گزشتہ 22نومبر کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام ضلع حکام کو مبینہ ‘دراندازوں’ کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اب لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے ایک کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس میں سب سے پہلےآسام سے آنے والے اور چھوٹے موٹے کام کر کے روزی کمانے والے 50 سے زیادہ خاندان نشانےپر آ گئے ہیں۔
چالیس سال بعد سوال اب یہ نہیں ہےکہ نیلی میں کیا ہوا؟ بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان اب اس کھلے سچ کے ساتھ کیا کرے گا؟ اگر نیلی کے قاتل سزا پاتے، تو 1984 کا سکھ مخالف قتل عام شاید نہ ہوتا۔ اور اگر سکھوں کے قاتلوں کو فوری سزا ملتی، تو 2002 کے گجرات کے مسلم کش فسادات شاید نہ ہوتے۔ یہ صرف تاریخ نہیں، بلکہ سبق ہے۔
مذہبی آزادی سے متعلق یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم کےتازہ اپڈیٹ بریف میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی حکمران بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کااتحاد ‘امتیازی’ قوانین کو فروغ دیتا ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2025 کو بی جے پی آسام یونٹ نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کیا، جس میں یہ ‘گمراہ کن اور جھوٹا بیانیہ’ پیش کیا گیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں نہیں رہی تو مسلمان آسام پر قبضہ کر لیں گے۔ اس ویڈیو کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آسام کانگریس نے ریاستی بی جے پی کے خلاف پارٹی کے سوشل میڈیا ہینڈل پر پوسٹ کیے گئے ایک اے آئی ویڈیو پر شکایت درج کرائی ہے۔ کانگریس نے بی جے پی کے سوشل میڈیا سیل پر فرقہ وارانہ بدامنی کو بھڑکانے، مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور بوڈو لینڈ ٹیریٹورل کونسل (بی ٹی سی) کے انتخابات کے لیے نافذ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
سیدہ حمید کے پاس آسام کی بے حدخوبصورت یادیں ہیں۔لیکن آج اچانک انہیں یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ وہ عورت ہیں اور مسلمان ہیں۔ان کی تکلیف کون محسوس کرنا چاہتا ہے؟
سی اے اے کا حوالہ دیتے ہوئے آسام حکومت نے ضلع حکام اور فارنرز ٹربیونلز کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے ریاست میں داخل ہونے والے ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور پارسی کے کے خلاف مقدمات واپس لیں ۔
بنگلہ دیش سے آئے مبینہ شہریوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے درمیان سینکڑوں بنگالی اور آسامی مزدوروں کو گروگرام پولیس نے حراست میں لے کر ‘ہولڈنگ سینٹر’ میں رکھا ہے۔ ان میں زیادہ تر مرد ہیں۔ صرف 19 جولائی کو 74 مزدوروں کو حراست میں لیا گیا۔
آسام کے حکام نے الیکشن کمیشن کو بتایا ہے کہ چونکہ یہ واحد ریاست ہے جس نے پہلے ہی این آر سی کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے، اس لیے جب بھی الیکشن کمیشن ریاست کی انتخابی فہرست کے ایس آئی آر کے لیے اہلیت کے دستاویز کی فہرست کو حتمی شکل دے تو اس کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے جمعہ کو دھبری میں رات کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ 7 جون کو دھبری کے ہنومان مندر میں ایک جانور کا کٹا ہوا سر ملا تھا، جس کے بعد سے وہاں حالات کشیدہ ہیں۔
آسام سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے 10 ویں کلاس کے سوشل سائنس کے امتحان میں ایک سوال پوچھا گیا تھا؛ ‘فرض کریں کہ حکومت کسی گاؤں میں ایک اسپتال بناتی ہے جہاں ہندوؤں کا مفت علاج ہو اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اس کا خرچ خود اٹھانا پڑے۔ کیا ہندوستان جیسے ملک میں حکومت ایسا کر سکتی ہے؟ اپنی رائے دیں۔’ کئی لوگوں نے اسے تفرقہ انگیز قرار دیا ہے۔
اب آسام میں آدھار کارڈ جاری کرنے کے لیے این آر سی درخواست نمبر دینا ہوگا۔ چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ بنگلہ دیش سے دراندازی تشویشناک ہے، اسی لیے ہمیں اپنے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ویڈیو: پچھلے ہفتے سپریم کورٹ نے شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 6 اے کے آئینی جواز کو برقرار رکھا۔ یہ دفعہ آسام آنے والے تارکین وطن کو ہندوستانی شہریت دینے کی کٹ آف طے کرنے سے متعلق ہے۔ اس کے اثرات کے بارے میں دی وائر کی نیشنل افیئرز کی ایڈیٹر سنگیتا بروآ پیشاروتی سے میناکشی تیواری کی بات چیت۔
مذہبی آزادی سے متعلق اپنی 2024 کی سالانہ رپورٹ میں امریکی کمیشن نے ہندوستان کو ‘مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے’ کے لیے ‘خصوصی تشویش والے ملک’ کے طور پر فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستان نے کمیشن کو ایجنڈے والا متعصب ادارہ قرار دیا ہے۔
