ویڈیو: اتراکھنڈ اسمبلی میں پشکر سنگھ دھامی کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ یکساں سول کوڈ بل کو منظور کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اتراکھنڈ بار کونسل کی سابق چیئرپرسن رضیہ بیگ سے بات چیت۔
ہلدوانی میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بن بھول پورہ علاقے میں ایک مدرسہ کو ‘تجاوزات’ قرار دیتے ہوئے توڑنے کی کارروائی کے بعد علاقے میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ ضلع انتظامیہ نے دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ معلوم نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی طرف سے اتراکھنڈ اسمبلی میں پیش کیے گئے یکساں سول کوڈ بل کے حوالے سےاپوزیشن کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت نے کانگریس کے اراکین اسمبلی کو ان دفعات کا مطالعہ کرنے یا ان کے جائزہ کے لیے وقت دیے بغیر بل پیش کر دیا اور بغیر بحث کے قانون کو منظور کرنا چاہتی ہے۔
اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے کہا کہ بورڈ اس سال مارچ سے چار مدارس میں تبدیلیوں کو نافذ کرے گا اور بعد میں اسے اپنے زیر کنٹرول تمام 117 مدارس میں لاگو کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ سے چار جدید مدارس کام کرنا شروع کر دیں گے۔ وقف بورڈ فروری سے اس کے لیے اہل اساتذہ کی تلاش شروع کرے گا۔
اتراکھنڈ کے سلکیارا میں 17 دنوں سے سرنگ میں پھنسے 41 مزدوروں کو بچانے والی کمپنی راک ویل انٹرپرائزز کے مالک وکیل حسن نے کہا کہ یہ کام کوئی اکیلا نہیں کر سکتا تھا۔ ہم سب کو یہی پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ہم سب کو مل جل کر رہنا چاہیے اور نفرت کا زہر نہیں پھیلانا چاہیے۔
اتراکھنڈ کے سلکیارا میں 12 نومبر کو زیر تعمیر سُرنگ کا ایک حصہ منہدم ہونے کے باعث پھنسے 41 مزدوروں کو بالآخر سترہ دنوں کی سخت جدوجہد کے بعد نکال لیا گیا۔ لیکن وہ کون سی غلطیاں تھیں، جن کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی؟
اتراکھنڈ کے رشی کیش شہر میں دیو بھومی رکشا ابھیان نامی دائیں بازو کے ایک گروپ کے لوگوں نے گزشتہ ہفتے دو مزاروں میں توڑ پھوڑ کی اور مبینہ طور پر اس واقعہ کو سوشل میڈیا پر لائیو نشر کیا۔ اتراکھنڈ پولیس نے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر توہین عدالت کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ کٹر ہندوتوا لیڈر یتی نرسنہانند نے جنوری 2022 میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ہمیں سپریم کورٹ اور آئین پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ جو لوگ سپریم کورٹ آف انڈیا پر بھروسہ کرتے ہیں ، وہ کتے کی موت مریں گے۔
اترکاشی ضلع کے پرولامیں ہندوتوا تنظیموں کے ذریعےمسلمانوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے بعد متعددمسلم خاندان قصبے سےجا چکے ہیں۔ ان میں بی جے پی کے اقلیتی محاذ سے وابستہ لیڈران بھی شامل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ریاستی حکومت مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتی تو ایسا نہیں ہوتا۔
ویڈیو: اتراکھنڈ کے پرولا میں دائیں بازو کی تنظیموں کی طرف سے مجوزہ ‘مہاپنچایت’ کے ملتوی ہونے کے ایک دن بعد مقامی بازار کھلے ہوئے نظر آئے۔ دی وائر سے بات چیت میں دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے نے پہلے ہندو اورمسلم کے درمیان دشمنی نہیں دیکھی اور اب میڈیا کے ذریعے کچھ لوگوں نے یہ مشتہر کیا کہ یہاں کچھ غلط ہو رہا ہے۔
ویڈیو: اتراکھنڈ کے پرولا میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسد مدنی نے وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو خط لکھ کرمسلمانوں کو کھلے عام دھمکی اور نقل مکانی کی خبروں پرتشویش کا اظہار کیاتھا۔ان سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
