فکر و نظر

فوٹو: پی ٹی آئی

ملائم کا مودی کے متعلق بیان: کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ؟

ملائم سنگھ یادو کے اس تیر کا اصل نشانہ وہ شخصیت تھی، جو ان کے پاس ہی بیٹھی تھی۔اب کانگریس اتر پردیش میں پرینکا کی قیادت میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو اس سے ملائم سنگھ یادو کا فکرمند ہونا ایک فطری امر ہے۔

فوٹو: رائٹرس

پلواما حملے سے حکومت ہند کو کیا سبق لینا چاہیے؟

یہ حملہ کشمیر کی جدو جہد سے نپٹنے کے لئے بنائی گئیں غلط پالیسیوں اور کارروائیوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے حفاظتی دستوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کو مارے جانے کو ہی لشکری پالیسی کی کامیابی مان لی گئی تھی ۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ایسا کیا ہے جس نے کشمیر کو’جنازوں کا شہر‘ بنا دیا ہے؟

اگر جذباتی ہو کر نعرے لگانے اور گالیاں بکنے سے فرصت مل جائے تو اپنے حکمرانوں سے پوچھیے کہ کشمیر کو لے کر ان کی پالیسی کیا ہے؟ کیوں کشمیر آج بھی’جنازوں کا شہر‘ بنا ہوا ہے؟ کیا آپ پوچھ سکتے ہیں؟ شاید نہیں کیونکہ آپ کے اندر ہندو مسلم کا اتنا زہر بھر دیا گیا ہے کہ آپ اس سے اٹھ کر سوچ ہی نہیں سکتے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

لداخ کوالگ ڈویژن کا درجہ: کیا ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا بیج بویا جا رہا ہے؟

گورنر ستیہ پال ملک نے 8؍ فروری کو ایک اہم اور سیاسی طورپر حساس فیصلے میں لداخ خطے کو علاحدہ ڈویژن بنانے کاحکم جاری کیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ریاست کے دُور دراز کے خطوں کی ترقی کا بہانہ ایک طرف ، مرکز سوچے سمجھے منصوبےکے تحت ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دہلی میں 9 دسمبر 2018 کو رام مندر کے لئے وشو ہندو پریشد کی دھرم سبھا میں کارکنان (فوٹو : رائٹرس)

وی ایچ پی کے لوک سبھا انتخاب تک رام مندر تحریک کو روکنے کی وجہ عقیدہ نہیں سیاست ہے

وشو ہندو پریشد کو اپنی رام مندر تحریک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی مہم سے بی جے پی کو سیاسی فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کو لےکر کسی بھی طرح کی شدت پسندی مودی حکومت کے خلاف جائے‌گی، اس لئے اس نے مدافعتی رویہ اختیار کرتے ہوئے کچھوے کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں سمیٹ لئے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رام چندر گہا کا کالم: جب ٹورنٹو میں میری ملاقات جارج فرنانڈیز کے ’ایرانی بیٹے‘ سے ہوئی…

عام مغالطہ یہ ہے کہ اقتدار کے لالچ میں جارج فرنانڈیز این ڈی اے سے چپکے رہے؛ لیکن اس معاملے میں اندرا گاندھی والی کانگریس سے ان کی دائمی مخاصمت کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے۔

فوٹو: رائٹرس

ویڈیو: کیا اے ایم یو کو جے این یو کی طرح نشانہ بنایا جارہا ہے؟

ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حالیہ تنازعہ پر دی وائر کے بیورو چیف رگھو کرناڈ اور اے ایم یواسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر مشکوراحمد عثمانی سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت ۔

فوٹو بہ شکریہ، اسماء انجم خان

کیا آپ نے فاطمہ انیس کے بارے میں سنا ہے؟

فاطمہ انیس صاحبہ ماہِر تعلیم، کالم نِگار ، سابِق پِرنسپل انجمن خیرالاسلام گرلز ہائی اِسکول، مدن پورہ ،ممبئی اور سابق نائب مئیر شہر شولا پور ،جو بہ حُسنِ اِتفاق شہر شولاپور سے میٹرِک پاس کرنے والی پہلی خاتُون بنیں۔

Mehbooba Mufti

کشمیر : کیا محبوبہ مفتی بکھر رہی پی ڈی پی کو سمیٹ پائیں گی ؟

پارٹی چھوڑنے کے بڑھتے رجحان ، گورنر اور حریف جماعتوں کی الزا م تراشی ، عسکری تنظیموں کی لوگوں کو محبوبہ کو گھروں میں نہ آنے دینے کی اپیل اور سخت عوامی غم و غصے کے درمیان محبوبہ مفتی کس طرح اپنی پارٹی کوسمیٹ پائیں گی اور انتخابات میں کون سے مدعے لے کر عوام کے بیچ جائیں گی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

فوٹو: رائٹرس

رویش کا بلاگ: دی ہندو کی رپورٹ سے اٹھا سوال، کس کے لئے رافیل ڈیل میں ڈیلر اور کمیشن خور پر مہربانی کی گئی؟

آخر مودی حکومت فرانس کی دونوں کمپنیوں کو بد عنوانی کی حالت میں کارروائی سے کیوں بچا رہی تھی؟ اب مودی جی ہی بتا سکتے ہیں کہ بد عنوانی ہونے پر سزا نہ دینے کی مہربانی انہوں نے کیوں کی۔ کس کے لئے کی۔

