آف وومینز اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کی اسٹڈی ‘چائلڈ ایبیوز ان انڈیا’کے مطابق ہندوستان میں 53.22 فیصد بچوں کے ساتھ ایک یا ایک سے زیادہ طرح کی جنسی بد سلوکی اور زیادتی ہوئی ہے۔ ایسے میں کون کہہ سکتا ہے کہ میرے گھر میں بچوں کا جنسی استحصال نہیں ہوا؟

Narendra-Modi-Amit-Shah-Media1-1200x600

نریندر مودی اور امت شاہ کیسے اور کیوں کر رہے ہیں میڈیا کی نگرانی

مانیٹرنگ کےطریقوں پر غور کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مانیٹرنگ کا چہرہ مودی حکومت کی ہی دین ہے ایسا نہیں ہے،لیکن مودی حکومت کے دور میں مانیٹرنگ کے معنی اور مانیٹرنگ کے ذریعہ میڈیا پر نکیل کسنے کا انداز ہی سب سے اہم ہو گیا ہے۔

Credit: Valay Singh

بڑھتی بے روزگاری اور معاشی ترقی ، آخر کھیل کیا ہے ؟

سرکاری خزانے میں یہ بے روزگار نوجوان کتنا مالی تعاون دیتے ہیں۔مدھیہ پردیش کے ویاپم گھپلے کے دوران یہ راز فاش ہو اتھا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں تقریباً86 لاکھ بے روزگاروں نے مختلف سرکاری نوکریوں کے لئے جو فارم بھرے تھے اس فارم کی فیس سے حکومت کو چار سو تیس کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔

HBB EP 47

ویڈیو: کیا دفعہ 35اے ہٹانے پر ہندوستان سے کشمیر کا رشتہ ٹوٹ جائے گا؟

ویڈیو: ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیے آئین کی دفعہ 35 اے اور دفعہ 377 میں کیا فرق ہے اور سپریم کورٹ میں اس کو کیوں چیلنج کیا جا رہا ہے؟ اس موضوع پر ایئر مارشل کپل کاک اور کشمیر پر مرکزی حکومت کے سابق مذاکرہ کار ایم ایم انصاری سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

ماسٹراسٹروک پروگرام

اے بی پی نیوز سے استعفیٰ کی کہانی، پنیہ پرسون باجپئی کی زبانی

اپنے اس مضمون میں ماسٹراسٹروک پروگرام کے اینکررہے پنیہ پرسون باجپئی ان واقعات کے بارے میں تفصیل سے بتا رہے ہیں جن کی وجہ سےاے بی پی نیوز چینل کے منیجمنٹ نے مودی حکومت کے آگے گھٹنے ٹیک دئے اور ان کو استعفیٰ دینا پڑا۔

مظفر پور بالیکا گریہہ میں بچیوں کے ساتھ ریپ  معاملے کے اہم ملزم برجیش ٹھاکر، اخبار پراتہہ کمل اور وزیراعلیٰ نتیش  کمار۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک / رائٹرس)

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ : کیس درج ہوجانے کے باوجود ملتا رہا کلیدی ملزم کے اخبار کو سرکاری اشتہار

ایک جون سے 14 جون تک بہار کے محکمہ اطلاعات وعوامی رابطہ کی طرف سے اہم ملزم برجیش ٹھاکر کے اخبار ‘ پراتہہ کمل ‘ کے نام 14 اشتہار جاری کئے گئے۔ محکمہ اطلاعات وعوامی رابطہ کو خود وزیراعلیٰ نتیش کمار سنبھالتے ہیں۔

علامتی تصویر/فوٹو: رائٹرز

رویش کا بلاگ : نوجوانوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ روزگار کو لےکر اُن کے وزیر اعظم کا نظریہ کیا ہے ؟