ویڈیو: گزشتہ ماہ مسلم کمیونٹی کے ایک شخص سمیت دو نوجوانوں نے مبینہ طور پر ایک لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، اس کے بعد اتراکھنڈ کے اترکاشی شہر میں حالات کشیدہ ہیں۔ اس کشیدگی کے درمیان پرولابازار میں کچھ پوسٹر لگائے گئے تھے، جس میں مسلم تاجروں سے کہا گیا ہے کہ وہ 15 جون سے پہلے اپنی دکانیں خالی کر دیں۔
سال 2021 میں ہونے والی مردم شماری ابھی تک نہیں ہوئی ہے، لیکن اتراکھنڈ میں ایک خاص مذہب کے لوگوں کی آبادی میں اضافے کے فرضی اعداد و شمار کھلے عام مشتہر کیے جا رہے ہیں۔ وہیں، ریاستی حکومت سپریم کورٹ کی سرزنش کی پرواہ نہ کرتے ہوئےکبھی تبدیلی مذہب کے قانون ،کبھی یکساں سول کوڈ، تو کبھی ‘لینڈ جہاد’ کے نام پر فرقہ پرست عناصر کو ہوا دے رہی ہے۔
گزشتہ ماہ مسلم کمیونٹی کے ایک شخص سمیت دو نوجوانوں نے مبینہ طور پر ایک لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، اس کے بعد سے اتراکھنڈ کے اترکاشی شہر میں کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔اس کشیدگی کے درمیان پرولا بازار میں کچھ پوسٹر چسپاں کیے گئے تھے، جس میں مسلم تاجروں سے 15 جون کو ہونے والی مہاپنچایت سے پہلے دکانیں خالی کرنے کو کہا گیا ہے۔
غیر قانونی مزاروں کو منہدم کرنے کی بات کہتے ہوئے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا ہے کہ یہ نیا اتراکھنڈ ہے، یہاں تجاوزات کرنا تودور اس کے بارے میں اب کسی کوسوچنا بھی نہیں چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ کچھ مہینوں کے بعد ریاست میں یکساں سول کوڈ کا قانون بھی نافذ کریں گے۔
دہرادون کے ڈی ایم کے سامنے دوسری جماعت کے ایک طالبعلم کے والدین نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ان کے بیٹے نے اسکول کی ایک کتاب میں والدین کے لیے اردو کے لفظ پڑھ کر انھیں ‘امی اور ابو’ کہا۔انہوں نے ان الفاظ کے استعمال کو ‘مذہبی عقیدے پر حملہ’ قرار دیتے ہوئے کتاب پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دہلی میں ہوئے دھرم سنسد میں مبینہ طور پرہیٹ اسپیچ دینے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ واقعہ 19 دسمبر 2021 کو پیش آیا تھا اور ایف آئی آر پانچ ماہ بعد درج کی گئی۔ اتنا وقت کیوں لگا؟ ایسے معاملات میں ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے اور صرف ‘نام’ کے لیے ایف آئی آر درج نہیں کی جانی چاہیے۔
ریڈیکل ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند نے غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر میں بی جے پی کے سابق رکن پارلیامنٹ بیکنٹھ لال شرما کے یوم پیدائش کے موقع پر 17 دسمبر سے تین روزہ دھرم سنسد کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے پروگرام نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بی جے پی ایم ایل اے بنشی دھر بھگت نے 11 اکتوبر کولڑکیوں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لفظ ‘پٹاؤ’ کا استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم کے لیے دیوی سرسوتی، طاقت کے لیے دیوی درگا اور دولت کے لیے دیوی لکشمی کو منانا ہوتا ہے۔ ان کے اس بیان پر ان کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اتراکھنڈ حکومت کا اندازہ ہے کہ ریاست میں تقریباً 400 ایسے مدرسے ہیں، جو رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ سماجی بہبود اور اقلیتی بہبود کے وزیر چندن رام داس نے کہا کہ اگر مدارس مقررہ وقت تک اپنا رجسٹریشن نہیں کراتے ہیں تو انہیں بند کرنے کے لیے قدم اٹھائے جائیں گے۔
کٹر ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند نے علی گڑھ میں منعقد ایک تقریب میں ایک خاص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز تبصرہ کیا تھا، جس کے بعد ان کے ساتھ ساتھ اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی قومی جنرل سکریٹری پوجا شکن پانڈے اور ان کے شوہر کے خلاف بھی معاملہ درج کیا گیا ہے۔
