BJP

لوک سبھا میں اپنی پہلی تقریر میں پرینکا گاندھی نے حکومت پر ڈر پھیلانے کا الزام لگایا

لوک سبھا میں اپنی پہلی تقریر میں پرینکا گاندھی واڈرا نے آئین، ریزرویشن اور ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملوں پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ 1975 کی ایمرجنسی کا ذکر کرتے ہوئے پرینکا نے سبق لینے کی بات کہی اور آئین کے تحفظ پر زور دیا۔

 گجرات ’پونزی‘ اسکیم گھوٹالے کا ملزم بی جے پی ممبر، بڑے لیڈروں کا قریبی

بھوپیندر سنگھ جھالا بی جے پی کارکن ہیں اور ان کی تصویریں گجرات کے وزیر اعلیٰ سمیت بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ نظر آتی رہی ہیں۔ وہ بی جے پی کو بھاری چندہ بھی دے چکے ہیں۔ رہنماؤں کے ساتھ یہ نزدیکی ان کی اسکیم کے نفاذ کو آسان بناتی تھی۔

یوم دستور: آئین کے دیباچے سے لفظ ’سیکولر‘ کو ہٹانے کا مطالبہ ملک کے لیے خطرے کی علامت

آئین کی تمہید سے لفظ ‘سیکولر’ اور ‘سوشلزم’ کو ہٹانے کا مطالبہ جمہوریت اور آئین کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ الفاظ میں تبدیلی کے بجائے اپنی ذہنیت میں تبدیلی کا سامان کیا جانا چاہیے۔

یوم دستور: اگر ملک آر ایس ایس کی مرضی کے مطابق چلتا رہا تو ہمارا آئینی ڈھانچہ کیا ہوگا؟

امبیڈکر کا کہنا تھا کہ ہندو راج اس ملک کے لیے سب سے بڑی آفت ہوگی کیونکہ ہندو راشٹر کا خواب آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے خلاف ہے اور یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔

یوپی: بی جے پی ایم ایل اے نے ضمنی انتخابات میں گڑبڑی کی خبر دینے والے مسلمان صحافیوں کی فہرست جاری کی

الیکشن کمیشن نے یوپی میں ضمنی انتخاب کی ووٹنگ کے دوران بڑے پیمانے پر پولیس کی بدسلوکی اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات کے بعد پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا۔ اس دوران بی جے پی ایم ایل اے شلبھ منی ترپاٹھی اس کی رپورٹنگ کرنے والے مسلمان صحافیوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے اسے ‘میڈیا جہاد’ کا نام دے رہے تھے۔

ہسدیو میں اڈانی کی چال: آدی واسیوں کے درمیان پھوٹ ڈالو کی پالیسی اپنا کر مزاحمت کو دبانے کی کوشش

چھتیس گڑھ میں کوئلے کی کانوں کے خلاف آدی واسیوں کی مزاحمت کو روکنے کے لیے اڈانی گروپ نے ان کے ہی علاقے کے لوگوں کو کوآرڈینیٹر بنا دیا ہے۔ وہ گاؤں والوں کے سامنے کمپنی کی بات رکھتے ہیں، گاؤں والوں کو بغیر احتجاج کے معاوضہ قبول کرنے اور مظاہرہ سے دور رہنے کے لیے راضی کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے قبائلی سماج کو تقسیم کر دیا ہے۔

منی پور: بی جے پی ایم ایل اے نے کہا- سی ایم بیرین سنگھ جھوٹے ہیں، ان کی نیت پر بھروسہ نہیں

منی پور کے بی جے پی ایم ایل اے پاؤلن لال ہاؤکیپ نے ایک انٹرویو میں سی ایم بیرین سنگھ کو تشدد کو روکنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایوان میں اعتماد کے ووٹ کی ضرورت پڑی تو وہ اور ان کے ساتھی دیگر چھ بی جے پی کُکی ایم ایل اے بھی بیرین سنگھ حکومت کی حمایت نہیں کریں گے۔

بی جے پی ایم پی کو لینڈ مافیا لکھنے والے اخبار کے مدیر عمران خان کو ہوئی جیل

کانگریس لیڈر ڈولی شرما نے بی جے پی لیڈر اتل گرگ پر الزام لگائے تھے، جس کی بنیاد پر غازی آباد کے صحافی عمران خان نے اپنے اخبار میں خبر شائع کی تھی۔ یوپی پولیس نے اسے ہتک عزت کا معاملہ مانتے ہوئے عمران کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔

بہرائچ: اتر پردیش کا سب سے غریب ضلع دنگے کی آگ میں کیوں جھلسا؟

نیتی آیوگ کے مطابق، بہرائچ اتر پردیش کا غریب ترین ضلع ہے، جس میں کل آبادی کے 55 فیصد لوگ غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ لیکن حالیہ دہائیوں میں تیزی سے طاقتور ہوتے گئے ہندوتوا کو یہ المناک یا توہین آمیز نہیں لگتا۔