‘بلڈوزرکارروائی’ کے خلاف دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ جب تک اس سلسلے میں رہنما خطوط طے نہیں ہو جاتے، تب تک اس کے سابقہ فیصلے کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں پر پابندی جاری رہے گی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے بلڈوزر کارروائی پر عبوری روک لگائے جانے کے باوجود آسام میں 47 لوگوں کے گھروں پرسرکار کی ہدایت پر بلڈوزر چلائے گئے، جس کے بعد ان لوگوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اس کارروائی کو آرٹیکل 14، 15 اور 21 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کہا ہے۔
منی پور میں تشدد کے درمیان کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے دیگر ریاستوں میں سیاسی ریلیاں کر رہے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کے اس رویے کو آئینی ذمہ داریوں سے منھ موڑنا قرار دیا ہے۔
یہ شکایت آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھوپین بورا اور آسام جاتیہ پریشد کے لورین جیوتی گگوئی نے متحدہ اپوزیشن فورم کی جانب سے درج کرائی ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ میاں مسلمانوں کو آسام پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔
گزشتہ ہفتے ہمنتا بسوا سرما نے گوہاٹی میں آئے اچانک سیلاب کے لیے میگھالیہ کے ری-بھوئی ضلع میں واقع میگھالیہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے تعمیراتی کام کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کا گیٹ ‘مکہ’ جیسا بنایا گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سنتوش گنگوار کو جھارکھنڈ کا گورنر بنایا گیا ہے۔ چھ بار کے ایم پی گنگوار کو لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہیں ملا تھا۔ ان کے علاوہ تریپورہ کے سابق نائب وزیر اعلیٰ جشنو دیو ورما، سابق راجیہ سبھا ایم پی او پی ماتھر، سابق لوک سبھا ایم پی سی ایچ وجئے شنکر کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔
سال 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق کیس میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکالر شرجیل امام اور دیگر کی درخواست ضمانت پر شنوائی کر رہی دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس پرتبھا سنگھ اور جسٹس امت شرما کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ معاملے کو ایسی بنچ کے سامنے درج کیا جائے جس کے ممبرجسٹس شرما نہ ہوں۔
منی پور کے جیری بام ضلع میں 6 جون کو ایک شخص کے وحشیانہ قتل کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا، جہاں ایک مشتعل ہجوم نے دو پولیس چوکیوں، محکمہ جنگلات کے ایک دفتر اور کم از کم 70 گھروں کو نذر آتش کر دیا تھا، تشدد کے بعد تقریباً 2000 لوگوں نے آسام میں پناہ لی ہے۔
آئی آئی ٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے شرجیل امام جنوری 2020 سے جیل میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ سے سیڈیشن کے ایک معاملےمیں ضمانت ملنے کے باوجود وہ جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ ان پر دہلی فسادات سے متعلق ایک کیس میں یو اے پی اے کے تحت الزام لگائے گئے ہیں۔
کریم گنج پارلیامانی حلقہ کے ایک مسلم اکثریتی گاؤں کے لوگوں نے آسام کے محکمہ جنگلات کے افسران اور ملازمین پر الزام لگایا ہے کہ وہ انہیں مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے یا ‘بلڈوزر کارروائی’ کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
لوک سبھا انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 26 اپریل کو آسام، بہار، چھتیس گڑھ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، منی پور، راجستھان، تریپورہ، اتر پردیش، مغربی بنگال اور جموں و کشمیر کی کل 89 سیٹوں پر ووٹنگ ہونی ہے۔ اس مرحلے میں نریندر مودی کابینہ کے تین وزراء، دو سابق وزرائے اعلیٰ، دو سابق وزرائے اعلیٰ کے بیٹوں سمیت کئی بڑے لیڈروں کی عزت داؤ پر ہے۔
ویڈیو: ہمنتا بسوا شرما کی قیادت والی آسام کی بی جے پی حکومت پر لگاتارفرقہ پرستی کو بڑھانے کا الزام لگتا رہا ہے اور لوک سبھا انتخابات سے پہلے ان کے مختلف بیان اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ دوسری جانب سی اے اے قوانین کو مطلع کیے جانے کے بعد مقامی لوگ ناراض ہیں اور اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ وہاں کے انتخابات میں کون سے ایشوز مؤثر ہوں گے، اس بارے میں دی وائر کی سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی سے بات کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے مسلم کمیونٹی سے کہا تھا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ مقامی باشندوں (نیٹو) جیسا سلوک کیا جائے تو انہیں آسامی ثقافت پر عمل کرنا چاہیے۔ مقامی باشندہ ہونے کے لیے وہاں کے کلچر کو قبول کرنا ہوگا۔