اتراکھنڈ کے ہری دوار میں 17-19 دسمبر 2021 کے بیچ ہندوتوا رہنماؤں کی جانب سے ‘دھرم سنسد’ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف کھلے عام نفرت انگیز تقاریر کی گئی تھیں، یہاں تک کہ ان کے قتل عام کی اپیل بھی کی گئی تھی۔ اس معاملے میں جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی شدت پسند ہندوتوا لیڈر یتی نرسنہانند کے ساتھ ایک ملزمین میں سے ایک ہیں۔
ہری دوار دھرم سنسد کیس کے ملزم جتیندر نارائن تیاگی کی ضمانت کی مدت میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے انہیں 2 ستمبر تک سرینڈر کرنے کی ہدایت دی ہے۔وسیم رضوی کے نام سے معروف تیاگی فی الحال میڈیکل کی بنیاد پر ضمانت پر ہیں۔
پیغمبر اسلام کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے بعدگوشا محل کے ایم ایل اے راجہ سنگھ کوگرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں ایک مقامی عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی، جس کے خلاف رات بھر شہر کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بی جے پی نے انہیں وجہ بتاؤ نوٹس دے کر پارٹی سےسسپنڈ کر دیا ہے۔
حیدرآباد میں گزشتہ دنوں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا شو ہوا تھا، جس کے خلاف گوشہ محل سے بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کا ایک ویڈیو یوٹیوب پر سامنے آیا ہے، جس میں مبینہ طور پر انہیں پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس وقت سنگھ کے علمبرداروں اور رہنماؤں کے احمقانہ بیانات کو تضحیک آمیز قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ کسی بھی دن یہ سرکاری پالیسی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
اتراکھنڈ کی منسٹر آف وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ریکھا آریہ نے ایک سرکاری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اپنے محکمے کے تمام افسران، ملازمین، آنگن واڑی-منی آنگن واڑی کارکنوں اور معاونین کو ہدایت دی ہے کہ وہ 26 جولائی کو اپنے اپنے گھروں کے قریبی شیومندروں میں ‘ جل ابھیشیک’ کریں اوراس کی تصویریں ای میل اور وہاٹس ایپ گروپ میں ڈالیں۔
سپریم کورٹ میں صحافی محمد زبیر کی عرضی کی سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ بجرنگ منی ایک ‘قابل احترام ‘ مذہبی رہنما ہیں، جن کے بہت سے پیروکار ہیں۔بجرنگ منی کی مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کی وجہ سے انہیں ایک بار گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
ٹی وی بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے کی وجہ سے معطل بی جے پی لیڈر نوپور شرما کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو دہلی منتقل کرنے کے لیے دائر عرضی پر سپریم کورٹ کی بنچ سماعت کر رہی تھی۔ بنچ نے اس ٹی وی مباحثے کی میزبانی کے لیے نیوز چینل ٹائمس ناؤ کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کیا۔ عدالت نے پوچھا کہ ٹی وی پر یہ بحث کس لیے تھی؟ صرف ایک ایجنڈے کے فروغ دینے کے لیے؟ انہوں نے عدالت میں زیر غور معاملے کا انتخاب کیوں کیا؟
آلٹ نیوز کے شریک بانی اور فیکٹ چیکر محمد زبیر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ایڈیٹرس گلڈ نے ان کی فوراً رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں آن لائن پبلشرز کے ایک ادارےڈی جی پب نے صحافیوں کے خلاف قانون کے اس طرح استعمال کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے پولیس سےمعاملہ واپس لینے کی اپیل کی ہے۔