یوپی: بہرائچ میں کشیدگی کو ہوا دیتے ہوئے بی جے پی ایم ایل اے نے مسلمان صحافیوں کو نشانہ بنایا

گزشتہ 13 اکتوبر کو بہرائچ کے مہاراج گنج علاقے میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں گوپال مشرا نامی ایک ہندو نوجوان کی گولی لگنے سے موت ہوگئی اور کئی دیگرزخمی ہو گئے۔ سوموار کو مشتعل ہجوم نے مشرا کی موت کے خلاف احتجاج کیا اور دکانوں، گاڑیوں، ایک نجی اسپتال اور دیگر املاک کو آگ کے حوالے کر دیا۔ اسی دوران، بی جے پی ایم ایل اے نے سوشل میڈیا پر مسلمان صحافیوں کی فہرست شیئر کرتے ہوئے ایک اور فرقہ وارانہ آگ بھڑکا دی۔

یوپی: ایودھیا کی ہارکا بدلہ لینے کے لیے بی جے پی ملکی پور ضمنی انتخاب کو فرقہ وارانہ رنگ دینے پر آمادہ

اتر پردیش میں ایودھیا ضلع کی ملکی پور اسمبلی سیٹ کے آئندہ ضمنی انتخاب میں بھدرسا قصبے کی ایک نابالغ کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کے معاملے کو دیگر انتخابی ایشوز پر حاوی کرنے کی کوششیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، جبکہ بھدرسا ملکی پور اسمبلی حلقہ کا حصہ بھی نہیں ہے۔

جموں و کشمیر: جموں خطے میں حد بندی کے عمل سے بی جے پی کو کتنا فائدہ ہوا؟

جموں و کشمیر میں 2022 میں از سر نو انتخابی حلقوں کی حد بندی کی گئی تھی، جس کے بعد جموں میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 37 سے بڑھ کر 43 ہو گئی تھی۔ تاہم، انتخابی اعداد و شمار کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔

جموں و کشمیر: پی ڈی پی کا اب تک کا سب سے خراب مظاہرہ، التجا مفتی بھی شکست سے دو چار

غیر منقسم جموں و کشمیر میں ایک دہائی قبل ہوئے اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی موجودہ انتخابات میں دوہرے ہندسے کو بھی چھونے میں کامیاب نہیں ہوپائی۔

ہریانہ: انتخابی دنگل میں ونیش کو میڈل

انتخابی میدان میں یہ فتح ونیش کی لڑائی کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ دراصل شروعات ہے۔ جن عزائم کے ساتھ انہیں ایک کھلاڑی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کو عروج پر خیرباد کہتے ہوئے سیاست کا رخ کرنا پڑا، ان کی تکمیل کی راہیں اب یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کی رپورٹ کو ہندوستان نے خارج کیا

مذہبی آزادی سے متعلق اپنی 2024 کی سالانہ رپورٹ میں امریکی کمیشن نے ہندوستان کو ‘مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے’ کے لیے ‘خصوصی تشویش والے ملک’ کے طور پر فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستان نے کمیشن کو ایجنڈے والا متعصب ادارہ قرار دیا ہے۔

ہریانہ الیکشن: کیا اس بار بھی بی جے پی کے باغی پارٹی کا کھیل بگاڑ دیں گے؟

گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سے بغاوت کرنے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے والے 5 امیدوار جیت کر اسمبلی پہنچے تھے، جبکہ باغیوں نے کئی سیٹوں پر بی جے پی کا کھیل بگاڑ دیا تھا۔ نتیجتاً، پارٹی اکثریت سے محروم رہ گئی تھی۔ اس بار بھی کم از کم 18 سیٹوں پر بی جے پی کے باغی آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔

ونیش پھوگاٹ راٹھی: جب اقتدار کے سامنے جدوجہد کرنے والی کھلاڑی سیاستداں بنتی ہے

ونیش اسٹیڈیم کو خیرباد کہہ کر ایک نئی راہ پر چل پڑی ہیں۔ ان سے پہلے بھی کھلاڑی سیاست میں آئے ہیں، لیکن ان سب نے اپنی مکمل پاری کھیلنے کے بعد پارلیامنٹ کا رخ کیا تھا۔ کیا ایک دم سے چنا گیا یہ راستہ ونیش کے لیے ثمر آور ہوگا؟

منی پور کے ایم پی بِمول اکوئیجام نے ریاست میں تشدد کے لیے مودی-شاہ اور بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا

دی وائر کو دیے ایک انٹرویو میں اندرون منی پور سے نو منتخب کانگریس ایم پی بِمول اکوئیجام نے ریاست میں جاری تشدد کے لیے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ تشدد سیاسی فائدے کے لیے کی گئی بڑی سازش کا حصہ ہے۔

بی جے پی نے ایم پی کنگنا رناوت کے زرعی قوانین کی واپسی والے بیان سے دوری بنائی

بی جے پی ایم پی کنگنا رناوت نے کہا تھا کہ سال بھر کی کسانوں کی تحریک کے بعد رد کیے گئے متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لایا جانا چاہیے۔ بی جے پی نے خود کو ان کے تبصروں سے الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنگنا پارٹی کی جانب سے اس طرح کے بیان دینے کی ‘مجاز’ نہیں ہیں۔

یوپی: کانوڑ یاترا تنازعہ کے بعد ایک بار پھر کھانے پینے کی دکانوں کے باہر نیم پلیٹ لگانے کا فرمان

اتر پردیش حکومت کے نئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے تمام ریستورانوں اور کھانے پینے کی دکانوں کو آپریٹروں، مالکان، منیجروں اور ملازمین کے نام اور پتے لکھنے ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ قدم کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ سے نمٹنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

جھارکھنڈ: مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر این آر سی لانے کا وعدہ کیا

مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے جھارکھنڈ کے بہراگوڑہ میں منعقد ‘پریورتن سبھا’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں این آر سی کو نافذ کیا جائے گا تاکہ غیر ملکی ‘درانداز’ آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ نہ بنوا پائیں۔

جموں و کشمیر: کٹھوعہ ریپ اور قتل کے ملزم کے وکیل رہ چکے لیڈر بی جے پی میں شامل

جموں و کشمیر میں انتخابات کے دوران دائیں بازو کی تنظیم ایکم سناتن بھارت دل کے قومی صدر انکور شرما بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ شرما نے مسلم گجروں اور بکروال برادریوں کی مخالفت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ‘لینڈ جہاد’ میں مصروف ہیں۔ وہ 2018 کے کٹھوعہ ریپ کیس کے ایک ملزم کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ کے ’دراندازی‘ والے بیان پر بنگلہ دیش کا سخت احتجاج

جھارکھنڈ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے صوبے میں بنگلہ دیش سے آنے والے ‘دراندازوں’ کے بارے میں تبصرہ کیا تھا۔ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کی جانب سے پڑوسی ممالک کے شہریوں پر کیے جانے والے تبصرے باہمی احترام کے جذبے کو کمزور کرتے ہیں۔

ون نیشن، ون الیکشن کی بعض اہم سفارشات میں خامیاں، پارلیامنٹ میں اس پر بحث کی ضرورت: سابق چیف الیکشن کمشنر

سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی سربراہی والی کمیٹی کی سفارش پر مرکزی کابینہ نے ‘ون نیشن، ون الیکشن’ کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔ تاہم، سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی بعض اہم سفارشات میں خامیاں ہیں۔

ہریانہ انتخابات: برہمن واس میں ونیش کی ہریجن چوپال، لیکن دلتوں کو کیا ملا؟

ہریانہ میں جولانا امیدوار ونیش پھوگاٹ کے عوامی اجلاس کے لیے بھلے ہی کانگریس نے ہریجن بستی کا انتخاب کیا تھا، لیکن جلسے کی تیاری کے لیے ہدایات برہمن دے رہے تھے اور دلت ان کی پیروی کر رہے تھے۔ مایاوتی کی بے عملی کے باوجود محروم سماج اب بھی اپنی قیادت بی ایس پی میں ہی تلاش کر رہا ہے اور سماجی انصاف کے کانگریس کے دعوے پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔

’ون نیشن، ون الیکشن‘ کو کابینہ کی منظوری، اپوزیشن نے کہا — وفاقیت کے خلاف

’ون نیشن، ون الیکشن‘ کی تجویز میں لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ ناقابل عمل اور جمہوریت کے خلاف ہے۔

ہریانہ انتخابات: کیوں بے روزگاری بی جے پی کی جیت کی ’ہیٹ ٹرک‘ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے

وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی سرکاری رپورٹ، پرائیویٹ اداروں کے جاری کردہ لیبر فورس کے اعداد و شمار اور روزگار بازار کے رجحانات سے اپوزیشن پارٹیوں، بالخصوص کانگریس کو یہ اعتماد ملا ہے کہ وہ بے روزگاری کا مسئلہ اٹھا کر بی جے پی کو اقتدار میں واپسی کرنے سے روک سکتی ہیں۔

جھارکھنڈ: سماجی کارکنوں کا مظاہرہ، کہا — ہیمنت سورین حکومت اپنے ادھورے وعدے کو پورا کرے