پرینکا گاندھی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

پرینکا گاندھی کا کرشمہ بھی یوپی میں کانگریس کو ہار سے نہیں بچا سکتا

ہندوستانی سیاست میں کرشمائی قیادت نے کئی کرشمے دکھائے ہیں، لیکن کسی بھی دور میں کرشمہ کے مقابلے زمینی فارمولے اور کمیونٹیز کی صف بندیاں زیادہ مؤثر رہی ہیں۔ فی الحال کانگریس کم سے کم یوپی میں تو ان دونوں مورچوں پر پچھڑتی نظر آ رہی ہے۔

PK Video.00_15_25_03.Still004

ہم بھی بھارت: رابرٹ واڈرا سے پوچھ تاچھ یا بی جے پی کی انتخابی تشہیر

ویڈیو: گزشتہ دو دنوں سے کانگریس رہنما پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ واڈرا سے منی لانڈرنگ اور بےنامی جائیداد کے معاملے میں ای ڈی پوچھ تاچھ کر رہا ہے۔ عام انتخابات سے کچھ ہی ہفتوں پہلے اس جانچ کی شروعات کرنا کیا سیاسی بدلے کے جذبے سے متاثر ہے۔ عارفہ خانم شیروانی سینئر صحافی ونود شرما اور صحافی روہنی سنگھ سے بات چیت کر رہی ہیں۔

فوٹو: رائٹرس

ویڈیو: رافیل ڈیل میں پی ایم اوکا دخل اور وزارت دفاع کا اعتراض

ویڈیو: ایک میڈیا رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رافیل ڈیل میں پی ایم او کے دخل پر وزارت دفاع نے اعتراض کیا تھا۔ دی وائر کے ذریعے بھی اس سال جنوری میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزارت دفاع کے رافیل ڈیل کی شرطوں کو لے کر وزیراعظم دفتر سمجھوتہ کر رہا تھا۔ اس معاملے پر دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو سے اجئے آشیرواد کی بات چیت۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: رافیل معاملے میں امبانی کے لئے وزیر اعظم نے وزارت دفاع اور سپریم کورٹ سے جھوٹ بولا

دی ہندو میں این رام نے جو نوٹ چھاپا ہے وہ کافی ہے وزیر اعظم مودی کے کردار کو صاف صاف پکڑنے کے لئے۔ یہی نہیں حکومت نے اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ سے بھی یہ بات چھپائی ہے کہ اس ڈیل میں وزیر اعظم دفتر بھی شامل تھا۔

George-Fernandes-PTI

جب وزیر دفاع رہتے ہوئے جارج فرنانڈیز کو پولیس نے کھدیڑ دیا تھا…

آج کے ہندوستان میں شاید ہی کوئی تصور کرسکے کہ کونکنی بولنے والا جنوب کا ایک عیسائی اس حد تک سیاست پر اثر انداز ہوسکے کہ وہ بمبئی میں طاقتور کانگریسی لیڈروں کا تختہ پلٹ دے اور پھر آٹھ بار مسلسل بہار جیسے صوبہ سے لوک سبھا کی نمائندگی کرے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، مکیش امبانی اور کانگریس صدر راہل گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس / ٹوئٹر)

کیوں ملک کی سیاسی اور اقتصادی طاقت کچھ خاندانوں تک سمٹ‌کر رہ گئی ہے

کیا اگلے عام انتخاب میں مودی حکومت یا مہاگٹھ بندھن میں سے کوئی رہنما یا جماعت اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کر سکتی ہے کہ وہ ملک کےعوام کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولت دینے کی آئینی ذمہ داری نبھانے کے لئے 2019 سے ملک کے ارب پتیوں اور امیروں پر مناسب ٹیکس لگانے کا کام کرے‌گی؟

Narendra-Modi-Pareeksha-Pe-Charcha-PIB

رویش کا بلاگ: کیا وزیر اعظم کو نہیں معلوم  کہ ڈپریشن بورڈ اگزام کی وجہ سے نہیں تعلیمی صورت حال کی وجہ سے ہے

ملک کے سرکاری اسکولوں میں دس لاکھ اساتذہ نہیں ہیں۔ کالجوں میں ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی کمی بتائی جاتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں آٹھویں کے بچّے تیسری کی کتاب نہیں پڑھ پاتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ ڈپریشن سے گزریں‌گے کیونکہ اس کے ذمہ دار بچّے نہیں، وہ سسٹم ہے جس کو پڑھانے کا کام دیا گیا ہے۔

Mahatma-Gandhi-PTI

مہاتما گاندھی کے پرسنل سکریٹری وی کلیانم کی زبانی’گاندھی جی کا آ خری دن‘

ایسا عام طور پر کہا جا تا ہے کہ گاندھی جی جب آ خری سانس لے رہے تھے تو انہوں نے ’’ہے رام‘‘ پکارا۔مگر سچ یہ ہے کہ جب گاندھی جی کو گولی لگی، تب ان کی زبان سے ایک لفظ کا ادا ہونا بھی ممکن نہیں تھا۔یہ فرضی بات کسی منچلے رپورٹر نے لکھ دی اور دیکھتے دیکھتے پوری دنیا نے اس کو سچ مان لیا۔