ہندوستانی نوجوان پرماننٹ روزگار کی تیاری میں جوانی کے پانچ پانچ سال ہون کر رہے ہیں۔ان سے یہ بات کیوں نہیں کہی جا رہی ہے کہ روزگار کا چہرہ بدل گیا ہے۔ اب عارضی کام ہی روزگار کا نیا چہرہ ہوگا۔

maratha-rally-carousel

مسلم ریزرویشن کو لے کر  مراٹھوں کا رویہ سوتیلا کیوں؟

ریاست میں ہرکوئی مراٹھا ریزرویشن کی بات کر رہا ہے۔ فڈنویس حکومت نے مراٹھا ریزرویشن پر صلاح مشورہ کرنے کے لئے کئی کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ لیکن کسی بھی ہائی کورٹ نے مسلمانوں کو دئےریزرویشن کی بات نہیں کی ۔ یہاں تک کہ 2015 میں مسلم ریزرویشن کو لےکر مارچ کا انعقاد کرنے والے امتیاز جلیل بھی اس بار اپنی مانگ قانون ساز مجلس کی میز پر پوری طاقت کے ساتھ نہیں رکھ پائے۔

گزشتہ دنوں سماجی کارکن سوامی اگنیویش کے ساتھ جھارکھنڈ کے پاکڑ میں مارپیٹ کی گئی تھی۔  (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

جھارکھنڈ میں سماجی کارکنوں پر حملے کیوں بڑھ رہے ہیں؟

جھارکھنڈ میں سماجی کارکنوں کو ان دنوں کئی طرح کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی لوگوں پر مقدمہ درج ہوئے ہیں تو کچھ لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔ وہیں، سوامی اگنیویش جیسے سماجی کارکن کے ساتھ مارپیٹ کی گئی ہے۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: ریلوے میں چوری ڈکیتی ڈبل ہوئی ہے اور وزیر ریل تعریف کے ری ٹوئٹ کرتے نہیں تھک رہے

وزیر ریل کے ٹوئٹر ہینڈل پر جاکر دیکھیے ۔وہ انہی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہیں جس میں مسافر تعریف کرتے ہیں۔ مگر سیکڑوں کی تعداد میں طالب علم امتحان کے سینٹر کو لےکر شکایت کر رہے ہیں،ان پر کوئی رد عمل نہیں ہے۔

انل امبانی اور گوتم اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو بشکریہ : ٹوئٹر)

گاندھی اور  بڑلا کے رشتوں کا موازنہ کرنے سے پہلے مودی کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے

کیا گاندھی،جی ڈی بڑلا کے کسی کھدائی پروجیکٹ کی وجہ سے لوگوں کو ہٹانے کے لئے سرکاری نظام کے ذریعےہو رہے تشدد کی حمایت کرتے؟ گاندھی-بڑلا کے رشتے کو کسی جوابی حملے کی طرح استعمال کرنے کے بجائے وزیر اعظم کو اس پر گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

Imran-Khan-Pakistan-reuters

جب عمران خان کی وجہ سے  تہاڑ جیل میں مجھے  ڈنڈےپڑے…

سپاہیوں،سزا یافتہ اور پرانے زیر سماعت قیدیوں کی فوج نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے خوب تواضع کی۔عمران خان نے کپل دیو کی گیندوں پر جب جب چھکے اور چوکے لگائے تھے یا جب سنیل گواسکر کو آؤٹ کیا تھا، اس کی یاد دہانی کرواکے ڈنڈے برس رہے تھے۔

Collage_muslim-Mob-Violence

کیا بیف کے بہانے آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار ماب لنچنگ کو جائز ٹھہرا رہےہیں؟

اندریش کماراور ان جیسوں کے رد عمل پر حیرت نہیں ہوتی لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن اور حدیث کا حوالہ دے کر جھوٹ گڑھ رہے ہیں اور ان کے ارد گرد بیٹھے مدرسوں کے فارغین عالم فاضل لوگ خاموش ہیں تو حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو : پی ٹی آئی)

وزیر اعظم نے عوام سے 60 مہینے مانگے تھے، 50 ہوابازی میں گزرا دیے!

‘ چتر ‘وزیر اعظم نے انتخاب کے لئے طےشدہ وقت سے پہلے ہی خود کو اپنی پارٹی کےانتخابی مہم کی قیادت والے لیڈر کی صورت میں بدل لیا ہے۔ سرکاری نظام اور حمایتی میڈیا کی ہمنوائی کے ذریعے عوام کو یہ یقین کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت خوب کام کر رہی ہے۔