رانچی میں دھرنا دیتے ہوئے سماجی کارکنوں نے ہیمنت سورین حکومت سے اسمبلی انتخابات سے قبل لینڈ بینک اور لینڈ ایکوزیشن ایکٹ (جھارکھنڈ) امیڈمنٹ، 2017 کو رد کرنے، پی ای ایس اے کے قوانین کو نوٹیفائی کرنے، طویل عرصے سے جیل میں بند زیر سماعت قیدیوں کو رہا کرنے سمیت کئی مطالبات کیے ہیں۔

سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کے بعد جواہر سرکار بولے – میرا استعفیٰ ٹی ایم سی کے لیے وارننگ ہے

سابق نوکرشاہ اور ٹی ایم سی کے سابق ایم پی جواہر سرکار نے وضاحت کی ہے کہ وہ ٹی ایم سی میں بغاوت شروع کرنے یا ممتا بنرجی کی حکومت کو گرانے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کا منصوبہ بی جے پی میں شامل ہونے کا ہے۔

جھارکھنڈ: سنتھال پرگنہ کے بنگلہ بولنے والے مسلمان بنگلہ دیشی درانداز نہیں ہیں — رپورٹ

بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے گزشتہ ماہ پارلیامنٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سنتھال پرگنہ میں آدی واسیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی درانداز یہاں آباد ہو رہے ہیں۔ جھارکھنڈ جنادھیکار مہاسبھا اور لوک تنتر بچاؤ ابھیان کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی نے پارلیامنٹ اور میڈیا میں جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں، وہ جھوٹے ہیں۔

ہریانہ: جیل سپرنٹنڈنٹ رہتے ہوئے رام رحیم کو 6 بار رہائی دینے والے سنیل سانگوان بی جے پی میں شامل

سنیل سانگوان نے جیل سپرنٹنڈنٹ رہتے ہوئے ریپ اور قتل کے مجرم گرمیت رام رحیم سنگھ کو چھ بار پیرول یا فرلو پر رہا کیا تھا۔ ہریانہ گڈٖ کنڈکٹ پریزنرز (ٹمپریری ریلیز) ایکٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کو قیدیوں کو پیرول یا فرلو دینے کے لیے معاملوں کی سفارش ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

مہاراشٹر: بی جے پی لیڈر کی دھمکی — مسجدوں میں گھس کر مسلمانوں کو ماریں گے، پارٹی نے خود کو  بیان سے الگ کیا

سابق مرکزی وزیر نارائن رانے کے بیٹے اور بی جے پی ایم ایل اے نتیش رانے نے ہندو سنت مہنت رام گیری مہاراج کی حمایت میں منعقد ایک جلسے میں دھمکی دی کہ اگر سنت کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ مسجدوں میں گھس کر مسلمانوں کو ماریں گے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ کسی بھی لیڈر کو ایسے بیان نہیں دینے چاہیے۔

بہار: کے سی تیاگی کے جے ڈی یو کے قومی ترجمان کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی وجہ کیا ہے

نتیش کمار کے جنتا دل (یونائیٹڈ) کی قومی جمہوری اتحاد میں واپسی کے بعد بھی کے سی تیاگی کھل کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ مانا جارہا ہے کہ ‘حساس معاملوں’ پر تیاگی کے بیانات نے پارٹی کو اتحاد کے اندر مشکل صورتحال میں ڈال دیا تھا۔

آسام: اپوزیشن لیڈروں نے سی ایم شرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی، کہا-وہ دنگے بھڑکا سکتے ہیں

یہ شکایت آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھوپین بورا اور آسام جاتیہ پریشد کے لورین جیوتی گگوئی نے متحدہ اپوزیشن فورم کی جانب سے درج کرائی ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ میاں مسلمانوں کو آسام پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔

جموں و کشمیر: اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی  میں اندرونی خلفشار

بی جے پی نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کی اور بعد میں اس کو واپس لے لیا، کیوں کہ نئے امیدواروں اور حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہونے والے لوگوں کے انتخاب پر پرانے قائدین میں عدم اطمینان کی بات کہی جا رہی ہے۔

جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا بگل

ایک اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا ان انتخابات کے نتیجے میں خطے میں حقیقی امن قائم ہو سکے گا؟ ویسے تو مودی حکومت بغلیں بجا رہی ہے کہ اس نے کشمیر میں پچھلے پانچ سالوں میں امن قائم کیا ہوا ہے۔ مگر یہ قبرستان کی خاموشی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا منتخب انتظامیہ لوگوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور عوامی شراکت پر پالیسی کو دوبارہ مرکوز کرکے سابق ریاست کے لوگوں کی بیگانگی کو کم کرنے میں کردار ادا کرے گی؟