دی وائر کے ساتھ ایک انٹرویو میں آسام کانگریس کے صدر بھوپین بورا نے کہا کہ چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما کے ایجنٹ پارٹی کے اندر ہیں، وہ یہ بات جانتے ہیں اور وہ ہمنتا سے پاک کانگریس چاہتے ہیں۔
ویڈیو: لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے شہریت ترمیمی ایکٹ کے قوانین کے نوٹیفائی ہونے کے بعد آسام میں اس کی کافی مخالفت ہو رہی ہے، وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی اسے تفرقہ انگیز قرار دیتے ہوئےلاگونہیں کرنے کی بات کہہ چکی ہیں۔ اس موضوع پر دی وائر کی بیورو چیف سنگیتا بروآ پیشاروتی سے بات کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔
آئی آئی ٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے شرجیل امام جنوری 2020 سے جیل میں ہیں۔ ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ شرجیل کو سول سوسائٹی گروپس اور سرکردہ سیاسی کارکنوں کی حمایت نہیں ملی ہے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اعلان کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور راجیہ سبھا ایم پی رنجن گگوئی کو آسام کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ‘آسام ویبھو’ سے نوازا جائے گا۔ 2019 میں گگوئی کی سربراہی والی بنچ نے رام جنم بھومی-بابری مسجد ملکیت تنازعہ میں مندر کے حق میں تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا شرما نے کہا کہ ریاست میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کو دوبارہ کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ پچھلے این آر سی میں بہت سے عوامل تھے، جس کی وجہ سے ہم اسے صحیح طریقے سے نہیں کر سکے۔ آسام میں حالیہ حد بندی کے عمل پر انہوں نے کہا کہ 126 سیٹوں میں سے تقریباً 97 سیٹیں مقامی لوگوں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔
بی جے پی کی قیادت والی آسام حکومت نے 1281 سرکاری مدارس کا نام بدل کر مڈل انگلش (ایم ای) اسکول کر دیا ہے۔ ریاستی وزیر تعلیم رنوج پیگو نے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کے تعلیمی نظام میں یکسانیت اور شمولیت کو فروغ دینے کے لیے لیا گیا ہے۔
ویڈیو: پرائیڈ ایسٹ انٹرٹینمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کی ملکیت آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے خاندان کے پاس ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت نے اس کے ایک فوڈ پروسیسنگ پروجیکٹ کے لیے 10 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی تھی۔ تاہم وزیر اعلیٰ اس سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔
سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ یہ میاں ہیں، جو زیادہ نرخوں پر سبزیاں فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فلائی اوور کے نیچے موجود سبزی منڈیوں کو خالی کرا دیں گے، تاکہ ‘آسامی لڑکوں’ کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔
ویڈیو: امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ دنوں ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف ‘نشانہ بنا کر کیے جا رہے مسلسل حملوں’ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ہولو کاسٹ میوزیم ہندوستان کو ’نسل کشی کے امکانات والے ممالک’ کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس موضوع پر صحافی،رائٹر اور ایمنیسٹی انڈیا کے سربراہ آکار پٹیل سے بات چیت۔
آسام کےنامورصحافی پراگ کمار داس کی یاد میں یہ ایوارڈ ہر سال آسام کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو دیا جاتا ہے۔ دی وائر کی نیشنل افیئرز ایڈیٹر سنگیتا بروآ پیساروتی اس ایوارڈ سے سرفراز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی آئندہ ماہ واشنگٹن کے دورے پر جانے والے ہیں،اس سے پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف ہدف بناکر کیے جانے والےمسلسل حملوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ہولوکاسٹ میوزیم ہندوستان کو’نسل کشی کے امکانات والے ممالک’ کے طور پر دیکھتا ہے۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2022 میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال بدتر ہوتی چلی گئی۔ ریاستی اور مقامی سطحوں پر مذہبی طور پرامتیازی پالیسیوں کو فروغ دیا گیا۔
جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل نے کہا کہ سلچر حراستی مرکز سے 87 قیدیوں کے آخری گروپ کو مرکز کی ہدایات پر بنے ملک کے سب سے بڑے حراستی مرکز- مٹیا ٹرانزٹ کیمپ لے جایا گیا ہے ۔ اب سے ریاست کی چھ جیلوں- کوکراجھار، گوآلپاڑہ، تیز پور، سلچر، ڈبروگڑھ اور جورہاٹ میں بنے حراستی مراکز ختم ہو جائیں گے۔