تین ہندو سنتوں – یتی نرسنہانند، بجرنگ منی اور آنند سوروپ کو مبینہ طور پر نفرت پھیلانے والا کہنے پر ‘آلٹ نیوز’ ویب سائٹ کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف اتر پردیش کے سیتا پور ضلع کے خیر آباد پولیس اسٹیشن میں ایک جون کومقدمہ درج کیا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نےکہا کہ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ زبیر نے جرم کیا ہے اوراس معاملے کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ تبصرے پر پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے اور ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ جب تک کہ کوئی شخص عدالت میں مجرم ثابت نہیں ہوتا، وہ صرف ایک ملزم ہوتاہے۔ وہیں جمعیۃ نے کہا ہے کہ پولیس نے مظاہرے میں شامل لڑکوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا۔ یہ بہت ہی افسوسناک ہے۔
نوپور شرما نے پیغمبر اسلام کے خلاف ‘ٹائمس ناؤ’ کے پرائم ٹائم شو میں تبصرہ کیا تھا۔ نویکا کمار اس شو کو ہوسٹ کر رہی تھیں۔ مہاراشٹر کے پربھنی میں درج ایف آئی آر میں نویکا پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
کویت کے قوانین کے مطابق خلیجی ملک میں تارکین وطن کی طرف سے دھرنا دینا یا مظاہرہ کرنا منع ہے۔ یہاں 10 جون کو تارکین وطن نے پیغمبر اسلام کی حمایت میں مظاہرہ کیا تھا۔ کویت ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے بی جے پی کے سابق رہنما نوپور شرما اور نوین جندل کے تبصرے پر ہندوستانی سفیر کو طلب کیا تھا۔
سیاسی معاملات پر شاہ رخ، سلمان اور عامر خان کی خاموشی پر اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا کہ، میں ان کے لیے نہیں بول سکتا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ سوچتے ہوں گے کہ وہ بہت زیادہ خطرہ مول لے رہے ہیں، لیکن پھر میں نہیں جانتا کہ وہ اپنے ضمیر کو کیسے تسلی دیتے ہیں۔ میرے خیال میں وہ اس پوزیشن میں ہیں جہاں ان کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔
دہلی پولیس کی انٹلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹیجک آپریشن (آئی ایف ایس او) یونٹ نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، لوگوں کو اکسانے اور نفرت پھیلانے کے الزام میں سوشل میڈیا کے کئی معروف صارفین کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی ہیں، جن میں صحافی صبا نقوی، ہندو مہا سبھا کی پوجا شکن پانڈے، راجستھان کے مولانا مفتی ندیم اور دیگر کےنام شامل ہیں۔
اتر پردیش کے غازی آباد واقع ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری اور شدت پسند ہندوتوا لیڈر یتی نرسنہانند نے کہا تھا کہ وہ 17 جون کو دہلی کی جامع مسجد جائیں گے اور قرآن پر ایک پریزنٹیشن دیں گے، جس کے بعد انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ اگر وہ ہیٹ اسپیچ بند نہیں کرتے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔
آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے ایک ٹوئٹ میں ہندوتوا لیڈروں – یتی نرسنہانند، بجرنگ منی اور آنند سوروپ کو ‘نفرت پھیلانے والا’ بتایا تھا۔ اس سلسلے میں’راشٹریہ ہندو شیر سینا’ کے ضلعی سربراہ بھگوان شرن کی شکایت پر یوپی پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
میرٹھ میں ہندو مہاسبھا نے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کے یوم پیدائش پر اپنے دفتر میں خصوصی پوجا کرتے ہوئے ‘ہندو مخالف گاندھی ازم’ کو ختم کرنے کا حلف لیا اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان جلد ہی ‘ہندو راشٹر’ بنے گا۔
سپریم کورٹ نے ہری دوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر ہیٹ اسپیچ کے ملزم جتیندر نارائن تیاگی کو تین ماہ کی عبوری ضمانت دے دی ہے، اور ان کو ہیٹ اسپیچ نہیں دینے کے علاوہ الکٹرانک، ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا پر کوئی تبصرہ نہ کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ایک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